ہمیں چاہیے کہ تمام آئمہ علیہم السلام کی زندگیوں کو ملا کر ایک ایسے انسان کی زندگی فرض کر لیں جس نے ڈھائی سو سال عمر پائی ہو، اور جو 11 ہجری سے لے کر 260 ہجری تک ایک ہی منزل کی سمت مسلسل گامزن رہا ہو۔ یوں اس عظیم اور معصوم زندگی کا ایک ایک عمل قابل فہم اور لائقِ توجیہ ہو جائے گا۔
شہید آیت اللہ العظمٰی امام سید علی حسینی خامنہ ای
ڈھائی سو سالہ انسان، ۱۱ سے ۲۶۰ ہجری تک
«اس پورے عرصے میں امامت کی یہ تحریک تقریباً چار مختلف ادوار سے گزری ہے اور ان میں سے ہر دور اپنے زمانے کے امام کا معاشرے پر مسلط سیاسی قوتوں کے ساتھ برتاؤ کے لحاظ سے مختلف اور منفرد دور ہے» متن میں پڑھیں
«امامت کا پہلا دور خاموشی یا وقت کے حکمرانوں کے ساتھ امام کے تعاون کا دور ہے۔» متن میں پڑھیں
امام علیؑامامت ۱۱ تا ۴۰ ہجری
حکمران: خلیفہ اوّل (۱۱ تا ۱۳ ہجری)، خلیفہ دوم (۱۳ تا ۲۳ ہجری)، خلیفہ سوم (۲۳ تا ۳۵ ہجری)
«یہ دور امام کے اقتدار کا دور ہے» متن میں پڑھیں
«تاریخ امامت کے اس تیسرے دور کو اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مختصر مدت کی جدوجہد کا دور کہا جا سکتا ہے۔» متن میں پڑھیں
امام حسنؑامامت ۴۰ تا ۵۰ ہجری
حکمران: معاویہ بن ابی سفیان (۴۱ تا ۶۰ ہجری)
امام حسینؑامامت ۵۰ تا ۶۱ ہجری
حکمران: معاویہ بن ابی سفیان (۴۱ تا ۶۰ ہجری)، یزید بن معاویہ (۶۰ تا ۶۴ ہجری)
«یہ دور سابقہ راہ و روش کو طویل مدت کے لیے جاری رکھنے سے عبارت ہے جو تقریباً 200 سال تک کئی دفعہ کامیابی کے دہانے پہنچتے پہنچتے پھر ناکامیوں سے ہمکنار ہوتا رہا گویا کامیابیوں اور شکست پر مشتمل کئی مراحل سے گزرتا رہا۔» متن میں پڑھیں
امام زین العابدینؑامامت ۶۱ تا ۹۵ ہجری
حکمران: یزید بن معاویہ (۶۰ تا ۶۴ ہجری)، معاویہ بن یزید (۶۴ ہجری)، مروان بن حکم (۶۴ تا ۶۵ ہجری)، عبدالملک بن مروان (۶۵ تا ۸۶ ہجری)، ولید بن عبدالملک (۸۶ تا ۹۶ ہجری)
امام باقرؑامامت ۹۵ تا ۱۱۴ ہجری
حکمران: ولید بن عبدالملک (۸۶ تا ۹۶ ہجری)، سلیمان بن عبدالملک (۹۶ تا ۹۹ ہجری)، عمر بن عبدالعزیز (۹۹ تا ۱۰۱ ہجری)، یزید بن عبدالملک (۱۰۱ تا ۱۰۵ ہجری)، ہشام بن عبدالملک (۱۰۵ تا ۱۲۵ ہجری)
امام جعفر صادقؑامامت ۱۱۴ تا ۱۴۸ ہجری
حکمران: ہشام بن عبدالملک (۱۰۵ تا ۱۲۵ ہجری)، ولید بن یزید (۱۲۵ تا ۱۲۶ ہجری)، یزید بن ولید (۱۲۶ ہجری)، ابراہیم بن ولید (۱۲۶ ہجری)، مروان بن محمد (۱۲۷ تا ۱۳۲ ہجری)، سفاح (۱۳۲ تا ۱۳۶ ہجری)، منصور (۱۳۶ تا ۱۵۸ ہجری)
امام موسیٰ کاظمؑامامت ۱۴۸ تا ۱۸۳ ہجری
حکمران: منصور (۱۳۶ تا ۱۵۸ ہجری)، مہدی (۱۵۸ تا ۱۶۹ ہجری)، ہادی (۱۶۹ تا ۱۷۰ ہجری)، ہارون (۱۷۰ تا ۱۹۳ ہجری)
امام علی رضاؑامامت ۱۸۳ تا ۲۰۳ ہجری
حکمران: ہارون (۱۷۰ تا ۱۹۳ ہجری)، امین (۱۹۳ تا ۱۹۸ ہجری)، مامون (۱۹۸ تا ۲۱۸ ہجری)
امام محمد تقیؑامامت ۲۰۳ تا ۲۲۰ ہجری
حکمران: مامون (۱۹۸ تا ۲۱۸ ہجری)، معتصم (۲۱۸ تا ۲۲۷ ہجری)
امام علی نقیؑامامت ۲۲۰ تا ۲۵۴ ہجری
حکمران: معتصم (۲۱۸ تا ۲۲۷ ہجری)، واثق (۲۲۷ تا ۲۳۲ ہجری)، متوکل (۲۳۲ تا ۲۴۷ ہجری)، منتصر (۲۴۷ تا ۲۴۸ ہجری)، مستعین (۲۴۸ تا ۲۵۲ ہجری)، معتز (۲۵۲ تا ۲۵۵ ہجری)
امام حسن عسکریؑامامت ۲۵۴ تا ۲۶۰ ہجری
حکمران: معتز (۲۵۲ تا ۲۵۵ ہجری)، مہتدی (۲۵۵ تا ۲۵۶ ہجری)، معتمد (۲۵۶ تا ۲۶۰ ہجری)
۲۶۰ ہجری کے بعد: امام مہدیؑ (عج)
ھ ۱
رسالت
خلیفہ اوّل
خلیفہ دوم
خلیفہ سوم
امام علیؑ
امام حسنؑ
بن ابی سفیانمعاویہ
بن معاویہیزید
بن حکممروان
بن مروانعبدالملک
بن عبدالملکولید
بن عبدالملکسلیمان
بن عبدالعزیزعمر
بن عبدالملکیزید
بن عبدالملکہشام
بن یزیدولید
بن محمدمروان
سفاح
منصور
مہدی
ہادی
ہارون
امین
مامون
معتصم
واثق
متوکل
منتصر
مستعین
معتز
مہتدی
معتمد

شہید آیت اللہ العظمٰی امام سید علی حسینی خامنہ ای