رسول اللہؐ

رسول اللہؐ

ڈھائی سو سالہ انسان
رسول اللہؐ

رسول اللہؐ

عام الفیل ۱

ہجری ۱۱

حصہ 2 از 2

امامت

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

البتہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آئمہ مسلسل جہاد کرتے رہے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ زمانے کے اعتبار سے جہاد کی بھی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں کبھی تو جہاد علمی، ثقافتی، سیاسی میدانوں میں تنظیموں اور پارٹیوں کو تشکیل دے کر کیا جاتا ہے تو کبھی میدان جنگ میں جا کر قتل و غارت کے ذریعے ہوتا ہے یعنی ہر زمانے میں جہاد کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ اعتراض کریں کہ آئمہ معصومین حصولِ اقتدار کے لیے کیوں کر جد و جہد کر سکتے ہیں جبکہ وہ علمِ الٰہی کے ذریعے یہ جانتے تھے کہ وہ اس مقصد تک نہیں پہنچ سکیں گے جی ہاں تاریخ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ آئمہ معصومین کی طرف سے اقتدار حاصل کرنے نیز معاشرے اور نظام کو اپنی خواہش اور ذمہ داری کے مطابق چلانے کی کوششیں بار آور نہیں ہوئیں لیکن اس کے باوجود آئمہ معصومین نے علمِ غیب کے ذریعے یہ جانتے ہوئے بھی اس کام میں کیوں کر ہاتھ ڈالا تو اس سوچ اور فکر کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہ جاننا کہ وہ اپنے مقصد تک پہنچ نہیں سکیں گے اپنی ذمہ داری کو انجام دینے سے رکاوٹ نہیں بنتا ہے۔

پیغمبرِ اسلامؐ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے کہ آپ یہ جانتے تھے کہ جنگِ احد میں شکست کھانے والے ہیں۔ آپ جانتے تھے کہ جن لوگوں کو آپ نے پہاڑی کی چوٹی پر بھیجا تھا وہ وہاں نہیں رکیں گے بلکہ مالِ غنیمت کے لالچ میں نیچے اتر آئیں گے۔ اسی طرح جب حضرتِ رسولِ خدا قبیلہ بنی ثقیف کی ہدایت اور اہلِ مکہ کی شرارت آمیز حرکتوں سے نجات کے غرض سے طائف تشریف لے جا رہے تھے تو آپ کو بخوبی معلوم تھا کہ طائف کے باسی پتھروں سے آپ کا استقبال کریں گے اور اتنے پتھر برسائیں گے کہ جس کی وجہ سے آپ کی پنڈلیاں لہو لہان ہوں گی اور آپ کو مجبوراً واپس لوٹنا پڑے گا تمام آئمہ معصومین علیہ السلام ان تمام باتوں سے بخوبی آگاہ تھے امیر المومنین علیہ السلام کو بھی یہ معلوم تھا کہ 21 رمضان کو شہید ہونے والے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود ماہِ رمضان المبارک سے کچھ ہی دن پہلے آپ نے کوفہ سے باہر ایک وسیع و عریض فوجی چھاؤنی قائم کی تاکہ امیر شام کے ساتھ جنگ کی تیاری کی جا سکے۔ اگر امیر المومنین کا شہادت کی تاریخ سے باخبر ہونا اس بات کا سبب بن جاتا کہ آپ معمول کے مطابق اپنے امور کو انجام نہ دیں تو پھر آپ نے یہ چھاؤنی کیوں قائم کی اور یہ لشکر کیوں بنایا اور لوگوں سے کوفہ کے باہر انتظار کیوں کرایا اس کا کیا فائدہ تھا۔ پس آئمہ طاہرین کا یہ جاننا کہ وہ منصبِ اقتدار تک پہنچ نہیں سکتے اس بات کا سبب نہیں بن سکتا کہ وہ اپنی جد و جہد کو ترک کر دیں بلکہ آئمہ معصومین علیہ السلام ایک ایسے آدمی کی طرح جو آئندہ کے حالات سے مکمل طور پر لاعلم ہے اور اپنے مقصد اور ہدف تک پہنچنے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوششیں کرتا ہے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں تاریخ امامت کے چار ادوار امامت کی تحریک کا آغاز سب سے پہلے پیغمبرِ اسلام کی رحلت کے دن یعنی 28 صفر 11 ہجری سے ہوا

اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت یعنی 8 ربیع الاول 260 ہجری تک مسلسل جاری رہا۔ اس پورے عرصے میں امامت کی یہ تحریک تقریباً چار مختلف ادوار سے گزری ہے اور ان میں سے ہر دور اپنے زمانے کے امام کا معاشرے پر مسلط سیاسی قوتوں کے ساتھ برتاؤ کے لحاظ سے مختلف اور منفرد دور ہے پہلا دور امامت کا پہلا دور خاموشی یا وقت کے حکمرانوں کے ساتھ امام کے تعاون کا دور ہے۔ اسلام کا نومولود معاشرہ ایک طاقتور اور مسلمانوں کے ہاتھوں زخم خوردہ بیرونی دشمنوں کی موجودگی اور داخلی طور پر ایسے تازہ مسلمانوں کی موجودگی میں کہ جن کے دلوں میں اسلامی احکام اور معارف صحیح طریقے سے سموئے بھی نہ تھے کسی بھی صورت میں باہمی اختلافات اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ایسے میں ایک معمولی سا رخنہ بھی اسلامی معاشرے کے اس نومولود وجود کی بنیادوں کو ہلا کر اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتا تھا دوسری طرف حق و حقیقت سے انحراف کا پہلو بھی اس قدر نمایاں نہ تھا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام جیسی شخصیت کے لیے ناقابل تحمل ہو جو مکتب اسلام اور اسلامی معاشرے کے لیے سب سے زیادہ دردمند اور عظیم انسان تھے کیونکہ ان وجوہات سے حضور اکرمؐ پہلے ہی سے باخبر تھے اس لیے آپ نے اپنے اس ممتاز اور برگزیدہ شاگرد کو نصیحت کی تھی کہ وہ ایسے حالات میں صبر و تحمل کا دامن تھامے رکھیں امامت کا یہ دور حضرت رسول اللہؐ کی رحلت یعنی 11 ہجری سے لے کر امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ظاہری خلافت پر فائز ہونے تک یعنی 35 ہجری کے 25 سالوں پر محیط ہے

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اہل مصر کے نام اپنے ایک خط میں اس درمیانی وقفے فترت میں اپنی حالت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جب مجھ سے خلافت چھین لی گئی تو پھر میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ گیا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے اور وہ لوگوں کو اسلامِ محمدیؐ کی نابودی کی دعوت دے رہا ہے ایسے میں مجھے یہ خوف محسوس ہوا کہ اگر میں اسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کروں تو اسلام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور میرے لیے یہ مصیبت حکومت و خلافت کو خیر باد کہنے سے بھی زیادہ سخت تھی۔

پس میں ان بحرانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان حالات میں اٹھ کھڑا ہوا نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 62: حضرت علیؐ کی زندگی کے یہ پچیس سال اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ محبت اور ان کے لیے دلسوزی کی وجہ سے حکومتی معاملات میں کسی نہ کسی طرح شراکت اور وقت کے خلفاء کی مدد اور ان کی حمایت میں گزرے آپ کی طرف سے مملکت کے سیاسی، دفاعی اور دیگر سماجی معاملات کے حوالے سے وقت کے حکمرانوں کے سوالات کے جوابات اور دیگر امور میں ان کی رہنمائی کے جو تذکرے نہج البلاغہ اور حدیث و تاریخ کی دوسری کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں وہ امام کی زندگی کے اس پہلو کے ناقابل تردید ثبوت ہیں دوسرا دور یہ دور امام کے اقتدار کا دور ہے امامت کا یہ دور امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی چار سال نو مہینے اور حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دور خلافت کے چند مہینوں پر مشتمل ہے جو تمام تر کوتاہیوں، افسردگیوں اور بے شمار مشکلات کے باوجود جن سے کوئی بھی انقلابی حکومت بچ نہیں سکتی ہے اسلامی حکومت کے ایک درخشندہ ترین باب کی حیثیت سے نمایاں ہے

تاریخ بشریت میں سب سے زیادہ اسی دور میں انسان کے فطری رویوں، عدالت اجتماعی اور اسلامی تعلیمات کے گوناگوں پہلوؤں پر انتہائی قاطعیت، جرات مندی اور صراحت کے ساتھ عمل کیا گیا آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کا یہ دورانیہ اسلامی طرز حکومت اور عدالتِ اجتماعی کے قیام کا ایک یادگار اور بہترین نمونہ ہے جس کی جانب آئمہ اطہار علیہم السلام پوری دو صدیوں تک لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے ایسی ہی حکومت کے قیام کی جد و جہد کرتے رہے چنانچہ شیعان امیر المؤمنین علیہم السلام کے اس دور کو بڑی عظمت کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور اسے کھو دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بعد کی حکومتوں کا اس کے ساتھ موازنہ کر کے ان سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں امامت کا یہ دور غیر تربیت یافتہ اور انحراف و گمراہی کے شکار لوگوں کے درمیان ایک مثالی اسلامی اور انقلابی حکومت کے قیام کے لیے ایک بہترین درس اور تجربہ تھا۔

اسی دن سے بعد میں آنے والے آئمہ معصومین علیہم السلام نے طویل مدت پالیسیوں کو اپناتے ہوئے لوگوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں اپنی تحریک سے وابستہ کرنے کے لیے ضروری اور سخت قسم کے دشوار کاموں کے آغاز کو اپنے لیے ضروری قرار دیا تیسرا دور تاریخ امامت کا یہ 20 سالہ دور امام حسن علیہ السلام کی معاویہ کے ساتھ صلح 41 ہجری سے لے کر واقعہ کربلا یعنی 61 ہجری تک محیط ہے۔ امام حسن علیہ السلام کی معاویہ کے ساتھ صلح کے ساتھ ہی شیعوں کی نیم مخفی کاروائیوں کا آغاز ہو چکا تھا جس کا بنیادی مقصد بھی کسی مناسب وقت میں حکومت اسلامی کو خاندانِ نبوت کی طرف لوٹا دینا تھا اور بظاہر یہ موقع بہت زیادہ دور بھی نہ تھا بلکہ امیر شام کی زندگی کے خاتمے پر اس بات کی صاف امید دکھائی دے رہی تھی۔

لہٰذا تاریخ امامت کے اس تیسرے دور کو اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مختصر مدت کی جدوجہد کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر میں نے اپنی متعدد تقاریر میں حوالوں کے ساتھ مفصل گفتگو کی ہے مؤلف چوتھا اور آخری دور یہ دور سابقہ راہ و روش کو طویل مدت کے لیے جاری رکھنے سے عبارت ہے جو تقریباً 200 سال تک کئی دفعہ کامیابی کے دہانے پہنچتے پہنچتے پھر ناکامیوں سے ہمکنار ہوتا رہا گویا کامیابیوں اور شکست پر مشتمل کئی مراحل سے گزرتا رہا۔ یہ نظریاتی میدان میں یقینی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق سینکڑوں تدابیر، اخلاص اور فداکاریوں کے ہزاروں جلوؤں سے مزین اسلامی تعلیمات کی عظمتوں کے جوہر دکھانے سے عبارت ہے پیشوائے صادق صفحہ 19 تا 61 آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے جس اہم ترین پہلو پر شائع نشان توجہ نہیں دی گئی ہے وہ ان ہستیوں کی جانکاہ سیاسی جدوجہد کا پہلو ہے پہلی صدی کے دوسرے نصف کے آغاز پر جب خلافتِ اسلامی نے ملوکیت کی شکل اختیار کر لی اور مسندِ امامت پر بادشاہت بیٹھ گئی

تو آئمہ اطہار علیہم السلام نے وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس جدوجہد کا سب سے بڑا مقصد نظریہِ امامت کی بنیادوں پر اسلامی حکومت قائم کرنا تھا۔ البتہ آئمہ معصومین علیہم السلام اور صاحبانِ وحی کے مخصوص نظریات کے مطابق دینی مسائل کی تفسیر و تاویل نیز تحریف شدہ معارفِ اسلام اور دینی احکام کی وضاحت کرنا بھی اہلِ بیت طاہرین کے اغراض و مقاصد اور اہم اہداف میں شامل تھا۔ لیکن حتمی دلائل کے مطابق اہلِ بیت کا جہاد ان مقاصد تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کا سب سے بڑا مقصد اسلامی نظامِ عدل و انصاف پر مبنی علوی حکومت قائم کرنا تھا جتنی بڑی تکلیفیں سخت سے سخت مصیبتیں آئمہ اطہار علیہم السلام اور ان کے طرف داروں نے اپنی رنج و غم اور ایثار و قربانی سے بھرپور زندگیوں میں برداشت کیں وہ صرف اسی اہم مقصد کے حصول کے لیے تھیں اور اسی انقلابِ نصبُ العین اور اہم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آئمہ اطہار نے کربلا کے ہولناک اور جان گداز واقعے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کے دورِ حیات سے ہی اس طویلُ المدت نصبُ العین پر عمل شروع کر دیا تھا

یہی وجہ ہے کہ کربلا کے ہولناک حادثے اور امام علی رضا علیہ السلام کی جانشینی کے درمیان 140 سالہ دور میں آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی انقلابی تحریک سے وابستہ لوگوں یعنی شیعوں کو خلفاء اور ان کے حکومتی کارندے ہمیشہ اپنے سب سے بڑے اور خطرناک دشمنوں میں شمار کرتے تھے۔ اس دوران کئی مرتبہ مناسب مواقع پیدا ہوئے اور ایسا لگتا تھا کہ شیعوں کی جد و جہد جس کو علوی تحریک کا نام دیا جا سکتا ہے بڑی بڑی فتوحات سے ہمکنار ہو جائے گی لیکن ہر بار آخری اور فیصلہ کن فتح اور کامیابی کی راہ میں دشواریاں پیش آتی رہیں اور شاید سب سے بڑا اور کاری زخم اس وقت لگتا تھا جب اس تحریک کے اصلی بانی اور مرکزی محور یعنی اس دور کے امام کو قید خانے میں ڈال دیا جاتا یا ان کو شہید کر دیا جاتا تھا اور جب ان کے بعد دوسرے امام کی باری آتی تھی تو اس وقت اس قدر سخت گیری اور بحران کا عالم ہوتا تھا کہ حالات کو دوبارہ معمول پر لانے میں کافی وقت درکار ہوتا تھا

آئمہ اطہار ان سخت اور کٹھن طوفانی حالات میں بھی اس عقلمندانہ اور شجاعانہ تحریک کے باریک لیکن گہرے اور پائیدار دھارے کے دشوار اور خطرناک راہوں سے گزرتے رہے اور نہ صرف یہ کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء اماموں کو شہید کر کے بھی کسی زمانے میں امامت کی تحریک کو ختم نہ کر سکے بلکہ یہ تیز خنجر ہمیشہ اہل خلافت کے سینوں میں چھبتا ہوا محسوس ہوتا رہا اور کبھی نہ ختم ہونے والے خوف کی صورت میں ان لوگوں کا سکونِ قلب چھنتا رہا۔

ڈھائی سو سالہ انسان