حصہ 1 از 3
حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
تاریخِ اسلام کے اس 35 سالہ دورانیے (148 ہجری سے لے کر 183 ہجری تک) یعنی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دورِ امامت کا شمار آئمہ معصومین کی زندگی کے ایک اہم ترین دور میں ہوتا ہے۔ اس عرصے میں بنو عباس کے دو مقتدر ترین خلفاء، منصور دوانیقی اور ہارون اور دو جابر ترین خلفاء، مہدی اور ہادی نے حکومت کی بنو عباس نے اس عرصے میں اپنی حکومت کے خلاف خراسان، افریقہ، جزیرہ موصل، دیلمان، جرجان، شام، نصیبین، مصر، آذربائیجان، ارمنستان اور دیگر علاقوں میں اٹھنے والی شورشوں اور بغاوتوں کو سختی کے ساتھ کچل کر انہیں اپنا مطیع اور فرماں بردار بنایا تھا اور انہوں نے اپنی سلطنت کے مشرقی، مغربی اور شمالی علاقوں کو اسلامی مملکت کے وسیع قلمرو میں داخل کر لیا تھا۔
ان مفتوحہ علاقوں سے حاصل ہونے والے غنائم نے بنو عباس کی سلطنت کو مزید استحکام بخشا تھا۔ اس دور میں بہت سی نظریاتی اور عقیدتی تحریکیں اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھیں جبکہ بہت سی تحریکوں نے ابھی جنم لیا تھا لوگوں کے اذہان اختلافی باتوں سے بھرے ہوئے تھے اور یہ چیز جہاں ایک طرف حکمرانوں کے لیے بہترین موقع فراہم کرتی تھی تو دوسری طرف ایک آفت کی صورت صحیح اسلامی معارف اور تعلیمات کا پرچار کرنے والوں کے سامنے ایک رکاوٹ بن گئی تھی اور صحیح اسلامی معارف اور علوی تحریک کی طرف دعوت دینے والوں کے لیے میدان تنگ ہو چکا تھا شعر و ہنر، فقہ، حدیث، یہاں تک کہ زہد و تقویٰ جیسے صفات بھی اربابِ اقتدار کی خدمت پر کمر بستہ ہو چکی تھیں اور مکمل طور پر یہ اربابِ اختیار کے ہاتھوں ایک کھلونے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔
اس وقت نہ تو بنو امیہ کے آخری دورِ خلافت کی طرح کوئی حکومت مخالف تحریک زوروں پر تھی اور نہ ہی بنو عباس کے ابتدائی دس سالہ دورِ خلافت کی طرح اور نہ ہی ہارون الرشید کی موت کے بعد کے زمانے کی طرح کہ جب مسلط حکومت کو کسی نہ کسی قسم کا خوف لاحق رہتا تھا کوئی ایسا سنگین خطرہ خلافت کی بنیادوں کو لاحق نہ تھا جو خلیفہ وقت کو اہل بیت علیہم السلام کی گہری اور مسلسل دعوت سے غافل کر سکے اس دور میں ایک ہی بات جو اہل بیت علیہم السلام اور ان کے سچے پیروکاروں کی نظریاتی اور سیاسی جنگ اور جدوجہد کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھا سکتی تھی وہ ان بزرگوں کی انتھک محنت اور اس الہیٰ شیوہ یعنی تقیہ سے متوسل ہونا تھا۔
یہاں سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی جہاد کی حیرت انگیز عظمت اور ہیبت آشکار ہو جاتی ہے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مورخین کو تاریخِ اسلام قلم بند کرتے وقت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حالاتِ زندگی کے جس پہلو پر جتنی توجہ دینی چاہیے تھی اتنی توجہ نہیں دی اور وہ آپ کی زندگی کا عظیم واقعہ یعنی طویل المدت اسیری ہے جس کے نتیجے میں مورخین آپ کے اس عظیم جہاد سے غافل رہے ہیں۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے پینتیس سالوں پر محیط دورِ امامت میں آپ کی مسلسل جدوجہد اور جہاد، آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں، واقعات اور آپ کی علمی و روحانی زندگی آپ کا الٰہی مقام، آپ کا خاندان، اصحاب اور شاگردوں سے متعلق واقعات اور ان کے علمی اور کلامی مباحثوں کے تذکروں اور اس قسم کی دوسری چیزوں کو بیان کیے بغیر آپ کے حالاتِ زندگی کا مکمل احاطہ ممکن نہیں ہو سکتا بلکہ اس طرح کا زندگی نامہ ناقص اور نامکمل رہ جائے گا۔
یہ آپ کی بابرکت زندگی کا وہ حصہ ہے جس کی وضاحت کے ذریعے آپ کی حیات کے مختلف پہلوؤں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک مکمل اور واضح تصویر پیش کی جا سکتی ہے جس میں آپ کی حیات کے ہر واقعے کی حقیقت کو بیان کیا جا سکے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مفضل سے یوں کہتے ہیں کہ اس جوان کی امامت کے بارے میں صرف قابلِ اعتماد لوگوں کو بتایا کرو اور عبدالرحمن بن حجاج کو واضح طور پر بتانے کی بجائے اشاروں کنایوں میں فرماتے ہیں کہ "کیا زرہ ان کے جسم پر برابر آئی ہے؟" اور اپنے انتہائی قریبی اصحاب جیسے صفوان جمال کے سامنے آپ کا علامتوں اور نشانیوں کے ساتھ تعارف کراتے ہیں۔
یہاں تک کہ اپنے وصیت نامے میں اپنے فرزند کا نام بطورِ وصی چار دوسرے لوگوں کے بعد درج کرتے ہیں جن میں سب سے پہلا نام منصور عباسی کا تھا اور اس کے بعد حاکمِ مدینہ اور اس کے بعد دو عورتوں کے نام ہیں چنانچہ امام کی شہادت کے بعد شیعہ اکابرین کے ایک بڑے طبقے کو بھی یہ نہیں معلوم تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا جانشین یہی بیس سالہ جوان ہے کیونکہ ہارون رشید کے ساتھ اپنی ایک گفتگو کے دوران جب وہ آپ کے بھتیجے کا قول نقل کرتا ہے "ایک ہی مملکت میں دو خلفاء ہیں اور دونوں خراج وصول کرتے ہیں" الاحتجاج على أهل اللجاج للطبرسی (جلد ۲ صفحہ ۳۸۹) تو آپ نرم انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انکار آمیز رویہ اپناتے ہیں۔
لیکن اس سے کچھ ہی دیر پہلے حسین بن عبداللہ نامی ایک زاہد اور پرہیزگار شخص سے گفتگو کے دوران امام کی معرفت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خود کو "مفترض الطاعہ" یعنی اس مقام کے اصلی حقدار کے طور پر تعارف کراتے ہیں کہ جس پر خلیفہ براجمان تھا کیوں امام اپنے ایک چاہنے والے شخص علی بن یقطین کو جو ہارون کے دربار میں ایک اہم عہدے پر فائز تھا، تقیہ پر عمل کرنے کا حکم دیتے ہیں جبکہ صفوان جمال کی اسی دربار میں ملازمت کرنے پر اس کی سرزنش کرتے ہوئے خلیفہ کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے کا حکم دیتے ہیں کس طریقے سے اور کن ذرائع سے وسیع و عریض اسلامی ریاست میں اپنے چاہنے والوں اور پیروکاروں کے ساتھ رابطہ برقرار کیے ہوئے ہیں جو چین تک پھیلا ہوا ہے آخر کیوں منصور، مہدی اور ہارون میں سے ہر ایک اپنے دورِ اقتدار میں امام کو قتل، قید اور جلا وطن کرنے پر کمر بستہ ہو جاتا ہے آخر بعض روایات سے یہ کیوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے پینتیس سالہ دورِ امامت میں بعض اوقات شام کے دیہاتوں، قصبوں یا تبرستان کے بعض علاقوں میں روپوشی کی زندگی گزارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
اور خلیفہِ وقت آپ کی تلاش میں رہتا ہے اور امام اپنے دوستوں اور پیروکاروں کو یہ تاکید فرماتے ہیں کہ اگر خلیفہ میرے بارے میں پوچھے تو اس سے کہیں کہ ہم امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو نہیں جانتے یا یہ کہیں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس وقت آپ کہاں ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ ہارون ایک مرتبہ سفرِ حج کے دوران بہت شان و شوکت کے ساتھ آپ کا احترام کرتے ہوئے خاطر مدارت کرتا ہے تو دوسری مرتبہ آپ کو گرفتار کرتے ہوئے جلا وطن کرنے کا حکم دیتا ہے اور کیوں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ہارون کے دورِ خلافت کی ابتداء میں جبکہ ہارون نے نرم رویہ اختیار کیا ہوا تھا اور علویوں کو قید سے رہا بھی کر رہا تھا باغِ فدک کی حدود بیان کرتے ہوئے وسیع و عریض اسلامی ریاست کے تمام علاقوں کو اس میں شامل کر دیا کہ یہاں تک کہ خلیفہ کو یہ کہنا پڑا کہ "تو پھر آپ جائیں اور میری جگہ بیٹھ جائیں" اور کیوں اسی مہربان خلیفہ کا رویہ کچھ ہی سالوں بعد اس قدر تلخ اور سخت ہو جاتا ہے کہ آپ کو زندان میں ڈال دیتا ہے
اور سالہا سال قید رکھنے کے بعد قید خانے میں بھی آپ کا وجودِ مقدس اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے اور وہ انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کو زہر دے کر شہید کر دیتا ہے۔ اس قسم کے دوسرے سینکڑوں توجہ طلب، پرمعنی اور بظاہر آپس میں بے ربط اور کبھی تو آپس میں متضاد واقعات سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی بھری ہوئی ہے اور یہ واقعات اس وقت بامعنی اور مربوط ثابت ہوتے ہیں جب ہم اس عظیم امام کی امامت کے آغاز سے لے کر شہادت تک زندگی کے تمام واقعات کا تسلسل کے ساتھ جائزہ لیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی اسی مقصدِ جہاد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
آپ کا درس و تدریس، تعلیم و تربیت، فقہ، حدیث، تقیہ، سب کا محور یہی تھا۔ البتہ آپ کا دور بعض امتیازی خصوصیات کا حامل بھی تھا۔ پس اس لحاظ سے آپ کا جہاد بھی اپنے زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق تھا بالکل اسی طرح جیسے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے لے کر حضرت امام حسن عسکری تک ہمارے آٹھ اماموں میں سے ہر ایک نے اپنے زمانے کے مخصوص حالات کے مطابق اپنا جہاد جاری رکھا مجموعی طور پر ان آٹھ اماموں کا دور ہمارے آئمہ اطہار کی ڈھائی سو سالہ دورِ حیات کے چوتھے مرحلے کو تشکیل دیتا ہے جو خود بھی کئی مرحلوں میں تقسیم ہوتا ہے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، تقیہ کا اصول اور انتھک جدوجہد حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی ایک حیرت انگیز اور عجیب زندگی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ امام کی خصوصی زندگی کے حالات سے صرف آپ کے قریب لوگ ہی باخبر تھے۔
آپ کے قریبی دوستوں اور صحابہ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جو یہ نہ جانتا ہو کہ امام کی جدوجہد کا مقصد کیا ہے خود امام اپنے ارشادات اور اشاروں کنایوں میں لوگوں کو یہ سمجھا دیتے تھے کہ آپ کا مقصد کیا ہے۔ یہاں تک کہ امام کی رہائش گاہ یعنی وہ حجرہ جس میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام قیام فرماتے تھے وہ ایسا تھا کہ راوی جس کا تعلق امام کے قریبی اصحاب میں سے ہے کہتا ہے کہ میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حجرے میں داخل ہوا تو دیکھا اس میں تین قسم کی چیزیں رکھی ہوئی تھیں، ایک سخت قسم کا کھردرا لباس جو عام قسم کے ارمادہ لباس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی آج کی اصطلاح میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک جنگی لباس جس کو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے پہنا تو نہیں تھا لیکن حجرے میں رکھا تھا اور دوسری چیز "سیف معلق" یعنی ایک تلوار چھت یا دیوار پر لٹکی ہوئی تھی اور تیسری چیز "مصحف" یعنی قرآن مجید رکھا ہوا تھا
(بحار الانوار، جلد 48، صفحہ 100) قارئین غور کیجئے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے اس مخصوص حجرے میں جہاں آپ کے قریبی اصحاب کے علاوہ کوئی جا نہیں سکتا وہاں آپ نے کتنی خوبصورت چیزیں رکھی تھیں۔ یہ چیزیں خود بتاتی ہیں کہ یہ ایک نظریاتی قسم کے جنگجو مجاہد انسان کا حجرہ ہے تلوار کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ آپ جہاد کا ارادہ رکھتے ہیں جنگی لباس کی موجودگی اس بات کی شاہد ہے آپ کی زندگی ایک سخت قسم کی جنگی اور انقلابی زندگی ہے اور قرآن مجید کی موجودگی اس بات کی نشانی ہے کہ آپ اپنی زندگی کو قرآنی اصولوں کے مطابق گزارنا چاہتے ہیں۔
پس اس مقصد کے حصول کے لیے ان وسائل سے استفادہ کرتے تھے جس کے نتیجے میں سختیاں اور تکالیف بھی جھیلتے تھے۔ امام کے دشمنوں کو بھی اس بات کا بخوبی علم تھا۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی یعنی آپ کی امامت کا آغاز ایک مشکل ترین زمانے میں ہوا میرے خیال میں امام زین العابدین علیہ السلام کے علاوہ دیگر اماموں کی زندگیوں میں ایسا سخت دور کبھی نہیں آیا جب 148 ہجری میں اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام منصبِ امامت پر فائز ہوئے تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ بنو عباس اپنی خلافت کی ابتداء میں پیدا ہونے والے داخلی اختلافات اور آپس کی جنگوں سے فراغت پا چکے تھے بڑے بڑے باغیوں جن کی طرف سے ان کی حکومت کو خطرات لاحق تھے جیسے بنی الحسن، محمد بن عبداللہ حسن، ابراہیم بن عبداللہ حسن اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی اولاد میں سے دیگر افراد جن کا شمار بنو عباس کی حکومت کے سخت مخالفین میں ہوتا تھا ان سب کی سرکوبی کرتے ہوئے انہیں اپنا مطیع بنایا جا چکا تھا
بہت سے حکومت مخالفین کو قتل کر کے ان لاشوں کو ایک مخصوص جگہ پر جمع کیا گیا تھا جس کے بارے میں منصور عباسی کے مرنے کے بعد پتا چلا کہ اس نے بہت سی اہم حکومت مخالف شخصیات اور دیگر افراد کو قتل کر کے ان لاشوں کو ایک جگہ جمع کر رکھا تھا جہاں ان کے ڈھانچے اس وقت موجود تھے منصور عباسی نے اپنے دورِ خلافت میں بنی الحسن، بنی ہاشم اور یہاں تک کہ خود اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے بہت ساری اہم شخصیات کو قتل کرایا تھا کہ ان کے ڈھانچوں سے ایک سٹور بھرا ہوا تھا منصور عباسی جب ان تمام افراد سے نمٹ چکا تو اب امام جعفر صادق علیہ السلام کی باری آئی اور اس نے آپ کو بھی زہر دے کر شہید کر دیا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنو عباس کی سیاسی زندگی میں اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی ایسے حالات میں جب منصور عباسی اپنے اقتدار کے عروج پر تھا۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دورِ امامت کا آغاز ہوا جبکہ آپ ابھی نوجوان ہی تھے تمام تر حفاظتی انتظامات کے ساتھ یہاں تک کہ جو لوگ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد یہ جاننا چاہتے تھے کہ امامِ وقت کون ہیں اور انہیں کس سے رجوع کرنا چاہیے بڑی مشکل سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تک پہنچ پاتے تھے۔ آپ انہیں یہ نصیحت فرماتے تھے کہ "خبردار، ہوشیار رہنا" "اگر دشمن کو معلوم ہو جائے کہ تم لوگ مجھ سے ملتے ہو" "مجھ سے رابطے میں ہو اور مجھ سے اسلامی تعلیمات حاصل کرتے ہو" "تو اس کا مطلب عنقریب قتل ہو جانا ہے۔"
پس امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کچھ ایسے حالات میں منصبِ امامت پر فائز ہوئے اور اپنی جدوجہد کا آغاز فرمایا۔ اب اگر کوئی سوال کرے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے منصبِ امامت پر فائز ہونے کے بعد کس طرح جدوجہد کی؟ کون سا کارنامہ انجام دیا؟ کہ ان لوگوں کو جمع کیا؟ کہاں کہاں تشریف لے گئے؟ اور آپ کے 35 سالہ دورِ امامت میں کون کون سے واقعات رونما ہوئے؟ تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان سوالات کا میرے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہے اور یہ چیز ایک ایسے شخص کے لیے انتہائی دکھ کی بات ہے جو صدرِ اسلام پر تحقیق کرتا ہو کیونکہ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی چیز موجود نہیں یعنی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے 35 سالہ دورِ امامت کے حالات و واقعات مرتب اور مدوّن صورت میں موجود نہیں میں جو یہ عرض کر رہا ہوں کہ اس حوالے سے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی اور نہ کسی نے کوئی تحقیق کی ہے تو میرا مطلب یہ ہے کہ محققین کو یہ کام کرنا چاہیے کیونکہ بہت سی پراگندہ اور بکھری ہوئی باتیں اور واقعات موجود ہیں