امام موسیٰ کاظمؑ

امام موسیٰ کاظمؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام موسیٰ کاظمؑ

امام موسیٰ کاظمؑ

ہجری ۱۲۸

ہجری ۱۸۳

حصہ 3 از 3

امام موسیٰ کاظؑم

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

اب بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہارون کے پاس مختلف لوگوں نے امام کی چغلی کی تھی اس وجہ سے وہ اس طرح کے خیالات رکھتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت تھی کیونکہ جس دور میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہارون رشید کے خلاف جہاد میں مشغول تھے اس وقت آپ کے پاس پیسے ہوتے تو ایسے بہت سارے لوگ موجود تھے جو امام کے ہم رکاب ہو کر حکمرانوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار تھے اس کی بہت سی مثالیں ہمارے آئمہ معصومین کے علاوہ دوسرے حکومت مخالف عناصر کی بھی ملتی ہیں جیسا کہ ہارون سے پہلے موسیٰ الہادی کے دور خلافت میں حسین بن علی شہید فخ اور دوسرے لوگوں کی تحریکیں اس بات کی واضح علامت ہیں تو آپ اندازہ لگائیے کہ اگر آئمہ معصومین حکمرانوں کے خلاف قیام فرماتے تو اس صورت میں کتنے لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرتے اس نکتے کو ہارون بہت اچھی طرح سمجھتا تھا۔

ہارون رشید نے حضرت امام موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اپنی ان ملاقاتوں میں جن امور پر بات چیت کی ان میں ایک فدک کا معاملہ بھی ہے وہ کہتا ہے آپ بنو ہاشم فدک سے محروم ہو گئے ہیں اور خلیفہ نے فدک کو آپ سے چھین لیا اب میں اسے آپ لوگوں کو واپس لوٹانا چاہتا ہوں۔ آپ بتائیں کہ فدک کہاں تک ہے اور اس کی حدود کیا ہیں تاکہ میں اسے آپ لوگوں کو لوٹا سکوں ظاہر ہے کہ یہ فدک کے نام پر ایک دھوکا اور فریب تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اہلِ بیت کے غصب شدہ حق انہیں واپس دلانے کے بہانے لوگوں کے ذہنوں میں اپنے بارے میں اچھے تاثرات پیدا کرے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ہارون سے فرمایا بہت اچھا اب تم فدک ہمارے حوالے کرنا چاہتے ہو تو میں اس کی حدود بیان کرتا ہوں۔

امام نے فدک کی حدود بیان کرنا شروع کیا اور اس زمانے کے پورے اسلامی مملکت کو فدک کی حدود میں شامل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ فدک یہ ہے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس وقت بھی ہمارا دعویٰ صرف ایک ایسے باغ پر تھا جس میں چند ایک کھجور کے درخت لگے ہوئے تھے یہ تمہاری خام خیالی ہے یاد رکھو اس وقت بھی ہمارا دعویٰ صرف ایک باغ پر نہیں تھا بلکہ مسئلہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت کا تھا مسئلہ حکومت اسلامی کی رہبری اور قیادت کا تھا۔ لیکن اس دور کے لوگوں کے خیال میں جو چیز ہمیں خلافت سے محروم کر سکتی تھی وہ فدک کو ہم سے چھین لینا تھا اس لیے ہم اس کے مقابلے میں مزاحمت کرتے تھے اور آج ہماری جس چیز کو تم نے غصب کر رکھا ہے وہ صرف باغِ فدک نہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ وہ پوری اسلامی مملکت ہے۔

لہٰذا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام مملکت اسلامی کی حدود اربعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فدک یہ ہے۔ اب اگر تم فدک واپس لوٹانا چاہتے ہو تو اسے ہمارے حوالے کر دو یعنی آپ نے واضح الفاظ میں مملکت اسلامی کی قیادت و رہبری اور خلافت کا دعویٰ کیا۔ چنانچہ واقعہ یوں ہے کہ ہارون نے کہا۔ آپ فدک کی سرحدیں معین فرمائیے تاکہ میں اسے آپ کو واپس لوٹا دوں امام موسیٰ کاظم نے شروع میں تو اس کام سے انکار کیا لیکن جب ہارون نے اصرار کیا تو فرمایا میں اس کی اصلی حدود کے ساتھ ہی لوں گا۔ ہارون کہتا ہے بہت اچھا آپ حدود کو معین تو کیجیے بہت دلچسپ بات ہے کہ آپ فدک کی حدود بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اس کی پہلی سرحد عدن ہے۔ یہ مدینہ یا بغداد میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی پہلی حد عدن ہے جو جزیرۃ العرب کی آخری سرحد ہے یہ سن کر ہارون کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اس نے کہا تعجب ہے۔ امام نے فرمایا اس کی دوسری سرحد سمرقند ہے۔ یہ سن کر ہارون کا چہرہ نیلا پڑ گیا۔ اس کی تیسری سرحد افریقہ تیونس ہے۔ یہ سن کر ہارون کے چہرے کا رنگ سیاہ ہو گیا۔ ہارون نے ہنستے ہوئے تعجب سے کہا یہ کیسی باتیں کرتے ہیں۔ امام نے فرمایا اس کی چوتھی سرحد آرمینیستان تک پھیلے ہوئے جزائر ہیں جہاں ہارون نے کہا اس طرح تو ہمارے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہتی ہے پھر تو آپ آئیے اور میری جگہ پر بیٹھ جائیے امام عالی مقام نے فرمایا میں نے تو تم سے کہا تھا کہ اگر میں اس فدک کی سرحدیں معین کروں گا تو تم اسے واپس نہیں لوٹا دو گے۔

اس کے بعد ہارون نے امام کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا بحار الانوار جلد 48 صفحہ 144 مدینہ کے سفر کے دوران جب ہارون رشید پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر میں داخل ہوا اور اپنے آس پاس لوگوں کے سامنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی رشتہ داری ظاہر کرنے کھڑے ہو کر اس نے یوں سلام کیا السلام علیک یا ابن عمّی یہاں ہارون یا رسول اللہ نہیں کہتا بلکہ کہتا ہے اے میرے چچا کے بیٹے تجھ پر میرا سلام ہو یعنی ہارون لوگوں کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کا بیٹا ہے اتنے میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بغیر کسی توقف کے آگے بڑھتے ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضریح مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں السلام علیک یا ابا اے بابا جان آپ پر میرا سلام ہو یعنی اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے چچا زاد ہیں

تو میرے بابا ہیں کیونکہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے تمام لوگوں کے سامنے ہارون کی شان و شوکت کو خاک میں ملا دیا جو لوگ ہارون کے حواری تھے انہیں بھی اس بات کا بخوبی احساس ہو گیا تھا کہ اگر حکومتی مشینری کو کسی طرف سے کوئی خطرہ لاحق ہے تو وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہی سے ہے۔ ہارون کے سفر مدینہ کے دوران حکومتی کارندوں میں سے ایک شخص کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ امام جو کسی اعلیٰ نسل کے قیمتی گھوڑے پر سوار ہونے کی بجائے انتہائی سادگی کے ساتھ ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لاتے ہیں اس شخص نے پوچھا کہ یہ کون تھا کہ جس کے آنے پر تمام لوگ اس کے سامنے احترام سے جھک گئے۔

یہاں تک کہ خلیفہ کے ارد گرد گھومنے والوں نے بھی انہیں جگہ دی ہے۔ اس شخص سے کہا گیا کہ یہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہیں۔ امام کا نام سنتے ہی وہ کہنے لگا افسوس ہو اس قوم یعنی بنو عباس کی حماقت اور بے وقوفی پر جو شخص ان کے مرنے کی تمنا کرتا ہے جو ان کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا ہے یہ لوگ اس شخص کا اتنا احترام کرتے ہیں۔ پس سب کو معلوم تھا کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا وجود حکومتی مشینری کے لیے خطرے کی علامت ہے کیونکہ آپ ایک ایسے رہبر اور قائد تھے جو علم و معرفت، تقویٰ و پرہیزگاری اور بندگی الٰہی میں اس قدر مشہور تھے کہ جو لوگ آپ کو جانتے تھے وہ آپ کے تمام اوصاف سے بے خبر تھے اور پورے عالمِ اسلام میں آپ کے دوستوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

آپ اتنے شجاع اور بہادر تھے کہ کسی بھی ظالم و جابر کی شان و شوکت سے مرعوب نہیں ہوتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ ہارون رشید کی ظاہری شان و شوکت کو خاطر میں لائے بغیر بے دھڑک حق بات کہہ دیتے ہیں۔ ایک ایسی مجاہد شخصیت کا وجود جس کا رابطہ اللہ سے ہو جسے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ ہو اور پورے عالمِ اسلام میں جس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہو جو معاشرے میں حقیقی معنوں میں ایک اسلامی حکومت قائم کرنے اور اسلامی نظام نافذ کرنے کے حوالے سے ایک منصوبہ بھی رکھتا ہو یقیناً اس شخص کا وجود ہارون کی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہو سکتا تھا۔

لہٰذا ہارون رشید اپنے سامنے سے اس بڑی رکاوٹ اور خطرے کو ہٹانے کا فیصلہ کرتا ہے کیونکہ ہارون ایک چالاک سیاستدان اور سمجھ دار آدمی تھا۔ اس لیے اس نے ایک دم سے یہ کام انجام نہیں دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طریقے سے بالواسطہ اس کام کو انجام دیا جائے لہٰذا اس نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قید کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ قید خانے میں آپ کے ساتھ کوئی ساز باز کر سکے۔ آپ کو کوئی وعدہ دے کر یا ڈرا دھمکا کر اپنے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کر سکے۔ چنانچہ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو مدینے میں اس طریقے سے گرفتار کیا جائے کہ اہلِ مدینہ کو پتہ بھی نہ چل سکے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے۔

لہٰذا مدینے میں دو سواریاں اور محمل تیار کر لیے گئے اور ان میں سے ایک کو عراق اور دوسری کو شام کی جانب لے جایا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو کہاں لے جایا گیا ہے۔ امام کو گرفتار کر کے بغداد لایا گیا اور وہاں پر ایک طویل عرصے قید خانے میں رکھا گیا۔ البتہ یہ احتمال ہے لیکن یہ حتمی نہیں کہ آپ کو ایک مرتبہ قید سے رہا کر کے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہو لیکن یہ بات مسلم ہے کہ آخری مرتبہ آپ کو اسی مقصد کے تحت ہی گرفتار کر لیا گیا تھا تاکہ قید خانے ہی میں شہید کر دیا جائے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

البتہ حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شخصیت قید خانے میں بھی ایک ایسے مشعل کے مانند تھی جو اپنے تمام اطراف کو روشن کر دیتا ہے آپ توجہ کیجیے سچی بات تو یہ ہے کہ اسلامی فکری تحریک اور قرآن کی نظر میں جہاد کبھی نہیں رکتا یہاں تک کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ جاری و ساری رہتا ہے یہ وہی کام ہے جسے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے انجام دیا۔ اس سلسلے میں بے شمار احادیث اور روایات موجود ہیں انہیں روایات میں سے ایک انتہائی دلچسپ روایت یہ ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مشہور زندانبان سندی بن شاہک ایک انتہائی طاقتور سنگدل بنو عباس کا پالتو اور خلافت کی مشینری کا وفادار شخص تھا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اسی شخص کے قید خانے میں تھے جس نے آپ کو اپنے گھر کے زیر زمین ایک انتہائی تنگ و تاریک کمرے میں قید کر رکھا تھا سندی بن شاہک کے اہلِ خانہ ہر روز کسی نہ کسی وقت قید خانے کا جائزہ لیتے تھے جس کی وجہ سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرز زندگی نے انہیں حیرت زدہ اور متاثر کر دیا تھا اور ان لوگوں کے دلوں میں اہل بیت اطہار کی محبت زندہ ہو گئی تھی سندی بن شاہک کی اولاد میں سے کشاجم نامی شخص کا شمار تشیع کے بزرگوں میں ہوتا ہے تمام تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ کشاجم اپنے زمانے کے مشہور ادباء، شعراء اور اہل تشیع بزرگان میں سے تھے یعنی ان کا نام کشاجم بن سندی تھا اور سندی بن شاہک کی نسل سے تھا۔

یہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا طرز زندگی ہے جسے آپ نے قید خانے میں اختیار کر رکھا ہے۔ البتہ اس دوران بھی حکمران آپ کو ڈرانے دھمکانے اور طمع و لالچ کے ذریعے اپنا مطیع اور فرماں بردار بنانے کی کوشش کرتے رہے لیکن آپ خوفِ الٰہی، لطفِ الٰہی اور اپنے پروردگار کی ذاتِ بابرکت پر بھروسے کے ذریعے حکمرانوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے اور یہی آپ کی ثابت قدمی ہے جس کی وجہ سے آج بھی دینِ اسلام اور قرآن محفوظ ہیں یاد رکھیں کہ ظلم و جور اور فسق و فجور کے مقابلے میں ہمارے آئمہ معصومین کی استقامت ہی کے نتیجے میں حقیقی اسلام آج تک باقی ہے آج عالمِ اسلام یا عالمِ انسانیت کے سامنے اسلام، قرآن اور سنت نام کی کوئی چیز باقی ہے تو چاہے وہ اہلِ تشیعوں کی کتابوں میں ہو یا اہلِ سنت کی یہ سب کچھ آئمہ معصومین کی ڈھائی سو سالہ انتھک جد و جہد اور جہاد ہی کی مرہونِ منت ہے ورنہ بنو امیہ اور بنو عباس دور کے ضمیر فروش اہلِ قلم اور خطباء نے اسلامی تعلیمات میں اتنے انحرافات کیے تھے کہ ایک دو صدیوں کے بعد اسلام کا نام و نشان بھی باقی رہنا مشکل تھا

کوئی قرآن باقی نہیں رہتا اور اگر باقی بچتا تو بھی وہ صحیح و سالم نہیں ہوتا بلکہ تحریف شدہ ہوتا تاریخ اسلام کے یہ لہراتے پرچم، یہ نور افشاں مشعال، یہ اونچے اور روشن مینارین کہ جن کی صبر و استقامت نے اسلام کی روشنی کو اس طرح دنیا میں پھیلایا کہ جو لوگ باطل کے اندھیرے میں حقائق کو مسخ کرنا چاہتے تھے جو معاشرے کو تاریکی میں ڈبونا چاہتے تھے وہ اپنے اس ہدف میں مکمل طور پر ناکام رہے آئمہ معصومین علیہ السلام کے شاگردوں میں صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی فرقوں کے لوگ شامل تھے یعنی آئمہ اطہار کے شاگردوں میں بہت سارے ایسے لوگ بھی تھے جو شیعہ عقائد کے حامل نہیں تھے لیکن وہ آئمہ معصومین سے تفسیر، قرآن اور حدیث کا درس لیتے تھے۔

لہٰذا آئمہ اطہار کی صبر و استقامت نے آج تک اسلام کو زندہ رکھا ہے آخرکار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قید خانے میں زہر دے کر شہید کر دیا گیا آئمہ اطہار علیہ السلام کی تاریخ کے تلخ ترین واقعات میں سے ایک امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت بھی ہے۔ البتہ حکمران اس واقعے پر بھی پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔ اس لیے آپ کی زندگی کے آخری دنوں میں سندی بن شاہک بغداد کے بعض مشہور افراد کو آپ کی خدمت میں بلا کر کہتا ہے۔ آپ لوگ دیکھیں کہ موسیٰ بن جعفر بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں انہیں کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

اس موقع پر آپ بغداد کے اکابرین سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں جی ہاں آپ لوگوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے مجھے زہر دیا ہے۔ ان ظالموں نے امام کو اس حالت میں زہر دے کر شہید کر دیا جب آپ کے ہاتھ اور گردن طوق و زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اور اسی حالت میں آپ کی روحِ پرفتوح نے قید خانے میں ملکوتِ اعلیٰ کی طرف پرواز کی لیکن اس کے باوجود ظالم حکمران آپ سے ڈرتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب قید خانے سے آپ کا جنازہ باہر نکالا جا رہا تھا تو وہ یہ اعلان کرتے جا رہے تھے کہ یہ اس شخص کا جنازہ ہے جس نے حکومت وقت کے خلاف بغاوت کی تھی تاکہ آپ کی شخصیت اور کردار کو لوگوں کی نظروں کے سامنے داغدار کیا جا سکے۔

اس وقت حکومتی مشینری کے لیے حالات اس قدر مخدوش ہو چکے تھے کہ حکومتی عہدوں پر فائز افراد میں سے ایک شخص سلیمان بن جعفر بن منصور عباسی یعنی ہارون رشید کا چچا زاد بھائی جس کا شمار بنو عباس کے اہم افراد میں ہوتا تھا نے جب دیکھا کہ اس صورت میں تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے تو اس نے ایک نئے منصوبے کو اپنے ذمہ لیا اور اس نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے جسدِ مطہر کو ایک قیمتی کفن پہنایا اور جنازے کو انتہائی عزت اور احترام کے ساتھ کوفہ کے نزدیک اس مقام پر جسے ہم آج کاظمین کے نام سے جانتے ہیں۔ دفنا دیا، اور یوں امام موسیٰ کی جدوجہد اور جہاد سے بھرپور زندگی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

ڈھائی سو سالہ انسان