حصہ 1 از 4
تیسرا باب، امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا وجود مبارک مختلف جہتوں اور حیثیتوں سے تمام بنی نوع انسان کے لیے ایک نہ بھلایا جانے والا دائمی سبق ہے۔ آپ کا انفرادی عمل ہو یا محرابِ عبادت میں آپ کی عبادت اور بندگی آپ کی مناجات ہو یا آپ کا زہد و تقویٰ اور یادِ خدا میں کھو جانا ہو یا اپنے نفس اور شیطان کے خلاف آپ کا جہاد گویا آپ کی زندگی کے ہر میدان میں آپ کی زبان مبارک سے جاری ہونے والا یہ جملہ آج بھی فضائے عالم میں گونج رہا ہے یَا دُنْیَا غُرِّی غَیْرِی نہج البلاغہ کلمات قصار نمبر 77 اے دنیا کی لذتوں، اے جاذبِ نظر اور پرفریب جلووں اے ہوا و ہوس جو دنیا کے طاقتور انسانوں کو اپنے جال میں پھنساتی ہیں، جاؤ کسی اور کو دھوکا دو علی تیرے جال میں پھنسنے والا نہیں ہے، لہٰذا ہر بیدار ذہن رکھنے والا انسان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے ایک ایک لمحے سے آپ کا خدا سے تعلق اور معنویت اور روحانیت کا نہ بھلایا جانے والا سبق حاصل کر سکتا ہے۔
آپ کی زندگی کا ایک دوسرا پہلو حق اور عدالت و انصاف کے لیے جہاد ہے یعنی جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسالت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا اس وقت ایک مجاہد، مومن اور فداکار جو ابھی نوجوان تھے ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ موجود رہے اور وہ نوجوان علی علیہ السلام ہی تھے۔ اس وقت سے لے کر پیغمبرِ اسلامؐ کی بابرکت زندگی کے آخری لمحات تک امیر المومنین اسلام کی حفاظت اور بقا کے لیے مسلسل جہاد کرتے رہے اور لمحہ بھر کے لیے بھی فارغ نہیں رہے آپ نے اس راہ میں کس قدر زحمتیں اٹھائیں کس قدر اپنی جان کے لیے خطرات مول لیے اور حق اور عدل و انصاف کے قیام میں جمے رہے جب کوئی میدان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا تھا تب بھی آپ میدان میں ثابت قدم رہتے تھے۔
جب لوگ میدان میں اترنے سے کتراتے تھے تب آپ میدان میں اترتے تھے۔ جب سختیاں اور مشکلات کوہِ گراں بن کر راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں کے حوصلے پست کر دیتیں تو علی علیہ السلام کی بلند شخصیت ہی مجاہدینِ اسلام کو حوصلہ اور تسلی دیتی تھی۔ آپ کی نظر میں زندگی کا معنی و مفہوم ہی یہی تھا کہ خدا نے جو قوت و طاقت اور صلاحیتیں آپ کو عطا کی ہیں ان سب سے اعلائے کلمۂ حق کے لیے استفادہ کیا جائے جی ہاں! علی علیہ السلام کی قوتِ ارادی اور جہاد کی برکت سے آج حق زندہ ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اگر آج دنیا میں حق عدالت اور انسانیت جیسی اصطلاحات کی کوئی قدر و قیمت ہے اور روز بروز انہیں تقویت مل رہی ہے تو یہ بھی امیر المومنین علی علیہ السلام کی قربانیوں اور فداکاریوں کا ہی نتیجہ ہے تاریخِ بشریت میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسی شخصیات بہت کم ہی گزری ہیں۔
اگر وہ بھی نہ ہوتی تو آج انسانی قدریں بھی موجود نہ ہوتیں انسانیت ان خوبصورت اور دلچسپ عنوانات سے عاری ہوتی انسان کے نزدیک زندگی، تمدن، ثقافت اور اعلیٰ انسانی اہداف و مقاصد نامی اصطلاحات کی کوئی اہمیت نہ ہوتی بلکہ انسانیت ایک وحشتناک درندگی اور خوفناک حیوانیت کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہوتی آج پوری انسانیت اپنے اعلیٰ اہداف اور مقاصد کی حفاظت پر امیر المومنینؑ اور آپ جیسے عظیم انسانوں کی زحمتوں اور ان کے کردار کی مرہونِ منت کمر بستہ ہے اور یہ سب آپ کے جہاد کا اثر ہے امیر المومنین علیؑ کی زندگی کا ایک اور پہلو آپ کا اندازِ حکومت ہے۔ جب اس عظیم اور بزرگ ہستی نے نظامِ حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس مختصر سی مدت میں وہ کارنامے انجام دیے۔
اگر سال ہا سال تک بھی دنیا کے لکھاری لکھتے رہیں تصویر کشی کرنے والے اس کی تصویر کشی کرتے رہیں اور مورخین قلم چلاتے رہیں پھر بھی جو لکھا جائے، کہا جائے یا اس کی تصویر کشی کی جائے کم ہے امیر المومنین علیؑ کے دورِ حکومت میں آپ کا طرزِ زندگی خود ہی ایک قیامت ہے۔ آپ نے تو حکومت کا معنی ہی بدل کر رکھ دیا۔ آپ ایک الٰہی حکومت کا مظہر تھے۔ آپ مسلمانوں کے درمیان مجسم آیات قرآنی اور اَشِدَّآءُ عَلَی الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ — وہ کفار کے لیے سخت ترین اور آپس میں انتہائی رحم دل ہیں سورۂ فتح آیت 29 کے مصداق اور مجسمۂ عدلِ مطلق تھے۔
آپ فقیروں اور غریبوں کو اپنے قریب رکھتے تھے كَانَ يُقَرِّبُ الْمَسَاكِينَ — شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 18، باب 75، صفحہ 226 معاشرے کے پسماندہ اور دبے کچلے افراد کا خاص خیال رکھتے تھے اور جو لوگ مال و ثروت کی وجہ سے خود کو ناحق بڑا اور بزرگ ظاہر کیے ہوئے تھے۔ آپ انہیں مٹی کے برابر سمجھتے تھے۔ آپ کی نظر میں جو چیز قیمتی تھی وہ ایمان، تقویٰ، اخلاص و جہاد اور انسانیت سے عبارت تھی۔ آپ نے اسی طرزِ تفکر کے ساتھ پانچ سال سے بھی کم عرصہ حکومت کی صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی لکھنے والے امیر المومنین علیہ السلام کی خوبیاں لکھ رہے ہیں مگر پھر بھی ابھی تک بہت کم لکھا گیا اور اچھے اچھے مصنفین اور دانشور اس باب میں اپنی عاجزی و ناتوانی کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
آپ کی سب سے بڑی خصوصیت تقویٰ ہے۔ آپ کی کتاب نہج البلاغہ تقویٰ کی کتاب ہے۔ آپ کی پوری زندگی تقویٰ پر مبنی ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ سورۂ بقرہ آیت 207 بھی آپ ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس آیت سے مراد امیر المومنین علی علیہ السلام کی ذات ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی جان یعنی اپنا سب سے قیمتی سرمایہ دے کر رضائے الٰہی خرید لیتے ہیں وہ رضائے الٰہی کے حصول کے خاطر ایسا کرتے ہیں وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي اس کے علاوہ کوئی اور مقصد یا دنیاوی ہدف ان کے مدِ نظر نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی دلچسپی یا مفاد پیشِ نظر ہوتا ہے۔
وہ صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ اس آیتِ کریمہ کا کامل مصداق علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ آپ تاریخ اٹھا کر امیر المومنینؑ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آپ اپنے بچپن سے جب آپ 9 یا 13 سال کی عمر میں رسول اللہؐ کی نبوت پر ایمان لائے اور مکمل فہم و فراست اور شعور کے ساتھ حقیقت کو پہچان کر اس سے متمسک ہونے سے لے کر اس وقت تک جب آپ نے انیس رمضان المبارک کی صبح کو محرابِ عبادت میں اپنی جان راہِ خدا میں قربان کر دی یعنی لقائے الٰہی کے شوق میں خوشی خوشی اپنی جان، جانِ آفرین کے سپرد کر دی تقریباً ان پچاس 53 سالوں میں یعنی 10 سال سے لے کر 63 سال تک کہ آپ کے کردار میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے اور وہ تسلسل ایثار و قربانی اور اپنی جان کے لیے خطرات کو مول لینا ہے۔
اس 50 سالہ تاریخ میں امیر المومنین علیہ السلام نے جن حالات کا سامنا کیا وہ ابتدا سے لے کر آخر تک مسلسل ایثار و قربانی سے بھرپور ہے یہ ہمارے لیے ایک درس ہے میں اور آپ جیسے لوگ جو ہمیشہ یا علیؑ کہتے رہتے ہیں اور دنیا میں علیؑ کے چاہنے والوں کے نام سے معروف ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم امیر المومنینؑ سے درس حاصل کریں صرف علی علیہ السلام کی محبت یا علی علیہ السلام کے فضائل کی شناخت کافی نہیں ہے ایسے لوگ بہت تھے جو دل سے علیؑ کے فضائل کا اعتراف کرتے تھے ان میں سے بعض لوگ تو علی علیہ السلام کو ایک پاکیزہ اور معصوم انسان بھی مانتے تھے۔
لیکن ان کے کردار اور علی کے کردار میں فرق تھا کیونکہ وہ علی کی خصوصیات کو اپنا نہیں سکتے تھے یعنی وہ اپنی ذات اور خود پسندی کے حصار میں پھنسے ہوئے تھے اور امیر المومنین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی ذات کے حصار میں گرفتار نہیں تھے لفظ "میں" کی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی۔ آپ کے ہاں جس چیز کی اہمیت تھی وہ ذمہ داریاں، اہداف اور جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی ذات تھی امیر المومنینؑ اپنے بچپن میں ہی شہر مکہ میں پیغمبر اکرم کی دعوت پر ایمان لے آئے جس کے ساتھ ہی آپ کو کافروں کی طرف سے ایذا رسانی، تضحیک و تمسخر اور اہانت کا سامنا کرنا پڑا آپ ذرا ایک ایسے شہر کا تصور کیجئے جس کے باسی طبعی طور پر تشدد پسند، تہذیب و تمدن سے عاری، نرم مزاجی اور سنجیدگی سے تہی دامن سخت مزاج، جھگڑالو، فسادی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں لڑنے جھگڑنے والے اور اپنے باطل عقائد کے حق میں شدید تعصب برتتے ہوں۔
اس قسم کے ناموافق معاشرے میں ایک عظیم انسان نے ایک عظیم انقلابی نظریہ پیش کیا۔ ایک ایسا نظریہ جو اس معاشرے کے عقائد اور آداب و رسوم سمیت تمام چیزوں سے متصادم تھا فطری بات ہے اس معاشرے کے تمام لوگ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ معاشرے کے مختلف طبقات اور عوام نے پیغمبر اکرمؐ کی مخالفت کی اب ایک ایسے انسان کی حمایت کرتے ہوئے اس کے پیغام پر لبیک کہنا اور اپنی جان کی بازی لگاتے ہوئے اس کی حفاظت پر ڈٹ جانا اور اس سے وابستہ ہونے کا مطلب اپنی جان کے لیے خطرات کو مول لینا تھا اور امیر المومنین نے اپنی جان کے لیے خطرات مول لیے یہی آپ کی ایثار و فداکاری کا پہلا ثبوت تھا۔
آپ تیرہ سال تک سخت ترین حالات میں آنحضرت کے ساتھ ڈٹے رہے یہ بات صحیح ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجبوری نیز قریش اور مکہ والوں کے دباؤ کے تحت ہجرت فرما رہے تھے۔ لیکن اس ہجرت کا مستقبل تابناک تھا سب جانتے تھے کہ یہ ہجرت کامیابیوں اور فتوحات کا پیش خیمہ ہے۔ جب ایک تحریک مشکلات و مصائب کے مرحلے سے نکل کر عزت و سکون کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہو اس وقت عام طور پر سب کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اگر ہو سکے تو معاشرے میں کوئی عہدہ یا مقام حاصل کر لیں لیکن امیر المومنین علیہ السلام اس اہم موڑ پر رات کی تاریکی میں رسول اللہؐ کے بستر پر سونے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ رسول اللہؐ اس گھر اور شہر سے دور نکل سکیں۔
اس رات بسترِ رسول اللہؐ میں سونے والے کا قتل ہونا تقریباً قطعی اور یقینی تھا۔ لیکن رسول اللہؐ کے بستر میں کسی کی موجودگی ضروری بھی تھی تاکہ جب جاسوسوں کی وہاں نظر پڑے تو وہ یہ خیال کریں کہ وہاں کوئی موجود ہے۔ رسول اللہؐ مکہ سے نکلنے میں کامیاب ہوں کون حاضر ہے؟ اگرچہ امیر المومنین علیہ السلام کا یہ ایثار بجائے خود ایک غیر معمولی اور عظیم کارنامہ ہے۔ لیکن اس ایثار کا خاص وقت اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ یہ وقت کونسا ہے؟
یہ وہ وقت ہے جب مشکلات کا دور ختم ہو رہا ہے یہ وقت ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ مدینہ میں جا کر حکومت تشکیل دیں مدینہ کے لوگ ایمان لا چکے ہیں اور رسولؐ کے منتظر ہیں سب کو اس بات کا علم ہے۔ لیکن عین اسی لمحے امیر المومنین اس جانثاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس قسم کا عظیم اقدام وہی کر سکتا ہے جو ہر قسم کے ذاتی مفاد یا مقصد سے ماوراء ہو حضرتؐ کے مدینہ پہنچتے ہی آپ کی نوخیز اور نئی حکومت رات دن جہاد میں مشغول ہو گئی ہر وقت جنگ کا سامنا رہتا تھا اور یہ اس قسم کی حکومت کا خاصہ بھی ہے جنگِ بدر سے بھی پہلے ہی لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور آپ کی زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔
ان دس سالوں کے دوران رسولؐ نے کفار و مشرکین کے انواع و اقسام کے قبیلوں کے ساتھ درجنوں لڑائیاں لڑیں ان تمام مراحل میں امیر المومنین آپ کے نگہبان، فدائی اور جانباز محافظ کے طور پر لشکر کے صفِ اول میں موجود رہے جیسا کہ خود امیر المومنینؐ فرماتے ہیں میں نے ان مواقع پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رسولؐ کی مدد کی جہاں بڑے بڑے پہلوانوں اور بہادروں کے قدم لڑکھڑا جاتے اور وہ پیچھے ہٹ جاتے تھے نہج البلاغہ خطبہ 197 سخت ترین مواقع پر بھی امیر المومنین ڈٹے رہتے تھے۔ آپ کو خطرے کی کوئی پروا نہیں ہوتی تھی ایسے مواقع پر کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں اپنی جان بچانی چاہیے تاکہ آئندہ اسلام کی خدمت کر سکیں۔
لیکن امیر المومنینؐ نے اس قسم کی تاویلات اور توجیحات کے ذریعے کبھی اپنے آپ کو دھوکا نہیں دیا ہاں، امیر المومنینؐ کی عظیم شخصیت فریب کھانے والی نہیں تھی۔ اس لیے خطرناک مراحل میں آپ صفِ اول میں موجود رہتے تھے رسولؐؐ کی رحلت سے خلافتِ ظاہری تک جب حضرت رسولؐؐ کا دور اپنے اختتام کو پہنچا اور آپ رحلت فرما گئے تو اس کے ساتھ ہی امیر المومنینؐ کی زندگی کے تیس سالہ تلخ ترین دور کا آغاز ہوا جبکہ وہ دور بہت پرلطف اور شیریں تھا جب پیغمبرؐ زندہ تھے اور آپؑ انؐ کے زیرِ سایہ جہاد کرتے تھے۔ لیکن آپؐ کی رحلت کے ساتھ ہی یہ دور اپنے اختتام کو پہنچا اور ایک تلخ دور کا آغاز ہوا کیونکہ اس کے بعد وقفے وقفے سے فتنوں کے بادل اس طرح تاریکی سے ہمکنار کرنے لگے کہ آنکھوں کو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا اور جو لوگ راہِ راست پر چلنا چاہتے تھے ان کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا دشوار تھا۔
ان سنگین حالات میں بھی امیر المومنینؐ نے ایثار و فداکاری کے عظیم ترین باب رقم کیے حضورؐؐ کی رحلت کے بعد امیر المومنینؐ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہو گئے۔ آپ اس بات سے بالکل بھی غافل نہ تھے کہ سقیفہ میں ایک اجلاس ہو رہا ہے جو عالمِ اسلام کے آئندہ کی حکومت اور مسلمانوں کے اقتدار کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا ہے آپ کی نظر میں یہ کوئی اہم مسئلہ نہ تھا بلکہ آپ کو تو اپنی ذات کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ جب خلافت کا فیصلہ ہو چکا اور لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی جو ہونا تھا ہو چکا تو امیر المومنینؐ کنارہ کش ہو گئے۔
آپ کی طرف سے کوئی ایسا جملہ، کوئی گفتگو اور کوئی بیان سامنے نہیں آیا جو حکومتِ وقت سے ٹکراؤ اور محاذ آرائی کی نشاندہی کرتا ہو البتہ آپ نے ابتدائی دنوں میں یہ کوشش ضرور کی کہ جو چیز آپ کی نظر میں صحیح ہے وہ انجام پائے اور حقدار کو مسندِ خلافت پر بٹھایا جائے لیکن جب آپ نے دیکھا کہ لوگ بیعت کر چکے ہیں بات ختم ہو گئی ہے کیونکہ حضرت ابوبکر مسلمانوں کے خلیفہ بن گئے ہیں تو اب آپ نے ایک ایسے انسان کا موقف اپنایا کہ جس کی طرف سے اپنے تمام تر تحفظات اور اعتراضات کے باوجود حکومتِ وقت کو کسی بھی قسم کا خطرہ یا نقصان پہنچنے کا امکان نہ ہو آپ کے اس تاریخی کردار کو دنیا جانتی ہے کہ امیر المومنینؐ نے اس دوران جبکہ ابھی اس حکومت کو کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا یا شاید کچھ ہی مہینے ہوئے تھے فرمایا: "تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں"
"اللہؐ کی قسم جب تک مسلمانوں کے امور سلامتی کے ساتھ چلتے رہیں گے" "اور جب تک میں یہ دیکھوں گا کہ کسی پر ظلم نہیں ہو رہا ہے" "اس وقت تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے" "خاموش بیٹھا رہوں گا" "جب تک میرے سوا دوسروں پر ظلم نہ ہو رہا ہو" "معاشرے میں ظلم و جور کی حکمرانی نہ ہو" "اور ظلم صرف میرے اوپر ہو رہا ہو" "تب تک میں کسی سے سروکار نہیں رکھوں گا" "اور کوئی مزاحمت یا اعتراض نہیں کروں گا" نہج البلاغہ خطبہ 74 کچھ ہی عرصے بعد، شاید ابھی چند مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ لوگوں کے مرتد ہونے کا سلسلہ شروع ہوا شاید اس کے پیچھے بھی مختلف سازشیں کارفرما تھیں بعض عرب قبائل نے یہ احساس کیا کہ اب چونکہ پیغمبرِ اسلامؐ یعنی مسلمانوں کے رہبر اور قائد موجود نہیں لہٰذا موقع ہے کہ کوئی اعتراض اور اشکال کیا جائے یا جنگ چھیڑی جائے شاید اس کے پیچھے منافقین کی سازش کارفرما تھی آخرکار ردّہ کا واقعہ پیش آیا یعنی بعض مسلمانوں کے مرتد ہونے سے ردّہ کی جنگ کا آغاز ہوا۔
جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو امیر المومنین نے دیکھا کہ یہ کنارہ کشی کا وقت نہیں ہے۔ لہٰذا آپ میدان میں اتر گئے اور اسلام کا دفاع کرنے لگے اور فرمایا۔ جب خلافت کا مسئلہ پیش آیا اور ابوبکر مسلمانوں کا خلیفہ بن گیا تو میں نے ہاتھ کھینچ لیا اور کنارہ کش ہو کر بیٹھ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ دین سے پھرنے والے کچھ لوگ دین کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں تو پھر میں میدان میں اتر آیا نہج البلاغہ خط نمبر 62 امیر المومنین علیہ السلام ایک فعال کارکن کی صورت میں میدانِ عمل میں اترے اور تمام اجتماعی امور میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا امیر المومنین علیہ السلام خلفاء کے پچیس سالہ دور میں اپنے فعال کردار کو وزارت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
حضرت عثمان کے قتل کے بعد جب لوگ امیر المومنین علیہ السلام کی بیعت کرنے آئے تو آپ نے فرمایا "میرا وزیر ہونا" "امیر ہونے سے بہتر ہے" "مجھے حسبِ سابق وزیر رہنے دو" نہج البلاغہ خطبہ 92 یعنی امام علیہ السلام اپنے پچیس سالہ کردار کو وزارت کا نام دیتے ہیں کیونکہ آپ برسرِ اقتدار خلفاء اور حکمرانوں کی مدد کرتے رہے تھے۔ یہ ایک زبردست اور عظیم ایثار تھا انسان یہ دیکھ کر سچ مچ حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ امیر المومنین نے اس معاملے میں کس قدر ایثار کا ثبوت دیا تھا۔ اس پورے پچیس سالہ دور میں حکومت کا تختہ الٹنے بغاوت کرنے، مقابلہ کرنے اور حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی رسولِ اکرم کی رحلت کے وقت امیر المومنین تقریباً 33 سال کے جوان تھے۔
آپ کی جوانی اور جسمانی قوت جوبن پر تھی جوانی کا جوش اور جذبہ عروج پر تھا۔ آپ لوگوں کے درمیان محبوب تھے ذہین و فطین تھے بے پناہ علم کے حامل تھے اور ایک انسان میں جتنے کمالات ممکن ہیں وہ سب آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھے۔ اگر آپ کوئی باغیانہ اقدام کرنا چاہتے تو یقیناً کر سکتے تھے۔ لیکن آپ نے ان پچیس سالوں میں اسلامی معاشرے کے عمومی اور کلی مسائل اور مفادات کی حمایت اور حفاظت اور خدمتِ خلق کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھایا خلیفہ دوم کی رحلت کے بعد جب چھ رکنی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تو آپ نے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس میں شریک ہوئے آپ نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرے مقابلے کے لوگ نہیں ہیں طلحہ و زبیر کہاں عبدالرحمن بن عوف اور عثمان کہاں اور میں کہاں یہ شوریٰ خلیفہ دوم کی وصیت کے مطابق وجود میں آ گئی تھی تاکہ یہ افراد مل بیٹھ کر کسی ایک کو خلیفہ مقرر کر سکیں۔