حصہ 2 از 2
امام علی رضؑا
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
یہاں تک کہ فضل بن سہل کو بھی ارکانِ حکومت اور منتظمین کے مجمع میں کہتے ہوئے سنا گیا کہ میں نے اس سے پہلے خلافت کو اس قدر ذلیل حالت میں کبھی نہیں دیکھا تھا کہ امیر المومنین مامون اپنے دونوں ہاتھوں سے خلافت علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں مگر علی رضا علیہ السلام اس کو ٹھکرا رہے تھے خود امام علی السلام بھی ہر مناسب موقع پر اس عہدے کو مجبوری میں قبول کرنے کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہتے تھے اور ہمیشہ کہتے تھے جب مجھے قتل کی دھمکی دی گئی تو میں نے مجبوراً ولی عہدی کو قبول کیا ظاہر ہے یہ بات ایک بہت ہی حیران کن سیاسی حادثے کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص اور شہر بہ شہر پھیل گئی اور تمام دنیا اسلام اس زمانے میں اور بعد میں یہ بات سمجھ گئی کہ مامون جیسا شخص جو ولی عہدی اور خلافت کے لیے اپنے بھائی کے مقابلے میں کئی سال تک جنگ کرتا رہا
اور جس نے ہزاروں لوگوں کو حتیٰ کہ اپنے بھائی امین کو بھی قتل کر دیا ہے اور نفرت اور دشمنی کی وجہ سے اپنے بھائی کے سر کو شہر بہ شہر پھیلاتا رہا ہے۔ لیکن اس زمانے میں ایک شخص یعنی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی طرح ایسا بھی موجود تھا جو ولی عہدی کو بے پروائی کی نگاہ سے دیکھتا اور صرف مجبوری یا قتل کی دھمکی کی صورت میں قبول کرنے پر تیار ہوا تھا۔ اگر ان واقعات سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور مامون عباسی سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں پرورش پانے والے افکار کا جائزہ لیا جائے تو بالکل وہی نتیجہ نکلے گا جس کے لیے مامون نے یہ سب کچھ کیا تھا ان تمام چیزوں کے باوجود امام علی رضا علیہ السلام نے ولی عہدی کو صرف اس شرط پر قبول کیا کہ آپ حکومت سے متعلق کسی کام میں مداخلت نہیں کریں گے اور جنگ، صلح، معزول و منصوب اور سرکاری معاملات سے الگ تھلگ رہیں گے۔
مامون نے یہ سمجھا کہ چونکہ یہ مسئلہ ابھی تازہ ہے اس لیے اس نے اس شرط کو معمولی سمجھ کر قبول کر لیا اور یہ سوچا کہ بعد میں امام علیہ السلام کو آہستہ آہستہ سرکاری کاموں کی طرف مائل کر لے گا ظاہر سی بات ہے کہ اگر امام علیہ السلام اپنی شرط پر قائم رہتے تو مامون کے تمام منصوبوں پر پانی پھر جاتا اور اس کے بیشتر مقاصد نابود ہو جاتے امام برائے نام ولی عہد ہوئے اور مجبوراً حکومت کی سرکاری سہولتوں سے بہرہ مند ہونے کے باوجود اپنے چہرے کے تاثرات سے ظاہر کرتے رہتے تھے کہ وہ حکومت وقت کے مخالف ہیں نہ کوئی حکم صادر کرتے اور نہ ہی کسی کو کسی کام سے منع کرتے نہ کسی ذمہ داری یا کام کو قبول کرتے اور نہ ہی حکومت کی طرف داری کرتے ہیں لہٰذا قدرتی بات تھی کہ امام ان کے اقدامات کو سراہتے بھی نہیں تھے ظاہر ہے کہ حکومت کے سرکاری ادارے میں جو شخص اپنی مرضی سے تمام حکومتی فرائض سے کنارہ کشی اختیار کر لے ممکن نہیں کہ وہ شخص حکومت کے سچا بہی خواہ اور طرف دار ہو مامون اس نقص کو اچھی طرح محسوس کرتا تھا اس لیے ولی عہدی کا مرحلہ طے پا جانے کے بعد سے بارہا یہ کوشش کرتا رہا کہ امام کو ان کے قول و قرار کے برعکس حیلے بہانے سے سرکاری کاموں کی طرف مائل کر کے ان کی حکومت سے متعلق منفی سیاسی جد و جہد کے اصول کو توڑ دے لیکن ہر مرتبہ امام علیہ السلام نے ہوشیاری سے اس کے ارادوں پر پانی پھیر دیا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ معمر بن خلاد امام رضا علیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ ایک مرتبہ مامون نے امام سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو جن علاقوں کی اندرونی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہاں کے لوگ آپ کی بات مانتے بھی ہیں کچھ لکھ دیجیے مگر امام نے انکار کیا اور اپنے گزشتہ قول و قرار کی یاد دہانی کروائی یعنی کسی بھی کام میں بالکل مداخلت نہیں کریں گے دوسری بہت ہی دلچسپ اور خاص مثال عید کی نماز کا واقعہ ہے یعنی مامون اس بہانے سے کہ لوگ آپ کی قدر و منزلت کو جانیں اور ان کے دلوں کو سکون پہنچے امام علیہ السلام کو عید کی نماز کی امامت کروانے کی دعوت دیتا ہے۔
امام انکار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب مامون بہت زیادہ اصرار کرتا ہے تو امام اس شرط پر قبول کرتے ہیں کہ آپ نمازِ عید کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علی ابن ابی طالب کے طریقے سے ادا کریں گے اور امام اس موقع سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں کہ مامون کو اپنے اصرار پر نادم ہونا پڑتا ہے اور امام علیہ السلام کو آدھے راستے سے واپس بلا لیتا ہے یعنی وہ ایک اور چوٹ اپنی ریاکارانہ حکومت کو پہنچاتا ہے الارشادُ للمفید، ترجمہ: رسول مخلاقی، جلد 2، صفحہ 258-257 اصل فائدہ جو امام علیہ السلام نے اس ولی عہدی سے حاصل کیا وہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔
امام نے ولی عہدی کو قبول کر کے ایک ایسی تحریک شروع کی کہ آئمہ اطہار کی تاریخ میں یعنی 40 ہجری میں اہل بیت کی خلافت ختم ہونے کے بعد سے اس وقت تک اس کی مثال نہیں ملتی اور وہ شیعوں کی امامت کے دعوے کو تمام اسلامی دنیا میں کھلم کھلا ظاہر کرنا تقیہ کے ضخیم اور موٹے پردے کو ہٹانا اور تشیع کے پیغام کو تمام مسلمانوں کے کانوں تک پہنچانا تھا خلافت کے عظیم تبلیغی وسائل امام کے اختیار میں تھے۔ اب ان وسائل کے ذریعے ان باتوں کو جو 140 سال کے عرصے میں خفیہ اور پوشیدہ رہیں خاص اور قریبی دوستوں کو بھی نہیں کہی گئی تھیں۔
اب اونچی آواز سے سنانے لگے اور اس زمانے کے ہر ممکن اور موجودہ اختیارات اور وسائل سے جو صرف خلفاء یا ان کے قریبی اور خاص لوگوں کے اختیار میں ہوتے تھے فائدہ اٹھایا اور یہ معلومات لوگوں کے کانوں تک پہنچائیں امام علی رضا علیہ السلام علماء کے مجمع میں یا مامون کے دربار میں ہونے والے تمام مناظروں میں امامت کے بارے میں قوی ترین دلائل پیش کرتے تھے جوامع و شریعاء" کے خط میں جو کہ فضل بن سہل کو لکھا تھا" شیعوں کے تمام خاص اور اہم فقہی اور عقیدتی مضامین شامل ہیں امامت کے بارے میں مشہور و معروف حدیث جس کو مرو میں عبدالعزیز بن مسلم کے لیے بیان کیا۔
اسی طرح بے شمار قصیدے جو آپ کی ولی عہدی کے سلسلے میں لکھے گئے جن میں بعض مثلاً دعبل اور ابونواس کے قصیدے جو عربی کے برجستہ اور مشہور قصیدوں میں شمار کیے جاتے ہیں امام کی عظیم کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں جس سال امام علی رضا علیہ السلام کی ولی عہدی کا واقعہ پیش آیا شہر مدینہ اور شاید بیشتر اسلامی علاقوں میں نماز جمعہ کے خطبوں میں اہل بیت کی فضیلت بیان کی گئی ورنہ اہل بیت کو ستر سال تک ممبروں پر برا بھلا کہا گیا اور بعد میں بھی کافی عرصے تک کسی میں جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ان کے فضائل بیان کرے لیکن اہل بیت کا اب ہر جگہ عزت و احترام سے نام لیا جانے لگا تھا۔
اس واقعے سے ان کے طرف داروں کو بھی روحانی اور قلبی طاقت حاصل ہوئی بےخبر اور لا تعلق لوگ بھی اس بات سے آشنا ہوئے اور اہل بیت کا گرویدہ ہونے لگے سخت اور جانی دشمن بھی کمزوری اور ناکامی کا احساس کرنے لگے شیعہ محدثین اور خطباء بھی عقائد سے متعلق وہ مسائل جنہیں تنہائی میں بھی اپنی زبان پر نہیں لا سکتے تھے۔ اب کھلے عام بڑے بڑے جلسوں اور عام جگہوں پر بیان کرنے لگے پانچ اگرچہ مامون کی دلی خواہش تھی کہ امام علی رضا علیہ السلام لوگوں سے دور رہی اور وہ اس دوری کو آپ اور لوگوں کے درمیان معنوی اور قلبی رشتوں کو توڑنے کا آخری وسیلہ سمجھتا تھا۔
لیکن امام علیہ السلام اپنی ہر فرصت سے فائدہ اٹھا کر لوگوں سے ملتے اور اس رشتے کو قائم رکھتے تھے۔ مامون نے جان بوجھ کر امام کے مدینہ سے مرو تک راستے کا اس طرح انتخاب کیا تھا کہ کوفہ اور قم جیسے مشہور و معروف شہروں جہاں کے لوگوں کے دلوں میں اہل بیت کی محبت تھی۔ آپ کے راستے میں نہ آنے پائیں لیکن اس کے باوجود امام نے ان اجنبی راستوں میں بھی جہاں موقع ملا اپنے اور لوگوں کے درمیان نئے رابطے قائم کیے احواز میں امامت سے متعلق آیتوں کی نشاندہی کی بصرہ میں ان لوگوں کے دلوں میں بھی محبت کی لہر دوڑا دی جو آپ کو نہیں چاہتے تھے نیشاپور میں حدیث سلسلہ ذہب کو ہمیشہ کے لیے یادگار کے طور پر چھوڑا اور ان کے علاوہ اور بھی دوسری معجزانہ نشانیاں لوگوں پر ظاہر کیں اس طویل سفر کے دوران ہر جگہ لوگوں کی ہدایت کرنے کی فرصت سے پورا پورا فائدہ اٹھایا مرو میں بھی جو اصل منزل اور دارالخلافہ تھا جب کبھی فرصت ملتی سرکاری محاصرے کو توڑ کر لوگوں کے جم غفیر میں پہنچ جاتے چھ. نہ صرف مکتب تشیع کے پیروکاروں کو امام علی رضا علیہ السلام کی طرف سے خاموشی کا اشارہ نہ ملا بلکہ واقعات گواہ ہیں کہ امام کا یہ نیا منصب لوگوں کی ہمت اور جوش کا باعث بنا اور انقلابی لوگ جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دشوار گزار پہاڑیوں اور دور دراز ویرانوں میں سختی اور مشکل میں گزارنے پر مجبور تھے۔
اب امام علی رضا علیہ السلام کی حمایت کی وجہ سے سرکاری منتظمین کی نظروں میں بھی مختلف شہروں میں عزت اور آبرو کی نظر سے دیکھے جانے لگے مخالف اور تیز زبان شاعر دعبل جس نے کبھی بھی کسی خلیفہ، وزیر یا امیر کو پسند نہیں کیا اور کبھی بھی ان کے درباروں میں حاضر نہیں ہوئے اور خلافت کے طرف داروں میں سے کوئی بھی ان کی تیز زبان سے محفوظ نہیں رہتا تھا اور اسی وجہ سے حکومت ہمیشہ ان کے پیچھے لگی رہتی تھی اور کئی سالوں سے خانہ بدوشی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اب وہ اپنے محبوب امام کی خدمت میں حاضر ہو سکتے تھے۔
انہوں نے سب سے پہلے مشہور دل نشین قصیدے کو جسے اموی اور عباسی خلافتوں کے خلاف علوی تحریک کا منشور قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کی شان میں لکھا اور بہت ہی مختصر مدت میں ان کے اشعار اسلامی دنیا میں پھیل گئے۔ یہاں تک کہ جب وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضری دے کر واپس آ رہے تھے تو ان اشعار کو کچھ ڈاکوؤں کے سردار کی زبان سے سنا اب ایک بار پھر اس پراسرار کشمکش کی پوری کیفیت کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں جسے مامون نے اپنے ذہن سے اختراع کیا تھا اور اپنے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جن کی طرف اشارہ کیا گیا امام علی رضا علیہ السلام کو اس میدان میں اترنے پر مجبور کر دیا ولی عہدی کے اعلان کے ایک سال بعد کی صورتحال یہ تھی۔
مامون نے امام علی رضا علیہ السلام کے لیے بہت زیادہ اختیارات اور عزت و احترام کے مواقع فراہم کیے لیکن سب جانتے تھے کہ یہ عالی مقام ولی عہد کسی بھی سرکاری کام میں دخالت نہیں کرتے اور دلی طور پر حکومت کے ہر کام سے متنفر ہیں تمام لوگوں پر یہ بات ظاہر تھی کہ انہوں نے ولی عہدی کی تجویز کو اسی شرط پر قبول کیا تھا کہ کوئی بھی سرکاری کام انجام نہیں دیں گے۔ مامون نہ صرف ولی عہدی کے حوالے سے بلکہ اپنی نجی گفتگو اور دوسرے احکامات میں بھی آپ کی فضیلت پرہیزگاری، بلند مقام اور علمی مرتبے کی تعریف کرتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں کی نظروں میں جن میں سے بعض نے صرف امام علی رضا کا نام سنا تھا اور بعض لوگ آپ کو جانتے بھی نہیں تھے اور شاید وہ گروہ جو ہمیشہ اپنے دلوں میں ان کے خلاف دشمنی رکھتا تھا۔
اب امام علی مقام ایک ایسی قابل تعظیم، تکریم شخصیت اور خلافت کے لیے شائستہ اور لائق فرد کی حیثیت رکھتے تھے جو خلیفہِ وقت کے مقابلے میں سن و سال، علم، تقویٰ اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے کی وجہ سے بہتر اور برتر تھے مامون ان کی موجودگی میں صرف یہ کہ اپنے شیعہ مخالفین کو اپنے متعلق بدگمان ہونے سے نہ بچا سکا بلکہ ان کی تیز زبانوں کو اعتراض سے روکنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا جبکہ دوسری طرف امام علی رضا علیہ السلام کی موجودگی ان کے شیعوں کے لیے باعثِ امان، اطمینانِ قلب اور قوتِ خاطر ثابت ہوئی مدینہ، مکہ اور اسلامی دنیا کے خاص علاقوں میں نہ صرف امام علی رضا علیہ السلام کا نام دنیاوی تعلق اور جاہ و مقام کی آرزو کے الزام سے پاک ثابت ہوا بلکہ آپ کی ظاہری شان و شوکت نے آپ کی معنوی عزت کو مزید بڑھا دیا تعریف کرنے والوں کی زبانیں سال ہا سال بعد ہمیشہ کے لیے آپ کے مظلوم اور معصوم آبا و اجداد کی فضیلتیں بیان کرنے کی خاطر کھل گئیں مختصر یہ کہ مامون اس بڑے جوے میں نہ صرف یہ کہ کچھ حاصل نہ کر سکا بلکہ اپنا بہت کچھ کھو دیا تھا اور ڈر تھا کہ باقی ماندہ چیزوں کو بھی کھو دے گا۔
یہ وہ گھڑی تھی جب مامون کو اپنی اس شکست اور نقصان کا احساس ہوا اور کوشش کرنے لگا کہ اپنی اس بڑی غلطی کا ازالہ کرے اور اب اس کے علاوہ اسے کوئی چارہ نظر نہ آیا کہ اتنی زحمتوں کے باوجود اپنی خلافت کے سخت اور کٹر دشمن یعنی اہل بیت علیہم السلام سے مقابلے کے لیے اسی طریقہ کار کو استعمال کرے جس سے اس کے ظالم اور بدکردار آبا و اجداد کام لیا کرتے تھے یعنی مخالف کا قتل ظاہراً اتنے شاندار حالات کے بعد امام رضا علیہ السلام کا قتل کوئی آسان کام نہیں تھا مختلف روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ امام علی مقام علیہ السلام کو شہید کرنے کے قطعی فیصلے سے پہلے اس نے دوسرے ذرائع بھی اختیار کیے تھے تاکہ اپنے اس آخری مقصد کو آسانی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
ان میں سے بے سروپا افواہوں کا پھیلانا، امام سے متعلق غلط بیانی سے کام لینا وغیرہ سرفہرست تھا جن کے نتیجے میں اچانک مرو میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ امام رضا علیہ السلام تمام لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ کام سوائے مامون کے ماتحت عملے کے اور کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ جب ابا صلت نے امام کو یہ خبر پہنچائی تو آپ نے فرمایا اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے پروردگار تو گواہ ہے کہ ہرگز نہ میں نے اور نہ ہی میرے آباؤ اجداد میں سے کسی نے ایسی بات کہی اور یہ بھی ظلم و ستم کے ان سلسلوں میں سے ایک ہے جو ان لوگوں کی طرف سے ہم پر ڈھایا جاتا ہے مناظروں کے جلسے بھی ہر اس آدمی کے ساتھ تواتر سے منعقد کیے جاتے جس کے بارے میں امام علیہ السلام پر فتح حاصل ہونے کی ذرا بھی امید ہوتی تھی۔
جب امام نے مختلف مذاہب اور ادیان کے لوگوں کو مناظروں کی عام بحثوں میں شکست دے دی اور آپ کی علمی اور قطعی حجت کی شہرت ہر جگہ پھیل گئی تو مامون نے یہ سوچا کہ ہر متکلم اور مخالف کو امام علیہ السلام سے مناظرے کے لیے بلایا جائے ممکن ہے ان میں سے کوئی امام علیہ السلام کو شکست دے سکے۔ البتہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ مناظرے جتنے زیادہ منعقد ہوتے تھے۔ امام علیہ السلام کی علمی حیثیت اتنی زیادہ ظاہر ہوتی جاتی تھی اور مامون اپنی چال کے برخلاف نتیجہ برآمد ہونے پر مزید ناامید ہوتا جاتا تھا روایتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مامون نے امام علیہ السلام کے قتل کی سازش کو ایک یا دو مرتبہ اپنے نوکروں اور ارکانِ حکومت کے ذریعے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی اور ایک مرتبہ آپ کو سرخس کے قید خانے میں بھی ڈالا گیا۔
لیکن ان طریقوں سے بھی مامون کے ماتحتوں کے دلوں میں امام علیہ السلام کی معنوی فضیلت اور عقیدت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ پہنچا اور مامون پہلے سے بھی زیادہ مجبور اور ان سے بدگمان نظر آنے لگا آخرکار اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ دیکھا کہ اپنے ہاتھوں سے اور کسی کی مدد کے بغیر امام کو زہر دے دے اس نے ایسا ہی کیا اور 203 ہجری صفر کے مہینے میں یعنی آپ کو مدینہ سے خراسان بلائے جانے کے تقریباً دو سال اور ولی عہدی کا حکم صادر کرنے کے ایک سال کچھ مہینے بعد اپنے ہاتھوں کو امام علی رضا علیہ السلام کے قتل اور کبھی فراموش نہ ہونے والے سیاہ کارنامے سے آلودہ کیا۔
یہ مختصر جائزہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی 250 سالہ سیاسی زندگی کے ایک اہم ترین باب سے متعلق ہے جس کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ محققین، مفکرین اور مؤرخین تاریخِ اسلام کے قدسی نمونہ کے ان واقعات کو زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کے لیے ہمت سے کام لیں گے اور اس موضوع کے تفسیری، تشریحی اور تحقیقی پہلوؤں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں گے۔