حصہ 1 از 3
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، فکری اور تنظیمی تعمیر و ترقی کا دور
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا دور منطقی لحاظ سے مکمل طور پر امام زین العابدین علیہ السلام کے دور کا تسلسل ہے کہ اب کچھ لوگ اکٹھا ہونا شروع ہو چکے اور تشیع کو اپنے وجود کا احساس ہونے لگا تھا شیعیت کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کا سلسلہ جو واقعہ کربلا اور اس کے بعد پیش آنے والے خونی حادثات جیسے واقعہ حرہ اور توابین کے قیام کے واقعات اور ظالم خلفاء کی بے جا سختیوں کی وجہ سے موقوف ہو چکا تھا اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کے بغیر اپنے نظریات کی نشر و اشاعت نہیں کی جا سکتی تھی۔ اب شیعیت مملکت اسلامیہ کے گوشہ و کنار اور بالخصوص عراق، حجاز اور خراسان میں اپنی جڑیں مستحکم اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کر چکی تھی۔
یہاں تک کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ محدود پیمانے پر فکری لحاظ سے آپس میں ہم آہنگی اور روابط بڑھا کر ایک سیاسی تحریک اور تنظیم کی بنیاد بھی رکھ چکی تھی۔ اب وہ دن گزر چکے تھے کہ جب امام زین العابدین فرمایا کرتے تھے کہ پورے سرزمین حجاز میں ہمارے چاہنے والوں کی تعداد بیس بھی نہیں ہے شرح نہج البلاغہ جلد 4 صفحہ 104 بحار الانوار جلد 46 صفحہ 143 اب امام محمد باقر علیہ السلام جب مسجد نبوی تشریف لاتے ہیں تو خراسان اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے ارد گرد حلقہ بنائے بیٹھتی اور اپنے فقہی مسائل سے متعلق آپ سے سوال و جواب کرتی تھی۔
اس دور کے مشہور علماء جیسے طاؤس یمانی قتادہ بن دعامہ اور امام ابو حنیفہ جیسے علماء نے شیعیت اور امامت کے عقیدے سے قطع نظر جب امام محمد باقر علیہ السلام کے علم و دانش کے چرچے سنے تو آپ کے علم سے استفادہ یا بحث و مباحثے کے ذریعے آپ کو آزمانے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس زمانے میں کمیت اسدی نامی معروف شاعر کی فصیح و بلیغ زبان میں لکھی ہوئی مشہور منقبت ہاشمیات ہر شخص کے ورد زبان تھی جس میں کمیت نے شیری زبان میں آئمہ اطہار علیہم السلام کے فضل و کمال علم و دانش اور معنوی کمالات کو بیان کیا تھا دوسری طرف مروانی خلیفہ عبد الملک بن مروان متوفی 86 ہجری کے 20 سالہ دور خلافت کے بعد اپنی انتھک جدوجہد اور ہر قسم کی مخالفتوں اور خلافت کے دعویداروں کو تہ تیغ کر کے اپنی کامیابیوں سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور بغیر کسی محنت و مشقت کے ملنے والی خلافت کی اپنے پیشرووں کی طرح قدردانی بھی نہیں کرتے نیز اپنے منصب اور عہدے کے جاہ و جلال پر مبنی سرگرمیوں میں کھو جاتے اور تشیع کی سرگرمیوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے تھے
جس کے نتیجے میں امام محمد باقر اور آپ کے اصحاب ایک حد تک تشیع کے امور میں خلفاء کی بے جا مداخلت سے امان میں ہیں جی ہاں کئی لحاظ سے حالات تشیع اور امامت کے حق میں تبدیل ہو چکے ہیں ایسے حالات کے پیش نظر ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام اپنے دور امامت میں اپنی جد و جہد اور کوششوں کے ذریعے تشیع کو اپنی آخری منزل کی طرف ایک قدم آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے یہی وجہ ہے کہ آپ کے دور امامت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے پیشوائے صادق صفحہ 32-33 حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی اور آپ کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر بات کی جا سکتی ہے۔
لیکن میں یہاں آپ کی زندگی سے متعلق صرف دو نکات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کی زندگی کا پہلا اہم کام اپنے دور امامت میں اسلامی معارف اور احکام میں کی جانے والی تحریفات سے آپ کا مقابلہ ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کے دور امامت میں پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور وسیع پیمانے پر اسلامی احکام میں تحریف کا مکروہ دھندہ ہو رہا تھا تحریفات کے مقابلے سے کیا مراد ہے تحریفات کے مقابلے سے مراد یہ ہے کہ دینِ مقدس اسلام اپنے بنیادی معارف اور قرآن و سنت سے استنباط شدہ احکام فقہی کے لحاظ سے چند خصوصیات اور شرائط کا حامل ہے۔
اگر کسی انسانی معاشرے اور زندگی پر یہ احکام لاگو ہوں اور لوگ ان تعلیمات سے آشنائی حاصل کریں اور ان کے پابند ہو جائیں تو پھر ایک اسلامی معاشرے میں بعض چیزوں کو برداشت کرنا ناممکن ہوتا ہے مثلاً کسی ظالم، فاسق، فاجر اور دین سے بے خبر شخص کی حکومت اور اسی طرح مال و دولت کی غیر عادلانہ تقسیم کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا لہٰذا آج بھی اسلامی ممالک میں بہت سارے مفاسد اور برائیاں پائی جاتی ہیں جو کسی بھی صورت میں اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتیں بہت سے سلاطین اور حکمران جو خلیفہِ رسولؐ کے نام سے برسر اقتدار آئے تھے جیسے بنو امیہ اور بنو مروان وہ کسی بھی صورت اسلامی معاشرے پر حکمرانی کے اہل نہیں تھے۔
انہوں نے اپنے دور اقتدار میں فسق و فجور، ظلم و جور، جہالت اور دیگر برائیوں کو خوب پروان چڑھایا کیونکہ اگر قرآنِ مجید اور اسلامی تعلیمات کو ان کی اصلی روح کے مطابق لوگوں کے سامنے بیان کیا جاتا تو پھر ممکن نہ تھا کہ یہ لوگ اپنی حکومت اور اقتدار کو دوام بخش سکتے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلامی احکام میں تحریفات کا سہارا لینا شروع کیا اور وہ یہ کام مختلف شکلوں میں انجام دیتے تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ یہ خلفاء اپنے زمانے کے معروف فقہاء، علماء، محدثین اور قاریانِ قرآن کو خریدتے اور انہیں اپنے پاس بٹھا دیتے تھے اور انہیں کبھی ڈرا دھمکا کر اور کبھی مال و دولت اور عہدوں کا لالچ دے کر اسلامی تعلیمات کی اپنی خواہشات کے مطابق تفسیر و تشریح کرنے پر مجبور کر دیتے تھے قارئینِ کرام! اگر آپ پہلی اور دوسری صدی ہجری کی اسلامی تاریخ پر نگاہ کریں تو آپ کو ایک عجیب و غریب قسم کا منظر دکھائی دے گا
بہت سارے مشہور اور معروف مقدس مآب، متقی اور پرہیزگار لوگ خود کو ان ظالم و جابر حکمرانوں کے دربار کے لیے وقف کر کے ان کی خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں اور یہ لوگوں کے سامنے اسلامی تعلیمات کی عجیب و غریب قسم کی تشریحات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مثلاً کوئی عالم یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اولی الامر کی اطاعت کا جو حکم دیا ہے اس سے مراد برسرِ اقتدار حاکم ہے چاہے اس نے کسی بھی طریقے سے اقتدار حاصل کیا ہو اگرچہ اس نے ظلم و جبر، مکر و فریب، بندوق کے زور یا اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہی کیوں نہ اقتدار حاصل کیا ہو وہ اولی الامر ہے ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا نامعقول اور باطل نظریہ ہے کہ جب تک اسے کسی بھی طریقے سے اسلامی تعلیمات سے نہ جوڑا جائے کوئی بھی آزاد منش آدمی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا لیکن ان بے ضمیر فقہاء اور علماء نے اس قسم کے غلط نظریات کو اسلام کے ساتھ جوڑ دیا۔
اس قسم کے اور بھی بہت سارے غلط نظریات اسلامی تاریخ کی پہلی اور دوسری صدی ہجری میں اکثر و بیشتر نظر آتے ہیں تحریف کی ایک شکل یہ تھی کہ ایسے بے ضمیر علماء اور فقہاء کو خلفاء اپنے ساتھ مکہ اور مدینہ لے جاتے اور مجالس و محافل میں لوگوں کے سامنے لے آتے اور انہیں اپنی تائید کے لیے بہترین وسیلہ سمجھتے تھے ایسے عالم نما، فقیہ نما، مقدس مآب، پرہیزگار اور متقی لوگ خلفاء کی خدمت کے لیے درباروں میں ہر آن موجود ہوتے تھے۔ یہ حکمرانوں کی خواہشات کو دین کے احکام کے نام پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ان فضول اور غلط نظریات میں سے بہت ساری چیزیں آج بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ بہت سارے لوگ ان باتوں پر اب بھی یقین رکھتے ہیں تحریف کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ جب خلفاء طاقت کے نشے میں مست ہو جاتے اور انہیں یہ محسوس ہوتا کہ لوگ ان کی ایسی باتوں کو ماننے پر مجبور ہیں
تو اپنی خواہش کے مطابق کسی بھی بات یا نظریہ کو اس طرح پیش کرتے تھے کہ پورا اسلامی معاشرہ اسے اسلامی تہذیب و ثقافت کے ایک لازمی حصے کے طور پر قبول کرتا تھا۔ یہ لوگ ان باتوں کو اس حد تک پھیلاتے اور دہراتے تھے کہ لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو جاتی تھی مثلاً عبد الملک بن مروان کے دور اقتدار میں اس کے بعض کارندوں کا یہ عقیدہ تھا کہ نبوت سے خلافت افضل ہے اور وہ اپنے اس غلط اور باطل نظریہ کا برملا اظہار بھی کرتے تھے۔ یہ لوگ صرف اس بات سے بھی راضی نہیں تھے کہ عبد الملک بن مروان اور اس کی فاسق و فاجر اولاد کو پیغمبر اکرم کی جانشینی اور خلافت کے عظیم منصب کا حقدار قرار دینے پر اکتفا کرتے کیونکہ خلافت اور جانشینی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس بھی ان کے قد و قامت پر کسی طرح بھی نہیں جچتا تھا کیونکہ یہ غاصب تھے بلکہ وہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ خلافت نبوت سے کہیں افضل ہے
دین اسلام میں اس قسم کی تحریفات سامنے آگئی تھی جس کا بنیادی مقصد بنو امیہ اور بنو عباس کے ظالم سلاطین کو اپنے اقتدار اور سلطنت کو دوام دینا تھا اور یہی غلط پروپیگنڈا باعث بنا کہ حکومت اسلامی کے حقیقی اور اصلی حقدار اپنے حق سے محروم ہو جائیں اب ایسے حالات میں آئمہ معصومین علیہم السلام کی یہ خواہش تھی کہ ایک صحیح اور درست اسلامی اور علوی حکومت قائم کریں تو انہیں کیا کرنا چاہیے سب سے پہلا کام تو یہ تھا کہ لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرتے اور جو غلط اور اسلام مخالف نظریات ان کے ذہنوں میں رچ بس چکے تھے انہیں لوگوں کے دل و دماغ سے نکال باہر کرنا تھا اور ان کی جگہ قرآن اور توحید کے مطابق صحیح اور درست نظریات سے لوگوں کے ذہنوں کو منور کرنا تھا۔
یہ ایک باقاعدہ ثقافتی جنگ تھی ثقافتی جنگ یہ نہیں کہ کسی جگہ بیٹھ کر صرف اسلامی احکام بیان کیے جائیں جن میں نہ تو کوئی خاص مقصد ہو اور نہ ہی کوئی انقلابی پہلو نظر آ رہا ہو یہ عمل کسی بھی صورت مقابلہ یا مبارزہ نہیں کہلا سکتا بلکہ ثقافتی جنگ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کو پہلے سے موجود غلط نظریات اور عقائد سے پاک و صاف کرتے ہوئے ان کے ذہنوں میں اسلامی تہذیب اور عقائد کو اجاگر کیا جائے تاکہ ایک اسلامی اور الٰہی حکومت کی تشکیل کے لیے راستہ ہموار ہو سکے اور اس طرح طاغوتی اور شیطانی طاقتوں اور حکومتوں کا دروازہ مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔
چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اس کام کا آغاز کیا اس لیے آپ کو باقر العلم الاولین کہتے ہیں یعنی علم کی گرہوں کو کھولنے والا یا علم کی گتھیں سلجھانے والا آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید کی بہترین اور حقیقی تفسیر بیان فرمایا کرتے تھے یہی وجہ تھی جس شخص کو بھی امام محمد باقر علیہ السلام کی سنہری باتوں کا علم ہوتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا بشرطیکہ وہ کسی خاص شخص یا مکتب کے دائرے میں خود کو مقید قرار نہ دے بلکہ یہی بات وقت کے طاغوتی حکمرانوں سے منہ موڑنے اور ان سے پہلو تہی کی بنیادی وجہ بھی تھی۔
لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد نے مکتب اہل بیت اطہار علیہم السلام اور نظریہ امامت کے طرف جھکاؤ پیدا کر لیا جسے آج کے عرف میں تشیع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے تشیع کا مفہوم بھی یہی ہے یعنی مکتب اہل بیت کی پیروی تاکہ حقیقی اور اصلی اسلام کی حاکمیت قائم ہو سکے۔ قرآن مجید کی تعلیمات کا بول بالا ہو اور معاشرے میں قرآنی احکام اور معارف اسلامی رائج اور نافذ ہوں جس شخص کا امام محمد باقر علیہ السلام سے رابطہ ہوتا اور آپ کی گفتگو سنتا تو اس کے ذہن و دماغ میں ایک تبدیلی اور انقلاب و ہیجان پیدا ہوتا یہی امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی کا پہلا اور بنیادی کام تھا جو بہت ہی اہم اور بنیادی نوعیت کا کام تھا اور آپ نے اس معاملے پر بہت زیادہ توجہ بھی دی ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی کا دوسرا اہم کام تنظیم سازی سے عبارت ہے تنظیم سازی سے کیا مراد ہے یعنی ان دینی معارف، ثقافتی تبدیلیوں اور فرہنگی مبارزات سے معاشرے کو روشناس کرانا ایک مرتبہ انسان بغیر سوچے سمجھے آنکھیں بند کر کے جو چاہے اور جہاں چاہے کی بنیاد پر ان معارف کو بیان کرنا شروع کر دیتا ہے اور کبھی ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔ اس کی مثال اس بیج کی سی ہے جسے کسان زمین میں بوتا ہے۔ اب اگر کسان نا تجربہ کار ہو تو بغیر دیکھے بھالے جہاں چاہے بیج کو پھینک دے گا کچھ عرصے بعد پتہ چلے گا کہ بہت سارے بیج نامناسب زمین اور آب و ہوا کی وجہ سے ضائع ہو چکے ہیں اور کچھ بیج سرسبز و شاداب تو ہوئے ہوں گے لیکن راستے میں بونے کی وجہ سے پاؤں تلے روند دیے جائیں گے اور کچھ بیج سرسبز ہونے کے بعد مناسب جگہ نہ ملنے کی وجہ سے خشک ہو جائیں گے آخر میں بہت کم مقدار کے بیج نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں گے۔
لیکن اگر یہی کسان اور باغبان تجربہ کار ہو تو وہ صرف بیج بونے پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اس کی حفاظت بھی کرے گا۔ اب حفاظت کیسے کرے گا وہ اپنے باغ اور کھیتی کی حفاظت کے لیے چند افراد کو مامور کرے گا بالکل اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام نے مملکت اسلامیہ کے گوشہ و کنار میں اپنے چاہنے والوں اور اسلام کی بلند ترین اور تبلیغات کو صدقِ دل سے قبول کرنے والوں کے شبہات اور اشکالات کا صحیح جواب دینے کی غرض سے اور دشمنانِ اسلام کی طرف سے پیدا کیے جانے والے ابہامات اور سوالات کے درست جوابات دینے کے لیے چند خاص افراد کی تربیت فرمائی اور انہیں آپس میں رابطے میں رہنے اور ایک دوسرے سے پیوست رہنے کی ہدایت فرمائی تاکہ وہ کسی طرح کے شکوک و شبہات اور شیطانی وسوسوں سے متاثر نہ ہونے پائیں خلاصہ یہ کہ آپ نے ایسا اہتمام عمل میں لایا کہ بالکل مناسب ترین اور زرخیز ترین زمین مہیا فرمائی جو اُن کی شادابی اور ثمردہی کی ضمانت فراہم کرنے کے لیے کافی تھی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ایک اور کارنامہ یہ تھا
کہ آپ نے اپنے چند مخصوص ترین شاگردوں اور قریبی ساتھیوں کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا اور انہیں ہمیشہ ایک دوسرے سے مربوط رہنے کا درس دے کر عالمِ اسلام کے گوشہ و کنار میں اپنی نیابت اور وکالت کا عظیم منصب سونپ دیا تاکہ یہ لوگ آپ کے پیغام اور دینِ مبینِ اسلام کی تبلیغ اور اسلامی تعلیمات کو عام مسلمانوں تک من و عن پہنچانے کی ذمہ داری بحسن و خوبی نبھا سکیں تنظیم سازی کے اس عمل کا آغاز اگرچہ امام محمد باقر علیہ السلام کے دورِ امامت سے پہلے ہو چکا تھا۔ لیکن آپ کے دورِ امامت میں یہ کام حیرت انگیز حد تک بڑھ گیا تھا۔
البتہ بعد میں امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دورِ امامت میں یہ کام اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ لیکن آپ کی بات ہی کچھ اور تھی یقیناً آپ کا یہ ایک عظیم کارنامہ تھا۔ لہٰذا آپ دیکھیں گے کہ روایات میں آپ کے بعض اصحاب کو اصحاب السر یعنی رازدار ساتھی کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسے جناب جابر بن یزید جعفی وغیرہ جابر جعفی آپ کے ان خاص اصحاب میں سے ایک تھے جنہیں اصحاب السر ہونے کا اعزاز اور افتخار حاصل ہے اصحاب السر کون تھے یہ وہ اصحاب تھے جو دنیاے اسلام کے گوشہ و کنار میں پھیلے ہوئے لوگوں کی ہدایت، رہنمائی اور ان کی دستگیری میں مصروف رہے تھے یہ لوگ دین مبینِ اسلام اور امامت اور شیعیت سے لگاؤ رکھنے والے لوگوں کی رہنمائی پر مامور تھے حکومتی کارندوں کو جب ان کے بارے میں پتا چلتا تو وہ انہیں سخت سے سخت سزا اور تکلیف دیتے تھے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا انیس سالہ دور امامت 95 ہجری سے لے کر 114 ہجری تک کا اگر سطحی مطالعہ کیا جائے تو اس کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ آپ کے والد گرامی حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں آپ کو اپنا جانشین اور شیعوں کا امام اور پیشوا منتخب فرمایا۔ آپ نے اپنے دیگر فرزندوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں اس عظیم منصب کو امام محمد باقر علیہ السلام کے حوالے کر دیا اور ساتھ ہی ایک صندوق کو بھی آپ کے سپرد کیا جو روایات یا دوسرے لفظوں میں رسولِ خدا کے تبرکات اور اسلحے سے بھرا ہوا تھا اور فرمایا اے محمد اس صندوق کو اپنے گھر لے جاؤ پھر آپ نے وہاں موجود افراد کو مخاطب کر کے فرمایا یاد رکھو اس صندوق میں درہم و دینار نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ صندوق علم و دانش سے بھرا ہوا ہے بحار الانوار جلد 46 صفحہ 239 چنانچہ آپ نے اس طریقے سے حاضرین کے سامنے اپنی علمی اور فکری رہبری یعنی علم و معرفت اور انقلابی قیادت یا دوسرے الفاظ میں رسولِ خدا کے اسلحے کو اپنی میراث کے طور پر متعارف کرایا امام محمد باقر علیہ السلام نے منصبِ امامت پر فائز ہونے کے بعد اپنے سچے اور امین اصحاب کے ساتھ مل کر ایک با مقصد اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تشیع کی نشر و اشاعت اور تبلیغ دین کے دائرے کو شیعہ نشین علاقوں جیسے مدینہ اور کوفہ سے لے کر پورے عالمِ اسلام کے گوشہ و کنار تک پھیلایا
خصوصاً وہ علاقے جو ابھی تازہ اسلامی مملکت کے قلم رو میں داخل ہوئے تھے اور بنو امیہ کی حکومت اور ان کی نگاہوں سے بھی دور تھے۔ ان علاقوں میں خراسان کو ایک ممتاز مقام حاصل تھا کیونکہ متعدد روایات میں خراسان کے لوگوں میں شیعیت کے نفوذ کے تذکرے ملتے ہیں من جملہ ان روایات میں سے ایک روایت ابو حمزہ ثمالی نے بھی نقل کی ہے۔ اس کی ایک اور روایت میں خراسان کے ایک عالم کی عمر ابن عبد العزیز سے کی جانے والی گفتگو نقل کی گئی ہے بحار الانوار جلد چھیالیس صفحہ تین سو چھبیس جو چیز امام محمد باقر علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کو اس جدوجہد مسلسل پر ابھارتی اور انہیں ہر سانس کے ساتھ الٰہی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتی تھی وہ اس معاشرے کے لوگوں کی ذہنی پستی تھی اور اپنے سامنے ایسے ایسے لوگوں کو دیکھ رہے تھے جو غلط تربیت کی وجہ سے نہ صرف خود روز بروز انحطاط اور زوال کا شکار ہوتے جا رہے تھے
بلکہ اپنے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو بھی تباہی کی طرف دھکیل رہے تھے آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ نہ صرف حکومتی کارندے بلکہ عام لوگ بھی امام کی نجات بخش دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہ تھے جیسا کہ امام فرماتے ہیں اگر ہم انہیں دین کی طرف بلائیں تو وہ ہماری بات سننے کو تیار نہیں بحار الانوار جلد 46 صفحہ 288 دوسری طرف اس گمراہ کن ماحول میں جہاں ہر کام یہاں تک کے فقہ، تفسیر، علمِ کلام اور علمِ حدیث کا درس و تدریس بھی بنو امیہ کے ظالم و جابر حکمرانوں کی خواہشات کے مطابق دیے جاتے ہوں اور جس ماحول میں بہتری کی امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی ہو ایسے میں اگر تشیعو لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے کمر نہ باندھے تو پھر لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے سارے دروازے بند ہو جائیں گے۔
لہٰذا امام فرماتے ہیں اگر ہم بھی انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں تو پھر ہمارے علاوہ ان کی ہدایت کرنے والا کوئی نہیں بحار الانوار جلد 26 صفحہ 253 امام محمد باقر علیہ السلام نے معاشرے کی اس بے سر و سامانی کی حقیقت اور گہرائی کو مدنظر رکھتے ہوئے فکری اور ثقافتی طور پر اثر انداز ہونے والی اس وقت کی طاقتوں یعنی ضمیر فروش شعراء اور علماء کے خلاف جو کسی بھی معاشرے کو بگاڑنے اور سُدھارنے کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ان کے سروں پر علم کے تازیانے مار کر نہ صرف ان کے مردہ ضمیر جگانے کی کوشش کی بلکہ ان کے سوئے ہوئے دل اور بے خبر ذہنوں کو بھی جھنجھوڑتے ہوئے انہیں اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے آمادہ کرنے کی جدوجہد کی ایک مرتبہ آپ نے معترضانہ لہجے میں کسیر نامی شاعر سے پوچھا کیا تم نے عبد الملک کی تعریف کی ہے تو اس نے دلیرانہ یا سادہ لوحی سے اپنے اس گناہ کے بارے میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی اور یوں جواب دیا میں نے اسے ہادی اور پیشوا نہیں کہا ہے بلکہ میں نے اپنے اشعار میں اسے شیر، سورج، دریا، اژدہا اور پہاڑ جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے
