امام مہدیؑ (عج)

امام مہدیؑ (عج)

ڈھائی سو سالہ انسان
امام مہدیؑ (عج)

امام مہدیؑ (عج)

ہجری ۲۵۵

حصہ 2 از 3

تحریک کا مقصد شروع ہوتا ہے

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

اس معاشرے میں لوگ دینی مسائل کو آسانی سے سمجھ لیں گے اور یہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ انبیائے الٰہی کے بڑے اہداف میں سے ایک ہے جیسا کہ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ذلالت اور گمراہی کی تاریکی کی وجہ سے کُفر کے پردوں میں چھپے ہوئے عقل کے دفینوں کو پردوں سے باہر نکالا اور ان سے استفادہ کیا نہج البلاغہ، خطبہ 1 یعنی ہمارے ہاں روایتوں میں آیا ہے کہ جب حضرت امام علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو اس وقت گھریلو عورتیں بھی اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے قرآن کھول کر اس میں سے دین کے حقائق کو استخراج کریں گی اور انہیں سمجھ لیں گی، اس کا کیا مطلب ہے؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت لوگوں کی دینی اور اسلامی سوچ کا معیار اتنا بلند ہوگا کہ معاشرے کے تمام لوگ یہاں تک کہ وہ گھریلو عورتیں جن کا معاشرے سے کوئی زیادہ سروکار نہیں رہتا وہ بھی اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے فقہ کے ماہر ہوں گی دین کے ماہر ہوں گی وہ قرآن کھول کر دین کے حقائق کو خود قرآن سے اخذ کر سکیں گی آپ غور فرمائیں جس معاشرے کے تمام افراد مرد، عورتیں قرآن مجید کو سمجھتے ہوں اور اس سے استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ معاشرہ کتنا نورانی ہوگا جس میں جہالت اور تاریکی کا کوئی عنصر نہیں پایا جاتا ہے تو پھر ایسے معاشرے میں آج کی طرح کے مختلف طرزِ تفکر اور طرزِ زندگی کا وجود بھی ہرگز نہ ہوگا تیسری خصوصیت حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی قائم کردہ معاشرے یا دوسرے لفظوں میں مہدوی معاشرے کی تیسری خصوصیت یہ ہوگی کہ اس دور میں تمام انسانی توانائیاں اور زیر زمین موجود ذخائر ظاہر ہو جائیں گے زمین کے اندر ایسی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی جس سے انسان استفادہ نہ کر سکتا ہو سارے قدرتی وسائل ساری زمینیں انسان کو غذائی اجناس فراہم کر سکیں گی اسی طرح زیر زمین موجود وہ تمام قدرتی وسائل جو کئی صدیوں تک لوگوں کے لیے کشف نہ ہوئے تھے جیسے ایٹم اور دیگر الیکٹرک ذرائع یہ چیزیں کئی صدیوں گزرنے تک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ تھیں

اور انسان ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن بعد میں آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی گئیں اس قسم کے بے شمار قدرتی وسائل جو اب بھی انسانی نظروں سے پوشیدہ ہیں وہ سب حضرت مہدی علیہ السلام کے دور میں آشکار ہو جائیں گے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قائم کردہ معاشرے کی دیگر خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ اس دور میں عزت اور احترام کا معیار اور محور اخلاقی فضیلت ہوگا یعنی جو زیادہ با اخلاق اور با تقویٰ ہوگا وہ زیادہ عزت اور احترام کا حقدار ہوگا ایک اور روایت میں آیا ہے ہمارا قائم اپنے رعب اور دبدبے کے ذریعے منصور ٹھہرے گا اور حق تعالیٰ کی مدد اور نصرت ان کے شامل حال رہے گی زمین کی بساط آپ کے سامنے لپیٹ دی جائے گی زیر زمین چھپے ہوئے خزانے اپنے آپ کو حضرت کے سامنے ظاہر کریں گے اور آپ کی سلطنت کی سرحدیں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہوں گی کمال الدین و تمام النعمہ صفحہ 331 یعنی ہمارا قائم اپنے رعب اور دبدبے کے ذریعے منصور ٹھہرے گا

اور ظالم و جابر حکومتیں اور طاغوتی سلطنتیں آپ سے مرعوب ہوں گی یہ وہ چیز ہے جس کی ایک ہلکی سی جھلک آج آپ اپنی مملکت میں مشاہدہ کر رہے ہیں ہماری حکومت جو اس عالمی حکومت اسلامی کی ایک چھوٹی سی کرن ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ ہماری حکومت اس بحرِ بیکراں اور عظمتِ الہی کے ایک قطرے کی مانند ہے اس نے آج دنیا کے ظالم و جابر اور استکباری طاقتوں پر جو رعب و دبدبہ ڈالا ہے وہ خود ہماری کامیابی کا باعث بنا ہے آج دنیا کی استکباری طاقتیں اسلامی جمہوریہ سے، ہمارے انقلاب ہماری ملت اور ہمارے نظام سے ڈرتی ہیں اسی ڈر اور خوف ہی کی وجہ سے وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتی نظر آتی ہیں کہ دنیا کے ظالم اور مستکبروں کے سامنے مزاحمت کرنے والی اس حکومت کو ختم کریں لیکن ان کی کوششوں کے برخلاف جیسا کہ آپ مشاہدہ کر رہے ہیں دنیا کے سیاسی میدان میں اسلام اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں حضرتِ ولی عصر کی حکومت ہمہ گیر اور عمومی ہونے کے ناطے پورے عالم میں اس کی سرحدیں پھیلی ہوئی ہوں گی موئید بن نصر تائید و توفیقِ الہی ہمیشہ اس کے شاملِ حال رہے گی زمین کی بساط آپ کے سامنے لپیٹ دی جائے گی یعنی پوری کائنات کا اختیار اور اس پر حقِ تسلط حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا ہوگا زیر زمین پوشیدہ خزانے آپ کے سامنے ظاہر ہوں گے اور آپ کی حکومت کی سرحدیں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہوں گی اس کے چند جملوں

کے بعد فرماتے ہیں زمین کا کوئی حصہ ویران نظر نہیں آئے گا مگر یہ کہ وہ قابل استفادہ اور آباد ہوگا کمال الدین و تمام النعمہ صفحہ 321 یعنی امام کو یہ جو طاقت ملے گی آپ اسے دنیا کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں گے نہ کہ لوگوں کے حقوق اور منافع غصب کرنے اور انہیں کمزور کرنے پر صرف کریں گے اس زمانے میں دنیا کے کسی کونے میں بھی کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی جو ویران اور غیر آباد ہو یعنی ہر جگہ آباد ہوگی چاہے وہ ویرانی اور خرابی انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں ہوئی ہو یا انسانوں کی جہالت کی وجہ سے اس جگہ کو ویران کیا گیا ہو اس سلسلے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی گئی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں جب حضرت قائم ظہور کریں گے تو سخاوت اور فیاضی اس طرح عام ہوگی کہ لوگ بغیر پوچھے اپنے دوستوں کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنی ضرورت کے مطابق پیسے نکال لیں گے اور وہ برا نہیں مانیں گے

وسائل الشیعہ جلد 5 صفحہ 121 جب ہمارے قائم قیام کریں گے اس وقت کوئی بھی ضرورت مند شخص اپنے برادر مومن کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق رقم نکال لے گا۔ وہ اسے منع نہیں کرے گا۔ یہ حدیث اس وقت کے انسانوں کے درمیان بھائی چارگی کی فضا اور مساوات و برابری کی طرف اشارہ کرتی ہے ایثار و قربانی کے انسانی جذبے کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح بخل و کنجوسی اور حرص و لالچ جیسی بیماریوں سے بنی نوع انسان کی رہائی اور نجات کی طرف اشارہ ہے یقیناً انسان کی بدبختی کی ابتداء ہی بخل و لالچ جیسی قلبی و روحانی بیماریوں سے ہوئی ہے گویا یہ ایک خاص کیفیت اور حالت جس کا اس وقت کے معاشرے میں بول بالا ہوگا کے متعلق بشارت اور خوشخبری ہے انسان اپنے بھائی کی جیب سے بغیر پوچھے اپنی ضرورت کے مطابق رقم نکال لے گا اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوگا۔

یہ بات اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت نظامِ اسلامی مکمل طور پر نافذ العمل ہوگا اور معاشرہ اخلاقی اقدار کے اوجِ کمال کو پہنچ چکا ہوگا یعنی اس وقت زبردستی اور مجبوری نام کی کوئی چیز ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی تمام انسان بخل، کنجوسی اور حرص جیسی روحانی غلاظتوں سے پاک و منزہ ہو چکے ہوں گے اور دنیا میں جیتے جی گویا بہشتی کرامات اور رحمتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ چنانچہ ایک اور روایت میں ارشاد ہوتا ہے۔ ہمارے قائم کے ظہور کے بعد زمینوں سے خراج کا سلسلہ ختم ہو چکا ہوگا اور کوئی زمین خراجی نہیں کہلائے گی جامع احادیث الشیعہ ضمیمہ 23 صفحہ 1012 دنیا کی استکباری حکومتیں ہمیشہ اپنے دوستوں اور حامیوں کو تُحفہ تحائف سے نوازتی ہیں اور حاتم تائی بن کر عوام کا مال لوگوں میں تقسیم کرتی رہتی ہیں۔

ان تمام لوگوں کی دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی قطعہ کی گزشتہ زمانوں میں کوئی اور شکل و صورت تھی۔ لیکن آج کل اس کا انداز بدل چکا ہے گزشتہ زمانے میں بھی اس کی ماہیت یہ تھی کہ کوئی بادشاہ یا حاکم زمین کے کسی ٹکڑے کسی صحرا کسی دیہات کسی شہر اور کبھی تو ایک پورے صوبے کو کسی ایک شخص کے حوالے کر دیتا تھا اور اس سے کہتا تھا کہ جاؤ وہاں جا کر جو کرنا چاہو کرو وہاں کے لوگوں سے مالیات اور کھیتی باڑی سے استفادہ کرو جو بھی مالی فائدہ ہوگا وہ تمہارا ہوگا ہاں بس اس میں سے بادشاہ سلامت کا حصہ بھجوا دینا لیکن آج اس کی شکل و صورت بدل چکی ہے آج کے حکمران لوگوں سے رشوتیں لے کر پیٹرولیم مصنوعات، تجارتی منڈیاں اور بڑے بڑے کارخانے بخش دیتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص اس جیسی کمپنی یا کاروبار نہیں کر سکتا لہذا آج قطعہ انحصار طلبی یعنی لمیٹڈ کی صورت میں تبدیل ہو چکی ہے آج کے دور کی انحصار طلبی بھی حقیقت میں قطعہ ہی کے حکم میں آتی ہے کیونکہ یہ چیزیں حکمرانوں کے ساتھ مک مکا اور رشوت دے کر یا رشوت لے کر حاصل کی جاتی ہیں۔

لیکن حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت اس طرح کے انسان کش مظالم اور اخلاقی پستیوں اور رذائل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اور مملکت اور سلطنت کے وسائل سے لوگ یکساں مستفید ہوں گے ایک اور روایت میں اس زمانے کے اقتصادی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے مالی اور اقتصادی حوالے سے لوگوں کے درمیان اس طرح مساوات اور برابری قائم کی جائے گی کہ ڈھونڈنے سے بھی کوئی ایسا غریب اور نادار شخص آپ کو نہیں ملے گا کہ جس کو آپ اپنے مال کی زکوٰۃ دے سکیں۔ پس اس دور میں زکوٰۃ کو مصارف عمومی پر خرچ کیا جائے گا اور فقراء کو نہیں دیا جائے گا کیونکہ زکوٰۃ دینے کے لئے کوئی فقیر ملے گا ہی نہیں بحار الانوار جلد 52 صفحہ 390 اس قسم کی روایات موجود ہیں جو اسلامی بہشت اور دنیا واقعی کی تصویر کشی کرتی ہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے مدینہ فاضلہ کے نام سے اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار کیا ہے

تو یہ باتیں من گھڑت اور خیالات اور توہمات پر مبنی نہیں ہیں بلکہ یہ باتیں تو اصل اسلامی نعرے اور شعار اسلامی کی جھلکیاں ہیں البتہ یہ ساری باتیں عملی طور پر ہو کر رہیں گی چنانچہ ہم اسلامی جمہوری حکومت میں اس بات کا بخوبی احساس کر رہے ہیں کہ کوئی ماورائے طبیعت قدرت حتماً کار فرما ہے اور کوئی فکر اور نظریہ ضرور ایسا ہے جو تائید خداوندی اور وحی الہی سے متصل ہے۔ ایک معصوم انسان یقیناً اس طرح کے نظام کو بحال کر سکتا ہے اور فطری طور پر بشریت بھی اس طرح کے نظام کی تائید اور اس کا استقبال کرے گی یہ اس وقت کی دنیا کی ایک ہلکی سی جھلک اور تصویر خاکہ ہے اب اگر آپ آیات اور احادیث کا مطالعہ کریں البتہ محققین اور دانشور حضرات یقیناً مطالعہ کر چکے ہیں تو آپ کو اور بھی بہت ساری خصوصیات نظر آئیں گی۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کا کوئی وجود نہ ہو جہاں لوگوں کے دینی اور علمی ماحول قربانی، بھائی چارگی، مہربانی، برابری اور مساوات پر مبنی ہو ایک ایسے معاشرے کا آپ اپنے ذہن میں تصور کیجئے یہ وہ معاشرہ ہوگا جسے حضرت مہدی موعود اور ہمارے زمانے کے امام اور ہمارے دیرینہ محبوب جو اس وقت بھی اس آسمان تلے اور روئے زمین پر ہمارے اور آپ کے درمیان موجود ہیں تشکیل دیں گے اور اسے آگے بڑھائیں گے یہ امامِ زمانہ علیہ السلام سے متعلق ہمارا عقیدہ ہے ہم ملت ایران نے بھی ایک انقلاب برپا کر دیا ہے ہمارا یہ انقلاب در حقیقت اس عظیم ہدف اور انقلاب کا پیش خیمہ، مقدمہ اور اس راہ میں ایک بڑا اقدام ہے جس انقلاب کو برپا کرنے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے حضرت ولی عصر تشریف لائیں گے۔

اگر ہم نے یہ اقدام نہ اٹھایا ہوتا تو یقیناً حضرت ولی عصر کا ظہور تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے آپ ملت ایران شہداء کے والدین جو اپنے بیٹوں کی جدائی کا داغ سہ رہے ہیں اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے اس عرصے میں زحمتیں اور مشقتیں برداشت کی ہیں یہ یاد رکھیں کہ آپ لوگ انسانیت کی اس ہیجان آور تحریک کو اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں کرنے اور حضرت ولی عصر کے ظہور میں تعجیل کا سبب بنے ہیں آپ لوگوں نے اس بار کو اپنی منزل سے ایک قدم قریب کر دیا ہے اس انقلاب کے ذریعے ایک بہت بڑی رکاوٹ یعنی ظلم و استبداد پر مبنی شاہی حکومت جو اس مملکت میں قائم تھی اور جس نے ایک خطرناک قسم کے وبائی مرض اور کینسر کی شکل اختیار کرلی تھی کہ قلع قمع کرتے ہوئے اسے جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے اب اس کے بعد ہم کیا کریں اس کے بعد ہماری ذمہ داریاں واضح ہیں سب سے پہلے تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ جس طرح ہمارے اس انقلاب کی بدولت ظہور حضرت ولی عصر ایک قدم قریب ہو گیا ہے۔

اسی طرح اس انقلاب کے ذریعے امام زمانہ علیہ السلام کی ظہور کو مزید قریب سے قریب تر کیا جا سکتا ہے یعنی جن لوگوں نے انقلاب برپا کر دیا ہے انہوں نے اپنے اس اقدام کے ذریعے اپنے آپ کو اپنے زمانے کے امام کے قریب کیا ہے وہی لوگ خود کو اپنے زمانے کے امام کے مزید قریب کر سکتے ہیں لیکن وہ کیسے سب سے پہلے یہ کہ جس قدر اسلامی اقدار کو ہم نے ایران میں نافذ کر دیا ہے بغیر کسی مبالغے کے یہی مکمل اسلام تو نہیں ہے لیکن اس کے ایک حصے کو نافذ کرنے میں یہ ملت کامیاب ہوئی ہے اس مقدار کو کم از کم پورے عالم کے گوشہ و کنار اور ان دوسرے ممالک تک پھیلانے کی کوشش کریں جہاں جہالت اور تاریکی چھائی ہوئی ہے اور جس حد تک اس سلسلے میں کوشش کریں گے۔

ہم اتنا ہی حضرت ولی عصر کے ظہور میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے دوسرا یہ کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قریب ہونے کا مطلب زمان یا مکان کے لحاظ سے قریب ہونا نہیں ہے یعنی اگر آپ ظہور امام مہدی علیہ السلام کے قریب ہونا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں کہ ظہور کا کوئی وقت معین ہو یعنی سو سال یا پچاس سال بعد تاکہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ان پچاس سالوں میں سے تین سال گزر چکے ہیں۔ اب سینتالیس اڑتالیس سال باقی بچے ہیں ایسا نہیں ہے اور مکان کے اعتبار سے بھی قریب ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ یہاں سے مشرق، مغرب، شمال یا جنوب کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ حضرت عصر کہاں پر تشریف رکھتے ہیں تاکہ ہم ان کے قریب ہو سکیں ایسا بھی نہیں ہے بلکہ یہاں پر امام زمان علیہ السلام کے قریب ہونے کا مطلب روحانی اور معنوی لحاظ سے قریب ہونا ہے یعنی ہم اگلے پانچ دس سالوں سے لے کر سو سال تک اسلامی معاشرے کی کمیت اور کیفیت کو بڑھاتے ہوئے ظہور امام زمان علیہ السلام کے قریب ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ چاہیں تو اپنے اندر اور اپنے معاشرے میں ہر جگہ انقلاب برپا کرتے ہوئے تقویٰ، زہد و معنویت اور اخلاقی اقدار اور دینداری کو پروان چڑھاتے ہوئے خدا سے بھی قریب ہو سکتے ہیں لہذا سب سے پہلے ولی عصر کے ظہور کا راستہ ہموار کیجئے اور جتنا ہو سکے مخلص اور مومن مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ حضرت امام زمان علیہ السلام اور ان کے ظہور کے قریب ہو سکیں۔ پس یوں ہم آہستہ آہستہ اپنے معاشرے ، زمانے اور تاریخ کو ظہور ولی عصر کے قریب سے قریب تر کر سکتے ہیں دوسرا نکتہ یہ کہ آج ہم اپنے اس انقلاب کے اندر مختلف تحریکیں اور نظریات کو دیکھ رہے ہیں۔

ان نظریات کو کس سمت آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ نکتہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی مثال ایک ایسے طالب علم کی ہے جو پڑھ لکھ کر ریاضی کا استاد بننا چاہتا ہے اب اس طالب علم کو کس قسم کے مقدمات فراہم کیے جانے چاہیے یعنی اس طالب علم کو ریاضی سے مربوط علوم کی تعلیم دینا ضروری ہے کیونکہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص جو ریاضی دان بننا چاہتا ہے اسے ہم فقہ پڑھانا شروع کر دیں یا اس کے برعکس جو شخص جو فقیہ بننا چاہتا ہے اسے ہم علم طب پڑھانا شروع کر دیں پس مقدمات کا اس کی غرض اور غایت کے مطابق ہونا ضروری ہے اب جبکہ ہمارا مقصد اور ہدف مہدوی معاشرے کا قیام ہے جس کی خصوصیات کا تذکرہ پچھلے صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اپنے مقصد اور ہدف کے مناسب مقدمات بھی فراہم کریں ہمیں ظلم کو برداشت نہیں کرنا ہوگا بلکہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا چاہے وہ ظلم جیسا بھی ہو اور جس سے بھی سرزد ہوا ہو ہماری سمت اور جہت احکام اور حدودِ الہی کا نفاذ ہونا چاہیے

ڈھائی سو سالہ انسان