حصہ 1 از 4
پہلا باب، پیغمبرِ اعظم، حضرت محمد مصطفیٰؐ
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
پیغمبرِ اکرمؐ کا اہم ترین کام، حق اور حقیقت کی دعوت اور اس دعوت کی راہ میں جہاد تھا۔ آپ اس دور کی تاریخ دنیا کو اپنے مد مقابل دیکھ کر گھبرائے نہیں حالانکہ آپ مکّہ میں تنہا تھے یا آپ کے ارد گرد مسلمانوں کی ایک مختصر تعداد تھی جبکہ آپ کے مقابلے میں متکبر عربوں کے سردار اور قریش کے بڑے بڑے سرکش اور ضدی لیڈر تھے جو انتہائی بد اخلاق ہونے کے ساتھ ظاہری و مادی طاقت اور ہر طرح کے وسائل سے لیس تھے یا آپ کا سامنا ایسے عوام الناس سے تھا جو علم و معرفت سے بالکل بے بہرہ تھے ایسے ماحول میں بھی آپ گھبرائے نہیں بلکہ اپنی سچی بات کا اعلان کرتے ہوئے اپنے موقف کو واضح کرتے رہے آپ نے توہین کا سامنا کیا، رنج و مشقت برداشت کی، اپنی جان کیلئے خطرات مول لیے تب جا کر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دائرہ اسلام میں داخل کر سکے اور اسی طرح جب مدینہ میں آپ نے اسلامی حکومت قائم کی اور خود اس کی باگ ڈور سنبھالی تو مختلف دشمنوں سے آپ کا آمنا سامنا ہوا
کہیں اسلحے سے لیس عرب کے مختلف وحشی گروہ جو حجاز اور یمامہ کے اطراف میں پھیلے ہوئے تھے تو کہیں وقت کی بڑی سلطنتیں جیسے ایران اور روم کے بادشاہ جن کی طرف آپ نے خطوط ارسال فرما کر انہیں دینِ اسلام کی طرف دعوت دی تھی، آپ کے خلاف تھیں انہوں نے آپ کے خلاف لشکر کشی کی، آپ نے سختیاں برداشت کیں، اقتصادی بائیکاٹ کا سامنا کیا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات اہل مدینہ دو تین دنوں تک بھوکے رہنے پر مجبور ہوتے تھے چاروں طرف سے مصیبتوں کا ہجوم تھا ایسے حالات میں کچھ لوگ پریشان ہو جاتے تھے تو کچھ افراد کے قدم ڈگمگانے لگتے کچھ نالہ اور شیون کرنے لگتے کچھ حضور اکرمؐ سے اسلام دشمن عناصر کے ساتھ نرمی اور ملايمت اختیار کرنے کی سفارشیں کرتے تھے۔
لیکن آپ دعوت و جہاد کے میدان میں کبھی پیچھے نہ ہٹے اور پوری قوت و سرفرازی کے ساتھ اسلامی معاشرے کو عزت و اقتدار کی بلندی تک پہنچایا جنگوں میں حضورؐ کی استقامت و پائیداری آپ کی دعوت کی بدولت آنے والے برسوں میں یہ اسلامی دنیا کی منفرد طاقت بن کر ابھری بعثتِ خاتمِ الانبیاءؐ بیداری کا آغاز رسول اللہؐ نے اپنی ایک متواتر اور مشہور حدیث میں فرمایا مجھے اخلاق کو عام کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے شرح اصول الکافی، صدر اول، جلد اول، صفحہ 420 بعثت کا بنیادی مقصد اور ہدف ہی یہ تھا کہ اخلاقی عظمتیں اور انسان کی روحانی فضیلتیں دنیا میں عام ہو جائیں اور انسان اپنے کمال کو پہنچے جب تک کوئی شخص ان اخلاقی عظمتوں کا بذاتِ خود مالک نہ ہو اللہ تعالیٰ اسے ایسی عظیم اور سنگین ذمہ داری نہیں سونپتا لہٰذا بعثتِ رسول اللہؐ کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ" یقیناً آپ خُلقِ عظیم کے مالک ہیں
سورہ قلم، آیت 4 پیغمبرِ اسلام کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے لیے مناسب اور شائستہ بنانے اور سنوارنے کا آغاز بعثت سے پہلے ہی ہوا تھا۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ آپ جب اپنی جوانی میں تجارت کیا کرتے تھے تو اس تجارت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی کو راہِ خدا میں بطورِ صدقہ غریبوں اور ضرورتمندوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ اسی زمانے کی بات ہے یعنی پیغمبرِ اسلام تکامل کے آخری مراحل میں تھے اور ابھی نزولِ وحی کا آغاز نہیں ہوا تھا یعنی اس وقت جب آپ مبعوث بہ رسالت نہیں ہوئے تھے۔ آپ حرا کی پہاڑی پر جا کر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔
آپ آسمان و ستاروں اور زمین میں بسنے والی تمام مخلوقات پر غور و فکر کرتے جو مختلف طریقوں اور احساسات کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں اس کے نتیجے میں روز بروز حق کے مقابلے میں خشوع اور امرِ الٰہی اور ارادۂ الٰہی کے مقابلے میں آپ کے دل کے خشوع میں اضافہ ہوتا جاتا تھا اور آپ کے وجودِ مبارک میں اخلاقیات کی جڑیں روز بروز مضبوط ہوتی جاتی تھیں روایت میں ہے کہ پیغمبرِ اسلام بعثت سے قبل ہی لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند اور محترم تھے۔ آپ روز بروز اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے فیضیاب ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ 40 سال کی عمر کو پہنچ گئے چالیس سال کی عمر میں آپ کا قلبِ مبارک سب کے دلوں سے زیادہ نورانی، خاشع اور وحیِ الٰہی کو قبول کرنے کے قابل تھا۔
جب آپ معنویت اور روحانیت کے اعتبار سے کمال کے اس درجے پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر آسمانوں اور عالمِ غیب کے دروازے کھول دیے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے معنوی اور غیبی دنیا کو کھول دیا۔ آپ فرشتوں کو دیکھتے تھے اور ان سے گفتگو کرتے تھے اور ان کی باتوں کو سنتے تھے — بحار الانوار، جلد 17، صفحہ 309 یہاں تک کہ جبرئیلِ امین آپ پر نازل ہوئے اور کہا: اِقْرَأْ — سورۃ العلق، آیت 1 یہاں سے وحی کا آغاز ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ بے مثال مخلوق اور انسانِ کامل نزولِ وحی سے پہلے ہی کمال کے اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے۔
آپ نے اپنی بعثت کے آغاز ہی سے ایک کثیرُ الجہتی جہاد کا آغاز فرمایا اور اپنی زندگی کے باقی 23 سالوں میں انتہائی مشکلات کے ساتھ اس جہاد کو آگے بڑھایا آپ کا جہاد اپنے نفس اور ان لوگوں کے خلاف تھا جو حقیقت سے بالکل بے خبر تھے اور آپ کا جہاد اس تاریک ماحول کے خلاف تھا کہ جس کے بارے میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں یہ لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیروں تلے روند دیا تھا اور سموں سے کچل دیا تھا نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 2 ہر طرف سے فتنوں نے لوگوں کو دبا کر رکھا تھا دنیا طلبی، شہوت رانی اور ظلم و دست درازی اور دیگر اخلاقی برائیاں انسان کے وجود میں رچ بس چکی تھیں طاقتور لوگوں کے ہاتھ بغیر کسی روک ٹوک کے کمزوروں کی طرف اٹھ رہے تھے استحصال اور ظلم و ستم کا یہ ماحول صرف مکہ مکرمہ یا جزیرۃ العرب تک محدود نہ تھا بلکہ اس دور کی تہذیب و تمدن کے دو بڑے گہوارے یعنی روم اور ایران کا بھی یہی حال تھا۔
آپ تاریخ اٹھا کر دیکھئے کہ پورے عالمِ بشریت پر ظلم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ لہٰذا پیغمبرِ اکرمؐ بعثت کے آغاز یعنی نزولِ وحی کی ابتدا سے ہی ان بڑی طاقتوں کے خلاف ناقابل تصور حد تک مسلسل جد و جہد کرتے رہے دوسری طرف وحیِ الٰہی بھی مسلسل ایک ایسے چشمے کی مانند جو کسی ہموار زمین پر جاری ہو آپ کے قلبِ مبارک پر نازل ہو رہی تھی اور آپ کو توانائی فراہم کر رہی تھی۔ چنانچہ آپ نے بھی اس دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا اور اس میں کامیاب بھی ہوئے امت مسلمہ کے جسم کے ابتدائی خلیوں کی بنیاد خود حضورؐ نے مکی دور کے ان مشکل ایام میں اپنے دستِ مبارک سے رکھی تھی۔
اس عمارت کے وہ مضبوط ستون کہ جن پر اس عظیم الشان عمارت کو قائم ہونا تھا وہ سب سے پہلے آپ کی دعوت پر ایمان لانے والے مومنین تھے جن کے اندر اتنی عقل، بہادری اور نورانیت پائی جاتی تھی کہ وہ پیغمبرِ اسلامؐ کے اس پیغام کو سمجھیں اور اس کو اپنے دلوں میں جگہ دیں فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَٰمِ — پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے سورہ انعام، آیت 125۔ مکی دور کے مومنین کی اس قلیل تعداد جن میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا نے جن مشکلات اور تکالیف کا سامنا کیا ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے ایک ایسے ماحول میں جہاں کے تمام امتیازات اور خصوصیات جاہلانہ رسوم اور رواج پر مشتمل تھیں جہاں بے جا تعصبات، حسد، اندھی دشمنیاں، سنگدلیاں، ذلالت، ظلم و جور، شہوانی خواہشات اور دیگر برائیوں نے لوگوں کی زندگیوں کو جکڑ رکھا تھا پھر یکایک ایک ایسے خاردار اور پتھریلی زمین پر ایسے سر سبز اور پھلدار پودے اگنے لگے کہ امیر المومنین فرماتے ہیں
جنگلی درختوں کی لکڑی سخت اور آگ شعلہ دار ہوتی ہے — نہج البلاغہ، خطبہ 45 یعنی یہ کہ کوئی بڑے سے بڑا طوفان بھی ان نونہالوں اور ننھے پودوں کو جو اس پتھریلی زمین پر اپنی جڑیں مضبوطی سے گاڑ چکے تھے نہیں ہلا سکا، اسی طرح تیرہ سال گزر گئے۔ پھر انہی مضبوط اور توانا ستونوں پر اسلامی، مدنی اور نبوی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی اسلامی نظام کی بنیاد امت سازی صرف سیاست نہیں بلکہ سیاست خود امت سازی کا ایک حصہ ہے امت سازی جیسا اہم کام ایک ایک فرد کی تعلیم و تربیت سے عبارت ہے هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولًۭا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ — اُس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول کو بھیجا جو انہی میں سے تھا کہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے، ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے — سورۃ الجمعہ، آیت 2 یعنی پیغمبر اسلام کو ایک ایک آدمی کی تربیت کرنی تھی "وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ" حکمت ایک درجہ اوپر ہے
ایسا نہیں تھا کہ آپ لوگوں کو صرف احکام اور قوانین سکھاتے تھے بلکہ آپ انہیں حکمت بھی سکھاتے تھے دنیا کے حقائق کے سامنے ان کی آنکھوں کو کھولتے تھے۔ پیغمبر اسلام دس سال تک اس طریقہ کار پر عمل کرتے رہے تو دوسری طرف سیاست اور حکومتی امور کی دیکھ بھال اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اسلام کی تبلیغ و ترویج مدینہ کے باہر سے لوگوں کو اجتماعی اور انفرادی طور پر اسلام کی نورانی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے کی راہ ہموار کرنا تو دوسری طرف ان میں سے ایک ایک فرد کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ان تمام کاموں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا کچھ لوگ اسلام کو انفرادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے سیاست کو اسلام سے الگ سمجھتے ہیں جبکہ نبی اکرم نے ہجرت کے آغاز پر یعنی مکہ کی دشوار ترین زندگی سے چھٹکارا پاتے ہی جو پہلا کام انجام دیا وہ سیاست ہی تھا ایک اسلامی معاشرے کا وجود اسلامی نظام حکومت کا قیام افواجِ اسلامی کا قیام اور دنیا کے بڑے بڑے سیاستدانوں کے نام خطوط لکھنا اس دور کے عظیم سیاسی امور ہی تھے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاست کو اسلام سے الگ کیا جائے یہ کیوں کر ممکن ہے کہ سیاست کو اسلام کے نظامِ ہدایت کے علاوہ کسی اور نظام کے حوالے کیا جائے, ٱلَّذِينَ جَعَلُوا ٱلۡقُرۡءَانَ عِضِينَ "جن لوگوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے" سورہ حجر، آیت 91 قرآن کی بعض آیتوں پر ایمان لایا جائے اور بعض کو قبول نہ کیا جائے توفل اقول، صفحہ 485 یعنی قرآن کی عبادی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن اس کی سیاسی تعلیمات پر ایمان نہیں رکھتے ہیں "لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ" "وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ" "لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ" بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں سورہ حدید، آیت 25 یہ قسط کیا ہے؟ قسط یعنی معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا اور یہ کام کون کر سکتا ہے؟ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ایک سیاسی عمل ہے جو کہ اس ملک کے حکمرانوں کا کام ہے
اور یہی انبیاء علیہم السلام کا ہدف بھی تھا نہ صرف ہمارے نبی بلکہ جنابِ عیسیٰ جنابِ موسیٰ، جنابِ ابراہیم اور دیگر تمام انبیاء علیہم السلام کا مقصد اور ہدف سیاست اور اسلامی نظام کا قیام رہا ہے مدینہ کے دس سالہ دورِ حکومت میں حضورؐ کی سیرت پوری تاریخِ انسانیت کا درخشاں ترین دور ہے اور یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تاریخِ بشریت کے اس مختصر مگر متحرک اور حیران کن حد تک مؤثر دور کو سمجھا جائے مدنی زندگی کا یہ دس سالہ دور آپ کی 23 سالہ دورِ رسالت کا دوسرا حصہ ہے جبکہ 13 سالہ مکی دور آپ کے دورِ رسالت کا پہلا حصہ یا اس دوسرے حصے کے لیے تمہید کی حیثیت رکھتا تھا حضورؐ کی مدنی زندگی کا دس سالہ دور جو اسلامی نظامِ حکومت قائم کرنے نیز ہر زمانے اور ہر جگہ بسنے والے انسانوں کے سامنے اسلامی حاکمیت کا ایک رول ماڈل پیش کرنے کا دور ہے۔
یہ ایک ایسا کامل نمونہ اور رول ماڈل ہے کہ اس کی دنیا میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی لیکن اس کامل نمونہ کو دیکھ کر کچھ خصوصیات کی پہچان حاصل کی جا سکتی ہے اور وہ خصوصیات انسانوں اور مسلمانوں کے لیے نشانِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور انہی خصوصیات کو دیکھ کر کسی بھی نظام اور انسان کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے پیغمبرؐ کی ہجرت کا مقصد اس فاسد اور ظالمانہ نظام کے خلاف نبرد آزما ہونا تھا جو اس دور کے سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی میدانوں میں مستحکم تھا۔ آپ کا مقصد صرف کفارِ مکہ سے نمٹنا ہی نہیں تھا بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ تھا۔
آپ کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ جہاں کہیں بھی زمین ہموار نظر آتی وہاں اس امید کے ساتھ اسلامی عقیدے کا بیج بوتے تھے کہ وقت آنے پر یہ بیج ایک سرسبز پودے کی شکل اختیار کرے گا۔ آپ کا ہدف یہ تھا کہ آزادی، بیداری اور انسانی خوش بختی کا یہ پیغام ہر شخص تک پہنچ جائے اور ظاہر ہے کہ یہ کام ایک رول ماڈل نظام کو وجود میں لائے بغیر ممکن نہ تھا۔ لہٰذا آپ مدینہ تشریف لائے تاکہ ایک رول ماڈل نظام وجود میں لا سکیں اور یہ کہ اس نظام کو کب تک چلایا جا سکتا ہے یا بعد میں آنے والے لوگ کس حد تک خود کو اس نظام سے وابستہ رکھ سکتے ہیں۔
وہ انہی پر منحصر ہے نبی کا کام تو ایک مثال قائم کرنا اور اسے تمام انسانوں اور تاریخ کے سامنے پیش کرنا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نظام قائم کیا وہ کئی خصوصیات کا حامل تھا مگر ان میں سے ذیل کی سات خصوصیات زیادہ اہمیت کی حامل ہیں پہلی خصوصیت: ایمان اور معنویت یعنی نبی اکرم کے قائم کردہ نظام میں ایمان اور معنویت کو ایک ایسے محرک اور مشین کی حیثیت حاصل ہے جو حقیقت میں اس نظام کو آگے بڑھانے والا ہے جو لوگوں کے دل و ذہن کے سرچشمے سے پھوٹتا اور انسان کے ہاتھ، پیر اور دیگر عضاء و جوارح کو صحیح راستے پر قائم رکھتا ہے۔
پس نبوی نظام کی پہلی خصوصیت لوگوں میں ایمان اور معنویت کی روح پھونکنا اور ان کے عقائد کو استحکام بخشنا ہے۔ پیغمبرِ اکرم نے اس کام کا آغاز مکہ سے کیا اور مدینہ میں اس کے پرچمِ اقتدار کو پوری طاقت کے ساتھ بلند کیا دوسری خصوصیت: عدل و انصاف یعنی نبی اکرم کے قائم کردہ نظام میں قوانین کے نفاذ کا حقیقی معیار عدل و انصاف اور کسی کا لحاظ کیے بغیر حق کو اس کے حقدار تک پہنچانا ہے تیسری خصوصیت: علم اور معرفت نبوی نظام میں ہر چیز کی بنیاد علم و معرفت اور آگہی و بیداری پر قائم ہے۔ یہاں آنکھیں بند کر کے آگے بڑھنے کی بالکل بھی گنجائش نہیں لہٰذا یہاں پر لوگوں کو علم و معرفت کے ذریعے قوتِ فیصلہ عطا کرتے ہوئے انہیں ایک کارآمد کارکن بنایا جاتا ہے نہ کہ انہیں ایک بے مقصد اور ناکارہ آدمی بنایا جاتا ہے چوتھی خصوصیت: اخوت اور بھائی چارگی نبوی نظام میں خرافات، ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کی بنیاد پر ہونے والے جھگڑوں کو برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے خلاف جہاد کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں اخوت بھائی چارگی اور ہمدردی کا ماحول پایا جاتا ہے
پانچویں خصوصیت اخلاق اور کردار کی اصلاح جس کے ذریعے یہ نظام ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے انسان کو پاک و صاف کرتا اور اسے تمام آلودگیوں سے نجات دیتا ہے اور اسے ایک بااخلاق اور پاک و صاف انسان بناتا ہے وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ — انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے— سورۃ آلِ عمران، آیت 164 یہاں تزکیۂ نفس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے یعنی نبی اکرم اپنے بہترین طریقۂ تربیت کے ذریعے آدمی کو انسان بناتے تھے چھٹی خصوصیت عزت اور اقتدار نبوی نظام اور اسلامی معاشرہ غیروں کے سامنے دستِ سوال نہیں پھیلاتا اسے اپنی عزت اور اپنے اقتدار سے بڑا پیار ہے۔
وہ اپنی مصلحتوں کا تعین خود کرتا ہے۔ پھر اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے شاہراہِ نجات پر گامزن ہوتا ہے ساتویں خصوصیت کام، کوشش اور مسلسل جد و جہد اسلامی معاشرہ اور نظامِ نبوی میں ٹھہراؤ اور جمود کا کوئی تصور نہیں بلکہ یہاں تو مسلسل جد و جہد کوشش اور کام کا رواج ہے۔ یہاں ایسا مرحلہ ہی نہیں آتا جہاں ٹھہر کر انسان یہ کہہ سکے کہ کام اب ختم ہو گیا۔ اب تو بس آرام کیا جائے، البتہ اس جد و جہد میں ایک لذت پائی جاتی ہے۔ اس کام میں تھکن، سستی اور ملال کا گزر بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا کام ہے جو انسان کے اندر ایک سرور اور شوق پیدا کرتا ہے پیغمبرؐ ایک ایسے نظام کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنا کر ہمیشہ کے لیے بطورِ نمونہ تاریخ کے سامنے پیش نظر رکھنے کے ارادے سے مدینہ میں داخل ہوئے تاکہ آپ کے بعد رہتی دنیا تک تاریخ کا کوئی بھی شخص کبھی اور کہیں بھی اس طرح کا نظام وجود میں لا سکے
اور لوگوں کے دلوں کو اس جانب متوجہ کر سکے تاکہ لوگ ایک اچھے معاشرے کی جانب بڑھ سکیں۔ البتہ ایک ایسے نظام کو وجود میں لانے کے لیے ذیل کی مضبوط اعتقادی اور انسانی بنیادوں کی ضرورت ہے اوّل: سب سے پہلے صحیح عقائد اور فکرِ سلیم کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان صحیح افکار پر اس نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔ پیغمبرِ اسلام نے تیرہ سالہ مکی دور میں ان عقائد اور افکار کو کلمہِ توحید انسانی عزت اور دیگر معارف کے قالب میں بیان فرمایا اور اس کے بعد مدینہ منورہ میں اپنی زندگی کے آخری لمحات تک ایک ایک مسلمان کو ان عقائد اور افکار کی تعلیم دیتے رہے جنہیں اس نظام میں بنیادی حیثیت حاصل تھی دوم: انسانی ستونوں کی کہ جن کے دوش پر اس عظیم الشان عمارت کی بنیاد رکھنی تھی لازمی ضرورت تھی کیونکہ اسلامی نظام کا وجود کسی ایک فرد سے وابستہ نہیں ہے لہٰذا پیغمبرِ اسلام نے مکہ مکرمہ میں بہت سارے ایسے ہی انسانی ستون وجود میں لائے اور انہیں تیار کیا
مکہ مکرمہ میں پیغمبرِ اسلام کے عظیم صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد جن کے مقام و مرتبے میں فرق ضرور تھا موجود تھی جو پیغمبرِ اسلام کے تیرہ سالہ سخت ترین مکی دور کی جد و جہد اور کوششوں کا نتیجہ تھی کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ہجرتِ رسول سے پہلے ہی آپ کا پیغام سن کر یثرب میں ایمان لا چکے تھے جیسے سعد بن معاذ اور ابو ایوب انصاری اور دوسرے بہت سارے افراد اس کے بعد مدینہ تشریف لاتے ہی پیغمبرِ اکرم نے لوگوں کی تربیت کا فریضہ انجام دینا شروع کیا جس کے نتیجے میں دن بدن شائستہ ،شجاع، مدبر، مومن، بامعرفت اور حکیم افراد مدینہ میں ظاہر ہوتے گئے جہاں ہر ایک کا کردار اس بلند و بالا عمارت میں ایک اہم اور مستحکم ستون کی حیثیت رکھتا تھا۔
پیغمبرِ اسلام کا مدینہ ہجرت کرنا آپ کے ہجرت کرنے سے پہلے اس شہر کو یثرب کہا جاتا تھا اور آپ کے تشریف لانے کے بعد اس کا نام مدینۃ النبی پڑ گیا ایسا ہی تھا جیسے موسمِ بہار کے ہوا کا ملائم جھونکا جس نے اس پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور سب کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ یقیناً کوئی تبدیلی آ چکی ہے لہٰذا لوگوں کے دل و دماغ متوجہ اور بیدار ہونے لگے اور جب لوگوں کو اس بات کا پتہ چلا کہ آپ قباء کے مقام پر تشریف لا چکے ہیں قباء مدینہ کے قریب ایک جگہ ہے جہاں آپ نے پندرہ دن قیام کیا تو اہلِ مدینہ کے دلوں میں آپ کی زیارت کا اشتیاق بڑھنے لگا تو بعض لوگ آپ کے دیدار کے خاطر قباء پہنچے اور بعض مدینہ ہی میں آپ کا انتظار کرنے لگے اور جب آپ مدینہ تشریف لا چکے تو اس شوقِ زیارت نے لوگوں کے دلوں میں ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور انہیں تبدیل کر کے رکھ دیا لوگوں کو یکا یک یہ احساس ہونے لگا کہ اس عظیم شخصیت کی رفتار اور گفتار کی وجہ سے ان کے عقائد، احساسات، قبائلی تعصبات اور ان سے وابستگیاں ختم ہو چکی ہیں اور وہ ایک جدید دروازے سے حقائقِ عالم اور اخلاقی معارف سے روشناس ہو چکے ہیں یہ وہ طوفان تھا جس نے پہلے تو مدینہ کے لوگوں کے دلوں میں انقلاب پیدا کر دیا اور بعد میں مدینہ کے اطراف میں بھی پھیلنے لگا پھر اس نے مکہ کے قلعوں کو تسخیر کر دیا