حصہ 1 از 4
پانچواں باب حضرت امام حسن علیہ السلام
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
حضرت امام حسن علیہ السلام کا دور خلافت اور آپ کا معاویہ کے ساتھ صلح یا وہ واقعہ جسے صلح کا نام دیا گیا ہے تاریخِ اسلام کے صدر اول کے اسلامی اور انقلابی طریقہ کار میں ایک بے مثال اور اسلام کی تقدیر بدل کر رکھ دینے والا واقعہ ہے۔ ہمارے نزدیک اس واقعے کی کوئی مثال نہیں ملتی میں یہاں اس جملے کی مختصر وضاحت کے بعد اصل مطلب کی طرف آؤں گا اسلامِ انقلاب یعنی اسلامی آئیڈیالوجی اور وہ امانت جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے نام سے لوگوں کے لیے بھیجا تھا جو ابتدائی طور پر ایک تحریک تھی یعنی اس دین نے ابتدا میں اپنے آپ کو جہاد اور ایک عظیم انقلابی تحریک کی صورت میں پیش کیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب حضورِ اکرم نے مکہ معظمہ میں اس نظریہ کا اعلان کر دیا تھا تو توحید اور اسلام کے دشمنوں نے اس کے مقابلے میں صف آرائی کی تھی تاکہ اس فکر کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
لیکن پیغمبرِ اسلام نے اپنے باوفا اصحاب کی مدد سے اس تحریک کو منظم کیا اور سرزمینِ مکہ میں ایک عاقلانہ اور قوی تحریک کا آغاز فرمایا اور یہ تحریک تیرہ سال تک مسلسل جاری رہی۔ یہ اس کا پہلا دور تھا تیرہ سال بعد آپ نے اپنی تعلیمات نعروں، تنظیم سازی اور بے پناہ قربانیوں اور دیگر ذرائع کی مدد سے اس فکر کو ایک حکومت، ایک سیاسی نظام اور ایک امت کی زندگی کے اجتماعی نظام میں بدل کر رکھ دیا اور یہ سب اس وقت ہوا جب حضورؐ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنی حکومت کا مرکز قرار دیا۔ پھر وہیں سے اسلامی تعلیمات کو عام کرتے رہے اور اسلام ایک تحریک کی شکل سے نکل کر ایک حکومت میں تبدیل ہو گیا اور یہ اسلام کا دوسرا دور تھا۔
یہ طریقہ کار پیغمبر اکرم کے دس سالہ دور اقتدار اور ان کے بعد چار خلفاء اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے چھ مہینے کے دور خلافت تک جاری رہا اور اسلامی نظام ایک حکومت کی صورت میں ظاہر ہوا جہاں ہر شعبے کے لیے ایک اجتماعی نظام موجود تھا یعنی حکومتی، فوجی، سیاسی، ثقافتی، عدالتی اور اقتصادی امور کے شعبے موجود تھے اور سب ترقی کی راہ پر گامزن تھے۔ اگر اسی رفتار سے یہ نظام آگے بڑھتا چلا جاتا تو پورے عالم پر چھا جاتا یعنی اسلام نے یہ ثابت کر دیا کہ اس کے اندر یہ قابلیت موجود ہے۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دور خلافت میں اسلام مخالف تحریکوں نے یوں سر اٹھایا کہ وہ اسلامی نظام کی راہ میں ایک رکاوٹ بن کر سامنے آنے میں کامیاب ہو گئیں اگرچہ یہ تحریکیں امام حسن علیہ السلام کے دور میں وجود میں نہیں آئی تھیں بلکہ یہ کئی سال پہلے سے موجود تھیں۔
اگر کوئی شخص اپنے اعتقادی نظریات سے ہٹ کر صرف تاریخی حقائق کی روشنی میں بات کرے تو وہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے ساتھ بھی وجود میں نہیں آئی تھیں بلکہ یہ اس سلسلے کی کڑیاں تھیں جو نبوی تحریک یعنی مکی دور میں موجود تھیں۔ حضرت عثمانؒ کے دور میں جب خلافت بنو امیہ کے ہاتھ میں آگئی تو ابو سفیان نے جو اس وقت نابینا بھی ہو چکا تھا اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا پوچھا یہاں پر کون لوگ موجود ہیں؟
جب اسے بتایا گیا کہ فلاں فلاں ہیں اور جب اسے یقین ہو گیا کہ سب بنو امیہ کے لوگ ہیں اور کوئی غیر موجود نہیں تو اس نے ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا گیند کی طرح حکومت کو ایک دوسرے کے حوالے کرتے جاؤ اور اپنے ہاتھ سے نکلنے نہ دو الاحتجاج علی اہل اللجاج، طبرسی جلد ایک صفحہ 234 اس واقعے کو سنی شیعہ دونوں کی تاریخی کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ کوئی اعتقادی مسئلہ نہیں اور نہ ہی ہم اعتقادی مسائل پر بات کر رہے ہیں بلکہ میں صرف اس واقعے کا تاریخی پہلو واضح کرنا چاہتا ہوں۔ البتہ ابو سفیان اس وقت ایمان لا چکا تھا اور وہ مسلمان تھا۔
اس نے فتح مکہ کے بعد ایمان لایا تھا نہ کہ اس وقت اسلام لایا جب اسلام غریب اور کمزور تھا اس کا اسلام، اسلام کے طاقتور ہونے کے بعد کا اسلام تھا۔ یہ تحریک حضرت امام حسن علیہ السلام کے دور خلافت میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی اور یہ وہ تحریک تھی جو معاویہ بن ابو سفیان کی شکل میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے سامنے ظاہر ہو گئی اس تحریک نے اسلامی نظام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں یعنی حکومت اسلامی کا راستہ روکتے ہوئے اس کی جڑوں کو کاٹ دیا اور اس کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں یہاں تک کہ یہ عملی طور پر حکومت اسلامی کی پیشرفت میں رکاوٹ بن گئی صلح امام حسن علیہ السلام کے باب میں ہم نے بارہا اس مسئلے کو بیان کیا ہے اور کتابوں میں بھی لکھا ہوا ہے کہ اگر اس موقع پر امام حسن علیہ السلام کی جگہ کوئی اور ہوتا یہاں تک کہ خود امیر المومنین امام علی ہوتے تب بھی جو کچھ امام حسن علیہ السلام نے کیا تھا اس کے علاوہ کچھ اور ممکن ہی نہ تھا
کوئی بھی شخص امام حسن علیہ السلام کے اس اقدام کے کسی گوشے پر انگلی نہیں اٹھا سکتا کیونکہ آپ کا یہ اقدام سو فیصد منطقی استدلال پر مبنی ہے اہل بیت علیہم السلام میں سب سے زیادہ جذباتی کون تھا کس کی زندگی جد و جہد اور جہاد میں گزری ہے دشمن کے مقابلے میں دینی غیرت اور حمیت کا پاس رکھنے والا کون تھا یقیناً وہ حسین علیہ السلام تھے اور آپ صلح میں امام حسن علیہ السلام کے برابر کے شریک تھے۔ امام حسن علیہ السلام نے اکیلے صلح نہیں کی تھی بلکہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں نے مل کر صلح کی تھی فرق صرف یہ تھا کہ امام حسن علیہ السلام آگے آگے تھے اور امام حسین علیہ السلام آپ کے پیچھے تھے اور امام حسن علیہ السلام کے نظریات کا دفاع کرتے تھے۔
ایک موقع ایک نشست میں جب آپ کے قریبی دوستوں تحریک اور جذباتی ساتھیوں میں سے ایک شخص نے امام حسن علیہ السلام پر اعتراض کیا تو امام حسین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام کا دفاع کیا۔ امام حسین علیہ السلام نے حجر کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور وہ خاموش ہو گیا شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد 16 صفحہ 15 کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ امام حسن علیہ السلام کی جگہ امام حسین علیہ السلام ہوتے تو یہ صلح واقع نہیں ہوتی نہیں بلکہ اس صلح میں بھی امام حسین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کے ہمراہ موجود تھے اور صلح واقع ہوئی۔
اسی طرح اگر امام حسین علیہ السلام اکیلے ہوتے تب بھی ایسے حالات میں وہی کچھ کرتے جو امام حسن علیہ السلام نے کیا تاریخ کا یہ عظمت اور ملائمت سے بھرپور مصالحانہ اقدام صلح کی تمام شرائط موجود تھیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہ تھا کیونکہ اس وقت شہادت کے لیے خود کو پیش کرنے کا موقع ہرگز نہیں تھا جیسا کہ مرحوم شیخ آل یاسین علیہ السلام نے اپنی کتاب صلح امام حسن علیہ السلام جس کا میں نے 1999 میں فارسی ترجمہ کیا تھا میں یہ ثابت کیا ہے۔ اس وقت شہادت کا امکان ہی نہ تھا کیونکہ ہر مقتول شہید نہیں کہلاتا بلکہ کچھ شرائط کے ساتھ اگر کوئی مارا جائے تو اسے شہید کہتے ہیں کیونکہ وہ شرائط یہاں موجود نہیں تھیں۔
لہٰذا اگر امام حسن علیہ السلام ان دنوں قتل ہو جاتے تو شہید نہیں کہلاتے کیونکہ ایک ایسے موقع پر جہاں انسان کو مصلحت سے کام لینا چاہیے تھا وہاں پر وہ جارحانہ رویہ اپنائے اور مارا جائے تو ایسی موت کو خودکشی کے علاوہ شہید کہنا ممکن نہ تھا صلح امام حسن علیہ السلام کے مختلف پہلوؤں پر ہم بات کر چکے ہیں۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صلح کے بعد حالات انتہائی ہوشیاری اور زیرکی کے ساتھ اس طرح سے منظم کیے گئے کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کو خلافت کے نام پر وجود میں آنے والی ملوکیت کے اس کثیف گرداب میں داخل ہی نہ ہونے دیا جائے اور یہی امام حسن علیہ السلام کا کارنامہ تھا۔
آپ نے ایک ایسا کام انجام دیا کہ جس کے ذریعے اسلام کی اصلی تعلیمات کو جن کا آغاز مکہ سے ہوا اور مدینہ میں یہ ایک اسلامی حکومت کی شکل میں ظاہر ہوئیں اور امیر المومنین علی علیہ السلام کے دور حکومت اور خود امام حسن علیہ السلام کے دور تک جاری رہیں ایک نئی جہت دینی تھی اور اگر یہ کام انجام دینا ایک حکومت کی صورت میں نہیں تو کم از کم ایک تحریک کی صورت میں ہی سہی اسے انجام دینا تھا اور یہ اسلام کا تیسرا دور تھا کہ جس میں اسلام نے دوبارہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی جس کے نتیجے میں اسلام ناب محمدی اسلام کی اصلی تعلیمات وہ اسلام جو ظلم کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے وہ اسلام جو سازشوں کو ناکام بنا دیتا ہے وہ اسلام جو ہر قسم کی تحریفات سے پاک ہے اور وہ جو اسلام لوگوں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے بچنے والا ہے وہ اسلام باقی رہ گیا۔
لیکن یہ ایک تحریک کی صورت میں باقی رہ گیا یعنی امام حسن علیہ السلام کے دور میں اسلامی طرز فکر جس نے ایک طویل راستے کو طے کرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور سنبھالا تھا۔ اس نے دوبارہ پلٹ کر ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی۔ البتہ اس دور میں اسلامی تحریک کی ذمہ داریاں خود پیغمبر اسلامؐ کے دور کی ذمہ داریوں سے کہیں زیادہ سخت اور مشکل تھی کیونکہ یہاں دین کا مخالف بھی مذہب اور دین کا نعرہ لگا رہا تھا اور مذہب ہی کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا جبکہ حقیقت میں دین اور مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا اور یہی چیز ائمہ معصومینؑ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔
البتہ ائمہ اطہارؑ سے منقول روایات اور ان کے حالات زندگی کے مطالعے سے میں اس نتیجے پر پہنچ گیا ہوں کہ جس دن سے صلح امام حسنؑ واقع ہوئی۔ اسی دن سے لے کر آخر تک ائمہ معصومینؑ کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس تحریک کو ایک مرتبہ پھر حکومت میں تبدیل کر سکیں۔ اس حوالے سے بہت ساری روایات پائی جاتی ہیں۔ البتہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اس چیز کا کسی اور انداز سے جائزہ لیں لیکن میری تحقیق یہ ہے کہ ائمہ اطہارؑ کی پوری کوشش رہی ہے کہ اس تحریک کو حکومت میں تبدیل کر سکیں یعنی وہ چاہتے تھے کہ معاشرے کا نظام اس تحریک کے ہاتھ میں ہو جو ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات سے دور اور پاک و صاف ہے لیکن یہ بہت ہی بڑا سخت اور مشکل کام تھا۔
اس انقلابی تحریک کے دوسرے دور یعنی سفیانی، اموی اور عباسی خلفاء کے دور میں لوگوں کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ اسلام اور قرآن کے اصولوں کو سمجھنے اور ان کی پہچان میں غلطی نہ کریں آخر تمام ادیان عالم نیز قرآن کریم میں انسانوں کو اس قدر غور و فکر کی تاکید کیوں کی گئی ہے اور وہ بھی دین کے بنیادی اصولوں یعنی توحید کے بارے میں توحید کا صرف یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کہیں کہ کوئی خدا ہے اور وہ بھی ایک ہے دو نہیں ہے۔ یہ توحید کی ظاہری صورت ہے جبکہ توحید کا باطن ایک ایسا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس میں اولیائے الٰہی غوطے لگاتے ہیں توحید ایک بہت ہی باعظمت وادی کا نام ہے۔
لیکن اس باعظمت وادی میں بھی مومنین، مسلمین اور موحدین کو غور و فکر اور تعقل و تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور حقیقت میں بھی غور و فکر ہی انسان کو آگے لے جا سکتا ہے مختلف مراحل میں عقل، وحی کے نور، معرفت کے نور اور اولیاء الہی کی تعلیمات سے اپنے لیے غذا حاصل کرتی ہے۔ لیکن پھر بھی جس طاقت کی مدد سے آگے بڑھا جا سکتا ہے وہ عقل کی طاقت ہی ہے عقل کے بغیر کہیں بھی جایا نہیں جا سکتا ملت اسلامیہ کو ان چند سو سالوں کے عرصے میں جب خلافت کے نام سے ان پر حکومت کی گئی یعنی ساتویں صدی تک جو بنو عباس کی خلافت کا آخری دور تھا۔
البتہ بنو عباس کی خلافت کے بعد بھی بعض مقامات پر خلافت کے نام سے کچھ چیزیں موجود تھیں جیسے ممالیک کے دور میں مصر اور اس کے ایک مدت بعد خلافت عثمانیہ کا زمانہ اور دیگر مقامات پر جس چیز کو سمجھنے کی ضرورت تھی وہ یہ کہ انھیں عقل کو قاضی بنا کر یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ اسلام، قرآن اور معتبر احادیث میں حکمرانوں کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں وہ کیا موجودہ حکمرانوں میں پائی جاتی ہیں کہ نہیں یہ انتہائی اہم بات تھی مروانی، سفیانی اور عباسی خلافت کا ایک ایسا دور تھا کہ جس میں اسلامی اقدار اپنا وقار کھو چکے تھے اور ان کے خالی ڈھانچے باقی رہ گئے تھے لیکن ان اقدار کے بنیادی مضامین جاہلی اور شیطانی مضامین میں تبدیل ہو چکے تھے۔
وہ مراکز جو انسانوں کو عاقل، عبادت گزار، مومن، آزاد، برائیوں سے دور اللہ کے حضور میں خاضع اور متکبروں کے مقابلے میں متکبر بنانا چاہتے تھے اور ان میں سب سے بہترین مرکز خود حضورؐ کے زمانے میں مملکتِ اسلامی تھی۔ وہ اب ایسے مراکز میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں انسانوں کو مختلف تدابیر کے ذریعے دنیا داری اور ہوس رانی میں مشغول اور انہیں روحانیت سے دور کر کے ان کی شخصیت کو تباہ کر دیا جاتا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے پورے دور خلافت میں یہی سلسلہ جاری تھا تاریخ کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔
اگر ہم انہیں بیان کرنا چاہیں تو بہت وقت لگے گا یہ سلسلہ خود معاویہ ہی کے دور سے شروع ہوا تھا اور وہ اس کام میں مشہور ہو چکا تھا یعنی تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ ایک طرف وہ ایک حلیم اور کھلے دل کا آدمی تھا اور وہ اپنے مخالفین کو اس بات کی اجازت دیتا تھا کہ اس کے سامنے ہی جو چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی زندگی اور شخصیت کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح عام لوگوں، قبائل کے سرداروں اور معاشرے کے جانے پہچانے لوگوں کو اپنے عقائد اور ایمان سے دستبردار ہونے اور حق کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونے کیلئے تیار کرتا تھا مورخین نے ان چیزوں کے بارے میں بہت کم لکھا ہے۔
لیکن پھر بھی بعض لوگوں نے کچھ نہ کچھ لکھا ضرور ہے۔ اس کی خلافت سے وابستہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جاتی تھی کہ انہیں خلیفہ کی رائے اور اس کی مرضی کے خلاف ایک لفظ بھی زبان پر لانے کی اجازت نہیں تھی آخر یہ کیسا معاشرہ ہے اور یہ کس قسم کے انسان ہیں لوگوں کے اندر یہ کیسا اسلامی اور الہی جذبہ کار فرما ہے کہ جس کی بنا پر وہ معاشرہ سے برائیوں کا خاتمہ کر کے اسے ایک الہی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ جاحظ یا شاید ابو الفرج اصفہانی نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اپنے دور خلافت میں معاویہ گھوڑے پر سوار ہو کر مکہ جا رہا تھا۔
اس کے برابر میں ایک اور شخص بھی اپنے گھوڑے پر سوار چل رہا تھا۔ معاویہ اس شخص کے ساتھ باتوں میں مگن تھا ان کے پیچھے اور بھی لوگ چل رہے تھے۔ معاویہ زمانہ جاہلیت میں بنو امیہ کے کارنامے بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ یہاں ایسا تھا تو وہاں ویسا تھا میرے باپ ابو سفیان نے اس وقت ایسے کارنامے انجام دیئے راستے میں کچھ بچے کھیل رہے تھے کہ کسی بچے نے ایک پتھر پھینکا اور وہ معاویہ کے ساتھ والے آدمی کی پیشانی پر جا لگا اور اس کی پیشانی سے خون بہنے لگا اس شخص نے معاویہ کی باتوں میں خلل نہیں ڈالا بلکہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے درد کو برداشت کرتا رہا۔
معاویہ یوں ہی اپنی باتوں میں مگن تھا کہ اچانک اس کی نظر اس شخص کی پیشانی پر پڑی اس نے دیکھا کہ اس کی پیشانی سے خون بہ رہا ہے ارے! یہ کیا ہوا ہے تمہاری پیشانی سے خون بہ رہا ہے۔ وہ شخص معاویہ کے جواب میں کہتا ہے کیا میری پیشانی سے خون بہ رہا ہے کہاں ہے یعنی وہ شخص یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ معاویہ کی باتیں سننے میں اس قدر مگن تھا کہ اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ اس کی پیشانی پر پتھر لگا ہے اور خون بہ رہا ہے۔ معاویہ نے اس سے پوچھا: تعجب ہے! تمہاری پیشانی پر پتھر لگا ہے اور خون بہ رہا ہے تجھے پتہ بھی نہیں چلا اس نے کہا نہیں مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تعجب ہے خون بہ رہا ہے۔
آپ کی قسم میں تو آپ کی شیریں کلامی میں اس قدر مگن تھا کہ جب تک آپ نے نہیں بتایا مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ میری پیشانی سے خون نکل رہا ہے۔ معاویہ نے اس شخص سے پوچھا بتا بیت المال سے تجھے کتنا وظیفہ ملتا ہے۔ اس نے کہا مثلاً مجھے اتنا ملتا ہے۔ معاویہ نے کہا واقعاً تیرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے حکم دیا کہ اس کا وظیفہ تین گنا بڑھایا جائے یہ تھا معاویہ کی حکومت کا مزاج اور اس دور کی ثقافت کا معیار اس زمانے میں جو لوگ سرداروں اور خلفاء کی چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے گن گاتے تھے اختیارات انہی کے ہاتھوں میں ہوتے تھے۔