حصہ 1 از 3
چھٹا باب، امام حسین علیہ السلام
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
اسلام قدرت کا ایک قوی مظہر ہونے کے حوالے سے اسے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے جو اس کے ظہور سے پہلے یا ظہور کے آغاز سے لاحق تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ان خطرات سے مقابلے کے وسائل کا خود اسلام اور اس کے قوانین میں لحاظ رکھا گیا ہے بالکل ایک صحیح و سالم جسم کی مانند کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دفاع کی صلاحیت خود اس کے اندر رکھی ہے یا ایک ایسی مشین کی طرح جس کے بنانے والے انجینئر نے اس کی مرمت کا سامان خود اسی کے اندر ہی رکھ دیا ہو اسلام قدرت کا ایک مظہر ہے اور دیگر مظاہر کی طرح اسے بھی مختلف قسم کے خطرات درپیش ہیں لہٰذا اسے ان خطرات سے مقابلے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان وسائل کو خود اسلام کے اندر رکھا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ خطرات کیا ہیں۔ اسلام کو دو مخصوص قسم کے خطرات درپیش تھے ان میں سے ایک بیرونی دشمن کا خطرہ اور دوسرا اندرونی انتشار کا خطرہ تھا بیرونی دشمن سے مراد وہ عناصر ہیں جو سرحدوں کے باہر سے مختلف اسلحوں سے لیس ہو کر کسی نظام کے وجود اس کی فکر اور اس کی اعتقادی بنیادوں اس کے قوانین اور دیگر تمام چیزوں کو نشانہ بناتے ہیں سرحدوں سے باہر سے یعنی کیا اس سے مراد ملک کی سرحدیں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد نظام سے باہر ہے چاہے وہ ملک کے اندر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ہر ملک کے بعض دشمن ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو اس ملک کے نظام سے لا تعلق سمجھتے اور اس کی مخالفت کرتے ہیں یہ وہ اجنبی لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی نظام کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جدید ترین اسلحوں، پروپیگنڈوں، مال و دولت اور دیگر مختلف اقسام کے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں
یہ دشمن کی ایک قسم ہے، دوسرا دشمن اور آفت کسی نظام کا اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہونا ہے یعنی نظام کے اندر انتشار پیدا کرنا یہ غیروں کا کام نہیں بلکہ یہ اپنوں کا کام ہوتا ہے اپنے لوگ ہی کسی نظام میں رہتے ہوئے اس نظام سے اکتا جانے، سمجھنے میں غلطی کر جانے، خواہشات کے غالب آ جانے یا مادی جلووں کا اسیر ہو جانے کی وجہ سے اتفاقی طور پر اس آفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ البتہ پہلے والے دشمن کے مقابلے میں اس کے نقصانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے دشمن یعنی بیرونی اور اندرونی دشمن کسی بھی نظام، تنظیم اور مظہر کے مقابلے میں موجود ہوتے ہیں۔
لہٰذا اسلام نے ان دونوں قسم کے دشمنوں سے نمٹنے کیلئے جہاد کو ان کا علاج قرار دیا ہے جو صرف بیرونی دشمن کے لیے نہیں بلکہ ارشادِ الٰہی ہے جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ اے رسول، کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے سورہ توبہ آیت 73 منافق ہمیشہ کسی نظام کے اندر ہوتا ہے لہٰذا ان سب سے جہاد کرنا چاہیے جہاد ہمیشہ اُس شخص سے کیا جاتا ہے جو نظام پر یقین نہ رکھنے اور اسے دشمن سمجھنے کی وجہ سے اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اسی طرح اندرونی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے بے شمار قیمتی اخلاقی تعلیمات موجود ہیں جو دنیا کی حقیقت سے انسان کو آگاہ اور خبردار کرتی ہیں اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ یاد رکھو کہ زندگی دنیا صرف ایک کھیل، تماشہ، آرائش، باہمی تفاخر اور اموال و اولاد کی کثرت کا مقابلہ ہے سورہ حدید آیت 20 یعنی اگرچہ یہ دنیاوی مال و دولت، یہ آرائشی اشیا، یہ دنیاوی لذتیں ہمارے لیے ضروری ہیں۔
لیکن ان سے استفادہ کرنا ہماری مجبوری ہے اس لیے کہ ہماری زندگی انہی سے وابستہ ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمیں چاہیے کہ انہیں اپنے لیے حاصل کریں لیکن یاد رکھیں کہ صرف انہیں کو ہدف قرار دیتے ہوئے آنکھیں بند کر کے ان ضروریات کے پیچھے چلے جانا اور اپنے اصلی ہدف کو بھول جانا انتہائی خطرناک ہے امیر المومنین علیہ السلام جو میدانِ جنگ کے شیر بھی تھے۔ جب گفتگو کرتے ہیں تو انسان اس انتظار میں ہوتا ہے کہ آپ کی آدھی سے زیادہ گفتگو جہاد، جنگ اور پہلوانی سے متعلق ہوگی لیکن جب ہم ان سے منقول روایات اور نہج البلاغہ کے خطبات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی زیادہ تر گفتگو نصیحتوں، زہد و تقویٰ، اخلاقیات، دنیا کی نفی، اس کی تحقیر اور اعلیٰ انسانی اقدار اور معنویات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بارے میں ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی زندگی کے حالات اور واقعات میں یہ دونوں پہلو آپس میں جڑے ہوئے ہیں یعنی یہاں نفس اور دشمن دونوں کے خلاف جہاد بہترین اور اعلیٰ درجے میں دیکھا جا سکتا ہے واقعہ عاشورہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ حادثہ پیش آئے گا اور پوری انسانیت کے لیے ایک بہترین مثال اور نمونہ بن جائے گا اور یہ نمونہ سب کے لیے آئیڈیل بن جائے گا جیسے مختلف ممالک میں مختلف شعبوں میں فاتح قرار پانے والے افراد اس شعبے میں دوسرے افراد کی ترغیب کا باعث بن جاتے ہیں البتہ یہ ذہنوں کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے ایک چھوٹی سی مثال ہے جبکہ عاشورہ کا واقعہ ان دونوں محاذوں پر لڑی جانے والی عظیم ترین جنگ سے عبارت ہے یعنی یہ پہلا محاذ بیرونی دشمن سے جنگ کا محاذ ہے جو اس زمانے کے باطل نظام خلافت اور نظام سلطنت سے چمٹے ہوئے دنیا طلب لوگوں سے لڑی گئی جو پیغمبر اسلام کے انسانوں کی نجات کے لیے لائے ہوئے بہترین نظام کو چھوڑ کر آپ کے بتائے ہوئے راستے کے بالکل مخالف سمت پر چلنا چاہتے تھے دوسرا محاذ یعنی اندرونی طور پر لڑی گئی
کیونکہ اس دور کے معاشرے کی عمومی صورتحال یہ تھی کہ پورا معاشرہ نفسانی خواہشات پر عمل کرتے ہوئے اس اندرونی فساد کی جانب چل پڑا تھا دوسرا نکتہ میری نظر میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسلامی نظام حکومت کی تشکیل کو ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا اوائل اسلام کی سختیوں اور مشکلات کا زمانہ گزر چکا تھا فتوحات کے نتیجے میں خوب مال غنیمت حاصل ہو گیا تھا اسلامی مملکت کا دائرہ وسیع تر ہو چکا تھا بیرونی دشمنوں کی جگہ جگہ سرکوبی کر دی گئی تھی بے شمار غنائم لوگوں کے ہاتھ لگ چکے تھے بعض لوگ مالدار بن گئے تھے تو کچھ لوگوں کا شمار اشرافیہ طبقے میں ہونے لگا تھا یعنی ابھی اسلام نے اشرافیت کا خاتمہ کر ہی دیا تھا کہ ادھر دنیائے اسلام میں ایک جدید اشرافیہ طبقے نے جنم لیا تھا بہت سے عناصر نے اسلام اور مختلف عناوین جیسے فلاں صحابی کا بیٹا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فلاں رشتہ دار کا بیٹا کہلوا کر ناشائستہ اور غیر مناسب کاموں کو انجام دینا شروع کر دیا تھا
جن میں سے بعض افراد کے نام تاریخ میں آج بھی محفوظ ہیں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کے حق مہر کو مہرِ سنت جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امیر المومنین علیہ السلام اور صدر اول کے مسلمانوں نے چار سو اسی درہم معین کیا تھا کے بجائے 10 لاکھ دینار 10 لاکھ مثقال خالص سونا قرار دیا۔ یہ کون لوگ تھے یہ حضور اکرم کے بڑے بڑے صحابیوں کے بیٹے مثلاً مصعب ابن زبیر جیسے لوگ تھے اس قسم کے حالات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں پیدا ہونا شروع ہوئے تھے ابتدا میں پیغمبر اکرم کے صحابہ کرام سے لے کر آپ کے قریب ساتھیوں نے جنہیں آپ کے ہمراہ کئی جنگوں میں حصہ لینے کا شرف حاصل ہوا تھا اپنے لئے خصوصی مراعات حاصل کرنا شروع کی ان مراعات میں سے ایک بیت المال سے زیادہ سے زیادہ مال وصول کرنا تھا ایسا ماحول بنایا گیا تھا کہ ان کو دوسروں کے برابر سمجھنا صحیح نہیں ہے
یعنی یہ لوگ دوسروں کے برابر نہیں ہو سکتے یہ اس کجروی کی پہلی اینٹ تھی۔ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے انحرافات میں آہستہ آہستہ تیزی آنا شروع ہوئی اور یہیں سے انحرافات پیدا ہونا شروع ہو گئے اور خلیفۂ سوم کے دورِ حکومت کے وسط تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کے دورِ حکومت میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ پیغمبر اسلام کے بعد برجستہ صحابہ کرام کا شمار اپنے زمانے کے بڑے سرمایہ داروں میں ہونے لگا آپ غور فرمائیں یعنی بڑے بڑے صحابہ کرام جن کے نام بھی مشہور ہیں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص وغیرہ کہ ان میں سے ہر ایک کے جنگِ بدر، جنگِ حنین اور جنگِ احد کے کارنامے اگر لکھے جائیں تو ایک اچھی خاصی کتاب بن جائے گی۔
اب ان کا شمار عالمِ اسلام کے بڑے سرمایہ داروں میں ہونے لگا تھا۔ ان میں سے ایک جب انتقال ہوا۔ جب اس کی جائداد میں سے سونے کو اس کے ورثا کے درمیان تقسیم کرنے کا مرحلہ آیا تو سب سے پہلے سونے کو اینٹوں میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کے بعد ان اینٹوں کو کوئلے کی طرح کلہاڑیوں کے ذریعے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑا گیا جبکہ اصولاً سونے کو سنگ مثقال، سونا کاٹنے کا آلہ کے ذریعے کاٹا جاتا ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ ان کے پاس کتنا سونا ہوگا جسے کلہاڑیوں کے ذریعے کاٹا گیا ہو یہ وہ حقائق ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں یہ ایسی باتیں نہیں ہیں کہ جن کے بارے میں کوئی یہ کہہ دے کہ یہ باتیں تو شیعوں نے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں محفوظ کرنے کی سب نے کوشش کی ہے اس کے علاوہ انہوں نے جو درہم و دینار چھوڑے ان کا کوئی حساب نہ تھا۔
جب ہم کسی سسٹم کی اندرونی خرابی کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے افراد جنم لیتے ہیں جو آہستہ آہستہ اخلاقی بیماریوں جیسے مادیت پرستی اور شہوت پرستی جیسی مہلک بیماریوں کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں ایسے حالات میں کیا کوئی ایسا شخص پیدا ہو سکتا ہے جو شجاعت بہادری اور جرات کے ساتھ یزید بن معاویہ کی حکومت کے خلاف آواز بلند کر سکے کیا یہ ممکن ہے کیا کسی نے یزید کی ظالم اور جابر حکومت کے خلاف آوازِ حق بلند کرنے کا سوچا بھی تھا ایسے حالات میں امام حسین علیہ السلام نے قیام فرمایا اور اپنے ظاہری دشمن سے بھی جنگ کی اور عام مسلمانوں کو بھی تباہی اور انحراف کی طرف لے جانے والی اندرونی برائیوں، عیاشیوں اور راحت طلبی سے بھی جنگ کی یہ بہت ہی اہم بات ہے قیام امام حسین علیہ السلام کے اہداف اگر واقعی کربلا کا بغور مطالعہ کیا جائے تو شاید کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابا عبداللہ علیہ السلام کے ان چند مہینوں پر مشتمل سفر میں اس دن سے لے کر جب امام علیہ السلام نے مدینہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور مکہ سے ہوتے ہوئے سرزمین کربلا میں جام شہادت نوش فرمایا
انسان سو سے زیادہ درسِ عبرت کو شمار کر سکتا ہے میں ہزاروں درسِ عبرت کہنا نہیں چاہتا البتہ کہا جا سکتا ہے کہ ہزاروں درس حاصل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے امام عالی مقام کا ایک ایک اشارہ ایک درس ہو لیکن یہ جو ہم نے عرض کیا ہے کہ سو سے زیادہ درسِ عبرت تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم امام علیہ السلام کے ان تمام اقدامات کا نہایت سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں تو ایسے سو عناوین اور ابواب اخذ کر سکتے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک باب ایک ملت ایک پوری قوم اور ملک کی تعلیم و تربیت اور معاشرتی اصلاح اور قرب خدا کے لیے ایک مکمل درس کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی لیے حسین ابن علی علیہ السلام کی شخصیت اور کردار دنیا کے تمام مقدس اور پاکیزہ افراد کے درمیان خورشید کی مانند روشن اور درخشاں ہے۔ آپ انبیاء اولیاء ائمہ شہداء اور صالحین کو دیکھ لیجیے اگر یہ چاند اور ستاروں کی مانند چمکتے ہیں تو امام عالی مقام علیہ السلام کی شخصیت سورج کی مانند تابناک ہے۔ لیکن جن سو دروس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے وہ ایک طرف میں یہاں اس واقعے کے اصلی درس کو آپ قارئینِ کرام کے سامنے بیان کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ باقی تمام دروس کو ثانوی حیثیت حاصل ہے جبکہ اس اصلی درس کو مرکزیت حاصل ہے۔ وہ یہ ہے کہ امام عالی مقام نے قیام کیوں فرمایا تھا۔
یہ درس ہے امام حسین علیہ السلام سے کہا گیا تھا کہ آپ کی شخصیت مدینہ اور مکہ میں قابل احترام ہے اور یمن میں بھی آپ کے شیعہ موجود ہیں لہٰذا کسی کونے میں تشریف لے جائیے جہاں آپ کو یزید سے کوئی سروکار نہ ہو اور نہ ہی یزید کو آپ سے کوئی واسطہ ہو آپ کے اتنے سارے چاہنے والے شیعہ ہیں جائیے ان کے درمیان عزت اور احترام کے ساتھ زندگی بسر کیجئے اور عبادت و تبلیغ کیجئے آپ قیام کیوں کرتے ہیں مسئلہ کیا ہے یہ ہے وہ اصلی اور بنیادی سوال اور یہی اس واقعے کا اصلی درس بھی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ کسی نے ان مطالب کو آج تک بیان نہیں کیا کیوں نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے بہت ہی کوششوں سے کام لیا گیا ہے اور باتیں بھی بہت زیادہ ہوئی ہیں۔
لیکن ہم یہاں جو مطالب آپ کی خدمت میں بیان کرنے جا رہے ہیں یہ خود ہماری نظر میں اس واقعے کا ایک بالکل ہی نیا پہلو اور نئی تحقیق ہے بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام یزید کی فاسد حکومت ختم کر کے خود ایک حکومت تشکیل دینا چاہتے تھے اور یہی امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد تھا یہ بات کسی حد تک تو صحیح ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ بالکل غلط ہے اگر اس نظریہ کا مقصد یہ ہے کہ امام حسین نے تشکیل حکومت کے لیے قیام کیا تھا۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکتے تو یہ کہہ کر انہیں واپس لوٹ جانا چاہیے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے لہٰذا تحریک کو یہیں ختم کر دیتے ہیں جی ہاں جو شخص حکومت کی تشکیل کے لیے تحریک چلاتا ہے وہ اس حد تک کوشش کرتا ہے جہاں تک ممکن ہو لیکن جب اسے اس کام کے نہ ہونے کا یقین ہوتا ہے یا وہ عملی طور پر مقصد تک جانے والی راہوں کو مسدود پاتا ہے
تو اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوٹ آئے اگر مقصد حکومت کی تشکیل ہو تو پھر انسان اس حد تک آگے جاتا ہے جہاں تک ممکن ہو اور جہاں سے آگے بڑھنے کا امکان ختم ہو جائے تو پھر اسے واپس لوٹ جانا چاہیے بنا بریں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیام امام حسین علیہ السلام کا مقصد اور ہدف صرف اور صرف حضرت علی علیہ السلام کی مانند ایک علیہ حکومت کی تشکیل تھی تو یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ امام عالی مقام کی پوری تحریک اس نظریہ کی تائید نہیں کرتی اس نظریہ کے مقابلے میں کچھ لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ نہیں جناب امام حسین نے حکومت سے کیا کرنا تھا۔
امام تو جانتے تھے کہ آپ حکومت نہیں بنا سکیں گے بلکہ وہ تو آئے ہی اس لئے تھے تاکہ قتل ہو کر شہادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو سکیں۔ ایک زمانے میں یہ نظریہ بھی لوگوں میں بڑا مقبول تھا بہت سے شعراء اس نظریہ کو اپنے خوبصورت اشعار کے قالب میں ڈھال کر بیان کرتے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے بعض بڑے بڑے علماء نے بھی اس نظریہ کو بیان فرمایا ہے یعنی امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد صرف اور صرف شہید ہونا تھا۔ لیکن حقیقت میں یہ کوئی نئی بات یا نیا نظریہ نہیں ہے۔ ان لوگوں کے اس نظریہ کے مطابق گویا امام نے یہ کہا کہ چلو اگر ہم زندہ رہ کر کچھ نہیں کر سکتے تو شہید ہو کر ہی کچھ کیے دیتے ہیں۔
ہمارے بنیادی ماخذ میں ہمیں اس نظریہ کی تائید میں کوئی سند نہیں ملتی کہ جاؤ اور بغیر کسی وجہ کے شہید ہو جاؤ اسلامی تعلیمات میں ہمیں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی ہے بلکہ شریعتِ مقدسہ قرآن اور روایات میں ہمیں جس شہادت کا تذکرہ ملتا ہے اس کے معنیٰ یہ ہے کہ انسان ایک ایسے مقدس ہدف کی راہ میں جدوجہد کرے جو واجب یا راجح ہو اور اس راہ میں قتل ہو جائے تو یہ صحیح اسلامی شہادت ہے۔ لیکن اگر انسان صرف اس لئے قدم اٹھائے کہ میں جاؤں اور بغیر کسی وجہ کے قتل ہو جاؤں یا شاعرانہ اور ادیبانہ تعبیر کے مطابق میرے خون کا سیلاب ظالم کو بہا کر لے جائے گا اور انہیں زمین بوس کر دے گا تو یہ تمام چیزیں واقعہ کربلا کے اس عظیم حادثے سے کسی بھی طرح میل نہیں کھاتی اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے یہ کام کر دکھایا ہے لیکن آپ کے قیام کا مقصد یہ نہیں تھا مختصر یہ کہ نہ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے تشکیلِ حکومت کیلئے قیام کیا تھا اور آپ کا مقصد ایک حکومت بنانا تھا
اور نہ ہی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام نے شہید ہونے کیلئے قیام کیا تھا بلکہ آپ کا مقصد کوئی اور چیز تھی بلکہ میری نظر میں مذکورہ دونوں نظریات کے ماننے والوں نے ہدف اور نتیجے کو آپس میں ملا دیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی امام کا ہدف نہیں تھا بلکہ امام حسین علیہ السلام کا ہدف کوئی اور چیز تھی۔ البتہ اس ہدف تک پہنچنے کے لیے ایک تحریک کی ضرورت تھی جس کا نتیجہ ان دو میں سے کسی ایک صورت میں نکل آنا لازمی تھا یعنی یا حکومت ملتی یا شہادت البتہ امام حسین علیہ السلام ان دونوں نتائج کے لیے پہلے سے تیار تھے۔
انہوں نے تشکیل حکومت اور شہادت دونوں کے لیے تیاری کر رکھی تھی لہٰذا جو بھی نتیجہ نکلتا آپ کو کچھ فرق نہیں پڑنے والا تھا کیونکہ آپ ذہنی طور پر دونوں میں سے کسی ایک نتیجے کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔ لیکن تشکیل حکومت اور شہادت میں سے کوئی بھی آپ کا ہدف اور مقصد نہیں تھا بلکہ مقصد کچھ اور تھا تو پھر امام عالی مقام کا ہدف کیا تھا پہلے ہم اس ہدف کو بطور مختصر ایک ہی جملے میں بیان کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کی مختصر سی وضاحت بھی کرتے ہیں۔ اگر ہم امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد اور ہدف بیان کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ آپ کا ہدف دین کے واجبات میں سے ایک ایسے عظیم ترین واجب کو انجام دینا تھا جس کو امام حسین علیہ السلام سے پہلے کسی نے بھی انجام نہیں دیا تھا یہاں تک خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین امام علی علیہ السلام اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے بھی انجام نہیں دیا تھا۔