حصہ 1 از 2
مقدمہ
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
آئمہ معصومین علیہم السلام کی مظلومیت خود ان کی ظاہری حیات تک محدود نہیں رہی، بلکہ سیکڑوں سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ان کی سیرت کے اہم ترین، بلکہ اصلی ترین پہلوؤں کی طرف لوگوں کی عدم توجہ کی وجہ سے ان کی تاریخی مظلومیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یقیناً گزشتہ صدیوں میں بے مثال کتابیں اور مقالے لکھے گئے اور ان کے ذریعے ان بزرگ ہستیوں کی زندگیوں سے متعلق روایات مجموعے کی صورت میں آنے والی نسلوں کے لیے بطور یادگار جمع کی گئی ہیں۔
لیکن آئمہ معصومین علیہم السلام کی ڈھائی سو سالہ زندگی میں، "جانکاہ سیاسی جدوجہد" کا جو عنصر ہے، وہ ان کے سوانحِ حیات کے مختلف علمی اور معنوی پہلوؤں سے متعلق بے شمار احادیث اور روایات کے انبار میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کو ہمیں درس حیات اور اسوہ عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ نہ کہ صرف ایک شاندار اور قابل فخر یادگار کے عنوان سے اس کا مطالعہ کریں، اور یہ کام ان بزرگوں کی روش اور طرزِ سیاست پر توجہ دیے بغیر ممکن نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے اس پہلو سے خاص دلچسپی رہی ہے۔ اور مجھے اس حقیقت کا اعتراف میں کوئی جھجک نہیں کہ میرے ذہن میں یہ خیال سن 1971 کی سخت ترین آزمائش اور مشکلات کے ایام میں پیدا ہوا۔ اگرچہ اس سے قبل بھی 'کلمہ توحید' اور 'حکومت الٰہی' کے قیام کے سلسلے میں آئمہ اطہار کا مجاہدانہ کردار اور ان کی قربانیاں اور فداکاریاں میرے پیش نظر تھیں۔
لیکن وہ نکتہ جو اس دور میں اچانک میرے ذہن میں نمودار ہوا، وہ یہ تھا کہ ان بزرگوں کی زندگی مجموعی طور پر ایک مسلسل اور طویل تحریک ہے۔ جو 11 ہجری سے شروع ہو کر ڈھائی سو سال تک بلا ناغہ جاری رہی اور 260 ہجری میں غیبتِ صغریٰ کے آغاز پر ختم ہوئی۔ یہ تمام ہستیاں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں اور ایک ہی شخصیت ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب کا راستہ اور مقصد ایک ہی ہے۔
پس امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگیوں کا الگ الگ جائزہ لینے، اور پھر لامحالہ اس خطرناک غلط فہمی کا شکار ہونے کی بجائے کہ ان تینوں اماموں کی زندگیوں کا ظاہری فرق ان میں ٹکراؤ اور تضاد کی نشاندہی کرتا ہے ہمیں چاہیے کہ تمام آئمہ علیہم السلام کی زندگیوں کو ملا کر ایک ایسے انسان کی زندگی فرض کر لیں جس نے ڈھائی سو سال عمر پائی ہو، اور جو 11 ہجری سے لے کر 260 ہجری تک ایک ہی منزل کی سمت مسلسل گامزن رہا ہو۔ یوں اس عظیم اور معصوم زندگی کا ایک ایک عمل قابل فہم اور لائقِ توجیہ ہو جائے گا۔ ہر انسان جو عقل و حکمت کا مالک ہو، وہ اگرچہ معصوم نہ ہو تب بھی اسے ایک طویل مدت جدوجہد کے دوران مختلف قسم کے موقف اپنانے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کبھی وہ سختی سے پیش آنے کو ضروری سمجھے، کبھی نرمی کا برتاؤ کرے، اور کبھی ممکن ہے کہ کسی مصلحت کی وجہ سے پیچھے ہٹ جائے۔
لیکن ان لوگوں کی نظر میں جو اس کی حکمتِ عملی سے واقف ہیں، اس پیچھے ہٹ جانے کو بھی درحقیقت آگے ہی کی طرف پیش قدمی سمجھا جائے گا۔ اس نظریہ کے مطابق امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی زندگی، امام حسن علیہ السلام کی زندگی، امام حسین علیہ السلام کی زندگی اور دوسرے آٹھ اماموں کی زندگی جو 260 ہجری تک جاری رہی، ایک مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس نقطے کی جانب اسی سال سن 1971 متوجہ ہوا، اور اسی نظریہ سے ان حضرات کی سوانحِ حیات کا مطالعہ شروع کیا، اور جتنا آگے بڑھتا چلا گیا میری سوچ کی صداقت کھلتی چلی گئی۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ اہل بیت رسول ؐ یعنی آئمہ معصومین علیہم السلام کی پوری زندگی سیاسی جدوجہد سے عبارت ہے، اس قابل ہے کہ اس کو ایک مستقل عنوان کے تحت زیرِ بحث لایا جائے۔ میں یہاں اس موضوع کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی چیز: سیاسی جدوجہد یا "جانکاہ سیاسی جدوجہد" جسے ہم آئمہ اطہارؐ کی جانب نسبت دیتے ہیں، اس سے ہماری مراد کیا ہے؟
مراد یہ ہے کہ آئمہ کی مجاہدانہ کوششیں محض ایسی علمی، اعتقادی اور کلامی نہ تھیں جس طرح تاریخ اسلام کے اس دور میں کلامی تحریکوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے معتزلہ، اشاعرہ وغیرہ کی تحریکیں، آئمہ کی علمی نشستیں، درسی حلقے، بیانِ حدیث، نقلِ معارفِ اسلامی اور فقہی احکام کی تشریح و توضیح وغیرہ، صرف اس لیے نہ تھیں کہ علمِ فقہ یا علمِ کلام سے متعلق اپنے مکتب کی حقانیت ثابت کی جائے، بلکہ آئمہ اطہارؑ کے مقاصد اس سے کہیں بلند تھے۔
اسی طرح یہ جدوجہد اس قسم کا مسلحانہ قیام بھی نہ تھی، جیسا کہ جناب زید شہید اور ان کی اولاد یا بنی الحسن اور آل جعفر کے بعض افراد، نیز اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کے یہاں آئمہ اہل بیت کی حیات کے دوران نظر آتا ہے۔ آئمہ اطہار نے اس قسم کا کوئی جہاد نہیں کیا، البتہ یہاں پر یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آئمہ معصومین نے قیام کرنے والے تمام لوگوں کی بطورِ مطلق مخالفت بھی نہیں کی۔ اگرچہ بعض کی مخالفت کی ہے، لیکن اس مخالفت کا سبب ان کا مسلحانہ قیام نہ تھا، بلکہ کچھ دوسری وجوہات تھیں۔ بعض کی بھرپور تائید بھی کی ہے، بلکہ بعض قیام کی پشت پناہی اور مدد بھی کی ہے۔
اس سلسلے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث قابلِ توجہ ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: "مجھے یہ پسند ہے کہ آلِ محمد میں سے کوئی قیام کرے اور اس کے اہل و عیال کے اخراجات میں پورا کروں"۔ "بحار الانوار" جلد 46، صفحہ 172۔ اس پیشکش میں مالی امداد، آبرو کی حفاظت، خفیہ جگہیں فراہم کرنا اور اسی طرح کی دوسری مدد بھی شامل ہے۔
لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں، وہ یہ کہ آئمہ معصومین نے امامِ وقت کی حیثیت سے کبھی بنفسِ نفیس مسلحانہ قیام میں شرکت نہیں کی۔ آئمہ معصومین کی سیاسی جدوجہد سے مراد نہ تو مذکورہ علمی مقابلہ ہے اور نہ ہی دوسری نوعیت کا مسلحانہ قیام، بلکہ اس سے مراد ایک سیاسی مقصد کے تحت جدوجہد ہے اور وہ سیاسی مقصد حکومتِ اسلامی کا قیام ہے۔ جس کو ہم اپنی زبان میں "حکومتِ علوی" سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
پیغمبر اسلام ؐ کی رحلت کے بعد سے 260 ہجری تک آئمہ طاہرین کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ اسلامی معاشرے میں ایک الٰہی حکومت قائم کریں۔ اور یہی ان کا بنیادی مقصد تھا۔ البتہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہر امام اپنے ہی دور میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے خواہشمند تھے۔ ممکن ہے یہ جدوجہد مستقبل قریب، مستقبل بعید، حتیٰ کہ بعض حالات میں آئندہ حکومتِ اسلامی کے قیام سے متعلق رہی ہو۔ مثلاً امام حسنِ مجتبیٰ ؐ کے دور میں کی جانے والی کوششیں آئندہ کم سے کم مدت میں اسلامی حکومت کے قیام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
چنانچہ جب مسیب ابن نجبہ وغیرہ نے امام سے پوچھا کہ آپ نے کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تو جواب میں امام نے جو جملہ ارشاد فرمایا وہ اسی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: "نہیں معلوم یہ شاید تمہاری آزمائش ہو اور ایک معین وقت کا سامان ہو۔" (سورۃ الانبیاء، آیت 111) میری نظر میں امام زین العابدین ؐ کے دور میں یہ کوششیں درمیانی مدت کے لیے تھیں جس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں جو آئندہ صفحات میں پیش کیے جائیں گے۔ اور امام محمد باقر ؐ کے دور میں اس بات کا بہت زیادہ احتمال ہے کہ مستقبل قریب میں اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کی گئی۔
البتہ امام علی رضا ؐ کی شہادت کے بعد کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں اس بات کا گمان ہے کہ یہ کوششیں مستقبل بعید کے لیے رہی ہوں۔ مختصر یہ کہ اسلامی حکومت کب قائم ہو اس لحاظ سے ہر امام کی جدوجہد کا طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوششیں ہمیشہ جاری رہی ہیں۔ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی تمام سرگرمیاں، سوائے ان روحانی اور معنوی امور کے جو ایک بندہ اپنے خدا سے قربت اور عرفانی مراحل کی تکمیل کے سلسلے میں انجام دیتا ہے، "بَینَهُ وَ بَینَ رَبِّهِ" (اس کے اور اس کے رب کے درمیان)، یعنی درس و تدریس، حدیث کا بیان اور علم کلام کی موشگافیاں، مخالفین سے علمی اور سیاسی مناظرے، مختلف گروہوں کی حمایت یا مخالفت وغیرہ، سب کچھ اسی مقصد کے لیے تھی کہ ایک اسلامی حکومت قائم کی جا سکے، یہ ہی ہمارا دعویٰ ہے۔ کیا آئمہ معصومین کی زندگی کا سیاست سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں؟
کیا آئمہ کی زندگی کا مقصد صرف یہ تھا کہ اپنے شاگردوں، مریدوں اور چاہنے والوں کے ایک گروہ کو اپنے ارد گرد جمع کریں، اور انہیں نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ کے احکام بتائیں، اور اسلامی اخلاقیات، معارف، اصولِ دین اور عرفان وغیرہ بیان کرتے رہیں اور بس؟ نہیں۔ بلکہ ان کاموں کے علاوہ بھی آئمہ اطہار کی زندگی کا ایک رخ ہے۔ اور یہ ان کی سیاسی زندگی ہے۔
یہ ایک انتہائی اہم بات ہے جس کا واضح ہونا ضروری ہے۔ البتہ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ استدلالی بحث کی گنجائش نہیں، لہٰذا میں یہاں پر بعض شہ سرخیوں کو بیان کرتا ہوں، تاکہ جو حضرات اس موضوع پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کے تناظر میں روایات اور تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کریں، اور انہیں یہ معلوم ہو سکے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، اور ہمارے دوسرے آئمہ اطہار علیہم السلام کی زندگی کے وہ کون سے گوشے ہیں، جو اب تک مبہم اور ناشناختہ ہیں۔ آئمہ معصومین نے جب یہ ملاحظہ کیا کہ پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے اہداف پر عمل نہیں ہو رہا، یعنی: یعنی "انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔" (سورۃ آلِ عمران، آیت 164) پر عمل نہیں ہو رہا ہے، اور جب دیکھا کہ ایک مثالی اسلامی نظام تشکیل نہیں پا رہا ہے،
ایک ایسا اسلامی معاشرہ جیسا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے، بلکہ اسلام کے صدرِ اول کے بعد مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کو فراموش کر دیا گیا ہے، اور نبوت و امامت کی جگہ سلطنت نے لے لی ہے، قیصر و کسرٰہ، اسکندروں، بدمعاشوں، اور تاریخ کے دیگر ظالم و جابر طاغوتیوں نے، پیغمبر اسلام کی جانشینی اور خلافت کے لباس میں، بنو امیہ اور بنو عباس کے نام سے حکومتِ اسلامی پر قبضہ کر لیا ہے، اور حکمرانوں کی خواہش کے مطابق قرآنِ کریم کی تفسیر بیان کی جانے لگی ہے، لوگ ان درباری علماء کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے، جو دنیاوی طمع و لالچ میں حکمرانوں کی گود میں سر رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے آئمہ معصومین نے بھی ایک جامع پروگرام مرتب کیا۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے تمام آئمہ کی زندگی یعنی امیر المومنین علیہ السلام سے لے کر، امام حسن عسکری علیہ السلام تک کی 250 سالہ مدت کو ایک انسان کی طویل زندگی کا فرض کرنا، یعنی ایک 250 سالہ انسان، کیونکہ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں،
بلکہ "کلُّهُم نُورٌ وَّاحِدٌ" (سب ایک ہی نور ہیں)، ان میں سے اگر کسی ایک نے کچھ فرمایا ہے تو درحقیقت وہ سب کی ترجمانی ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی عمل انجام دیا ہے تو ایسا ہے جیسا سب نے اسے انجام دیا ہو۔ ان 250 سالوں میں آئمہ معصومین نے جو بھی کام انجام دیے ہیں، گویا وہ ایک ہی انسان نے ایک ہی ہدف کی خاطر، ایک ہی نیت سے مگر مختلف طریقوں سے انجام دیے ہیں۔ آئمہ اطہار علیہم السلام نے جب یہ احساس کیا کہ اسلام غربت کا شکار ہو چکا ہے، اور ایک صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں پا سکا ہے، تو انہوں نے چند چیزوں کو اپنا اصولی اور بنیادی ہدف قرار دیا۔
ان میں سے ایک اسلامی تعلیمات کو ان کی اصلی حالت میں لوگوں کے سامنے بیان کرنا تھا۔ جو لوگ گزشتہ کئی سالوں یا طویل عرصے سے اقتدار پر قابض تھے، ان کے لیے اسلام ایک ناقابلِ برداشت چیز تھی۔ پیغمبرِ خدا کا اسلام، قرآن کا اسلام، جنگِ بدر و حنین کا اسلام، عیش و عشرت کا مخالف اسلام، امتیازی سلوک کا مخالف اسلام، ایسا اسلام جو مستضعفین کا حامی ہو، ایسا اسلام جو استکباری طاقتوں کو ملیامیٹ کرنے والا ہو۔ ایسے اسلام کی انہیں ضرورت نہیں تھی جو فرعونی شکل میں موسوی لباس زیب تن کرتے تھے، یا نمرودی صورت میں لباسِ ابراہیمی پہنتے تھے، کیونکہ ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔