امام جعفر صادقؑ کے نام کی خطاطی

امام جعفر صادقؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام جعفر صادقؑ کے نام کی خطاطی

امام جعفر صادقؑ

ولادت ۸۳ ہجری · مدینہ منورہ — شہادت ۱۴۸ ہجری · مدینہ منورہ

امامت ۱۱۴ تا ۱۴۸ ہجری · حکمران: ہشام بن عبدالملک، ولید بن یزید، یزید بن ولید، ابراہیم بن ولید، مروان بن محمد، سفاح، منصور

اہم واقعات7 واقعات
  1. ۵۱ ہجریحجر بن عدی کی شہادت · دمشقصفحہ 4
  2. ۸۳ ہجریولادت · مدینہ منورہ
  3. ۱۱۴ ہجریعرفات میں امامت کا کھلا اعلان · مکہ مکرمہصفحہ 1
  4. ۱۱۴ ہجریفقہ جعفری اور امام کا علمی مدرسہ · مدینہ منورہصفحہ 2
  5. ۱۲۵ ہجریہشام کے بعد بنو امیہ کی باہمی چپقلش · دمشقصفحہ 1
  6. ۱۳۲ ہجریبنو عباس کا اقتدار پر قبضہ · کوفہصفحہ 1
  7. ۱۳۶ ہجریمنصور دوانیقی کی خلافت · بغدادصفحہ 1
  8. ۱۴۷ ہجریامام کے گھر کو آگ لگانے کا حکم · مدینہ منورہصفحہ 1
  9. ۱۴۸ ہجریشہادت · مدینہ منورہ

حصہ 1 از 3

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

جب حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے دنیا سے رحلت فرمائی، اس وقت کے حالات حضرت امام محمد باقر اور آپ سے پہلے حضرت امام زین العابدین کی بے پناہ کوششوں اور جدوجہد کے نتیجے میں اہل بیت علیہم السلام کے حق میں بہت بہتر ہو چکے تھے میں دو جملوں میں امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا لائحہ عمل آپ کی خدمت میں بیان کرتا ہوں۔ البتہ اس زمانے میں یہ راز کی باتیں سمجھی جاتی تھیں یہ وہی خفیہ باتیں تھیں جن کے بارے میں قارئین سنتے رہتے ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جابر بن یزید کا شمار رازدار اصحاب میں ہوتا تھا یا یہ حدیث کہ جو بھی ہمارے اسرار کو افشا کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو وغیرہ یہ سب اس زمانے میں خفیہ باتیں تھیں جن کے افشا کرنے والے پر اس وقت اللہ کی لعنت تھی ان کو میں آپ کے سامنے بیان کرنے جا رہا ہوں کیونکہ ہمارے زمانے میں نہ صرف یہ کہ ان باتوں کو افشا کرنے میں کوئی عیب نہیں بلکہ ایسا کرنا واجب بھی ہے

تاکہ لوگ سمجھ سکیں امام کیا کرنا چاہتے تھے ان کو افشاء کرنا صرف ائمہ اطہار کی زندگی میں منع تھا۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کا لائحہ عمل یہ تھا کہ حکومت وقت کے خلاف کھلے عام قیام کیا جائے اور بنو امیہ کی سلطنت کا جہاں آئے روز حکمران تبدیل ہوتے رہتے تھے جس سے ان کی کمزوری کا پتا چلتا ہے تختہ الٹ دیا جائے خراسان، رے، اصفہان، حجاز، مصر، مراکش اور دیگر شیعہ نشین علاقے جہاں امام جعفر صادق علیہ السلام کے شیعوں کا نیٹ ورک تھا ان تمام علاقوں سے لوگوں کو مدینہ میں جمع کر کے آپ شام پر لشکر کشی کرنا چاہتے تھے تاکہ بنو امیہ کی حکومت کا خاتمہ کر کے خود ہی خلافت کا پرچم بلند کریں اور مدینہ میں آ کر نبوی حکومت کا احیا فرمائیں یہی امام جعفر صادق علیہ السلام کا منصوبہ تھا۔

لہٰذا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں جب آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ قائمِ آلِ محمد کون ہیں تو آپ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف دیکھتے اور فرماتے ہیں کہ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ قائمِ آلِ محمد یہ ہیں۔ البتہ آپ جانتے ہیں کہ قائمِ آلِ محمد کوئی خاص نام نہیں ہے بلکہ یہ عام نام ہے۔ یہ صرف امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام آلِ محمد کے آخری قائم ہیں۔ لیکن آلِ محمد کے وہ تمام لوگ جنہوں نے پوری تاریخ میں قیام کیا ہے چاہے انہیں کامیابی ملی ہو یا نہ ملی ہو وہ سب کے سب قائمِ آلِ محمد ہیں یہ جو روایات میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو یہ کام کرے گا وہ کام کرے گا اور اس طرح معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے گا۔

اس سے مراد حضرت امام زمانہ علیہ السلام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آلِ محمد میں سے جو بھی شخص حق کی حکومت اور عدل و انصاف کے لیے جب بھی قیام کرے گا تو وہ یہ کام کرے گا اور یہ بالکل صحیح بھی ہے اور یہ طے پایا تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اس دور کے قائمِ آلِ محمد بن جائیں کچھ ایسے حالات میں امام جعفر صادق علیہ السلام منصبِ امامت پر فائز ہوئے امام جعفر صادق ایک مجاہد، ایک عالم، ایک دانشور اور تنظیمی آدمی تھے۔ آپ کے عالم اور دانشور ہونے کے بارے میں آپ سب نے بہت سنا ہے۔

آپ کا وہ مدرسہ جہاں درس دیا کرتے تھے وہ آپ سے پہلے اور بعد کے ائمہ طاہرین کی تاریخ زندگانی میں اپنی مثال آپ تھا وہ تمام صحیح اسلامی اور قرآنی تعلیمات جو ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے کے دوران خود غرضوں، مفسدوں اور جاہلوں کے ہاتھوں تحریف کا شکار ہو گئی تھی۔ آپ نے ان سب کو ان کی اصلی روح کے مطابق دوبارہ بیان فرمایا اور یہی چیز اس بات کا سبب بنی کہ دشمن آپ کے وجود سے خطرہ محسوس کرنے لگے آپ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک مجاہد ہونے کے بارے میں بہت کم سنا ہوگا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام ایک وسیع اور نتیجہ خیز جنگ میں مشغول تھے۔

آپ کی جنگ اسلام دشمن عناصر سے حکومت اور اقتدار چھین لینے کے لئے تھی۔ آپ کی جنگ اسلامی اور علوی حکومت کے قیام کے لئے تھی یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام بنو امیہ کی حکومت کا خاتمہ کر کے اس کی جگہ اسلامی حکومت جو در حقیقت سچی اسلامی حکومت ہے، کا قیام چاہتے تھے یہ بات ہر اس شخص کے لیے جو غور و خوض کے ساتھ امام عالی مقام کی زندگی کا مطالعہ کرے گا واضح ہے۔ لیکن وہ تیسرا پہلو جسے بہت سے لوگوں نے تو سنا ہی نہیں ہے وہ ہے آپ کی تنظیمی شخصیت کا مالک ہونا امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے پیروکار مومنین اور علوی حکومت کے حامیوں کے تعاون سے پورے عالمِ اسلام یعنی خراسان کے دور دراز علاقوں سے لے کر بحیرہ روم اور شمالی افریقہ تک ایک عظیم الشان تنظیم قائم کی تھی تنظیم سے کیا مراد ہے یعنی یہ کہ جب کبھی امام چاہتے ہیں کہ ان کی کوئی بات تمام لوگوں تک پہنچ جائے تو آپ کے نمائندے پورے عالمِ اسلام میں لوگوں تک اس بات کو پہنچاتے تھے

تاکہ وہ آپ کے پیغام کو جان لیں یعنی ہر جگہ سے شرعی وجوبات امام عالی مقام کی عظیم سیاسی جنگ کے لیے جمع ہوتے تھے یعنی امام کے نمائندے اور وکلاء ہر شہر میں موجود ہوں تاکہ امام کے پیروکار ان سے رجوع کر سکیں اور اپنے دینی اور اسی طرح سیاسی مسائل دریافت کر سکیں سیاسی فریضہ بھی دینی فرائض کی طرح واجب الاجرا ہے۔ وہ شخص جس کی اطاعت ہم پر واجب ہے اور وہ ولی امر ہے دینی معاملات جیسے نماز، زکات، روزہ اور دیگر واجبات میں اس کے دینی فتاویٰ اور اس کے سیاسی فتاویٰ میں کوئی فرق نہیں ہے تمام امور میں اس کی اطاعت واجب ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک ایسی عظیم تنظیم قائم کی تھی اور آپ اپنی اسی تنظیم اور تنظیمی کارکنوں کی مدد سے بنو امیہ کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے حالات زندگی انتہائی اہم اور سبق آموز ہیں۔ آپ نے دس سال تک بنو امیہ اور اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بنو عباس کے خلاف جہاد کیا۔ بنو امیہ کے خلاف آپ کی جد و جہد کامیابی سے ہمکنار ہونے ہی والی تھی کہ بنو عباس موقع پرست لوگوں کی حیثیت سے آگے بڑھے اور میدان پر قابض ہو گئے۔ اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام بنو امیہ اور بنو عباس دونوں کے خلاف لڑتے رہے طبری مشہور مورخ کے حوالے سے بعض مطالب نقل کیے گئے ہیں کہ امام جعفر صادق اپنے دور امامت کے شروع کے دس سال مسلسل بنو امیہ کے خلاف جد و جہد کرتے رہے اور اس دوران امام کی یہ جد و جہد اور جنگ کھلے عام تھی یعنی اس دوران امام نے تقیہ اور کتمان جیسے اصولوں کو اختیار نہیں کیا

اس کی وجہ یہ تھی کہ بنو امیہ کے خلفاء باہمی چپقلش میں اتنے مصروف تھے کہ انھیں امام جعفر صادق اور شیعوں کے امور پر نظر رکھنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ چنانچہ ایسے حالات میں امام کو بھی اپنی سرگرمیوں کو خفیہ رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا امام جعفر صادق علیہ السلام عرفہ کے دن عرفات میں پہنچے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کے اس عظیم اجتماع کے سامنے کھڑے ہوتے تھے جو کہاں کہاں سے آئے ہوئے ہوتے تھے پورے عالم اسلام یعنی افریقہ، مشرق وسطیٰ، حجاز، عراق، ایران، خراسان، افغانستان، مشرقی ترکستان سمیت دنیا بھر کے لوگ یہاں موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ یہاں کوئی بڑا سیاسی اعلان کرتے ہیں تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے یہاں اگر کوئی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کسی انٹرنیشنل چینل پر بات کی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام اس عظیم اجتماع میں لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کھلے عام یہ اعلان کرتے تھے کہ اے لوگوں آج امامت اور حکومت کا حق جعفر بن محمد یعنی خود امام جعفر صادق علیہ السلام کو حاصل ہے نہ کہ ابو جعفر منصور کو اور اپنے اس دعویٰ کی دلیل بھی پیش کرتے تھے۔ البتہ اس موقع پر آپ کوئی کلامی یا عقلی دلیل پیش نہیں کرتے تھے کیونکہ ان لوگوں میں اس قسم کی دلیلیں سننے کا حوصلہ نہ تھا بلکہ آپ کے دلائل کا انداز مختلف ہوتا تھا۔ چنانچہ منصور عباسی اور بنو عباس کے دیگر افراد نے لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے یہ ظاہر کر رکھا تھا کہ وہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین ہیں اور انہوں نے ایک نسبی سلسلہ بھی بنا رکھا تھا۔

وہ کہتے تھے کہ ہم عباس کی اولاد میں سے ہیں یعنی انہوں نے اپنے لئے دو قسم کے سلسلۂ نسب بنا رکھے تھے کبھی کچھ کہتے تھے اور کبھی کچھ اور ان میں سے ایک یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم پیغمبرِ اکرم کے چچا جناب عباس کی اولاد میں سے ہیں کیونکہ پیغمبرِ اکرم کی وفات کے بعد خلافت کے حقدار بنو ہاشم تھے اور بنو ہاشم میں بھی سب سے عمر رسیدہ اور بزرگ شخصیت جناب عباس تھے۔ لہٰذا پیغمبرِ اکرمؐ کی وفات کے بعد آپ کی خلافت پر جناب عباس کا حق تھا۔ اب چونکہ ہم جناب عباس کی اولاد میں سے ہیں لہٰذا یہ حق ہمیں ملا ہے۔

ان کا ایک دعویٰ یہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنا ایک اور سلسلۂ نسب بھی بیان کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم علی عباسی کی اولاد میں سے ہیں یعنی علی بن عبداللہ بن عباس کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ بات ان کی صحیح تھی کیونکہ وہ علی عباسی کے پوتے یا بیٹے تھے اور علی بن عبداللہ بن عباس خود محمد بن حنفیہ کے شاگرد تھے اور محمد بن حنفیہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے فرزند تھے اور حضرت علی علیہ السلام پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد ہیں۔ لہٰذا خلافت پیغمبرِ اکرم سے امام علی کو ملی ہے اور ان سے محمد حنفیہ کو ملی نہ کہ امام حسن اور امام حسین اور ان سے عبداللہ بن عباس کے بیٹے کو منتقل ہوئی ہے جو ہمارے جد ہیں اور ان سے ہم تک پہنچی ہے۔

لہٰذا ہم خلیفہ ہیں۔ یہ سلسلۂ نسب جو یوں وہ بیان کرتے تھے اس زمانے کے لوگوں کو ذہنی طور پر قائل کرنے والا تھا کیونکہ لوگ ذہنی طور پر انتہائی پسماندہ تھے۔ لہٰذا جب امام جعفر صادق علیہ السلام عرفات کے میدان میں لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر امامت کے صحیح سلسلے کو بیان کرتے اور آپ فرماتے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی امام تھے یعنی آپ معاشرے کے پیشوا اور رہبر تھے یہی شیعوں کا دعویٰ ہے۔ آپ کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب امام بنے ان کے بعد حسن ابن علی امام ہیں۔ ان کے بعد حسین ابن علی امام ہیں اور ان کے بعد علی ابن حسین اور پھر ان کے بعد محمد بن علی اور پھر ان کے بعد میں جعفر صادق زمانے کا امام ہوں یعنی آپ خود کو امام کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور اس کام کے لیے بڑی جرات چاہیے کیونکہ یہ کوئی عام اور سادہ بات نہیں تھی بلکہ یہ حکمرانوں کے خلاف سب سے بڑی بات تھی

جسے امام جعفر صادق علیہ السلام بنو اُمیہ کے دور خلافت کے آخر میں کیا کرتے تھے۔ لیکن بنو عباس کے دور میں آپ ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ اس وقت تقیہ اور کتمان سے کام لیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بنو عباس بھی آل علی کا نعرہ لگاتے تھے۔ یہ لوگ ظاہراً آل علی کی طرح تھے۔ لیکن عمل کے اعتبار سے بنو اُمیہ جیسے تھے۔ بنو اُمیہ کے دور حکومت میں یہ آپ کی جد و جہد کا انداز تھا جبکہ بنو عباس کے دور حکومت میں جو طویل دور تھا۔ امام نے اپنی جد و جہد خفیہ رکھی کیونکہ بنو عباس ایک منحرف گروہ تھا جس نے موقع سے فائدہ اٹھایا تھا یعنی وہ انقلاب جس کے لیے امام جعفر صادق نے راستہ ہموار کیا تھا اسے بنو عباس نے ہائیجیک کر لیا تھا تمام انقلابات کو ہمیشہ اس چیز کا خطرہ رہتا ہے کہ کبھی انقلابات اپنے اصلی ہدف کے مطابق صحیح سمت پر گامزن ہوتے ہیں جبکہ کبھی کبھار بعض انقلابات اپنے راستے سے منحرف ہوجاتے ہیں

یعنی باطل ظاہراً حق کا نعرہ لگاتے ہوئے انقلاب کو غلط راستے پر لگاتا ہے۔ لہٰذا انسان کو ہمیشہ چوکنّا رہنا چاہیے۔ لیکن اس وقت کے لوگ ایسے ہوشیار نہیں تھے۔ اس لیے کئی سال بعد یعنی بیس تیس سال بعد دور دراز کے علاقوں کے لوگ یہ خیال کرتے تھے۔ جب حکومت بنو عباس کے ہاتھ میں آگئی تھی کہ یہ بنو عباس کی جد و جہد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے آل علی کی خاطر کی تھی وہ یہ سوچ رہے تھے کہ شاید عباسی حکومت ہی آل علی کی حکومت ہے انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ غاصب ہیں۔ اس دوران امام جعفر صادق علیہ السلام نے دو مرحلے طے کیے ایک مرحلہ 114 ہجری سے لے کر منصور کی خلافت تک کا ہے۔

یہ دور امن سکون کا ہے۔ یہ جو مشہور ہوا ہے کہ بنو اُمیہ اور بنو عباس کی آپس کی چپقلش کی وجہ سے ہمارے ائمہ کو موقع ملا تو وہ یہی دور ہے۔ لیکن امام محمد باقر علیہ السلام کے دور میں ایسا نہیں تھا بلکہ اس وقت بنو اُمیہ کے طاقتور ترین خلیفہ ہشام بن عبد الملک کی حکومت تھی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ عبد الملک کے بعد بنو اُمیہ کی سب سے بڑی شخصیت اور مرد ہشام تھا۔ اس لحاظ سے امام محمد باقر علیہ السلام کے دور امامت میں حکمرانوں کے درمیان کوئی چپقلش نہیں تھی کہ جس سے امام استفادہ کرتے یہ صرف امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور وہ بھی ایک مخصوص دور تھا جب بنو عباس کی تحریک آہستہ آہستہ پھیلنا شروع ہوئی تھی اور شیعہ علوی تحریک بھی پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔

جب منصور منصبِ خلافت پر بیٹھ گیا اس وقت سے حالات دوبارہ ناخوش گوار ہونا شروع ہوئے امام جعفر صادق علیہ السلام کو تقریباً کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا جو امام محمد باقر علیہ السلام کو درپیش تھے اس وقت گھٹن کا سا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور آپ کو وطن بدر کیا جاتا ہے یاد رہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام بارہا حیرہ رمیلا اور مختلف جگہ بھیجے گئے۔ ایک مرتبہ منصور نے امام کو طلب کیا اور آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔ اگر میں آپ کو قتل نہ کروں تو خدا مجھے مار دے الاحتجاج على أهل اللجاج، طبرسی، جلد ۱، صفحہ ۱۶۳ ایک مرتبہ منصور نے حاکمِ مدینہ کو یہ حکم دیا جعفر بن محمد کے گھر کو آگ لگا دو جب منصور کے حکم سے آپ کے بیت الشرف کو جلایا گیا اور امام اس آگ کے درمیان میں آ گئے تو آپ نے ایک عجیب و غریب جملہ فرمایا منصور دوانیقی نے ایک شخص کے ذریعے حسن بن زید کو جو اس کی طرف سے مکہ اور مدینہ کا گورنر تھا یہ پیغام بھیجا کہ جعفر بن محمد یعنی امام جعفر صادق کے گھر کو آگ لگا دو چنانچہ امام کے گھر کو نذر آتش کیا گیا۔

۱۱۴ ہجری · مدینہ منورہ · ہشام بن عبدالملک

امام جعفر صادق کی امامت کا آغاز

۱۱۴ ہجری · مکہ مکرمہ · ہشام بن عبدالملک

عرفات میں امامت کا کھلا اعلان

۱۳۲ ہجری · کوفہ · مروان بن محمد

بنو عباس کا اقتدار پر قبضہ

۱۲۵ ہجری · دمشق · ہشام بن عبدالملک

ہشام کے بعد بنو امیہ کی باہمی چپقلش

۱۳۶ ہجری · بغداد · سفاح

منصور دوانیقی کی خلافت

۱۴۷ ہجری · مدینہ منورہ · منصور

منصور کی طلبی اور قتل کی دھمکی

۱۴۷ ہجری · مدینہ منورہ · منصور

امام کے گھر کو آگ لگانے کا حکم

ڈھائی سو سالہ انسان