حصہ 2 از 2
امام تقیؑ، امام نقیؑ و امام حسن عسکرؑی
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
اسی طرح آپ نے موت کے مراتب کو یہاں تک کہ متوکل کے جسم پر پڑنے والے کیڑوں کے بارے میں بیان فرمایا اور اس محفل کو بالکل ہی تبدیل کر کے رکھ دیا اور دربار سے تشریف لے گئے، ایک ایسی جنگ جس کی ابتدا کرنے والا ایک بد اخلاق اور طاقتور خلیفہ تھا جبکہ اس کے مقابلے میں تنہا ایک جوان تھا جو بظاہر اس کے مقابلے میں انتہائی کمزور تھا مگر اس نے ایک روحانی جنگ کو چھیڑا جس میں تلواروں اور نیزوں کا کوئی دخل نہیں تھا ایسے حالات میں اگر ہم میں سے کوئی ہوتا تو ہرگز یہ کام نہیں کر سکتا تھا، لیکن یہ امام علی نقی علیہ السلام تھے جو وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس طرح کی بات کرنا جانتے تھے کہ خلیفہ کو برا نہ لگے، یہ بھی ممکن تھا کہ آپ کھڑے ہو جاتے اور شراب کا جام اٹھا کر زمین پر پٹک دیتے لیکن اس کا کوئی اچھا رد عمل سامنے نہیں آتا اور یہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکل سکتا تھا۔
لہٰذا آپ نے اس موقع پر کسی اور طریقے سے اپنا رد عمل ظاہر کیا، اس واقعے کا یہ پہلو انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے اس پہلو پر توجہ کیجئے کہ یہ ہستیاں مسلسل حالتِ جنگ میں تھیں۔ ایک ایسی جنگ کہ جس کی روح سیاست تھی کیونکہ ان کے مقابلے میں جو لوگ کرسیِ اقتدار پر بیٹھے تھے وہ بھی دین کے مدعی تھے اور بظاہر دینی امور کا خیال بھی رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض دینی معاملات میں ائمہ طاہرین علیہم السلام کے نظریات کو بھی مانتے تھے جیسا کہ مامون کے بارے میں آپ سنتے رہتے ہیں کہ اس نے بعض معاملات میں بظاہر امام علی رضا علیہ السلام کے نظریات کو قبول کیا تھا یعنی وہ کبھی کبھار امام علیہ السلام کے فقہی نظریات کو قبول کرنے کو عار نہیں سمجھتا تھا جو چیز ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام اور خلفاء کے درمیان جنگ کا سبب بنی وہ یہ تھی کہ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام اپنے آپ کو امام سمجھتے تھے
اور کہتے تھے کہ ہم امام ہیں، خلفاء کے ساتھ جنگ کی اصلی اور سب سے بڑی وجہ یہی تھی کیونکہ جو لوگ کرسیِ اقتدار پر بیٹھے تھے اور اپنے آپ کو رہبر اور پیشوا کہتے تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک امام اور رہبر میں جو شرائط پائی جانی چاہیے وہ ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام میں پائی جاتی ہیں اور خود ان میں یہ شرائط موجود نہیں ہیں لہٰذا وہ ائمہ اطہار کے وجود کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور ان سے لڑتے تھے اور ائمہ طاہرین بھی ایک مضبوط چٹان کی مانند ان کے مقابلے میں کھڑے ہوتے تھے ظاہری بات ہے کہ اس جنگ کے دوران اسلامی معارف، فقہی احکام اور اخلاقیات جن کی ائمہ معصومین ترویج کرتے تھے ان کا اپنا ایک اثر تھا زیادہ سے زیادہ شاگردوں کی تربیت اور شیعوں کے آپس کے تعلقات کی وجہ سے روز بروز شیعت پھیلتی چلی گئی ائمہ اطہار نے ہی تشیّع کو باقی رکھا ہے۔
آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ڈھائی سو سال تک حکومت جس نظریے کے خلاف رہی ہو اس کا تو کوئی اثر باقی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے تو سرے سے مٹ ہی جانا چاہیے۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ آج دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور تشیّع کہاں پہنچ گیا ہے۔ اس نکتے کو ان اشعار میں بخوبی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جو امام جعفر صادق، امام علی نقی اور امام حسن عسکری کے بارے میں پڑھے جاتے ہیں، یہ حضرات جد و جہد کرتے اور اسی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کرتے تھے، یہ ایک ایسا راستہ ہے جو ایک مشخص اور معین ہدف کی جانب جا رہا ہے، کبھی ان میں سے کوئی ایک لوٹ رہا ہوتا ہے تو دوسرا اسی راستے میں آگے بڑھا ہوتا ہے، لیکن سب کا ہدف اور مقصد ایک ہی ہے۔
یہ حضرات امام حسین علیہ السلام جو اس جد و جہد کے بانی ہیں سے بھی زیادہ کامیاب رہے تھے کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد تو کوئی باقی بچا ہی نہیں تھا، لیکن آپ ملاحظہ کیجئے کہ امام علی نقی علیہ السلام کے دور میں پورا عالمِ اسلام آپ کی مٹھی میں تھا، یہاں تک کہ بنو عباس کو بھی بے بس ہونا پڑا اور انہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لہٰذا آخرکار انہیں بھی شیعت کی طرف ہی رجوع کرنا پڑا، بنو عباس کے ایک خلیفہ نے ایک تحریری فرمان جاری کیا کہ ائمہ اہل بیت کا نام خطبے میں لیا جائے اور بتایا جائے کہ اہل بیت حق پر ہیں، یہ تحریر تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔
لیکن جب خلیفہ کے وزیر کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ فوراً خلیفہ کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں، یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکا کہ اہل بیت حق پر نہیں ہیں، بلکہ یہ کہا۔ اس وقت تبرستان اور دیگر علاقوں میں کچھ لوگوں نے اہل بیت کے نام پر قیام کر رکھا ہے، اگر تمہاری یہ بات ان لوگوں تک پہنچ جائے تو وہ لشکر بنا کر تمہاری جان کے پیچھے پڑ جائیں گے خلیفہ نے جب دیکھا کہ یہ صحیح کہہ رہا ہے تو کہا حکم نامے کا اعلان نہ کیا جائے، یعنی یہ لوگ اپنی حکومت سے ڈرتے تھے۔
اگر عقیدہ قبول بھی کر لیتے تھے تو دنیا اور سلطنت کی محبت خود ان کے اور ان کے قلبی اعتقاد کے درمیان حائل ہو جاتی تھی، یہ کہ ان بزرگواروں نے انتہائی غریب الوطنی کے عالم میں زندگی گزاری ہے حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے کیونکہ مدینہ سے دور خاندان سے اور اپنے وطن سے دور اور ان لوگوں حکمرانوں کے ساتھ ان تینوں اماموں یعنی امام محمد تقی علیہ السلام سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگیوں میں ایک اور نکتہ بھی پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ جتنا ہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کے آخری حصے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔
ان بزرگواروں کی غربت میں اضافہ ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مقابلے میں ان تینوں اماموں کے دور میں تشیّع کا دائرہ تقریباً دس گنا وسیع ہو چکا تھا اور یہ ایک عجیب بات ہے شاید حکمرانوں کی طرف سے انہیں دباؤ میں رکھنے کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا ایران کی طرف سفر اور خراسان آمد بھی اس سلسلے کی کڑی تھی شاید آپ سے جن چیزوں کا محاسبہ کیا گیا وہ یہی چیز تھی کیونکہ اس سے پہلے شیعہ منتشر تھے اور ان کے آپس میں کوئی روابط اور تعلقات نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ ناامیدی کی زندگی گزار رہے تھے اور خلفاء کی حکومت کا دائرہ اقتدار ہر جگہ موجود تھا جبکہ اس سے پہلے ہارون رشید کی فرعونی حکومت تھی۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام جب خراسان کی طرف تشریف لائے تھے تو جہاں جہاں سے آپ کا گزر ہوا وہاں آپ نے لوگوں کو علم، عظمت و بزرگی، صدق و نورانیت کے وہ جوہر دکھائے کہ انہوں نے اس سے پہلے کسی ایسی شخصیت کو دیکھا ہی نہ تھا کیونکہ اس سے پہلے کتنے شیعہ ایسے ہوں گے جنہوں نے خراسان جا کر مدینہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملاقات کی ہوگی لیکن اس طویل سفر کے دوران لوگوں نے لوگوں نے نزدیک سے امام علی رضا علیہ السلام کو دیکھا تو یہ ان کے لیے ایک عجیب بات تھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پیغمبرِ خدا کو دیکھ رہے ہوں، آپ کی وہ ہیبت اور روحانی عظمت، آپ کی عزت، اخلاق، آپ کا تقویٰ، آپ کی نورانیت آپ کا وہ علم کہ جو چاہو پوچھو جواب حاضر ہے، خلاصہ یہ کہ لوگوں نے آج تک کسی ایسی شخصیت کو دیکھا ہی نہیں تھا جس نے لوگوں کے اندر ایک ولولہ پیدا کر دیا ہو امام علی رضا علیہ السلام خراسان کے علاقے مرو پہنچ گئے جو اس دور میں اسلامی حکومت کا مرکز تھا
اور موجودہ ترکمانستان میں واقع ہے، اپنی آمد کے ایک دو سال کے بعد جب آپ کو شہید کر دیا گیا تو آپ کی شہادت سے لوگوں کے دل داغدار ہوئے، جہاں امام علیہ السلام کی تشریف آوری سے لوگوں کو نادیدہ چیزوں کو دیکھنے اور ناشنیدہ باتوں کو سننے کا موقع ملا، وہاں آپ کی مظلومانہ شہادت نے بھی لوگوں کے دلوں پر عجیب قسم کے اثرات مرتب کیے حقیقت میں دیکھا جائے تو ایسا نہیں تھا کہ اس پورے فضا پر تشیّع کا رنگ چھا گیا ہو اور سب کے سب لوگ شیعہ ہو گئے تھے نہیں، بلکہ یہ سب اہلِ بیت علیہ السلام کے چاہنے والے بن گئے تھے۔
پس ایک ایسے ماحول میں شیعہ پھیلے ہوئے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ آپ ملاحظہ کیجیے کہ اسی دوران قم میں اشعری نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہ یہاں کیوں آئے یہ تو عرب ہیں۔ یہ لوگ اچانک قم پہنچے اور انہوں نے علمِ حدیث اور معارفِ اسلامی کا درس و تدریس شروع کر دیا اور قم کو اپنا مرکز بنا لیا اسی طرح شہر رے میں بھی شیخ یعقوب کلینی جیسے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی رازی المعروف شیخ کلینی اصولِ کافی کے مؤلف ہیں۔ انہوں نے تیسری صدی ہجری کے دوسرے اور چوتھی صدی ہجری کے پہلے حصے میں زندگی گزاری ہے اور تین سو انتیس ہجری میں وفات پا گئے۔
اس کے بعد بھی یہ تحریک یوں ہی جاری رہی۔ آپ دیکھیے کہ شیخ صدوق ہرات اور خراسان اور دیگر مقامات تک چلے گئے تاکہ شیعہ احادیث کو جمع کر سکیں ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی المعروف شیخ صدوق کا شمار چوتھی صدی ہجری کے معروف شیعہ فقہاء میں ہوتا ہے۔ آپ تین سو چھ ہجری کو قم میں پیدا ہوئے مکتب تشیع کی کتب اربعہ میں سے دوسری کتاب من لا یحضرہ الفقیہ آپ ہی کی تصنیف ہے۔ اس عظیم الشان عالی قدر فقیہ نے تین سو بیاسی ہجری کو شہر ری میں وفات پائی یہ انتہائی اہم بات ہے کہ شیعہ محدثین خراسان میں کیا کر رہے تھے۔
اسی طرح شیعہ محدثین کا سمرقند میں کیا کام تھا سمرقند میں کون ہیں شیخ عیاشی سمرقندی محمد بن مسعود عیاشی سمرقندی کا شمار تیسری صدی ہجری کے آخر اور چوتھی صدی ہجری کے ابتدائی حصے کے شیعہ علماء اور مفسرین میں ہوتا ہے۔ یہ اسی شہر میں رہتے تھے۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے۔ ان کا گھر شیعہ حضرات علماء اور دانشوروں کا محل اجتماع تھا رجال النجاشی صفحہ 372 یہ بات شیخ کشی کے بیانات میں موجود ہے محمد بن عمر بن عبد العزیز المعروف شیخ کشی جس کی کنیت ابو عمرو ہے جس کا تعلق چوتھی صدی ہجری کے درمیانی حصے کے مشہور و معروف علماء اور علم رجال و حدیث کے اساتذہ اور شیعہ محدثین میں ہوتا ہے شیخ کشی خود سمرقند کے رہنے والے تھے بنابرین امام علی رضا علیہ السلام کی ہجرت اور بعد ازاں آپ کی مظلومانہ شہادت نے یہ کام کر دیا کہ ائمہ اطہار کو ایک ایسا ماحول فراہم ہوا اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے بھی اس ماحول سے بھرپور استفادہ کیا
ائمہ اطہار نے لوگوں کو جو خطوط لکھے ہیں یا ائمہ کے ہاں لوگوں کا جو آنا جانا رہا یہ سب کچھ بغیر کسی پروگرام کے نہیں ہوا بلکہ یہ ائمہ اطہار کی تحریک کی خفیہ سرگرمیوں کا حصہ تھا ورنہ اگر یہ سب کھلے عام ہوتا تو حکومتی کارندے انہیں گرفتار کرتے اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیتے متوکل عباسی جیسا ظالم و جابر شخص جس نے لوگوں کو کربلا جانے سے منع کر رکھا تھا کیا وہ لوگوں کو آرام سے ائمہ علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے مسائل کا حل دریافت کرنے اور آپ کے جوابات سے لوگوں کو مطلع کرنے کی اجازت دیتا کیا وہ لوگوں کو ائمہ علیہم السلام تک اپنے وجوہاتِ شرعیہ کو پہنچانے اور ان کی رسید حاصل کر کے لوگوں تک پہنچانے کی اجازت دیتا یہ تمام باتیں ان تینوں اماموں کی عظیم تبلیغی اور تعلیماتی نیٹ ورک کے وجود کا ثبوت ہیں۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک ایسے ایسے کام ہوتے رہے حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ایسے سامرہ شہر میں جو در حقیقت ایک فوجی چھاؤنی تھا کوئی ایسا بڑا شہر نہ تھا بلکہ ایک نیا دارالحکومت تھا سرّ من رأی دیکھنے والوں کو خوش کرنے والا اس سے مراد سامرہ ہے جہاں پر وزراء، رؤساء اور حکومتی اہلکاروں کے علاوہ اتنے لوگ موجود تھے جن کی حکومتی اہلکاروں کو ضرورت تھی پورے عالم اسلام کے لوگوں سے اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے جب ہم ائمہ معصومینؑ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کرتے تھے۔
وہ صرف نماز روزہ کے مسائل بیان کرنے اور طہارت اور نجاسات کے حوالے سے سوالات کا جواب دینے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اپنے آپ کو لفظ امام کا اصلی مصداق سمجھتے ہوئے لوگوں کے ساتھ گفتگو کیا کرتے تھے میری نظر میں دوسرے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ یہ پہلو زیادہ توجہ کا حامل ہے۔ آپ دیکھیے کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو مدینہ سے سامرہ بلا کر جوانی میں یعنی 42 سال کی عمر میں شہید کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح امام حسن عسکری علیہ السلام 28 سال کی عمر میں شہید کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ائمہ معصومین اور ان کے پیروکاروں اور شیعوں کی تنظیمی سرگرمیاں پوری تاریخ میں جاری رہیں یہی وجہ ہے کہ حکومتی اہلکار ہمیشہ چوکس رہتے تھے۔
لیکن اس کے باوجود ائمہ اطہار اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں یعنی وہ اپنی تمام تر مظلومیت کے باوجود عظمت کے مالک رہے کسی بھی زمانے میں شیعوں کے تعلقات اور پورے عالم اسلام میں شیعہ تنظیم ان تینوں اماموں کے زمانے کی طرح نہیں پھیلی وکلاء اور نوابوں کی موجودگی اور وہ داستانیں جو امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں مثلاً یہ کہ جب کوئی شخص پیسے لے کر آیا تو امام نے معین کر دیا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ وہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں یعنی سامرہ میں ان دونوں اماموں امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہ السلام محکوم ہونے کے باوجود اور اسی طرح ان سے پہلے امام محمد تقی اور امام علی رضا علیہ السلام کے بھی لوگوں کے ساتھ گہرے تعلقات موجود تھے۔
یہاں تک کہ امام علی رضا علیہ السلام سے پہلے بھی روابط اور تعلقات تو موجود تھے لیکن امام علی رضا علیہ السلام کے خراسان تشریف لانے سے ان تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہو گئی۔ ہمارے ائمہ علیہم السلام نے ڈھائی سو سال تک حکومت جس حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ ان پر مظالم ڈھائے گئے ہیں۔ لہٰذا ان کا حق بنتا ہے کہ ان کی مظلومیت پر گریہ کیا جائے اور آنسو بہائے جائیں کیونکہ ان کی مظلومیت نے لوگوں کے دلوں اور جذبات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
لیکن انہوں نے اپنی مظلومیت کے باوجود فتح حاصل کی ہے۔ ان میں سے ہر ایک امام نے اپنے مد مقابل پر غلبہ حاصل کیا ہے۔