حصہ 1 از 2
حضرت امام علی رضا علیہ السلام
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
جب حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو ہارون رشید نے قید میں رکھنے کے بعد زہر دے کر شہید کر دیا تو عباسی سلطنت کے وسیع قلمرو میں مکمل طور پر ایک جمود کی سی کیفیت طاری تھی اس تاریک اور ظلمت کے زمانے میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک کے بقول ہارون کی تلوار سے خون ٹپکتا تھا۔ ہمارے معصوم اور بزرگوار امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے تشیع کے اس پودے کو طوفانی حوادث کے گزند سے محفوظ رکھا اور اپنے پدر بزرگوار کے دوستوں کو تتر بتر اور ناامید ہونے سے بچایا اور اپنی جان کو جو مکتب تشیع کے لیے اصل ستون اور روح کی حیثیت رکھتی تھی تقیہ کے حیرت انگیز اصول پر عمل کر کے محفوظ رکھا اور مقتدر ترین عباسی خلفاء کے مکمل تسلط اور حاکمیت کے زمانے میں بھی امام کی تحریک کو قائم رکھا تاریخ امام علی رضا علیہ السلام کی زندگی کے ان واقعات کو بیان کرنے سے قاصر ہے
جو دس سال ہارون رشید کے عہد میں اور پانچ سال اس کی خلافت کے بعد خراسان اور بغداد کی خانہ جنگی کے دوران رونما ہوئے لیکن عقل دلائل سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے آبا و اجداد کی اس طویل مدتی تحریک اور جد و جہد کو جو کربلا اور اس کے بعد ہر عہد میں جاری و ساری رہی انہی مقاصد کے حصول کے لیے جاری رکھی ر198 ہجری میں جب مامون اپنے بھائی امین کے خلاف حصول اقتدار کی جنگ سے فارغ ہوا اور بغیر کسی مخالفت کے خلافت کو اپنی مٹھی میں لے لیا تو اس کا اگلا اہم ہدف علویوں اور شیعہ تحریکوں سے نمٹنا قرار پایا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس نے سابقہ خلفاء کے تجربات کو اپنے سامنے رکھا وہ تجربے اس نے اس تحریک کی دن بدن بڑھتی ہوئی طاقت، اس کے پھیلاؤ اور گہرے اثرات سے حاصل کیے تھے اور خلافت اپنی طاقت کے باوجود اس کو نابود تو کیا حتیٰ اس تحریک کو محدود کرنے اور رکوانے میں بھی ناکام رہی تھی۔
اس نے یہ بھی دیکھا تھا کہ ہارون کی شان و شوکت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو کافی مدت تک جیل میں قید و بند رکھنے اور بالاخر ان کو زہر دینے کے باوجود بھی ان تحریکوں اور تشیع کی سیاسی، تبلیغی، فکری اور مسلحانہ جد و جہد کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی اور اب ایسی حالت میں جبکہ وہ اپنے اجداد کے اقتدار کا مالک بھی نہ تھا۔ اس کے علاوہ بنی عباس کی خانہ جنگی کی وجہ سے عباسی حکومت بڑی مشکلات میں گھری ہوئی تھی ایسی صورت حال میں ضروری تھا کہ وہ علویوں کی اس تحریک کے خطرے کی طرف پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دے شاید مامون شیعوں کے بڑھتے ہوئے اس خطرے کو محسوس کرنے میں حق بجانب تھا کیونکہ گمان کیا جاتا تھا کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد 15 سالہ وقفے اور خاص طور پر 5 سالہ خانہ جنگی کے دوران شیعہ تحریک کو علوی حکومت قائم کرنے کے کئی مواقع فراہم ہوئے تھے۔
مامون نے اس خطرے کو دور اندیشی سے بھانپ لیا اور اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوا۔ اس تحریک کی اہمیت اور مامون کی دوراندیشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے خراسان آنے کی دعوت اور آپ کو ولی عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس واقعے کی مثال اپنی نوعیت کے لحاظ سے امامت کی پوری تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اب مناسب ہوگا کہ ہم یہاں پر ولی عہدی کے واقعات کا مختصر تجزیہ کریں اس واقعے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو ایک بہت بڑے تاریخی حادثے سے دوچار ہونا پڑا ایک ایسی پوشیدہ سیاسی کشمکش کے میدان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ اس میں فتح یا شکست تشیع کی تقدیر کو بدل سکتی تھی۔
اس جنگ میں مد مقابل مامون تھا جس کو ہر طرح کے اختیارات اور ساز و سامان حاصل تھا اور وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اترا تھا۔ مامون نے اپنی پوری ہوشیاری، منصوبہ بندی اور بے مثال فہم و شعور کے ساتھ ایک ایسے میدان میں قدم رکھا تھا کہ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتا اور جس طرح اس نے پروگرام بنایا تھا اس پر عمل پیرا ہوتا تو یقیناً اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا جسے ہجرت کے چالیس سال بعد یعنی امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت سے لے کر اب تک کے تمام اموی یا عباسی خلفاء اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حاصل نہیں کر سکے تھے یعنی ممکن تھا وہ تشیع کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا اور اس تحریک کو جو طاغوتی خلفاء اور ان کے گماشتوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کانٹوں کی طرح چبھتی رہی تھی مکمل طور پر ختم کر دیتا لیکن امام علی رضا علیہ السلام الٰہی تدبیر کے بل بوتے پر مامون پر غالب آئے اور اس کو سیاسی جنگ کے میدان میں جو خود اس کا تیار کردہ تھا مکمل طور پر شکست دے دی
اور نہ صرف یہ کہ تشیع کو کمزور یا ختم ہونے سے بچایا بلکہ 201 ہجری یعنی آپ کی ولی عہدی کے سال کو تشیع کی تاریخ میں سب سے بابرکت سال شمار کیا جاتا ہے علوی تحریک میں نئی جان آ گئی اور یہ سب کچھ صرف امام علی رضا علیہ السلام کی الٰہی تدبیر اور حکیمانہ طرز عمل کی برکت سے حاصل ہوا اور تشیع اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلی اب ہم یہاں تاریخ کے اس حیران کن واقعے پر مزید روشنی ڈالنے کے لیے مامون کی چالبازیوں اور امام کی حکمت عملیوں کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں۔ مامون کا امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان آنے کی دعوت دینے میں درج ذیل چند اہم مقاصد پوشیدہ تھے۔
ایک پہلا اور اہم مقصد شیعوں کی زبردست اور پرجوش تحریک کو ایک معمولی اور بے خطر تحریک کی کیفیت میں تبدیل کرنا تھا جس طرح میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ شیعہ تقیہ کے اصول پر عمل کر کے اپنی اس انتھک اور کبھی نہ ختم ہونے والی تحریک کو آگے بڑھا رہے تھے جس میں دو انتہائی اہم خصوصیات شامل تھیں جو خلافت کو کمزور کرنے میں بہت زیادہ مؤثر ثابت ہوئی تھیں ان خصوصیات میں سے ایک مظلومیت اور دوسری معصومیت تھی شیعہ ان دو مؤثر ترین خصوصیات کا سہارا لے کر تشیع کی آئیڈیالوجی کو جس کی بنیاد آئمہ اہل بیت کی مخصوص اسلامی تفسیر اور تعبیر سے عبارت تھی لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں راسخ کرتے رہے اور جو شخص بھی اس میں تھوڑی بہت دلچسپی کا اظہار کرتا شیعہ اس کو اس طرز فکر کی طرف مائل کر کے اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے اور اس طرح تشیع کا دائرہ اسلامی دنیا میں روز بروز وسیع تر ہوتا چلا گیا اور یہی مظلومیت اور معصومیت تھی جو شیعہ طرز فکر کی پشت پناہی میں ہر جگہ اور ہر دور میں مسلحانہ اور انقلابی تحریک کی صورت میں خلافت کے خلاف منظم صف آرائی کرتی رہی۔
مامون چاہتا تھا کہ ایک مرتبہ اس پوشیدہ اور تقیہ کی کیفیت کو اس تحریک کے بانی سے چھین لے اور امام علیہ السلام کو اس انقلابی میدان سے سیاسی میدان میں لے آئے اور اپنی اس چال سے مقصد تشیع کو اور اس پوشیدہ اور مخفی عمل کو جو روز بروز ترقی کے منازل طے کر رہا تھا بالکل صفر کے درجے تک پہنچا دے اس کے علاوہ مامون اس چال کے ذریعے دو مؤثر ترین خصوصیات کو بھی پیروان حضرت علی علیہ السلام سے چھین لینا چاہتا تھا اور یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ گروہ جس کا پیشوا اور دربار خلافت میں ایک ممتاز شخصیت کا مالک اور مطلق العنان بادشاہِ وقت کا ولی عہد اور تمام مملکتی امور پر قابض ہو وہ نہ مظلوم ہے اور نہ معصوم ممکن تھا یہ منصوبہ تشیع کے اساسی طرز فکر کو بھی دوسرے گروہوں کے عقیدوں اور افکار کی صورت میں تبدیل کر دیتا جس کے ماننے والے اس وقت موجود تھے یعنی تشیع کے طرز فکر کو خلافت کی مخالفت سے باز رکھے اگرچہ اس طرز فکر کو ارکان حکومت اور ان کے حامی پسند نہیں کرتے تھے۔
لیکن عوام اور بالخصوص مستضعفین اس نظریہ کے طرف دار تھے دو دوسرا مقصد تشیع کے اس دعوے کو جس کے مطابق بنو امیہ اور بنو عباس کی خلافتیں غاصبانہ اور ناجائز تھیں باطل کر کے ان خلافتوں کو جائز قرار دلوانا تھا۔ مامون اس مکارانہ چال کے ذریعے تمام شیعوں پر یہ بات ثابت کر دینا چاہتا تھا کہ شیعوں کے بنیادی اصول پر مبنی یہ دعویٰ جس کی رو سے اموی اور عباسی حکومتیں غاصبانہ اور ناجائز تھیں۔ ایک بے بنیاد بات ہے اور صرف بغض اور کینے کی وجہ سے یہ نظریہ گھڑا گیا ہے کیونکہ اگر گزشتہ خلافتیں ناجائز اور ظالمانہ تھیں تو مامون کی خلافت بھی تو گزشتہ خلافتوں کا تسلسل ہے ناجائز اور غاصبانہ ہے پھر امام علی رضا علیہ السلام نے ولی عہدی کیوں قبول کی ہے کیونکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا اس خلافت کے ارکان میں شامل ہونے اور مامون کی جانشینی قبول کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے مامون کو قانونی اور جائز سمجھا تھا لہٰذا دوسرے خلفاء بھی قانونی اور جائز تھے اور شیعوں کا دعویٰ باطل تھا۔
اس چال سے مامون نہ صرف حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ذریعے اپنی حکومت اور گزشتہ تمام حکومتوں کے جائز ہونے کا اعتراف کروانا چاہتا تھا بلکہ شیعوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ یعنی گزشتہ حکومتیں ظلم کی بنیاد پر قائم ہوئی تھیں کو باطل قرار دینا بھی چاہتا تھا دوسری طرف ولی عہدی سے شیعوں کا یہ دعویٰ بھی باطل ہو جاتا تھا کہ آئمہ اطہار علیہم السلام زاہد، پارسا اور دنیا سے لا تعلق ہیں بلکہ یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ یہ حضرات صرف اس صورت میں دنیا سے بے رغبتی کا اظہار کرتے تھے جب دنیاوی نعمتیں ان کی دسترس سے باہر ہوتی تھیں۔
لیکن اب جبکہ دنیاوی نعمتوں کے دروازے ان پر کھل گئے ہیں تو وہ ان کی طرف بھاگے چلے آئے اور دوسرے لوگوں کی طرح لذتوں سے بہرہ مند ہونے لگے تین تیسرا مقصد یہ تھا کہ مامون اپنے اس عمل کے ذریعے امام کو جو ہمیشہ ایک حریف اور مبارز کی حیثیت رکھتے تھے اپنے اقتدار کے کنٹرول میں لے آنا اور ان کے علاوہ تمام علوی سرداروں اور انقلابیوں کو بھی اپنے قابو میں کر لینا چاہتا تھا اور یہ وہ کامیابی تھی جس کو آج تک اموی یا عباسی خلفاء میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں ہوئی تھی چار چونکہ لوگوں کے درمیان امام علیہ السلام کی شخصیت کو ایک عوامی عنصر اور امیدوں کا مرکز، سوالوں اور شکایتوں کا مرجع و محور کی حیثیت حاصل تھی اس لیے مامون امام علی مقام کو حکومتی کارندوں کے محاصرے میں محدود کرنا چاہتا تھا تاکہ آہستہ آہستہ اس عوامی عنصر کا خاتمہ کر کے آپ اور عوام کے درمیان جو محبت، عطوفت اور عقیدت کا رشتہ ہے اسے ختم کر سکے
پانچ یہ کہ مامون ولی عہدی کے ذریعے معنوی مقام اور آبرومندانہ حیثیت حاصل کر لینا چاہتا تھا قدرتی بات تھی کہ اس نے اس دور میں ایک ایسے شخص کو اپنی ولی عہدی کے لیے انتخاب کیا تھا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے تھا مقدس اور روحانی تھا۔ مامون نے ان کے مقابلے میں اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو بھی اس افتخار سے محروم کر دیا تھا سب لوگ اس کی تعریف اور تمجید کرتے تھے کیونکہ تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ دیندار لوگ جب دنیا داروں کی پشت پناہی کرنے لگتے ہیں تو دینداروں کی عزت میں کمی آجاتی ہے اور دنیا داروں کی عزت بڑھ جاتی ہے چھٹا یہ کہ مامون کے خیال میں امام علی رضا علیہ السلام ولی عہدی قبول کرنے کے بعد خلافت کے طرف داروں میں شمار ہو جاتے ظاہر ہے کہ امام جیسے عالم، متقی شخص جو پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند ہونے کے ناطے لوگوں کی نظروں میں عالی مقام و عزت رکھتے تھے۔
اگر آپ حکومت کے تمام کاموں کو سرانجام دینے کا ذمہ لے لیں تو کوئی شخص بھی مخالفت کی جرأت نہیں کر سکتا اور خلافت کے لیے بھی کوئی ڈر اور خوف باقی نہیں رہتا اور یہ وہ مضبوط قلعہ تھا جو خلافت کے تمام غلط اور برے کاموں پر پردہ ڈال سکتا تھا۔ مامون کی اس چال میں اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اغراض و مقاصد پنہاں تھے جیسا کہ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مامون کی یہ چال اس قدر پیچیدہ، دشوار اور گہری تھی کہ سوائے اس کے کوئی دوسرا شخص اس کو عملی جامہ پہنانے میں اچھی طرح کامیاب نہیں ہو سکتا تھا یہی وجہ ہے کہ مامون کے دوست اور قریبی رشتہ دار بھی اس کے اغراض و مقاصد سے بے خبر تھے بعض تاریخی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ فضل بن سہل بھی جو وزیر اور کمانڈر انچیف اور خلیفہ کے دربار کا مقرب ترین آدمی تھا اس چال کی حقیقت سے لاعلم تھا۔
مامون اس ڈر سے کہ کہیں اس پیچیدہ چال کی کامیابی کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اپنی اس چال کی اصلی وجہ چھپانے کے لیے جھوٹی داستانیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کو سناتا تھا سچی بات تو یہ کہ مامون کی سیاست بے مثل پختگی اور گہرائی سے بھرپور تھی۔ لیکن اس میدان جنگ میں اس کے مد مقابل حضرت امام علی رضا علیہ السلام جیسی شخصیت تھی اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے مامون کی شیطانی چال کے باوجود اس کی پختہ اور ہمہ گیر تدبیر کو ایک بے اثر اور بے ہودہ کھیل میں تبدیل کر دیا۔ مامون اس مقصد کے حصول کے لیے کافی محنت اور سرمایہ صرف کرنے کے باوجود اس چال سے نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا بلکہ اس کی اپنی سیاست بھی خود اس کی مخالفت میں تبدیل ہو گئی۔
وہ تیر جس کو اس نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی عزت و آبرو اور ان کے مقاصد کو برباد کرنے کے لیے تیار کیا تھا خود اسی کو نشانہ بنا گیا جیسا کہ کچھ عرصے بعد خود اس کو مجبوراً قبول کرنا پڑا کہ اس کی تمام گزشتہ تدبیروں پر پانی پھر گیا اور آخر کار اس کو امام علیہ السلام کے خلاف وہی طریقہ کار استعمال کرنا پڑا جسے اس کے تمام آبا و اجداد استعمال کرتے رہے یعنی قتل اور مامون جس نے یہ سب کوششیں اور چالیں صرف اس لیے انجام دی تھیں کہ وہ ایک مقدس مآب، خردمند اور پاک و صاف خلیفہ بننے کی آرزو کو پا سکے آخر کار اسی کوڑے دان میں جا گرا جس میں اس سے پہلے کے تمام خلفاء گر چکے تھے یعنی وہ بھی برے کاموں، فحاشی، ظلم و ستم اور عیاشی میں ملوث ہو گیا۔
مامون کی زندگی کے پندرہ سال جو امام علی رضا علیہ السلام کی ولی عہدی کے بعد گزرے اور اس میں اس کی ریاکارانہ طرز حیات کی پردہ دری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں یحییٰ بن اقثم جیسا بدکار اور عیاش کو قاضی القضاء مقرر کرنا اور اپنے گانے بجانے والے چچا ابراہیم بن مہدی کی ہمنشینی اختیار کرنا اور دارالحکومت بغداد میں عیش و عشرت اور بے حرمتی کا بازار گرم کرنا شامل ہیں۔ اب ان واقعات کے دوران خود حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیاست، تدبیر اور اقدامات کیا کر رہے تھے۔ ان سب کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک جب حضرت امام علی رضا کو مدینہ سے خراسان آنے کی دعوت دی گئی تو آپ نے مدینہ کے لوگوں پر اپنی دلی کیفیت یعنی مامون کے خلاف نفرت اور غم و غصے کو ظاہر کر دیا اور آپ کے ارد گرد جتنے لوگ جمع تھے یہ جان گئے کہ مامون بدنیتی سے آپ کو اپنے وطن سے جدا کر رہا ہے۔
امام علی رضا علیہ السلام نے مامون سے متعلق اپنی دلی کیفیت کو جس طرح بھی ممکن ہوا سب پر ظاہر کر دیا حرم پیغمبر، اپنے خاندان کے لوگوں سے جدا ہوتے ہوئے مدینہ سے باہر نکلتے وقت خانہ کعبہ کے گرد الوداعی طواف کے دوران، گفتار، رفتار، زبان، دعا اور زبان گریہ و زاری سب پر ظاہر کر دیا کہ یہ سفر آپ کے لیے موت کا سفر ہے۔ وہ لوگ جو مامون کے خیال کے مطابق اس سے حسن ظن رکھنے اور اس دعوت کے قبول کرنے کی وجہ سے امام علی مقام سے بدظن ہو گئے تھے اس سفر کے آغاز ہی میں یہ جان گئے کہ اصل قصہ کیا ہے۔
اب ان کے دل مامون کے خلاف دشمنی اور کینے سے لبریز ہو گئے کیونکہ وہ ان کے عزیز و بزرگوار امام کو زبردستی ان لوگوں سے چھین کر قتل گاہ کی طرف لے جا رہا تھا۔ جب مرو میں آپ کی ولی عہدی کا مسئلہ پیش آیا تو آپ نے سختی کے ساتھ اسے قبول کرنے سے انکار کیا اور جب تک مامون نے کھلم کھلا آپ کو قتل کی دھمکی نہیں دی آپ نے ولی عہدی قبول نہیں کی یہ بات ہر جگہ پھیل گئی کہ حضرت امام علی رضا نے مامون کے اصرار کے باوجود ولی عہدی اور اس سے خلیفہ بننے کی تجویز ٹھکرا دی ہے ارکانِ حکومت نے جو مامون کی اس چال کی نزاکت سے واقف نہیں تھے امام علی مقام کے انکار کے مسئلے کی جگہ جگہ تشہیر شروع کر دی۔