امام زین العابدینؑ کے نام کی خطاطی

امام زین العابدینؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام زین العابدینؑ کے نام کی خطاطی

امام زین العابدینؑ

ولادت ۳۸ ہجری · مدینہ منورہ — شہادت ۹۵ ہجری · مدینہ منورہ

امامت ۶۱ تا ۹۵ ہجری · حکمران: یزید بن معاویہ، معاویہ بن یزید، مروان بن حکم، عبدالملک بن مروان، ولید بن عبدالملک

اہم واقعات4 واقعات
  1. ۳۸ ہجریولادت · مدینہ منورہ
  2. ۶۱ ہجریامامت کا آغاز
  3. ۶۱ ہجریعبداللہ بن زبیر کا مکہ میں قیام · مکہ مکرمہصفحہ 1
  4. ۶۶ ہجریمختار ثقفی کا قیام اور امام کا تقیہ · کوفہصفحہ 1
  5. ۸۲ ہجریمحمد بن شہاب زہری کے نام خط · مدینہ منورہصفحہ 6
  6. ۸۶ ہجریفرزدق کا قصیدہ اور ہشام کا غضب · مکہ مکرمہصفحہ 5
  7. ۹۵ ہجریشہادت · مدینہ منورہ

حصہ 1 از 6

نواں باب، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

امام زین العابدین علیہ السلام کی شخصیت پر بحث و گفتگو کرنا اور آپ کی پاکیزہ سیرت پر قلم اٹھانا خاصہ مشکل کام ہے کیونکہ لوگوں کو اس عظیم امام کی معرفت اور آشنائی سے متعلق بنیادی ماخذ ہی میسر نہیں زیادہ تر سیرت نویسوں اور تجزیہ نگاروں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یہ عظیم ہستی ایک کونے میں بیٹھ کر عبادت میں مشغول رہی اور سیاسی امور سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا بعض مورخین اور سیرت نگاروں نے تو اس بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے اور جن لوگوں نے صراحت کے ساتھ نہیں لکھا انہوں نے بھی آپ کی زندگی سے جو نتائج اخذ کی ہیں وہ ان سے کچھ مختلف نہیں اس مطلب کو امام زین العابدین علیہ السلام کو دیے جانے والی القابات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے بعض لوگ اس عظیم امام کو بیمار کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ آپ کی بیماری واقعی عاشورہ کے چند دنوں تک محدود تھی۔

آپ کوئی دائمی مریض نہیں تھے ہر آدمی اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی بیمار ہو ہی جاتا ہے اگرچہ آپ کی اس بیماری میں بھی مصلحت اور حکمتِ الہی پوشیدہ تھی اس کے ذریعے آپ سے جہاد اور دفاع کی ذمہ داریاں اُٹھا لینا مقصود تھا تاکہ آئندہ امانت اور امامت کی عظیم ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر اُٹھا سکیں اور اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد چونتیس یا پینتیس سال تک زندہ رہتے ہوئے شیعوں کی امامت کے اس سخت اور پر آشوب دور کو گزار سکیں قارئین، اگر امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمارے دوسرے آئمہ اطہار کی طرح یہاں بھی قابل توجہ اور دلچسپ واقعات کا ایک تسلسل نظر آئے گا۔

البتہ اگر آپ ان تمام واقعات کو جمع کر لیں تب بھی امام کی سیرت کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتے کسی بھی شخصیت کی سیرت کو صحیح معنوں میں سمجھنا تب ہی ممکن ہوتا ہے۔ جب ہم اس شخصیت کی زندگی کے بنیادی اغراض و مقاصد اور اہداف جان لیں اور پھر اس کی زندگی کی جزئیات سمجھنے کی کوشش کریں اگر اس کے اغراض و مقاصد کو سمجھا جائے تو زندگی کی جزئیات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہیں لیکن اگر وہ بنیادی اغراض و مقاصد ہی سمجھ میں نہ آئے یا انہیں غلط سمجھا جائے تو جزئی واقعات بھی بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں یا ان میں سے کوئی غلط مطلب اخذ کیا جاتا ہے اور یہ قاعدہ صرف امام زین العابدین علیہ السلام یا دوسرے اماموں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ ہر ایک کی زندگی پر صادق آتا ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کے سلسلے میں محمد بن شہاب زہری کے نام آپ کے خط کو بطور نمونہ کے پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا خط ہے جو خاندانِ نبوت کے ایک فرد کی طرف سے اس دور کے ایک مشہور دانشور کے نام لکھا گیا۔ اس سلسلے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے ممکن ہے کہ یہ خط کسی بنیادی نوعیت کی حامل وسیع سیاسی جدوجہد کا ایک حصہ ہو ممکن ہے نہی عن المنکر کے سلسلے میں ایک نصیحت ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک شخصیت کی طرف سے دوسری شخصیت پر ایک قسم کا اعتراض ہو جیسے کہ تاریخ میں دو یا کئی شخصیات کے درمیان اس قسم کے اعتراضات کا تبادلہ کثرت سے نظر آتا ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کے دیگر واقعات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اس واقعے سے کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا میں اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ اگر ہم اس قسم کی جزئیات کو امام کے بنیادی اغراض و مقاصد اور آپ کے اہداف سے الگ کرکے دیکھیں گے تو ہم امام کی سوانح حیات نہیں سمجھ سکتے اس لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے امام کی زندگی کے بنیادی اغراض و مقاصد اور اہداف سے آشنائی حاصل کریں یہاں میں سب سے پہلے امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کے بنیادی اغراض و مقاصد سے متعلق گفتگو کرنا چاہتا ہوں اور وہ بھی خود امام کی سوانح حیات آپ کے فرمودات نیز دیگر آئمہ معصومین علیہم السلام کی پاکیزہ زندگی سے اخذ کرتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کروں گا ہماری نظر میں چالیس ہجری میں امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد سے ہی اہل بیتِ رسول صرف اس بات پر ہرگز تیار نہیں تھی کہ گھر بیٹھ کر اپنے علم و دانست کے مطابق محض احکامِ الہیہ بیان کرتے رہیں بلکہ اس صلح کے آغاز سے ہی تمام آئمہ معصومین علیہم السلام کا یہی موقف تھا

کہ وہ اپنے طرز فکر کے مطابق ایک اسلامی حکومت کے قیام کے لئے مقدمات فراہم کرتے رہیں جیسا کہ اس بات کو خود امام حسن علیہ السلام کی زندگی اور آپ کے فرمودات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ امام حسن علیہ السلام کا کام انتہائی عمیق، دیرپا اور بنیادی نوعیت کا تھا دس سال تک امام نے اسی کیفیت میں زندگی بسر کی اور اس دوران آپ نے کچھ لوگوں کو اپنے قریب کیا اور ان کی تربیت کی ان میں سے کچھ افراد مملکت کے مختلف گوشہ و کنار میں اپنے قول و فعل کے ذریعے معاویہ کی حکومتی مشینری کی مخالفت کرتے رہے اور اس حکومت کی مخالفت کے جرم میں ہی جام شہادت نوش کر گئے۔

اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کی باری آئی تو آپ نے بھی اسی روش پر چلتے ہوئے مدینہ، مکہ اور دیگر مقامات پر اس تحریک کو آگے بڑھایا یہاں تک کہ معاویہ کا انتقال ہو گیا اور کربلا کا دلخراش واقعہ رونما ہوا اگرچہ واقعہ کربلا اسلام کے مستقبل کے لیے نہایت مفید اور ثمر آور ثابت ہوا لیکن بہرحال وہ مقصد جس کے لیے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کوشاں تھے وہ تاخیر کا شکار ہو گیا کیونکہ اس حادثے نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ اس دوران امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے قریب دوستوں کو تہ تیغ کیا گیا اور دشمن کو ان پر مسلط ہونے کا موقع ملا اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہتا اور امام حسین علیہ السلام کوئی اقدام نہ کرتے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا تھا کہ اس کے بعد یعنی مستقبل قریب میں ایک ایسی تحریک اٹھنے کے امکانات موجود تھے کہ جن کی بنا پر حکومت کی باگ ڈور شیعوں کے ہاتھ میں آ جاتی البتہ ہماری اس گفتگو کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امام حسین علیہ السلام کو قیام نہیں کرنا چاہیے تھا

بلکہ اس وقت تو حالات ہی کچھ اس قسم کے پیدا ہو گئے تھے کہ قیام ناگزیر ہو گیا تھا۔ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ لیکن اگر اس قسم کے حالات پیش نہ آتے اور امام حسین علیہ السلام اس حادثے میں شہید نہ ہوئے ہوتے تو اس بات کا قوی امکان تھا کہ مستقبل کے حوالے سے امام حسن علیہ السلام کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ائمہ طاہرین علیہم السلام کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مسلسل اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ جب امام حسین علیہ السلام کربلا میں شہید کر دیے گئے اور امام زین العابدین علیہ السلام اپنی بیماری کی حالت میں اسیر ہوئے تو اس وقت سے ہی در حقیقت امام زین العابدین علیہ السلام کی ذمہ داریوں کا آغاز ہو گیا اور اب تک حکومت اسلامی کی تشکیل کے حوالے سے جو ذمہ داریاں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے کاندھوں پر تھیں اب وہ ذمہ داریاں امام زین العابدین علیہ السلام کے سپرد کر دی گئیں اور ان کے بعد دوسرے اماموں کو یہ ذمہ داریاں سونپی گئیں لہٰذا امام زین العابدین علیہ السلام کی پوری زندگی کا مکمل جائزہ انہی اغراض و مقاصد اور اہداف کی روشنی میں لینا چاہیے

اور بغیر کسی شک و شبہ کے ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ امام زین العابدین علیہ السلام بھی انہی اہداف کے حصول کے لیے کوشاں تھے جن اہداف کے لیے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کوشاں رہے امام زین العابدین علیہ السلام 61 ہجری عاشور کے دن منصبِ امامت پر فائز ہوئے اور 95 ہجری میں آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ اس پورے عرصے میں آپ اسی مقصد کے لیے جدوجہد کرتے رہے اب آپ اس زاویے سے امام کی زندگی کی جزئیات کا جائزہ لیں کہ آپ نے کون کون سے مراحل طے کیے اور کیا طریقہ کار اپنائے اور پھر اس میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔

آپ کے تمام فرمودات اعمال دعائیں مناجات اور راز و نیاز جو صحیفہ سجادیہ کی شکل میں موجود ہیں ان کی بھی انہی بنیادی اغراض و مقاصد کی روشنی میں تفسیر و تشریح کی جانی چاہیے نیز اس پورے دور امامت میں آپ نے جو اقدامات اٹھائے انھیں بھی اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ ایک آپ نے عبید اللہ ابن زیاد اور یزید کے مقابلے میں جو اقدامات اٹھائے وہ انتہائی شجاعت، بہادری اور فداکاری سے بھرپور تھے 2. مسرف بن عقبہ کے حوالے سے جس نے یزید کی حکومت کے تیسرے سال اس کے حکم سے مدینہ پر چڑھائی کی اور مسلمانوں کے اموال کو غارت کیا۔ امام کا موقف انتہائی نرم تھا 3. عبد الملک بن مروان جس کو خلفائے بنی امیہ میں طاقتور ترین اور چالاک ترین خلیفہ شمار کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ امام کا موقف کبھی بہت ہی سخت اور کبھی بہت ہی نرم نظر آتا ہے 4. عمر بن عبد العزیز کے ساتھ آپ کا رویہ 5. اپنے اصحاب اور دوستوں کے ساتھ آپ کا رویہ اور انہیں دوستانہ نصیحتیں 6. ظالم و جابر حکومت اور اس کے عملے سے وابستہ درباری علماء کے ساتھ آپ کا سلوک ان تمام رویوں اور اقدامات کا بڑی باریک بینی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے میں تو اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر آئمہ اطہار کے بنیادی موقف کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان تمام جزئیات اور حوادث کا جائزہ لیا جائے تو بہت معنی خیز حقائق سامنے آئیں گے۔

چنانچہ اگر اسی زاویے سے امام زین العابدینؑ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو آپ ایک ایسے عظیم انسان نظر آئیں گے جو اس روئے زمین پر الہی حکومت قائم کرنے اور اسلام کو اس کی اصل شکل میں نافذ کرنے کو ہی اپنا مقدس مقصد سمجھتے اور اسی راہ میں اپنی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کو بروئے کار لاتے رہے ہیں اور آپ نے پختہ ترین اور کارآمد ترین کارکردگی سے نہ صرف یہ کہ اسلامی کاروان کو اس انتشار اور پریشان حالی سے نجات دلائی جو واقعۂ عاشور کے بعد دنیائے اسلام پر چھا چکی تھی بلکہ ممکنہ حد تک اس کو آگے بھی بڑھایا ہے دو اہم اور بنیادی فرائض جو ہمارے تمام ائمہ اطہار علیہم السلام کو سونپے گئے تھے۔

ہم بھی ان کی طرف اشارہ کریں گے ان کو امام زین العابدین نے بڑی خوش اسلوبی سے عملی جامہ پہنایا ہے۔ آپ مکمل سیاسی بصیرت، شجاعت اور زیرکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت احتیاط اور باریک بینی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے یہاں تک کہ تقریباً پینتیس سال کی انتھک جدوجہد اور الہی نمائندگی کی عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد آپ سرفراز و سربلند اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور اپنے بعد امامت و ولایت کی عظیم ذمہ داری اپنے فرزند اور جانشین امام محمد باقر علیہ السلام کے سپرد فرما گئے۔ چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کو منصب امامت اور حکومت اسلامی کی تشکیل کی ذمہ داریوں کا سونپا جاتا ہے روایت میں بہت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

ایک روایت کے مطابق امام زین العابدین نے اپنی اولاد کو جمع کیا اور محمد بن علی یعنی امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ صندوق اور یہ اسلحہ سنبھالو یہ تمہارے ہاتھوں میں امانت ہے اور جب صندوق کھولا گیا تو اس میں قرآن اور کتاب تھی میرے خیال میں اسلحہ سے مراد انقلابی قیادت اور رہبری اور کتاب سے مراد اسلامی افکار و نظریات اور اسلامی آئیڈیولوجی ہے اور یہ چیزیں امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے بعد کے امام کی تحویل میں دے کر نہایت ہی اطمینان و سکون کے ساتھ بیدار انسانوں اور خداوند عالم کی نظر میں سرفراز ہو کر اس دنیا کو خیرباد کہا۔

یہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک مجموعی خاکہ ہے، پاسدار اسلام شمارہ چھ بے شمار مسائل اور مشکلات کے ساتھ امام زین العابدین علیہ السلام کے دور امامت کا آغاز ہوا کیونکہ کربلا کے دلخراش واقعے نے نہ صرف مکتب تشیع بلکہ پورے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ دیا تھا اگرچہ قتل و غارت گری، قید و بند اور مخالفین کو ظلم کے شکنجوں میں جکڑنے کا سلسلہ تو پہلے ہی سے چل رہا تھا لیکن فرزند رسول کو قتل کرنا اور خانوادہ رسالت کو قید کر کے شہر بہ شہر پھرانا نیز فرزند زہرا کے سر مبارک کو نیزے پر بلند کرنا ایک ایسا کام تھا جس نے پورے عالم اسلام کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ اب بھی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے پیغمبر اسلامؐ کو امام حسینؑ کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے دیکھا تھا کسی نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے منسوب ایک شعر میں آپ فرماتی ہیں

اے وہ چاند کہ جس کو مکمل ہونے سے پہلے ہی گرہن لگ گیا اے میرے جگر کے ٹکڑے میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا یہ سب تقدیر میں لکھا ہوگا بحار الانوار جلد 45 صفحہ 115 اس شعر میں بھی اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے اور یہی اس دور کے لوگوں کی عمومی سوچ تھی۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ اصل سیاست کچھ اور ہے اور مشکلات اور سختیاں تصور سے کہیں زیادہ پیش ہونے لگی تھی ایسے عالم میں کوفہ کے علاوہ پورے عالمِ اسلام پر ایک رعب و وحشت کا سکتہ طاری تھا اور کوفہ پہلے توابین اور پھر مختار ثقفی کی برکت سے اس خوف و دہشت سے باہر نکلا تھا ورنہ تو واقعہ کربلا کی وجہ سے مدینہ اور دیگر مقامات یہاں تک کہ مکہ میں بھی جہاں عبداللہ بن زبیر نے اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد قیام کیا تھا۔

ایک ایسا خوف چھایا ہوا تھا جس کی دنیا اسلام میں کوئی مثال نہیں ملتی بڑے لوگوں کی اکثریت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے حکومتی کارندوں سے مراعات وصول کر رہی تھی محمد بن شہاب زہری جیسے آدمی جو ایک زمانے میں امام زین العابدین علیہ السلام کے شاگرد بھی رہ چکے تھے وہ بھی حکومتی مشینری کا آلہ کار بن چکے تھے لہٰذا محمد بن شہاب زہری کے نام امام زین العابدین کے اس تاریخی خط سے جو تحف العقول اور دوسری تاریخی کتابوں میں موجود ہے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح بڑی بڑی شخصیات حکومتی مشینری سے وابستہ ہو چکی تھی محمد بن شہاب زہری جیسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں امام زین العابدین علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے ظاہراً امام نے جابر بن عبداللہ انصاری سے مخاطب ہو کر فرمایا۔

ہم نہیں جانتے کہ لوگوں سے کس طرح پیش آئیں اگر ہم ان کے سامنے پیغمبرِ اسلامؐ کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو وہ ہنستے ہیں اگر حدیث نقل نہ کریں تو خاموش نہیں رہتے بحار الانوار جلد 6 صفحہ 269 یعنی نہ صرف یہ کہ یہ لوگ ہماری بیان کردہ حدیث قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں بلکہ ہمارے اوپر ہنستے ہیں۔ اس کے بعد مرحوم علامہ مجلسی ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام زین العابدین علیہ السلام نے کسی مجلس میں ایک حدیث بیان فرمائی تو مجمع سے ایک شخص نے آپ کو جھٹلایا اور اس حدیث کو قبول کرنے سے انکار کر دیا علامہ مجلسی سعید بن مسیب اور زہری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ دونوں منحرفین میں سے تھے۔

البتہ میں سعید بن مسیب کے بارے میں یہ نہیں مانتا کہ وہ منحرفین میں سے تھے کیونکہ مختلف دلائل سے ثابت ہے کہ وہ امام زین العابدین علیہ السلام کے دوستوں میں سے تھے۔ لیکن زہری اور دیگر بہت سارے لوگوں کا تعلق منحرفین سے تھا ابن ابی الحدید نے اس دور کی مشہور و معروف شخصیات کی ایک طویل فہرست لکھی ہے کہ وہ سب اہل بیت علیہم السلام سے منحرف ہو گئے تھے لوگوں کا دین صحیح ہو لوگوں کا اخلاق صحیح ہو اور لوگ فساد کے اس گرداب سے باہر نکلیں اور معنویات کی طرف چل پڑیں کیونکہ دین کا لب لباب اور اصلی روح ہی معنویات کی سمت کی طرف چلنا ہے۔

یہ معاشرے میں زندہ ہو جائیں لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی پوری زندگی اور آپ کے فرمودات زہد و تقویٰ سے ہی عبارت ہے۔ چنانچہ ایک تفصیلی گفتگو کے آغاز میں آپ فرماتے ہیں دنیا میں زاہد اور پرہیزگار لوگوں کی علامت یہ ہے کہ وہ آخرت سے دل لگا چکے ہوں گے بحار الانوار جلد پچھتر صفحہ ایک سو اٹھائیس دنیا میں زاہد اور متقی لوگوں کی علامت یہ ہے کہ وہ آخرت سے دل لگاتے ہیں اگرچہ اس گفتگو میں بھی ان اغراض و مقاصد کی طرف ایک اشارہ ہے جنہیں ہم نے بیان کیا ہے کیا تم میں سے کوئی ایسا آزاد مرد نہیں جو اس کتے کا بچا کچا اس کے لئے چھوڑ دے یعنی دنیا کو اہلِ دنیا کے لئے چھوڑ دے تمہاری جانوں کی قیمت بہشت کے علاوہ کچھ نہیں پس انہیں اپنی جانوں کو کسی دوسری چیز کے بدلے مت بیچو تحف العقول صفحہ 391 امام زین العابدین علیہ السلام کے زیادہ تر فرامین زہد و تقویٰ اور اسلامی معارف پر مبنی ہیں

معارف بھی دعا ہی کے قالب میں بیان ہوئے ہیں جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس گھٹن کے ماحول میں اور نامناسب حالات میں امام زین العابدین علیہ السلام کھل کر لوگوں سے گفتگو نہیں کر سکتے تھے کیونکہ نہ صرف حکومتی مشینری اس کام میں رکاوٹ تھی بلکہ خود لوگ بھی سننے کو تیار نہ تھے بنیادی طور پر وہ معاشرہ ہی ایک تباہ شدہ اور نالائق معاشرہ تھا جس کی از سر نو مرمت کی ضرورت تھی اور 61 ہجری سے 95 ہجری تک کے اس عرصے میں امام زین العابدین علیہ السلام نے یہی کام انجام دیا یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات میں بھی بہتری آتی گئی۔

چنانچہ امام جعفر صادق اپنی اس حدیث ارْتَدَّ النَّاسُ بَعْدَ الْحُسَيْنِ کے آخر میں فرماتے ہیں ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ لَحِقُوا وَكَثُرُوا یعنی پھر لوگ ہم سے ملحق ہوتے گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہے اور امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے تک حالات بالکل بدل گئے تھے اور یہ سب کچھ امام زین العابدین علیہ السلام کی 35 سالہ زحمتوں کا نتیجہ تھا بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر امام زین العابدین علیہ السلام بنی امیہ کے نظام حکومت کے خلاف ہوتے تو آپ بھی علم بغاوت بلند کرتے یا کم از کم مثال کے طور پر عبداللہ بن حنظلہ یا مختار ثقفی سے مل جاتے یا یہ کہ آپ ان لوگوں کی رہبری قبول کر لیتے اور کھل کر مسلحانہ مقابلہ کرنے کی دعوت دیتے لیکن اگر اس دور کی وہ صورتحال ہمارے پیش نظر ہو جس میں امام زین العابدین علیہ السلام زندگی بسر کر رہے تھے تو ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ اس طرح کی فکر آئمہ اطہار علیہم السلام کے مقصد سے جسے ہم بعد میں بیان کریں گے قطعی میل نہیں کھاتی ان حالات میں اگر امام زین العابدین علیہ السلام یا ائمہ علیہم السلام میں سے کوئی بھی آپ کی جگہ ہوتے اور کھل کر کسی مخالف تحریک میں شامل ہو جاتے یا تلوار لے کر سامنے آ جاتے تو یقینی طور پر شیعیت کی جڑیں ہمیشہ کیلئے کٹ جاتیں آئندہ پھر کسی زمانے میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کی نشوونما اور ولایت اور امامت کے قیام کی کوئی امید باقی نہ رہ جاتی سب کچھ ختم ہو کر رہ جاتا

بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام مختار ثقفی کے معاملے میں کھل کر کسی طرح کی ہم آہنگی کا اعلان نہیں کرتے اگرچہ بعض روایتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ کا مختار ثقفی سے خفیہ طور پر رابطہ قائم تھا چنانچہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امام نے علی الاعلان ان سے کبھی کسی طرح کا رابطہ نہیں رکھا بلکہ بعض روایتیں تو کہتی ہیں کہ آپ عام نشستوں میں مختار سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرتے تھے اور یہ چیز بالکل فطری ہے ظاہر ہے آپ اس سلسلے میں تقیہ سے کام لے رہے تھے تاکہ دشمن کو ان کے درمیان کسی خفیہ رابطہ کا شک بھی نہ ہو اگر مختار کو کامیابی نصیب ہو جاتی تو حکومت اہل بیت علیہم السلام کے سپرد کر دیتے لیکن شکست کی صورت میں جیسا کہ ایسا ہوا۔

۹۵ ہجری · مدینہ منورہ · ولید بن عبدالملک

امام باقرؑ کو صندوق و اسلحہ کی سپردگی

۶۶ ہجری · کوفہ · عبدالملک بن مروان

مختار ثقفی کا قیام اور امام کا تقیہ

ڈھائی سو سالہ انسان