حصہ 1 از 2
سولہواں باب، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام، امام علی نقی علیہ السلام، اور امام حسن عسکری علیہ السلام
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
طویل المدتی پروگرام کے تحت، وسیع بنیاد پر تنظیمی سرگرمیاں ہمارے دوسرے آئمہ طاہرین علیہم السلام کی طرح، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی زندگی بھی ہمارے لیے نمونہ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نیک اور شائستہ بندے کی مختصر زندگی کفر و طغیان کے خلاف برسرِ پیکار میں گزری آپ نوجوانی میں ہی منصب امامت پر فائز ہوئے اور اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرتے رہے اور پچیس سال کی عمر میں آپ کا وجود مبارک دشمنوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا اور آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا جس طرح ہمارے دیگر ائمہ اطہار علیہم السلام میں سے ہر ایک نے اپنے جہاد کے ذریعے اسلام کی افتخار تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا امام علی نقی نے بھی اپنے عمل کے ذریعے جہاد کر کے ہمارے لیے ایک درس دیا ہے اور وہ درس یہ ہے کہ جب کبھی منافقین اور ریاکاروں سے واسطہ پڑ جائے تو ہمیں حکمت سے کام لیتے ہوئے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ مومنین کو اس سے باخبر کرنا انہیں دشمنوں کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار اور آمادہ کرنا ہے۔
اگر دشمن کھلے عام اپنی دشمنی کا اظہار کرے اور ریاکاری کا مظاہرہ نہ کرے تو پھر اس سے نمٹنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر کبھی دشمن مامون عباسی کی طرح اپنے چہرے پر تقدس کا نقاب ڈال کر اسلام کی باتیں کرنے لگے تو پھر لوگوں کے لیے ایسے دشمن کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ ہمارے زمانے میں بلکہ پوری تاریخ میں طاقتور لوگوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ جب وہ سامنے آ کر مقابلہ کرنے سے عاجز ہوں تو پھر ریاکاری اور منافقت سے کام لیتے ہیں حضرت امام علی رضا اور امام محمد تقی علیہم السلام نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ مامون کے چہرے سے ریاکاری اور منافقت کے پردے کو اتار پھینک دیا جائے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے، یہ بزرگوار مقاومت کی نشانی اور علامت ہیں۔
ایک ایسے عظیم انسان ہیں کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی بنو عباس کے اس ریاکار خلیفہ مامون عباسی سے مقابلے میں گزاری اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور مشکل سے مشکل حالات کو برداشت کیا اور تمام ممکن طریقوں سے ان کا مقابلہ کیا۔ حضرت امام محمد تقی علیہم السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے آزادانہ بحث و مباحثے کا آغاز کیا اور مامون کی موجودگی میں مختلف مذاہب کے علماء اور دانشوروں کے ساتھ علمِ کلام کے دقیق اور مشکل موضوعات پر دلیل اور استدلال کے ساتھ بحث کرتے ہوئے اپنی برتری ثابت کر دی لہذا آزادانہ بحث و مباحثے کا یہ اسلوب ہماری میراث ہے اور یہ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں رائج تھا اور حضرت امام محمد تقی علیہم السلام کے دور میں آپ ہی کے ذریعے اس خوبصورت طریقے کا آغاز ہوا۔
اسی طرح امام علی نقی علیہ السلام اور آپ کے دور کے خلفاء کے درمیان ہونے والی سرد جنگ میں ظاہری اور باطنی طور پر جسے فتح نصیب ہوئی وہ امام علی نقی علیہ السلام ہی تھے۔ اس امام عالی مقام کے دورِ امامت میں یکے بعد دیگرے چھ خلفاء آئے اور واصلِ جہنم ہوتے گئے۔ ان میں سے آخری خلیفہ معتز تھا جس نے امام علی نقی علیہ السلام کو شہید کیا اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد خود بھی مر گیا۔ ان خلفاء کی اکثریت بڑی ذلت کی موت مر گئی۔ ایک اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں مارا گیا تو دوسرے کو اس کے بھتیجے نے قتل کر دیا۔
اس طرح بنو عباس کے خلفاء کی ہوا اکھڑتی چلی گئی۔ لیکن اس کے برعکس، حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیہم السلام کے دور کے انتہائی سخت اور دشوار حالات کے باوجود شیعانِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور وہ قوی اور طاقتور ہوتے چلے گئے۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے 42 سال عمر پائی جس میں سے 20 سال آپ سامرہ میں رہے جہاں پر آپ کھیتی باڑی کرتے اور زندگی کا گزر بسر کرتے رہے سامرہ شہر کو دراصل ایک فوجی چھاؤنی کی حیثیت حاصل تھی جسے معتصم نے تعمیر کروایا تاکہ وہ اپنے قریبی ترک غلاموں کو جو ترکستان، سمرقند، منگولیا اور مشرقی ایشیا سے لائے گئے تھے وہاں پر بسا سکے، نہ کہ آذربائیجان اور دیگر علاقوں کے رہنے والے ترکوں کے لیے یہ چونکہ نومسلم تھے اس لیے اہل بیت علیہم السلام اور مومنین کو نہیں پہچانتے تھے بلکہ اسلام سے بھی اچھی طرح واقف نہ تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ لوگوں کے لیے پریشانیاں کھڑی کرتے اور عربوں یعنی بغداد کے لوگوں کے ساتھ سخت اختلافات رکھتے تھے۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے دور میں اسی سامرہ شہر میں بزرگ شیعہ ایک خاصی تعداد میں جمع ہو گئے تھے اور امام انہیں منظم کرنے نیز ان کے ذریعے خطوط اور دیگر ذرائع سے امامت کے پیغام کو پورے عالمِ اسلام تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے، قم، خراسان، رے، مدینہ، یمن اور دیگر دور دراز کے علاقوں اور پوری دنیا میں انہی افراد نے شیعہ مکتبِ فکر کو پھیلایا اور اس مکتب پر ایمان رکھنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے یہ تمام کام ان چھ خلفاء کی خونچکاں شمشیروں کے سائے تلے اور ان کی مرضی کے برخلاف انجام دیئے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں ایک معروف حدیث ہے جس کی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ سامرہ میں اچھی خاصی تعداد میں شیعہ اس طرح اکٹھا ہو گئے تھے کہ دربارِ خلافت انہیں پہچان نہیں پاتا تھا کیونکہ اگر وہ انہیں پہچان جاتا تو ان سب کو تہہ تیغ کر دیتا لیکن چونکہ ان افراد نے اپنا ایک مضبوط نیٹ ورک بنا لیا تھا اس لیے تختِ خلافت بھی ان لوگوں کی شناخت نہیں کر سکتا تھا۔
ان عظیم شخصیات، ائمہ علیہم السلام کی ایک دن کی سعی اور کوشش برسوں کا اثر رکھتی تھی۔ ان کی مبارک زندگی کا ایک دن برسوں تک کام کرنے والے ایک گروہ کی کارکردگی سے زیادہ معاشرے پر اثر ڈالتا تھا ائمہ علیہم السلام نے اس طرح دین کی حفاظت کی ورنہ جس دین کے علم بردار متوکل، معتز، معتصم اور مامون جیسے افراد ہوں اور جس کے علماء یحییٰ بن اکثم جیسے لوگ ہوں جو دربارِ خلافت کے عالمِ دین کہلانے کے باوجود انتہائی درجے کا فاسق و فاجر آدمی تھا ایسی صورتِ حال میں دین کو تو بالکل بچنا ہی نہیں چاہیے تھا اور انہی ابتدائی ایام میں اس کی بیخ کنی ہو جانی چاہیے تھی۔
اس کا خاتمہ بخیر ہو جانا چاہیے تھا مگر ائمہ طاہرین علیہم السلام کی اس جد و جہد اور سعی و کوشش نے نہ صرف تشیع بلکہ قرآن، اسلام اور دینی تعلیمات کا تحفظ کیا۔ یہ ہے خدا کے خالص و مخلص بندوں اور اولیاء خدا کی خصوصیت اگر اسلام میں ایسے کمر بستہ افراد نہ ہوتے تو بارہ سو، تیرہ سو برسوں کے بعد اسے حیاتِ نو نہ ملتی اور وہ اسلامی بیداری پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوتا بلکہ اسے دھیرے دھیرے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر اسلام کے پاس ایسے افراد نہ ہوتے جنہوں نے پیغمبر اسلامؐ کے بعد ان عظیم اسلامی تعلیمات کو انسانی ذہنوں اور اسلامی تاریخ میں زندہ و جاوید کر دیا تو اسلام ختم ہو جاتا اور اس کی کوئی چیز بھی باقی نہ رہتی اور اگر کچھ بچ بھی جاتا تو اس کی تعلیمات میں سے کچھ بھی نہیں بچتا یہودیت اور عیسائیت کی طرح کہ اب ان کی اصل تعلیمات میں سے تقریباً کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔
قرآن مجید کا صحیح و سالم باقی رہ جانا حدیثِ نبوی کا باقی رہ جانا اتنے سارے احکام اور تعلیمات کا باقی رہ جانا اور اسلامی تعلیمات کا ایک ہزار سال بعد انسان کی وضع کردہ تعلیمات سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو منوانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ انتہائی غیر معمولی بات ہے جو مجاہدت کے ساتھ انجام پائی ہے۔ البتہ اس عظیم کام کی راہ میں ظلم و ستم کا شکار ہونا اسیر ہونا اور قتل ہونا بھی عام بات تھی تاہم ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے بچپن کے بارے میں ایک روایت ہے کہ جب معتصم نے 218 ہجری میں حضرت امام محمد تقی علیہم السلام کو ان کی شہادت سے دو سال قبل مدینہ سے بغداد طلب کیا تو حضرت امام علی نقی کی عمرِ مبارک چھ سال تھی۔
آپ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مدینہ میں رک گئے تھے۔ جب امام محمد تقی علیہم السلام کو بغداد میں لایا گیا تو معتصم نے آپ کے اہلِ خانہ کے بارے میں تحقیق کی اور جب اسے پتہ چلا کہ آپ کے بڑے فرزند علی بن محمد کی عمر 6 سال ہے تو اس نے کہا یہ خطرناک بات ہے ہمیں اس کی کوئی چارہ جوئی کرنی چاہیے معتصم نے اپنے ایک قریبی شخص کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ بغداد سے مدینہ جائے اور وہاں اہلِ بیت کے کسی دشمن کو تلاش کر کے اس بچے کو اس کے حوالے کرے تاکہ وہ شخص استاد کے طور پر اس بچے کو تعلیم دے اور اسے خاندانِ رسالت کا دشمن اور دربارِ خلافت کا دوست بنائے وہ شخص بغداد سے مدینہ آیا اور الجنیدی نامی ایک عالم کو جو اہلِ بیت علیہم السلام کے بہت بڑے مخالفین اور دشمنوں میں سے تھا اور اس قسم کے علماء اس وقت مدینہ میں موجود تھے۔
اس کام کے لیے مامور کیا اور اس سے کہا کہ مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ تمہیں اس بچے کا استاد مقرر کروں تاکہ تم کسی کو اس سے ملنے جلنے نہ دو اور اس کی ویسی پرورش کرو جیسی ہم چاہتے ہیں۔ اس شخص کا نام یعنی الجنیدی تاریخ میں درج ہے۔ اس وقت حضرت امام علی نقی علیہم السلام کی عمر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا چھ سال تھی اور معاملہ حکومت کا تھا کون اس کے سامنے کھڑا ہو سکتا تھا کچھ دنوں کے بعد دربارِ خلافت سے وابستہ ایک شخص نے الجنیدی سے ملاقات کی اور اس سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جسے اس کے حوالے کیا گیا تھا الجنیدی نے حیرت سے کہا بچہ! یہ بچہ ہے میں ادبیات کی کوئی بات اسے بتانا چاہتا ہوں تو وہ ادب کے ایسے ایسے گوشے میرے سامنے کھول دیتا ہے کہ جن کا مجھے بھی علم نہیں ہوتا ان لوگوں نے کہاں تعلیم حاصل کی ہے کبھی کبھی جب وہ حجرے میں داخل ہونا چاہتا ہے
تو میں اس سے کہتا ہوں کہ پہلے قرآن مجید کے ایک سورے کی تلاوت کرو اور پھر حجرے میں داخل ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ الجنیدی امام عالی مقام کو پریشان کرنا چاہتا تھا تو وہ پوچھتا ہے کہ کون سا سورہ پڑھوں میں اس سے کہتا ہوں کہ کوئی بڑا سورہ مثلا سورہ آل عمران پڑھو وہ بچہ پورا سورہ پڑھتا ہے اور اس کے مشکل الفاظ کے معنی بھی مجھے بتاتا ہے۔ یہ لوگ عالم ہیں حافظِ قرآن ہیں۔ قرآن مجید کی تاویل اور تفسیر کے عالم ہیں اور تم کہہ رہے ہو بچہ یہ لڑکا جو بظاہر بچہ ہے۔ لیکن ولی اللہ اور- وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْحُكْمَ صَبِيًّۭا اور ہم نے انہیں بچپن ہی میں حکمت عطا کر دی سورہ مریم آیت 12 کا مصداق ہے۔
چنانچہ استاد کے ساتھ اس بچے امام کا کچھ عرصے تک رابطہ جاری رہا کہ استاد خود اہل بیت علیہم السلام کا سچا شیعہ بن گیا تمام میدانوں میں انہیں غلبہ حاصل تھا اور ان کے دشمن ناکام تھے دعبل خزاعی گلستان سعدی باب سوم جس کی بنو عباس کے خلفاء میں سے کسی کے ساتھ نہیں بنتی تھی اس نے اپنے اشعار کے ذریعے ان کی مٹی پلیت کر رکھی تھی اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں تاریخ میں ایک سند چھوڑی ہے۔ وہ معتصم عباسی کے بارے میں اپنے ایک شعر میں کہتا ہے کہ ہم نے تو کتابوں میں پڑھا تھا کہ بنو عباس کے سات خلفاء ہوں گے اور اب آٹھویں کی بات کرتے ہیں۔
یہ آٹھواں خلیفہ کون ہے کیا وہ اصحابِ کہف کی طرح ہیں کہ جن کا آٹھواں ان کا کتا تھا اس کے بعد وہ کہتا ہے تم کہاں وہ کتا کہاں اس کتے سے تو کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا جبکہ تم سر سے پیر تک گناہوں سے آلودہ ہو امام علیہ السلام کو مدینہ سے سامرہ لایا گیا تاکہ آپ ان کی نگرانی میں رہیں لیکن انہوں نے دیکھا کہ اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر قاریٔین، مناقب اور دوسری تاریخ کی کتابوں میں ان تینوں اماموں کے حالات کا جائزہ لیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام کے زمانے کی بہ نسبت ان بزرگواران کے دور میں شیعوں کے باہمی تعلقات زیادہ فعال اور مستحکم تھے دنیا کے کونے کونے سے لوگ خطوط لکھ رہے تھے خمس وغیرہ کے پیسے بھیجتے تھے احکامات حاصل کرتے تھے باوجود اس کے کہ یہ اقلیت میں تھے۔
امام علی نقی علیہ السلام سامرہ کے لوگوں میں ہر دلعزیز بن گئے تھے سب کے سب آپ کا احترام کرتے تھے اور بے احترامی کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آپ کی شہادت کے بعد امام حسن عسکری علیہ السلام بھی شہر میں بہت شہرت رکھتے تھے یہیں سے حکمران سمجھ گئے کہ کوئی راز کی بات ضرور ہے۔ لہٰذا اسے سمجھا جائے اور اس کا کوئی علاج کیا جائے وہ امام علیہ السلام کے تقدس کا راز بھانپ گئے اور ایک دن متوکل عباسی نے امام علیہ السلام کو شراب کی ایک محفل میں بلا لیا تاکہ یہ خبر ہر جگہ پھیل جائے کہ امام علی مقام متوکل کا ہاں ایک ایسی محفل میں گئے تھے جہاں شراب و کباب کا اہتمام کیا گیا تھا غور کیجئے کہ اس خبر کے کیا کیا اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔
آپ نے اس موقع پر ایک مجاہدِ مبارز کی نظر سے اس واقعے کو دیکھا اور اس سازش کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے امام علی نقی علیہ السلام نے متوکل کے دربار میں جا کر شراب و کباب کی اس محفل کو ایک روحانی محفل میں تبدیل کر دیا یعنی آپ نے وہاں جا کر حقائق بیان کر کے اور عبرت آمیز اشعار کے ذریعے متوکل کو ایسا مغلوب کر دیا کہ آخرکار متوکل اپنی جگہ سے اٹھا اور عطر کی ایک شیشی آپ کے خدمت میں پیش کی اور نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ آپ کو وہاں سے رخصت کر دیا۔ اس موقع پر امام علی نقی علیہ السلام نے متوکل سے مخاطب ہو کر فرمایا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہاں پر بیٹھے ہوئے ہو اور موت کا پنجہ تمہیں نہیں دبوچ لے گا۔
