امام مہدیؑ (عج) کے نام کی خطاطی

امام مہدیؑ (عج)

ڈھائی سو سالہ انسان
امام مہدیؑ (عج) کے نام کی خطاطی

امام مہدیؑ (عج)

ولادت ۲۵۵ ہجری · سامرا

اہم واقعات0 واقعات
مقامات اور سفر
سامرا: متن میں ۱ واقعہسامرا
  1. سامراولادت ۲۵۵ ہجری
  1. ۲۵۵ ہجریولادت · سامرا
  2. ۲۵۹ ہجریامامت کا آغاز

حصہ 1 از 3

سترہواں باب، ڈھائی سو سالہ انسان کی تحریک کا مقصد

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

تمام مسلمانوں کا اصلِ مہدویت کے مسئلے پر اتفاق ہے دیگر ادیانِ عالم کے لوگ بھی اپنے اپنے عقیدے کے مطابق آخری زمانے میں ایک نجات دہندہ کے انتظار میں ہیں۔ ان لوگوں نے بھی اس مسئلے کے ایک حصے کو صحیح سمجھا ہے۔ لیکن وہ اس کے اہم حصے یعنی نجات دہندہ کو پہچاننے میں غلطی کا شکار ہیں جبکہ اہلِ تشیع معتبر ذرائع کے مطابق اس شخصیت کو اس کے نام، خاندان، تاریخِ ولادت اور دیگر تمام خصوصیات کے ساتھ جانتے ہیں۔ ہم شیعوں کے عقیدے کی خصوصیت یہ ہے کہ تشیع میں اس حقیقت کو صرف ایک آرزو اور تخیلاتی عقیدے سے نکال کر ایک زندہ حقیقت میں تبدیل کر دیا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ اہلِ تشیع جب مہدی موعود اور اس نجات دہندہ کے انتظار کی بات کرتے ہیں تو صرف تخیلات میں غوطہ زنی نہیں کرتے بلکہ ایک ایسی حقیقت کی جستجو کرتے ہیں جو اس وقت موجود ہے حجتِ خدا کی صورت میں لوگوں کے درمیان زندہ ہے، یہ نجات دہندہ لوگوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، لوگوں کو دیکھ رہا ہے، ان کے ساتھ ہے، ان کے درد اور تکلیف کو محسوس کرتا ہے

انسانوں میں سے جو لوگ اہلِ سعادت ہوں جن میں صلاحیت و ظرفیت پائی جاتی ہو، بعض اوقات ایک اجنبی کے طور پر آپ کی زیارت کرتے ہیں وہ موجود ہے۔ ایک حقیقی اور معین انسان کے عنوان سے جو ایک خاص نام رکھتا ہے جس کے ماں باپ معلوم ہیں وہ لوگوں کے درمیان رہتا ہے اور ان کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے یہ ہم شیعوں کے عقیدے کی خصوصیات میں سے ہے، وہ لوگ بھی جو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس عقیدے کو قبول نہیں کرتے آج تک کوئی ایسی معقول دلیل پیش نہیں کر سکے جو اس فکر اور اس عقیدے کو رد کرے اور اسے خلافِ حقیقت ثابت کرے بہت سی روشن، واضح اور مضبوط دلیلیں جن کی بہت سے اہل سنت نے بھی تصدیق کی ہے پورے یقین کے ساتھ اس عظیم انسان، خدا کی اس عظیم حجت اور اس تابناک و درخشاں حقیقت کے وجود پر ان ہی خصوصیات کے ساتھ جو ہم اور آپ جانتے ہیں، دلالت کرتی ہیں اور آپ دوسرے مکاتب فکر کی بہت سی بنیادی کتابوں میں اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاک و طاہر فرزند کی تاریخِ ولادت معلوم ہے، ان سے متعلق تمام تفصیلات معلوم ہیں، ان کے معجزات معین ہیں۔ خدا نے ان کو طولانی عمر دی ہے اور یہی ہستی دنیا کی تمام امتوں، قبیلوں، مذہبوں، نسلوں اور زمانوں کی آرزوؤں کو مجسم کرتی ہے اور یہ اس اہم مسئلے کے بارے میں مکتبِ تشیعوں کی ایک خصوصیت ہے عقیدہِ مہدویت کے حوالے سے چند نکات بہت اہم ہیں، جن کا خلاصہ میں یہاں بیان کروں گا پہلا نکتہ یہ ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا وجودِ مقدس تاریخِ بشریت کے آغاز سے لے کر آج تک جتنی بھی الہی دعوتیں اور انبیاء کی تحریکیں چلی ہیں ان کا تسلسل ہے جیسا کہ قارئینِ کرام دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں کہ پس ان میں سے بعض کو جنت میں ٹھہرایا جس سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہاں تک کہ سلسلہِ نبوت کو اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم کر دیا اسے مراد خاتمِ الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

پھر آپ کے بعد آئمہ معصومین علیہ السلام کی ولایت کا سلسلہ شروع ہو کر حضرت امامِ زمانہ علیہ السلام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ تاریخِ بشریت میں انبیاء اور اوصیاء کا ایک تسلسل ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ پوری تاریخ میں انبیاء علیہ السلام کی تحریکوں اور الہی دعوتوں کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ چنانچہ بشریت ہمیشہ سے خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء کی دعوتِ الہی اور ان کی طرف بلانے والے عظیم رہنماؤں کی محتاج رہی ہے اور یہ احتیاج آج بھی باقی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ بشریت انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات سے مزید قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے آج انسانی معاشرے نے فکری، مدنی اور معرفت کے لحاظ سے انبیاء علیہ السلام کی بہت ساری تعلیمات کو کہ آج سے دسیوں سال قبل بشریت ان کو قبول کرنے پر راضی نہ تھی، بخوبی درک کر لیا ہے جیسے عدل و انصاف، آزادی اور دوسرے انسانی اقدار اور اس قسم کی باتیں جو آج دنیا میں رائج ہیں یہ سب انبیاء ہی کی باتیں ہیں

پہلے زمانے کے عام انسان اس قسم کے مفاہیم کو درک نہیں کر سکتے تھے انبیاء کرام کا تسلسل اور ان کی دعوت کا پھیلاؤ اور معاشروں میں ان کی نشر و اشاعت اس کا سبب بنی کہ یہ افکار نسل در نسل لوگوں کے ذہنوں میں لوگوں کی فطرت میں، لوگوں کے دلوں میں رچ بس جائیں داعیانِ الہی کا یہ سلسلہ اب بھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ حضرت بقیۃ اللہ امامِ زمانہ علیہ السلام کا وجودِ مقدس اسی سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے جیسا کہ زیارت آلِ یاسین میں آپ پڑھتے ہیں اے اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور خدا کی عظیم نشانی تجھ پر سلام ہو یعنی ہم حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہاں تک کہ خود حضرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے انبیاء اور مصلحین کی الہی دعوتوں کو حضرت امامِ مہدی علیہ السلام کے وجودِ مقدس میں مجسم پاتے ہیں۔

یہ عظیم ہستی در حقیقت ان سب کی وارث ہے تمام انبیاء کرام کی دعوتوں اور ان کی تحریکوں کے پرچم آپ ہی کے ہاتھوں میں ہیں یعنی پوری تاریخ میں انبیاء علیہ السلام نے بشریت کو جن معارف اور تعلیمات سے روشناس کرایا ہے۔ آپ بھی لوگوں کو انہی کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے عقیدۂ مہدویت کے حوالے سے دوسرا اہم نکتہ انتظارِ فرج ہے انتظارِ فرج ایک بہت ہی وسیع موضوع ہے انتظارِ فرج یعنی آخری انتظار ہے انسان جب عالمی طاغوتوں کو قتل و غارت گری، ظلم و تعدی اور لوگوں کو اپنے زر خرید غلام بنانے کے در پہ دیکھے تو یہ خیال ہرگز نہ کرے کہ دنیا کی تقدیر میں یہی کچھ لکھا ہوا ہے۔

وہ یہ نہ سوچے کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں ان مظالم کو سہنا ہی ہوگا نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ یہ جان لینا چاہیے کہ یہ کٹھن وقت اور حالات بہت ہی جلد گزرنے والے ہیں کیونکہ باطل کے لیے صرف ایک جولانی ہے یعنی وہ تیزی سے آتا ہے اور گزر جاتا ہے غرر الحکم و درر الکلم، صفحہ 431 اور ہاں جو چیز اس دنیا اور اس کی فطرت سے تعلق رکھتی ہے وہ عدل و انصاف پر مبنی ایک حکومت کا قیام ہے اور وہ قائم ہو کر رہے گی گویا آج ہم جس زمانے میں جی رہے ہیں اور اپنی آنکھوں سے بشریت کو ظلم و ستم سہتے ہوئے دیکھ رہے ہیں یہی انتظارِ فرج کا ایک مصداق اس دنیا کی انتہا اور اس کی آخری لہر ہے۔

البتہ انتظارِ فرج کے اور بھی مصادیق ہیں۔ جب ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ فرج کا انتظار کرو تو اس کے معنی فقط یہ نہیں کہ ہم فرج نہائی کا انتظار کریں بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اس راہ میں جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کریں فرج یعنی کشائش ایک مسلمان انتظارِ فرج سے یہ درس حاصل کر لیتا ہے اور یہ سیکھ لیتا ہے کہ انسانی زندگی میں کوئی بھی رکاوٹ ایسی نہیں ہے کہ جسے دور نہ کیا جا سکتا ہو لہٰذا ضروری ہے کہ انسان کو کبھی بھی مایوس ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر یہ نہیں کہنا چاہیے۔

ہم کچھ نہیں کر سکتے ایسا نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کی آخری سرحد پر جسے اس نے ظالموں اور ستم گروں سے مقابلے میں گزارا ہے خورشید فرج طلوع ہو کر رہے گا۔ لہٰذا انتظارِ فرج کو بہترین عمل قرار دیا گیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انتظار ایک عمل ہے، بے عملی نہیں ہمیں غلط فہمی میں رہتے ہوئے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ انتظار کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کچھ ہونے کے منتظر رہیں بلکہ انتظار ایک عمل کا نام ہے، تیاری اور آمادگی کا نام ہے، اپنے دل و دماغ کو تقویت پہنچانے کا نام ہے انتظار کا مطلب انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں نشاط و تازگی کے ساتھ تلاش اور جستجو ہے انتظار حقیقت میں اس آیہ مجیدہ کی تفسیر کا نام ہے جس میں ارشادِ اقدسِ الہی ہوتا ہے وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ ٱلْوَٰرِثِينَ اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دے دیں سورۂ قصص، آیت 5 اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے

اِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے وارث بناتا ہے اور انجام کار بہرحال صاحبانِ تقویٰ کے لیے ہے سورۂ اعراف، آیت 128 یعنی اقوام اور ملتوں کو کبھی بھی کشادگی سے مایوس اور ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایرانی قوم نے جبر و استبداد کے خلاف قیام کیا تھا تو اس نے بھی اسی کی بنا پر ہی قیام کیا تھا اور آج اس کی وہ امید پوری ہو گئی ہے اور اپنے اس قیاس سے ایک بہت بڑا نتیجہ حاصل کیا ہے اور آج بھی اپنے مستقبل سے اُمیدیں وابستہ کیے پورے نشاط و تازگی کے ساتھ مصروفِ عمل ہے۔

یہ امید کا نور ہی ہے جو جوانوں کے اندر جذبہ، شوق اور ہیجان پیدا کر دیتا ہے دلوں سے افسردگی اور ناامیدیوں کا خاتمہ کر دیتا ہے اور معاشرے کے اندر تحقیق اور جستجو کے جذبے کو زندہ کر دیتا ہے۔ یہ ہی انتظارِ فرج کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے ہمیں جہاں آخری فرج کا انتظار کرنا چاہیے وہاں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر مرحلے میں ایک فرج کا بھی انتظار کرنا چاہیے ہمیں اپنے دلوں پر مایوسی کے بادل کو چھانے نہیں دینا چاہیے بلکہ ہمیں ہمیشہ انتظارِ فرج میں رہنا چاہیے اور ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ فرج اور کشادگی ہو کر رہے گی تاکہ ہمارا انتظار حقیقی اور واقعی انتظار ہو عمل اور جدوجہد کے ساتھ ہو، شوق اور جذبے کے ساتھ ہو آج ہم فرج کشائش کے منتظر ہیں یعنی ہمیں یہ انتظار ہے کہ عدل و انصاف قائم کرنے والا کوئی طاقتور اور مضبوط ہاتھ آ جائے اور معاشرے سے ظلم و ستم کو جس نے پوری بشریت کو جکڑ رکھا ہے

اکھاڑ پھینکے اور ظلم و جور کی فضاؤں کو دگرگوں کر دے اور انسانوں کی زندگی میں نسیمِ عدل کے جھونکوں سے تازگی لائے تاکہ سارے انسان عدل و انصاف کو محسوس کر سکیں اور یہ ایک زندہ اور باخبر انسان کی دائمی ضرورت ہے۔ ایک ایسا انسان جو صرف اپنے آپ میں مگن نہ ہو صرف اپنی زندگی میں مست نہ ہو وہ انسان جو وسیع نظری سے کام لیتے ہوئے عام انسانوں کی زندگیوں کا جائزہ لے رہا ہو وہ فطری طور پر انتظار ہی کی حالت میں ہوتا ہے یہی انتظار کا معنی ہے یعنی انسان کا زندگی کی موجودہ حالت سے مطمئن نہ ہونا اسے قبول نہ کرنا اور ایک قابلِ قبول حالت تک پہنچنے کی کوشش کرنا اور یہ مسلم ہے کہ یہ قابلِ قبول حالت ولی خدا حضرت حجت ابن الحسن امام مہدی علیہ السلام کے قوی اور توانا ہاتھوں سے پیدا ہو کر رہے گی۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ایک مجاہد اور ایک ایسے انسان کے طور پر تیار کریں جو ایسے حالات سے نبرد آزما ہو سکے انتظارِ فرج کا یہ معنی نہیں کہ انسان کسی کام کو ہاتھ لگائے بغیر بیٹھ جائے اپنی طرف سے اصلاح کی کوئی کوشش نہ کرے اور صرف اس بات پر خوش ہو جائے کہ ہم تو امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین میں سے ہیں۔ یہ انتظار نہیں تو پھر انتظار کیا ہے؟

ایک ایسے قوی و قدرت مند الہی اور ملکوتی ہاتھ کا انتظار کہ وہ آئے اور انسانوں کی مدد سے دنیا سے ظلم و ستم کی حکومت کا خاتمہ کر دے اور حق کو غلبہ عطا کرے لوگوں کی زندگی میں عدل و انصاف کا بول بالا کرے توحید کے پرچم کو لہرائے اور انسانوں کو خدا کے واقعی اور حقیقی بندے بنائے اور اس کام کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے اسلامی جمہوریہ کی تشکیل اسی عظیم الشان تاریخی انقلاب کی ایک تمہید ہے عدل و انصاف کے قیام کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام اس عظیم الشان ہدف کی طرف ایک قدم ہے انتظار کے معنی یہ ہیں انتظار حرکت کا نام ہے خاموشی کو انتظار نہیں کہتے انتظار اسے نہیں کہتے کہ انسان اس خیال کے ساتھ بیٹھ جائے کہ ہر کام خود بخود ہو جائے گا بلکہ انتظار کا مطلب حرکت کرنا ہے انتظار تیار رہنے کو کہتے ہیں ہمیں چاہیے کہ اس تیاری کو اپنے وجود میں اور اپنے گرد و پیش کے ماحول میں بھی ظاہر کریں اللہ تعالیٰ نے ہماری قوم کو اتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے

ملتِ ایران نے یہ عظیم قدم اٹھانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور حقیقی انتظار کے ماحول کو تیار کیا ہے انتظارِ فرج کے یہی معانی ہیں مہدوی معاشرہ یعنی وہ دنیا کہ جس میں حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تاکہ اسے ایک ایسی دنیا بنا سکیں جس کی تشکیل کے لیے تمام انبیاء آئے ہیں یعنی تمام انبیاء اس امر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمہید کی حیثیت رکھتے تھے تاکہ ایک رول ماڈل معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جو بالاخر مہدی موعود ہی کے ہاتھوں اس دنیا میں بن کر رہے گا اور اس کی مثال ایک ایسی بلند و بالا عمارت سے دی جا سکتی ہے جس کی تعمیر کے لیے کوئی زمین سے کوڑا کرکٹ صاف کر رہا ہوتا ہے تو کوئی زمین کو ہموار کر رہا ہوتا ہے کوئی زمین پر نقشہ کھینچ رہا ہوتا ہے تو کوئی کھدائی کا کام کرتا ہے کوئی پلرز نکال رہا ہوتا ہے تو کوئی دیواریں چن رہا ہوتا ہے الغرض اس عمارت کی تعمیر پر مامور افراد یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں

اور عمارت کی تعمیر اور توسیع کے کاموں کو انجام دیتے ہیں اور آہستہ آہستہ یہ عمارت اپنی بنیادوں پر استوار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ تاریخِ بشریت میں انبیاءِ الہی بھی یکے بعد دیگرے آتے رہے اور انسانی تہذیب و تمدن کو الٰہی اقدار سے ہم آہنگ کرتے اور اسے ایک ایسے رول ماڈل معاشرے کی طرف بڑھاتے رہے جس کی تشکیل ان کا آخری ہدف تھا تمام انبیاء کرام اپنے اپنے اہداف میں کامیابی سے سرفراز ہوتے رہے یہاں تک کہ کوئی ایک نبی بھی اپنے اس دیرینہ مقصد میں ناکام و نامراد نہ ہوا۔ یہ ایک سنگین بوجھ تھا جسے ان عظیم ہستیوں کے کاندھوں پر رکھ دیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے آگے بڑھانے کی پوری کوشش کی اور اسے اپنی منزل سے نزدیک کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان میں سے ہر فرد اپنی عمر کی آخری جو ان تمام انبیاء کے وارث بھی ہیں وہ ظہور فرمائیں گے اور آخری قدم چل کر اس منزل کو پورا کریں گے۔

قرآن مجید میں اس کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آئندہ بھی پڑھتے رہیں گے۔ اس میں بھی اس معاشرے کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں جیسا کہ آپ پڑھتے ہیں کہ "اعزّ اولیا و مذلّ اعدا" گویا اس معاشرے میں اولیاء الہی کی عزت ہوگی اور دشمنانِ اسلام ذلیل و خوار ہوں گے یعنی اس معاشرے کے اقدار اور معیار اس قسم کے ہوں گے۔ وہ ایک ایسا معاشرہ ہوگا جہاں حدودِ الہی نافذ ہوں گے یعنی وہ تمام حدود جنہیں خدا اور اسلام نے معین فرمایا ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ان کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔ حضرت امام زمانہ علیہ السلام اپنے ظہور کے بعد جس معاشرے کی تشکیل کریں گے اس کی کئی ایک خصوصیات ہوں گی، میں یہاں پر ان میں سے چند ایک کو بیان کر دیتا ہوں اور آپ بھائیوں اور بہنوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ قرآن مجید اور دعاؤں کی تلاوت کرتے وقت اپنے اذہان کو ان چیزوں کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کریں صرف دعائیں پڑھنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان دعاؤں کو سمجھنا اور ان سے درس لینا بھی ضروری ہے حضرت امام زمانہ علیہ السلام اپنے معاشرے کی بنیاد مندرجہ ذیل خصوصیات پر رکھیں گے پہلی خصوصیت سب سے پہلے آپ ظلم و استبداد کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکیں گے

یعنی آپ جس معاشرے کو تشکیل دیں گے اس میں ظلم و جور کا نام و نشان تک نہ ہوگا اور یہ صرف کسی ایک خطے میں نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام سے بلکہ پوری دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ ہوگا اور وہ بھی نہ تو اقتصادی طور پر ظلم ہوگا اور نہ سیاسی نہ فرہنگی اور نہ ہی کسی اور اعتبار سے یعنی کسی بھی قسم کا ظلم و جور اس معاشرے میں نہیں ہوگا بلکہ آپ کے قائم کردہ معاشرے سے استحصال، طبقاتی نظام، ناانصافی زبردستی، ہٹ دھرمی اور زیادتی کا قلع قمع کیا جائے گا۔ یہ ہے امام زمانہ علیہ السلام کے قائم کردہ معاشرے کی پہلی خصوصیت دوسری خصوصیت امام زمانہ علیہ السلام جو مثالی معاشرہ قائم کریں گے اس کی دوسری خصوصیت یہ ہوگی کہ اس معاشرے میں لوگوں کی فکری سطح بلند ہوگی علمی کے لحاظ سے بھی اور اسلامی لحاظ سے بھی یعنی امام زمانہ علیہ السلام کے دور میں آپ کو پوری دنیا میں فکری اور فرہنگی اعتبار سے جہالت اور ناخواندگی کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ملے گا۔

۲۵۵ ہجری · سامرا · معتز

امام حسن عسکریؑ کے فرزند امام مہدیؑ کی ولادت

ڈھائی سو سالہ انسان