امام مہدیؑ (عج)

امام مہدیؑ (عج)

ڈھائی سو سالہ انسان
امام مہدیؑ (عج)

امام مہدیؑ (عج)

ہجری ۲۵۵

حصہ 3 از 3

تحریک کا مقصد شروع ہوتا ہے

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

ہمیں اپنے معاشرے کے اندر کسی بھی صورت میں غیر اسلامی بلکہ اسلام مخالف سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دینا چاہیے لیکن یہ زور اور طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ فکر و حکمت، عملی اور تدبر کے ذریعے کیوںکہ غور و فکر اور تدبر کے بغیر غیر اسلامی سوچ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ عقل اور منطق کی روشنی میں ہی اسلامی فکر کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے لہٰذا ہماری حکومت کے تمام قوانین کا مکمل طور پر اسلامی احکام کے عین مطابق ہونا ضروری ہے صرف یہی نہیں بلکہ ہر روز انہیں اسلامی بنانے کی کوششیں جاری رہنی چاہیے یہی وہ سمت اور جہت ہے کہ جس کی طرف حضرتِ ولی عصر کا انتظار ہمیں کھینچ رہا ہے جیسا کہ ہم دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں کہ حضرتِ امام زمانہ علیہ السلام فسق و فجور ظلم و عدوان اور نفاق سے مقابلہ کریں گے اور نفاق، طغیان، افتراق اور انتشار اور دوزخی پالیسی کو ان کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے تو آج ہمیں بھی اپنے معاشرے میں ان تمام برائیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنا ہوگا یہی وہ کام ہے

جو معنوی لحاظ سے ہمیں حضرتِ امام زمانہ علیہ السلام کے نزدیک کر سکتا ہے اور ہمارے معاشرے کو اس مہدوی، علوی اور توحیدی معاشرے کے قریب کر سکتا ہے موجودہ زمانے کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے اور اس سے جو نتیجہ ہم اخذ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں سے مایوسی اور نا امیدی کو نکالتے ہوئے ان کے دلوں میں امید کی کرنیں روشن کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا جہاد مؤثر اور نتیجہ بخش ہے کبھی کبھار بعض ایسے لوگ جو اسلامی فکر کے اس پہلو سے ناواقف ہیں وہ دنیا کی ان عظیم مادی ترقی کے مقابلے میں حیرت زدہ ہو کر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ سوچنے لگتے ہیں کہ آخر دنیا کی ان سپر طاقتوں کا جو جدید ٹیکنالوجی اور ایٹم بم جیسے مہلک ہتھیاروں سے لیس ہیں اگر کسی ملک میں کتنا ہی بڑا انقلاب آ جائے بھلا کیونکر مقابلہ کیا جا سکتا ہے لہذا وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ان استکباری طاقتوں کا مقابلہ کرنے سے یکسر قاصر ہیں۔

لیکن عقیدہِ مہدویت پر ایمان اور حضورؐ کی پاکیزہ ذریت سے وابستہ ایک شخص کے ہاتھوں دنیا میں عالمی اسلامی حکومت کے قیام کا عقیدہ انسان کے اندر امید کی کرن روشن کر دیتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے نہیں جناب ہم ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ آنے والا دور ہمارا ہے کیونکہ بالآخر ایسا ہونا ہی ہے کہ دنیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے گی اور یہ ہو کر رہے گا کیونکہ تاریخ کا رخ بھی اسی سمت گامزن ہے جس کی بنیاد آج ہم نے رکھ دی ہے اور اس کا ایک نمونہ پیش کر دیا ہے اگرچہ ہمارا یہ نمونہ ناقص ہے یہ امید اگر مجاہد اقوام کے دلوں میں زندہ ہو جائے بالخصوص مسلمان اقوام کے دلوں میں تو ان کے اندر بھی ایک ایسا نیا ولولہ اور جوش پیدا ہو جائے گا کہ کوئی بھی طاقت انہیں میدان جنگ میں قدم رکھنے سے باز نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی انہیں نفسیاتی یا ظاہری طور پر شکست دے سکتی ہے یہاں پر ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ تاریخ میں ایک طویل عرصے تک مسلسل غلط پروپیگنڈوں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی گئی تھی کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کسی بھی قسم کی اصلاحی تحریک چلانا فضول اور بے فائدہ ہے اور وہ اپنے اس دعوے کی دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمیں دنیا کو ظلم و جور سے پر ہونے دینا چاہیے

کیونکہ جب تک دنیا ظلم و جور سے پر نہیں ہوگی امام کا ظہور نہیں ہوگا وہ کہتے تھے کہ امام اس وقت ظہور فرمائیں گے جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی یہاں پر ایک نکتہ قابل غور ہے کہ ان تمام روایات جن میں حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور سے متعلق گفتگو کی گئی ہے ایک جملہ ملتا ہے اللہ تعالی حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی الکافی جلد 1 صفحہ 341 کسی ایک روایت میں بھی میں نے نہیں دیکھا کہ یہ جملہ اس طرح آیا ہو اسی نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بہت ساری احادیث کو ٹٹولا اور مختلف ابواب میں تحقیق کی لیکن کسی بھی جگہ یہ روایت بعدہ ما ملئت ظلم و جوراً کے الفاظ کے ساتھ نہیں ملی بلکہ ہر جگہ کما ملئت ظلم و جوراً یعنی حضرت امام مہدی علیہ السلام دنیا کو عدل و انصاف سے پُر کر دیں گے۔

اس کے بعد نہیں ہے کہ دنیا ظلم و ستم اور جور سے بھری ہوئی ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پوری تاریخ بشریت میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ اسی طرح ایک زمانے میں نہیں بلکہ مختلف زمانوں میں دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہے جیسے فرعونی طاغوتی ریاستیں اور دیگر ظالم و جابر سلطنتوں کے دور میں پوری دنیا پر کئی مرتبہ اس طرح کے ظلم و ستم کہ بادل چھا چکے ہیں اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا تھا کسی جگہ بھی نور کا کوئی وجود نہیں تھا جو عدل اور دادگستری کے علامت ہو پس اس دنیا نے اپنی تاریخ میں ایسے ایام کو دیکھا ہے تو اب ایک ایسا دن بھی دیکھے گی کہ دنیا کا گوشہ گوشہ نور اور عدل و انصاف سے پر ہو جائے گا کوئی ایک جگہ بھی ایسی نہیں ہوگی جہاں عدل کا نور نہ ہو اسی طرح کوئی ایک جگہ بھی نہیں ہوگی جہاں ظلم و ستم کا کوئی نام و نشان موجود ہو یعنی دنیا کا کوئی ایسا علاقہ نہیں ہوگا

جہاں ظلم و ستم نام کی کوئی چیز باقی رہ جائے جہاں کوئی شخص ظلم و ستم کی چکی میں پس رہا ہو اور نہ کوئی ایسی حکومت ہوگی جو لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا سکے اور نہ ہی انفرادی طور پر کوئی ایسا ڈکٹیٹر ہوگا جو کسی کو دبانے کی جرات کر سکے اور نہ ہی طبقاتی نظام کا کہیں کوئی نام و نشان ہوگا یعنی آج دنیا کے بیشتر علاقوں میں لوگ ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں یقینا ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ دنیا کے تمام لوگ ظلم و بربریت کا نشانہ بن جائیں گے اور پھر اس کے بعد حالات یکسر بدل جائیں گے اور ہر طرف عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا آج انقلاب اسلامی کی بدولت جس کا بنیادی مقصد بھی دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کرنا ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عظیم انقلاب اپنے مقصد اور ہدف کے بہت ہی قریب ہو چکا ہے اسلامی انقلاب کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وعدہ الہی تاخیر کا شکار نہیں ہوا ہے

بلکہ اس کی آمد پہلے سے کہیں زیادہ نزدیک اور متوقع ہو چکی ہے اور انتظار کے معنی بھی یہی ہیں پس انتظارِ فرج یعنی قرآن اور اسلام کی حاکمیت کا قیام آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے یقیناً آپ لوگ اس سے مطمئن نہیں یہاں تک کہ انقلاب اسلامی کے بعد ترقی کے اتنے سارے مراحل طے کر چکے ہیں اس پر بھی راضی نہیں ہے بلکہ قرآن اور اسلام کی حاکمیت کے اور نزدیک ہونے کی خواہش مند ہیں اور انتظارِ فرج اسی کو کہتے ہیں یعنی انسانی کارکردگی اور عمل کے اوجِ کمال اور آسودگی کا نام انتظار ہے آج پوری بنی نوع انسان مختلف مشکلات اور پیچیدگیوں میں گرفتار ہے آج آئے دن انسانوں پر مادی تہذیب کو مسلط کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں یہ بھی ایک مشکل ہے۔

اسی طرح آج دنیا میں رائج طبقاتی نظام سے بھی انسان پریشان ہے یقیناً یہ بھی ایک بہت بڑی مشکل ہے آج دنیا کی سپر طاقتیں اور سازشی عناصر اپنے غلط پروپیگنڈوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک انقلابی ملت کی صدائے عدالت خواہی کو دبانے کی کوششیں کر رہی ہیں یہ بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے آج افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا میں بسنے والے کروڑوں مستضعف اور مختلف رنگوں کے لوگ طبقاتی نظام کی وجہ سے پسے جا رہے ہیں اور ان کی امید بھری نظریں ایک فریاد رس اور نجات بخش انسان کی ذات تک رہی ہیں لیکن دنیا کی سپر طاقتیں اس صدائے نجات بخش کو ان کے کانوں تک پہنچنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے یہ بھی ایک گرہ ہے اور انتظار فرج کے معنی ان تمام گرہوں کو کھولنا ہے لہٰذا اپنی نظر کو وسیع کیجئے اسے اپنے گھر کی چار دیواری تک محدود مت کیجئے آج پوری عالم انسانیت فرج اور کشادگی کی منتظر ہے لیکن وہ فرج اور کشادگی کی راہوں سے نابلد ہے ملت اسلامیہ کو چاہیے کہ اپنی منظم جد و جہد کو جاری رکھتے ہوئے اس انقلاب اسلامی کے تسلسل کے ذریعے اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کو چاہیے کہ اپنی منظم جد و جہد کو جاری رکھتے ہوئے اس انقلاب اسلامی کے تسلسل کے ذریعے اپنے آپ کو اور پوری انسانیت کو آہستہ آہستہ اس عالمی انسانی کشادگی کے قریب کریں اور مہدی موعود کے ظہور اور اس عالمی اسلامی انقلاب کے نزدیک کرنے کی کوشش کریں جو پورے عالم انسانیت میں وقوع پذیر ہوگا اور ان تمام گرہوں کو

کھولے گا اسی کو انتظار فرج کہتے ہیں اس راہ میں خداوندِ عالم کا لطف و کرم اور حضرت ولیِ عصر کی مستجاب دعائیں ہمارے ساتھ ساتھ ہیں ہمیں چاہیے کہ ان کی معرفت حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے نزدیک کریں اور اپنے زمانے کے امام کو فراموش نہ کریں ہماری مملکت در حقیقت حضرت امام زمانہ علیہ السلام ہی کی مملکت ہے اسی طرح ہمارا انقلاب بھی حضرت امام زمانہ کا انقلاب ہے کیونکہ یہ بھی اسلام کے نام پر ہی برپا ہوا ہے لہذا ہمیشہ اپنے دلوں کو حضرت ولی اللہ الاعظم کی یادوں سے منور کیجئے اور دعا "اے پروردگار ہم دولتِ کریمہ کے زیر سایہ اپنی زندگی گزارنے کے مشتاق ہیں" الکافی دعائے افتتاح جلد 3 صفحہ 424 پورے دل و جان اور راز و نیاز سے تلاوت کیجئے اور اپنی روح اور جسم دونوں کے ذریعے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا انتظار کیجئے یاد رکھیں اس انقلاب کی کامیابی اور مضبوطی کے لیے اٹھایا جانے والا آپ کا ایک ایک قدم آپ کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے قریب کر دیتا ہے آج یہ جو حکومت آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے یہ پچھلے ہزاروں سالوں سے اللہ کے نیک اور مومن بندوں کی خواہش اور ان کے دلوں کی آواز ہے ہمارے سارے ائمہ طاہرین علیہ السلام نے اسی راہ میں جد و جہد کی ہے تاکہ معاشرے میں خدا کی حاکمیت کو قائم کرتے ہوئے قوانینِ الہی کا نفاذ کر سکیں اور اس سلسلے میں بہت ساری کوششیں ہوئی ہیں اور رنج و الم برداشت کیے ہیں جیلوں میں گئے ہیں جلا

وطنیاں کاٹی ہیں اور یہاں تک کہ بہت سی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور آج تمہیں یہ موقع ملا ہے جس طرح بنی اسرائیل کو کئی صدیوں کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں موقع ملا تھا اے ملت اسلامیہ اور اے ایران کی مجاہد قوم آج آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے اس کی قدر کو سمجھو اور اپنی حفاظت کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی شامل حال ہو اور یہ حکومت حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عظیم عالمی حکومت سے ملحق ہو جائے یہ وہ راستہ ہے جسے آپ ایران کی عزیز ملت نے اپنایا ہے آج بھی اسی پر گامزن ہے اور انشاءاللہ آئندہ بھی خدا کی توفیق سے اسی راستے پر آگے بڑھتی رہے گی یہ وہی راستہ ہے جس کو خوش قسمتی سے آج ہم دیکھ رہے ہیں دنیا کی گوشہ و کنار میں بسنے والی مسلمان قومیں کشاں کشاں اسی سمت پر گامزن ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "ان الارض للہ یورثھا من یشآء من عبادہ والعاقبت للمتقین" "زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے

وارث بناتا ہے اور انجام کار بہرحال صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے" سورہ اعراف آیت 128 پس اگر ہم تقویٰ کو اپنے عمل کا شیوہ قرار دیں تو یقیناً کامیابی ملت اسلامیہ کا مقدر ہو کر رہے گی اور اس طرح کا درخشاں مستقبل کوئی زیادہ دور نہیں ہے بلکہ عنقریب حاصل ہونے والا ہے آخر میں ایک اور نکتے کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کو روحانی، معنوی اور جذباتی طور پر اپنے زمانے کے معصوم امام کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ہمیں چاہیے کہ اس مسئلے کو فکری اور روشن فکری کے انداز میں تجزیہ اور تحلیل کرنے کی حد تک محدود نہ رکھیں خدا کے یہ برگزیدہ امام آج ہم انسانوں کے درمیان موجود ہیں وہ دنیا کے کسی ایک خطے میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے وہ بالکل موجود ہیں وہ دعا کرتے ہیں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں احکامِ الہی بیان فرماتے ہیں رکوع کرتے ہیں سجدہ کرتے ہیں۔

خدا کی عبادت کرتے ہیں وہ لوگوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں لوگوں کی مدد فرماتے ہیں وہ خارجی وجود رکھتے ہیں وجود عینی کے حامل ہیں لیکن ہم انہیں پہچان نہیں سکتے پس اللہ کا یہ منتخب اور برگزیدہ بندہ ہمارے درمیان موجود ہے ہمیں چاہیے کہ اجتماعی اور سیاسی حیثیت کے علاوہ الحمدللہ ہمارا موجودہ نظام انشاء اللہ امام زمانہ کی خواہش کے مطابق ہے انفرادی، شخصی اور قلبی طور پر بھی اپنے آپ کو ان سے وابستہ رکھیں اور مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں یعنی معاشرے کے ایک ایک فرد کو چاہیے کہ وہ حضرتِ ولی عصر کے ساتھ متوسل ہو آپ کی معرفت حاصل کرے آپ کے ساتھ راز و نیاز کرے آپ کو سلام بھیجے اور آپ کی یاد اور آپ سے رابطہ رکھنے کو اپنا فرض سمجھے اور آپ کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کرے جیسا کہ ہم روایات میں پڑھتے ہیں کہ "اللہم کن لولیک" یہ ایک ایسی دعا ہے جو اکثر روایات میں آئی ہے اسی طرح وہ زیارات جو کتابوں میں درج ہیں جن کی ہم تلاوت کرتے رہتے ہیں

کیونکہ یہ تمام زیارتیں جہاں ہمارے لیے فکری طور پر آئمہ علیہ السلام کی معرفت اور آگہی کا سبب ہیں وہاں معنوی ، قلبی، جذباتی اور احساساتی طور پر بھی تقویت کا سبب بنتی ہیں لہٰذا ہمیں ان زیارتوں کی تلاوت کرتے رہنا چاہیے۔ ہمارے بچے، ہمارے جوان، مملکت کی سرحدوں کی حفاظت پر تعینات ہمارے مجاہدین حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی یاد اور ان سے توسل سے قوت حاصل کرتے ہیں اور اپنے اندر تازگی اور شادابی کا احساس کرتے ہیں۔ یہ جس شوق سے گریہ کنا ہوتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے اشک بہاتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ اپنے دلوں کو اپنے زمانے کے امام کے قریب کرتے ہیں اسی طرح وہ اپنے آپ کو اللہ سبحانہ و تعالی اور حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے لطف و کرم اور عنایت کے حقدار بناتے ہیں اور ایسا کرنا بہت ضروری ہے "اے امام زمانہ" "اے اس ملت کے محبوب مہدی موعود" "اے انبیاء کی پاک و پاکیزہ نسل کے" "وارث اور اے تمام عالمی توحیدی" "انقلابات کے وارث اس ملت نے" "آپ ہی کی یاد اور آپ ہی کے نام سے" "اس انقلاب کا آغاز کیا ہے"

"اور اپنی زندگی اور اپنے وجود میں" "آپ کے لطف و کرم کی یادوں کو بسا رکھا ہے" "اے خدا کے نیک اور صالح بندے" "آج ہماری ملت کو آپ کے پاک و پاکیزہ دل" "اور روحِ قدس سے نکلنے والی دعاؤں کی" "ضرورت ہے آپ اس ملت اور اس" "انقلاب کی کامیابی کے لیے دعا کیجئے" "اور اپنے ان طاقتور ہاتھوں کے ذریعے" "جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے" "اس ملت اور اس انقلاب کی مدد کیجئے" "میرے لیے یہ انتہائی سخت مرحلہ ہے کہ" "خدا کی تمام مخلوقات کو دیکھوں" "لیکن آپ کی زیارت سے محروم رہوں" "بحار الانوار جلد 99 صفحہ 108" "اے امام زمانہ ہمارے لیے یہ بہت گراں ہے" "کہ ہم اس دنیا میں جو اللہ کے نیک" "اور برگزیدہ انسانوں کے لیے مخصوص ہے" "اللہ کے دشمنوں کو دیکھیں اور ان کے" "آثار کو محسوس کر سکیں لیکن آپ کی زیارت" "اور فیضِ وجود سے محروم رہیں" "اے پروردگار تجھے قسم ہے محمد و آل محمد کی" "ہمارے دلوں کو ہمیشہ" "حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی یاد سے" "منور فرما" "اے پروردگار ہماری آنکھوں کو" "حضرت ولی عصر کے جمال سے پرنور فرما" "اے پروردگار خدا کے اس لشکر" "اور ان انسانوں کو جنہوں نے تیری راہ میں" " جد و جہد کی ہے امام زمانہ علیہ السلام کے سپاہیوں "اور ان کے جانبازوں میں سے قرار دے" "پروردگارا محمد و آل محمد کے صدقے میں" "اپنے ولی حضرت امام عصر علیہ السلام" "کے دل کو ہم سے راضی اور خوشنود فرما" "اور ہم سب کو آپ سے متوسل" "اور آپ کی طرف متوجہ رہنے والوں میں سے قرار دے"

"اے پروردگار محمد و آل محمد کی" "حرمت کے واسطے حضرت امام زمانہ علیہ السلام" "کے ظہور اور اس الہی حکومت" "کے قیام کو نزدیک سے نزدیک تر فرما" "اے پروردگار ہمیں اس نومولود نظام کو" "جو اسلام کے نام سے وجود میں آیا ہے" "حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی" "حکومت سے مشابہ بنانے کی توفیق" "عطا فرما اے پروردگار! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" "اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں " "ہمیں ہر حال اور ہر کام میں قائم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں اور ان کے چاہنے والوں میں سے قرار دے۔"

ڈھائی سو سالہ انسان