حضرت فاطمہ زہراءؑ کے نام کی خطاطی

حضرت فاطمہ زہراءؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
حضرت فاطمہ زہراءؑ کے نام کی خطاطی

حضرت فاطمہ زہراءؑ

ولادت ۸ بعثت · مکہ مکرمہ — شہادت ۱۱ ہجری · مدینہ منورہ

اہم واقعات6 واقعات
مقامات اور سفر
مدینہ: متن میں ۴ واقعاتمدینہ ۴مکہ: متن میں ۳ واقعاتمکہ ۳
  1. مکہولادت ۸ بعثت
  2. مدینہ۱ ہجری، شہادت ۱۱ ہجری
  1. ۸ بعثتحضرت فاطمہ زہراؑ کی ولادت · مکہ مکرمہصفحہ 1
  2. ۷ بعثتشعبِ ابی طالب کا اقتصادی بائیکاٹ · مکہ مکرمہصفحہ 1
  3. ۴ بعثتحضرت خدیجہؑ اور حضرت ابو طالبؑ کی وفات · مکہ مکرمہصفحہ 1
  4. ۲ ہجریامیر المومنینؑ سے حضرت فاطمہ زہراؑ کی شادی · مدینہ منورہصفحہ 2
  5. ۱۱ ہجریحضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت · مدینہ منورہصفحہ 2
  6. ۱۱ ہجریمسجدِ نبوی میں حضرت فاطمہ زہراؑ کا خطبہ · مدینہ منورہصفحہ 2

حصہ 1 از 2

حضرت فاطمہ الزہراءؑ

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا فیض انسانوں سے بھری اس دنیا کے کسی چھوٹے سے گروہ تک محدود نہیں اگر حقیقت میں اور منطقی نگاہوں سے دیکھا جائے تو پوری انسانیت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی احسان مند نظر آتی ہے اور یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جیسا کہ پوری انسانیت اسلام، قرآن، انبیاءِ الہی اور رسولِ اکرم کی تعلیمات کی رہینِ منت ہے تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہو رہا ہے آج بھی ایسی ہی صورتِ حال ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معنویت کا نور مزید واضح ہوتا جائے گا اور بشریت اسے بہتر انداز میں محسوس کرے گی ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ خود کو پیغمبرِ اعظمؐ کے خاندان سے منسوب ہونے کے لائق بنائیں البتہ خاندانِ رسالت ان کے اعزہ اور ان کی ولایت سے سرشار لوگوں سے منسوب ہونا بہت مشکل کام ہے جیسا کہ ہم زیارت میں پڑھتے ہیں کہ ہم آپ کی محبت اور دوستی سے سرشار ہیں۔

یہ جملہ ہمارے کاندھوں پر عائد ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ خیرِ کثیر جس کی خوشخبری خداوندِ عالم نے سورۂ کوثر میں رسولِ اکرم کو دی۔ چنانچہ ارشادِ اقدس الٰہی ہے إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ہم نے تمہیں خیرِ کثیر عطا کیا ہے سورۂ کوثر آیت ایک اس کی تفسیر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں دراصل وہ ان تمام نیکیوں اور بھلائیوں کا سرچشمہ ہیں جو دینِ محمدی کی آبشاروں سے تمام انسانیت اور تمام خلق خدا کو نصیب ہوتی ہے بہت سے لوگوں نے ان کمالات کو چھپانے اور ان سے انکار کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ — اور اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا اگرچہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار لگے سورۂ صف آیت آٹھ ہمیں خود کو اس منبع نور سے قریب کرنا چاہیے اور نور کے مرکز سے قربت کا لازمی نتیجہ نورانی ہونا ہے ہمیں صرف محبت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی نورانی ہونا چاہیے۔

یہ وہ عمل ہے جس کا تقاضا ہماری محبت، ولایت اور ایمان کرتا ہے کہ ہمیں اس عمل کے ذریعے اس خاندان کا حصہ اور اس سے منسوب ہونا چاہیے علی کے گھر کا قنبر بننا آسان نہیں ہے سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں الکافی جلد دو صفحہ 254 کی منزل تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ہم اہل بیت علی علیہ السلام کے پیروکار اور ان سے محبت کرنے والے ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنوں میں اور ان کی چوکھٹ پر بیٹھنے والوں میں شمار کریں اور وہ کہیں کہ فلاں ہماری درگاہ کے خاک نشینوں میں سے ہے ہمارا دل چاہتا ہے کہ اہل بیت علی علیہ السلام کے بارے میں ہم ایسا سوچیں لیکن یہ کوئی آسان بات نہیں یہ صرف دعوے کے بل بوتے سے ملنے والی چیز نہیں اس کے لئے عمل، قربانی، ایثار اور ان کا اتباع ضروری ہے قارئین کرام، ذرا ملاحظہ کیجئے کہ حضرت فاطمہ زہرا نے اپنی مختصر زندگی میں بے پناہ فضائل حاصل کیے آپ کتنی کم سنی میں اتنی فضیلتوں تک پہنچ گئیں بہت چھوٹی عمر میں 18 برس، 20 برس، 25 برس روایتیں مختلف ہیں۔

یہ ساری فضیلتیں یوں حاصل نہیں ہوئی بلکہ جس خدا نے تجھے خلق کیا ہے اس نے خلق کرنے سے پہلے تجھے آزمایا اور اس آزمائش میں تجھے کامیاب پایا جلد 5 صفحہ 343 خداوند عالم نے حضرت فاطمہ زہرا کا امتحان لیا خداوند عالم کا نظام حساب کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ عطا کرتا ہے حساب سے عطا کرتا ہے اسے اپنی اس خاص کنیز کی قربانیوں اور معرفت کا بخوبی علم تھا۔ اس لئے اللہ نے انہیں اپنی بے پناہ فیوضات کا سرچشمہ قرار دیا میں نے ایک روایت میں پڑھا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا کے نور تابانی سے آسمان کے فرشتوں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔

آپ کا نور آسمان کے ملائکہ کے لیے ایسا چمکتا تھا جیسے ستاروں کی روشنی اہل زمین کے لیے بحار الانوار جلد 43 صفحہ 173 ہم اس چمکتے ہوئے نور سے کیا استفادہ کر سکتے ہیں۔ ہم اس درخشان ستارے کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کی بندگی کی راہوں کو تلاش کر سکتے ہیں جو صراط مستقیم ہے جس راستے کو فاطمہ زہرا طے کر کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچ چکی ہیں۔ ہم بھی اس راستے کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے خمیر کو پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے تو اس کی دلیل بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ یہ عظیم ہستی عالمِ ناسوت عالمِ مادہ میں بھی امتحان کو کامیابی کے ساتھ طے کرنے والی ہے اصل بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی خمیر پر اپنا خصوصی لطف و کرم کرتا ہے کیونکہ اس خمیر کے بارے میں جانتا ہے کہ یہ امتحان سے کیسے عہدہ برآ ہونے والا ہے ورنہ بہت سارے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کا خمیر اچھا تھا لیکن کیا وہ سب کے سب امتحانِ الٰہی میں کامیاب ہو گئے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا یہ وہ حصہ ہے کہ ہم اپنی نجات اور بخشش کے لئے جس کے محتاج ہیں شیعہ اسناد سے یہ حدیث وارد ہوئی ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے میری بیٹی فاطمہ اللہ کے حکم پر عمل کرو اللہ تعالیٰ کے ہاں میں تمہیں کسی چیز سے بے نیاز نہیں کر سکتا - التعجب صفحہ 94 یعنی اپنی آخرت کا بندوبست خود ہی کر لو اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بچپن سے لے کر اپنی مختصر عمر کے آخر تک اپنی عاقبت کی فکر میں رہتی تھی ذرا ملاحظہ کیجئے کہ حضرت فاطمہ زہرا نے بچپن سے لے کر شہادت تک اپنی مختصر زندگی کس طرح بسر کی ہے اپنی شادی سے قبل کہ جبکہ آپ ایک چھوٹی سی لڑکی تھی تو نور و رحمت کے پیغمبر دینِ نور کو متعارف کرانے والی عظیم شخصیت اور عظیم عالمی انقلاب کے رہبر و منتظم کے ساتھ کہ جن کا انقلاب تا قیامت باقی رہے گا

جس دن سے آپ نے پرچمِ توحید کو بلند کیا حضرت زہرا نے ایسا برتاؤ کیا کہ آپ کی کنیت ام ابیہا اپنے بابا کی ماں پڑ گئی۔ یہ ان کی خدمت، کام، محنت و مشقت اور لازوال جدوجہد کی روشن دلیل ہے ورنہ بغیر کسی وجہ کے تو آپ کو ام ابیہا نہیں کہا گیا خواہ وہ مکہ کے شب و روز ہوں یا شعبِ ابی طالب کے اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ کے سخت ترین ایام یا وہ تکلیف دہ وقت جب آپ کی والدہ حضرت خدیجہ حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تنہا چھوڑ گئی اور پیغمبرِ اکرم کے قلبِ مبارک کو مختصر عرصے میں دو صدمے اٹھانا پڑے یعنی حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب کی پے در پے وفات ایسے کڑے اور مشکل وقت میں حضرت زہرا آگے بڑھیں اور اپنے ننھے ہاتھوں سے رسولِ اکرم کے چہرۂ مبارک پر پڑے ہوئے غم و اندوہ کے گرد و غبار کو صاف کیا اور اپنے بابا کی تسلی خاطر کا سبب بنی حضرت زہرا کی جد و جہد یہاں سے شروع ہوئی

ذرا غور کیجئے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت اور جد و جہد کا یہ پہلو کتنا تابناک ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھے سات سال کی تھی کیونکہ آپ کی تاریخِ ولادت میں اختلاف ہے کہ شعبِ ابی طالب کا مرحلہ درپیش ہوا صدرِ اسلام کی تاریخ میں شعبِ ابی طالب بہت سخت اور دشوار دور تھا یعنی پیغمبرِ اسلام کی تبلیغِ دین شروع ہو چکی تھی۔ آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا تھا اور رفتہ رفتہ اہلِ مکہ بالخصوص نوجوان اور غلام آپ کے گرویدہ ہوتے جا رہے تھے اور اکابرینِ طاغوت جیسے ابو لہب ابو جہل وغیرہ کو محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پیغمبرِ اسلام اور آپ کے ارد گرد جمع افراد کو مکہ سے باہر نکال دیا جائے اور انہوں نے بعد میں ایسا ہی کیا۔

ان میں سے بہت سے لوگوں کو جن میں درجن اور خاندان شامل تھے خود پیغمبرِ اسلام اور آپ کے قریب رشتہ دار یہاں تک کہ حضرت ابو طالب جن کا شمار قریش کے بزرگوں میں ہوتا تھا سمیت بہت سے بچے اور بوڑھے شامل تھے مکہ سے باہر نکال دیا۔ اب یہ لوگ جاتے تو کہاں جاتے اتفاقاً حضرت ابو طالب کے پاس مکہ کے قریب ایک چھوٹا سا پہاڑی درہ تھا جس کا نام شعبِ ابی طالب تھا شعب پہاڑی درہ کو کہا جاتا ہے کہا گیا کہ وہیں چلے جاتے ہیں ذرا سوچیے کہ مکہ میں دن کو دھوپ کی شکل میں آگ برستی تھی۔ لیکن رات کو کڑاکے کی سردی پڑتی تھی یعنی موسم ناقابلِ برداشت تھا۔

ان لوگوں نے اس ویرانے میں 3 سال کاٹ دیے کتنی سختیاں برداشت کی اور بھوک کی شدت جھیلی ہیں۔ یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا انتہائی سخت دور یہی تھا۔ اس عرصے میں پیغمبرِ اسلام کی ذمہ داری صرف لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی نہیں تھی بلکہ آپ کو سختیاں جھیلنے والے ان لوگوں کے سامنے بھی اپنے مشن کا دفاع کرنا تھا۔ آپ جانتے ہیں جب حالات صحیح ہوتے ہیں تو وہ لوگ جو کسی رہبر اور رہنما کا ساتھ دیتے ہیں وہ سب حالات سے خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوش رکھے انہوں نے ہماری حالت بدل کر رکھ دی۔

لیکن جب کوئی مشکل وقت آجاتا ہے تو سب تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اس نے ہمیں پھنسا دیا ہے۔ ہم تو ان مسائل میں الجھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن جن لوگوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے وہ ان مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں آخرکار ان تمام سختیوں کا بوجھ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھوں پر پڑا انہی دنوں جب پیغمبرِ اسلام انتہائی سخت حالات سے دوچار تھے۔

حضرت ابو طالب جو پیغمبرِ اکرم کے مددگار تھے اور ان سے آپ کی امیدیں وابستہ تھیں۔ اسی طرح حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور بہت بڑی مددگار تھیں۔ ایک ہفتے کے اندر یہ دونوں ہستیاں دنیا سے رخصت ہو گئیں یہ بڑا عجیب سانحہ تھا یعنی پیغمبرِ اسلام بالکل بے سہارا اور تنہا ہو کر رہ گئے تھے مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کبھی کسی گروہ یا تنظیم کے سربراہ کے طور پر کام کیا ہے کہ نہیں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ایک گروہ کی قیادت کتنا مشکل کام ہے ایسے حالات میں واقعاً انسان لاچار ہو جاتا ہے۔

اب آپ ان حالات میں جنابِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے کردار کو دیکھ لیجئے جب انسان تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو اس قسم کی باتوں کو ادھر ادھر کے کونوں میں دیکھ لیتا ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ میں اس حوالے سے کوئی الگ باب نہیں کھولا گیا ہے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ماں ایک مشیر اور ایک جاں نثار کا کردار ادا کیا یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہ زہرا کے لیے اُم ابیہا یعنی اپنے بابا کی ماں کہا گیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ 6-7 سال کی ایک بچی تھیں۔

البتہ یہ بات بھی ہے کہ عرب ماحول اور گرم علاقوں میں لڑکیوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے آپ آج کی 10-12 سالہ لڑکی کے برابر رہی ہوں گی تو یہ احساسِ ذمہ داری اور فرض شناسی ہے کیا ایک نوجوان لڑکی کی یہ بات نمونۂ عمل نہیں کہ وہ اپنے گرد و پیش کے مسائل کے بارے میں اتنی جلدی اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور اپنے وجود میں پنہاں جوش و نشاط کے اس خزانے کو بروئے کار لاتے ہوئے باپ کے چہرے سے جو اس وقت غالباً 50 سال کا ہو چکا ہے اور بڑھاپے کی سمت گامزن ہے غم و غصے کے غبار کو جھاڑے کیا یہ ایک نوجوان لڑکی کا بہترین نمونۂ عمل نہیں ہے۔

در صدائے رہبری · نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقاتفاطمہ زہراّ، بہترین رول ماڈل (نئے ٹیب میں کھلے گا)

یہ بہت ہی اہم بات ہے۔ اس زمانے میں اور ایسے ماحول میں پیغمبر اسلام نے ایک ایسی بیٹی کی تربیت کی کہ یہ بیٹی لیاقت و شائستگی کی اس منزل پر پہنچ گئی کہ خدا کا رسول اس کے ہاتھوں کے بوسے لیتا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا کے ہاتھوں پر پیغمبر اکرم کے بوسے کو جذباتی معاملے پر ہرگز محمول نہ کیجئے یہ سوچنا کہ چونکہ وہ آپ کی بیٹی تھی اور آپ کو ان سے بڑی محبت اور انسیت تھی۔ لہٰذا صرف اسی وجہ سے آپ ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے تھے بالکل غلط اور سطحی فکر ہے۔ اس بے مثال اور گرانقدر شخصیت کے مالک اور زیورِ عدل و حکمت سے آراستہ تھا۔

اسلام کے پیغمبر کے لیے جن کے افعال و اقوال مدار و قرار وحیِ الہی اور الہام پر ہے بھلا کیسے ممکن ہے کہ وہ جھکے اور اپنی بیٹی کے ہاتھ چومے؟ یہ نہیں ہو سکتا یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ یہ ماجرا ہی کچھ اور ہے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ بیٹی اور یہ جوان خاتون جس کی دنیا سے رخصت ہونے کے وقت عمر 18 سے 25 سال کے درمیان رہی در حقیقت انسانیت کی ملکوتی بلندیوں پر فائز تھی اور ایک غیر معمولی ہستی کی مالک تھی عورت کے بارے میں اسلام کا یہی نظریہ ہے۔ لیکن اس عظیم شخصیت کا روحانی اور معنوی مقام اس کے جہادی انقلابی اور اجتماعی مقام سے کہیں بلند ہے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ظاہراً ایک عام انسان اور عورت وہ بھی ایک نوجوان خاتون ہے۔

لیکن معنوی اعتبار سے ایک عظیم حقیقت چمکتا ہوا الہی نور ایک صالح ہستی ایک ممتاز اور منتخب روزگار انسان ہیں۔ یہ وہ عظیم شخصیت ہیں جس کے بارے میں پیغمبر اسلام نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے فرمایا تھا اے علی تم اس امت کے امام اور میرے بعد ان کے خلیفہ ہو اور آپ مومنین کی بہشت کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ میری بیٹی فاطمہ قیامت کے دن ایک نورانی اونٹ پر سوار ہیں اور آپ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ستر ہزار فرشتے کھڑے ہیں اور وہ میری امت کی مومن عورتوں کی بہشت کی طرف رہنمائی کر رہی ہیں بحار الانوار جلد 43 صفحہ 24 یعنی قیامت کے دن امیر المومنین امام علی مومن مردوں اور حضرت فاطمہ زہرا مومن عورتوں کی جنت کی طرف رہنمائی فرمائیں گی۔

آپ کی شخصیت امیر المومنین کے برابر ہے۔ یہ وہ عظیم شخصیت ہے کہ جب محرابِ عبادت میں کھڑی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہزاروں مقرب فرشتے آپ سے مخاطب ہوتے اور آپ کو سلام کرتے ہیں اور آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے وہی الفاظ دہراتے ہیں جو ان سے پہلے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں کہا کرتے تھے اے فاطمہ اللہ تعالیٰ نے تجھے منتخب فرمایا ہے اور ہر قسم کی نجاستوں سے پاک کیا ہے اور تجھے عالمین کی عورتوں پر فضیلت عطا کی ہے بحار الانوار جلد 43 صفحہ 24 یہ ہے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا روحانی اور معنوی مقام و مرتبہ ایک عورت اور وہ بھی نوجوانی ہی میں روحانی اور معنوی لحاظ سے اس مقام تک پہنچتی ہے کہ بعض روایتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے آپ سے ہمکلام ہوتے ہیں اور آپ کے سامنے کائنات کے حقائق کو پیش کرتے ہیں۔

۸ بعثت · مکہ مکرمہ

حضرت فاطمہ زہراؑ کی ولادت

۷ بعثت · مکہ مکرمہ

شعبِ ابی طالب کا اقتصادی بائیکاٹ

۴ بعثت · مکہ مکرمہ

حضرت خدیجہؑ اور حضرت ابو طالبؑ کی وفات

ڈھائی سو سالہ انسان