حضرت فاطمہ زہراءؑ

حضرت فاطمہ زہراءؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
حضرت فاطمہ زہراءؑ

حضرت فاطمہ زہراءؑ

بعثت ۸

ہجری ۱۱

حصہ 2 از 2

حضرت فاطمہ الزہراءؑ

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

اسی لئے تو آپ کو معدسہ کہا جاتا ہے یعنی وہ شخصیت کے جس کے ساتھ فرشتے گفتگو کرتے ہیں یہ دنیا کی تمام عورتوں کے مقابلے میں حضرت فاطمہ کا معنوی مقام اور زفت مقانی ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا اسلام اللہ علیہہ کمالات کے اس بلندی پر کھڑی ہو کر دنیا کی ساری خواتین سے مخاطب ہوتی ہیں اور انہیں اس راستے پر چلنے کی دعوت دیتی ہیں تاریخ میں جن لوگوں نے چاہے ان کا تعلق قدیم جہلیت سے یا بیسویں صدی کی جدید جہلیت سے ہو یہ کوشش کہ عورت کے تزلیل و تحقیر کی جائے اور اسے ظاہری زبوزینت کا خوگر بنا کر پیش کیا جائے اور اسے لباس کے فیشن سونے چاندی کا گرویدہ اور میکپ کا دلدادہ ظاہر کریں اور عورت کو صرف ایشو عشرت کا سامان بنا کر پیش کریں اور وہ خود عملی طور پر اس طرز کو اپناتے ہیں ان کی بے تُکی منطق اور سطحی سوچ حضرت فاطمہ زہرا کی درخشاں اور سورج کی طرح چمکتی شخصیت کے سامنے برف کی طرح پگھل کر نابود ہو جاتی ہے۔

اسلام حضرت فاطمہ زہرا جیسی برجستہ اور ملکوتی ہستی کو دنیا کی تمام عورتوں کے لیے نمونہ عمل کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ان کی ظاہری زندگی جہاد علم و دانش زور بیان فداکاری شوہر کے خدمت مامتا کا کردار بیوی کی حیثیت ہجرت اور تمام سیاسی انتظامی اور انقلابی میدانوں میں کردار ادا کرتے گزری ایسے حالات کا مقابلہ تو بڑے اور نامور مرد حضرات بھی نہیں کر سکتے آپ کا یہ معنوی مقام رکوع سجود عبادت دعا تلاوت تضرع و زاری ملکوتی ذات اور معنویت بھری زندگی پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین کے ہم پلہ اور مساوی ہونے کی بہترین دلیل ہیں۔ اسلام عورت کو جس مقام کا حامل دیکھنا چاہتا ہے اس کے لیے حقیقی نمونہ یہی خاتون ہیں جسے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کہا جاتا ہے فاطمہ زہرہ علیہہ سلام کی زندگی میں ایک خاص نکتہ پایا جاتا ہے جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے اگرچہ ہم اس عظیم شخصیت کے معنوی اور روحانی مقام کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتے اور نہ ہی ہمارے اندر فاطمہ زہرا علیہا سلام کے اور روحانی مقام و منزلت کو سمجھنے کی ہمت ہے

انسانی اقدار کی بلند ترین چوٹی پر فائز اس عظیم شخصیت کے منزلت کو اللہ جانتا ہے یا وہ ہستیاں جانتی ہیں جو مقام و مرتبے کے لحاظ سے خود اس شخصیت کی برابر ہوں لہٰذا فاطمہ زہرا کے مقام و مرتبے کو آپ کے والد بزرگوار یا شوہر نامدار یا آپ کی معصوم اولاد ہی سمجھ سکتی ہیں اس زمانے کے یا اس کے بعد سے لے کر آج کے لوگ ان میں بھی اس عظیم الشان روحانی اور مانوی شخصیت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے۔ آپ کی مانویت کا نور ہر کوئی آنکھ بھاپ نہیں سکتی خصوصاً وہ آنکھیں جو کمزور ہوں اور نزدیک کی چیزوں کو دیکھنے کی عادی ہوں ان میں اس عظیم شخصیت میں موجود اعلیٰ انسانی اقدار کے جلووں کو دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں پائی جاتی ہم فاطمہ زہرا علیہ السلام کے مانوی اور روحانی مقام کو بیان کرنے نہیں جا رہے ہیں۔

لیکن اس عظیم الشان شخصیت کی عام زندگی میں ایک اہم نقطہ جو پایا جاتا ہے وہ مختلف پہلوؤں کا آپ کی شخصیت میں جمع ہونا ہے ایک مسلمان عورت کی طرح اپنے شوہر کے خدمت اپنے بچوں کی پرورش اور گھر کی ذمہداریوں کو نبھانے کے ساتھ کبھی نہ تھکنے والے ایک غیور مجاہد کی طرح اہم سیاسی مسائل سے نبرد آزما ہونا اپنے والدِ بزرگوار کی رحلت کے بعد مسجدِ نبوی میں تشریف لا کر خطبہ دینا اور اپنے موقف کا مسلسل دفاع کرنا ہے یہ کردار ہر لحاظ سے ایک جہاد عظیم الشان جد و جہد محنت طلب اور مشکلات اور سختیوں کو جھیلنے کا متقاضی ہے تو دوسری طرف آپ کی عبادت رات کی تاریکی میں محرابِ عبادت میں کھڑی ہو کر پڑھنے والی نمازیں اپنے رب سے راز و نیاز اور اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کا خوش و خضو بھی اپنی مثال آپ ہے۔

آپ کوہنا مشک عولی اللہ کی طرح اپنے رب سے راز و نیاز اور اس کی عبادت کیا کرتی تھی فاطمہ زہرا علیہ السلام کی زندگی کا روشن ترین نقطہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں یہ تینو پہلو پائی جاتے ہیں آپ نے ان تینو پہلو کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا باز لوگ یہ خیال کرتے ہیں جو شخص عبادت میں مشغول ہو جائے وہ بس ایک عابد، دعا اور ذکر و اذکار کا خوگر ہی ہو سکتا ہے۔ وہ ایک سیاسی انسان نہیں بن سکتا یا باز لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو سیاسدان ہے چاہے مرد ہو یا عورت اور جہاد فیصہ باللہ کے میدان میں پیش پیش ہے۔

وہ اگر عورت ہے تو پھر ایک گھرلو خاتون ایک بہترین ماہ اور ایک بہترین بیوی کا ایک کیردار ادا نہیں کر سکتی اور اگر وہ مرد ہے تو گھرلو مرد کی طرح کام کاج دکانداری وغیرہ نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ چیزیں ایک دوسرے کی زدہ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں یہ تینو پہلو نصف یہ کہ ایک دوسرے کی زدہ نہیں بلکہ یہ ایک انسان کامل کی شخصیت کی تکمیل میں مددگار بھی بن جاتے ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام کی شخصیت تمام پہلوں یعنی سیاسی اجتماعی اور جہادی اعتبار سے ممتاز اور بلجستہ ہے دنیا بھر کی برسر پیکار اور انقلابی خواتین آپ کی مختصر اور پرمغز زندگی سے درس حاصل کر سکتی ہیں۔

ایک خاتون جس نے انقلاب کے گھرانے میں آگ کھولی اور اپنا پورا بچپن ایک ایسے باپ کی آغوش میں گزارہ ہو جس کی پوری زندگی ایک ناقابل فراموش اور عظی مشان جد و جہود بہت سے عبارت تھی وہ معظمہ جو اپنے بچپن میں مکی دور کی سختیوں کو جھیل چکی ہو جسے شیب ابھی طالب جانا پڑا ہو جس نے وہاں بھوک اور پیاس کی سختیوں کو برداشت کیا ہو اور مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک ایسے شخص کی شریع کے حیات بنی ہو کہ جس کی پوری زندگی جہاد فی سبل اللہ میں گزری ہو فاطمہ زہرا علیہ السلام اور امیر المومینین امام علی کی مشترکہ زندگی کے گیارہ سالوں میں کوئی ایک سال یا چھے مہینے ایسے نہیں گزرے ہوں گے کہ آپ کے شہر نے جہاد فی سبل اللہ کے لیے کمر نہ کسا ہو اور میدان جنگ میں نہ گیا ہو اور اس کی عظیم اور فدہکار خاتون نے ایک مرد مجاہد اور ایک فوجی کمانڈر کی شریع کے حیات کی حیثیت سے ان کی شایہ نشان خدمت نہ کی ہو اگرچہ حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام کی زندگی مختصر تھی جو تقریبا بیس سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن آپ کی اس زندگی میں جہاد مبارضات جد و جہود سبر و استقامت درس و تدریس نبوت امامت اور نظام اسلامی کے دفاع میں تقاریر کا ایک عظیم سمندر پایا جاتا ہے اور اس کا آخری نتیجہ شہدت کی صورت میں نکلا یہ ہے جناب فاطمہ زہرا اسلام اللہ علیہ کی مجاہدانہ زندگی جو عظیم و شان اور غیر مولی حد تک بے نظیر و بے مثال ہے

اور یقینن ہر انسان چاہے آج کا انسان ہو یا آئندہ کے ذہن میں ایک روشن اور استثنائی مثال بن کر چمکتی رہے گی۔ حضرت فاطمہ زہرا علم کے میدان میں بھی ایک عظیم عالمہ تھی حضرت رسولِ اکرم کی رحلت کے بعد آپ نے مسجد نبوی میں جو تاریخی خطبہ دیا مرحوم العلامہ مجلسی کے بقول تمام ادباء فصحاء اور علماء کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر آپ کے اس خطبے کے ایک ایک لفظ کی تفسیر بیان کریں کیونکہ آپ کا یہ خطبہ اتنا پر مغز اور فصیح و بلیغ ہے جو ادبی لحاظ سے نہج البلاغہ کے فصیح اور بلیغ ترین خطبوں کی طرح ہے رحلت رسول کے بعد فاطمہ زہرا مسجد نبوی میں گئیں اور لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر فی البدیہہ خطبہ ارشاد فرمایا تقریبا ایک گھنٹے ایک خوبصورت اور فصیح و بلیغ اور منتخب لفظوں پر مشتمل یہ خطبہ ایک شاہکار ادبی اور اسلامی سرمایہ ہے بنیادی طور پر ہم جیسے لوگ جو مقرر ہیں اور فی البدیہہ تقریریں کرتے ہیں سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے فرمودات کتنے عظیم ہیں۔

ایک اٹھارہ بیس یا زیادہ سے زیادہ چوبیس سالہ لڑکی کیونکہ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف کی وجہ سے آپ کی صحیح عمر وہ اتنی مشکلات اور سختیوں کے باوجود مسجد چلی آئیں اور لوگوں کے جمع غفیر کے سامنے پورے اسلامی حجاب میں ملبوس ہو کر ایک ایسا تاریخی خطبہ بیان کریں کہ اس کا ایک ایک لفظ تاریخ میں محفوظ ہو جائے عرب کے لوگ اپنے حافظے کی وجہ سے مشہور تھے وہاں ایک شخص جب کسی محفل میں آکر اسّی مصرعوں پر مشتمل ایک قصیدہ پڑھتا تو محفل کے اختتام پر دس لوگ بیٹھ کر اس قصیدہ کو لکھتے تھے۔ اس دور کے جو قصائد آج بھی باقی ہیں وہ غالبا اسی طرح ہی محفوظ رہے ہیں۔

وہ اشعار جو اجتماعی مراکز میں پڑھے جاتے تھے انہیں محفوظ کیا جاتے تھے معسومین کی آہدیث اسی طرح ہی محفوظ کی گئی ہیں لوگوں نے بیٹھ کر انہیں لکھا ہے اور حفظ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ خدبے آج تک باقی ہیں جو تاریخ میں باقی نہیں رہتی ہیں آپ سوچیں کہ اب تکتولِ تاریخ میں کتنی باتیں کی گئی ہوں گی کتنی تقریریں کی گئی ہوں گی کتنے مطالب بیان کیے گئے ہوں گے اور کتنے اشعار کہے گئے ہوں گے۔ لیکن سب باقی نہیں رہے اور کسی کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کو تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ کیا ہے اور چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی جو شخص اسے دیکھتا ہے جو اسے دل میں اس کی عظمت کا احساس کرتا ہے یہ خود ان کی رفت کی علامت ہے میری نظر میں یہ چیز ایک جوان لڑکی کے لئے نمونہ عمل ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا کی زندگی کا ہر پہلو آلہ انسانی اقدار کے تلاش اور جستجو سے عبارت ہے۔ آپ کے شہرِ نامدار مسلسل محاضر جنگ کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن ان تمام طرح مشکلات کے باوجود آپ کا گھر تمام مسلمانوں کیلئے ایک ایکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ پیغمبرِ اسلامؐ کی مشکل کشا بیٹی تھی۔ آپ نے ان مشکل حالات میں بھی کمال سر فرازی کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ آپ نے حسنین علیہ وسلام اور حضرت زینب علیہ السلام جیسی اولاد کی تربیت کی امام علی جیسے شہر کا خیال رکھا اور پیغمبرِ اسلام جیسے باپ کی خوشنودی کو بھی ملحوظ رکھا اور جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور مالِ غنیمت کے دروازے کھل گئے تو پیغمبرِ اسلام کی اس بیٹی نے دنیاوی لذتوں عیش و عشرت اور اس قسم کی چیزوں کی طرف جن کی عام طور پر جوان لڑکیاں اور عورتیں گرویدہ ہوتی ہیں کبھی بھی توجہ نہیں دی۔

حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام کی عبادت بھی ایک نمونہ ہے حسن بصری جس کا شمار عالمِ اسلام کے ممتاز عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا ہے کہتا ہے پیغمبرِ اسلام کی بیٹی اتنی عبادت کیا کرتی اور محرابِ عبادت میں کھڑی رہتی تھی کہ تورمت قدمہا مناقب ابن شاہر آشوب جلد 3 صفحہ 341 محرابِ عبادت میں زیادہ دیر کھڑی رہنے کی وجہ سے آپ کے پاؤں میں ورم آ گیا تھا۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ایک رات شبِ جمعہ میری مادرِ گرامی عبادت میں مشغول ہو گئیں اور صبح تک عبادت کرتی رہیں یہاں تک کہ سپیدۂ سحر نمودار ہو گئی روایت کے مطابق امام حسن فرماتے ہیں میں پوری رات سنتا رہا میری والدہ تمام مومنین و مومنات مسلمانوں اور دنیائے اسلام کے عمومی مسائل کے حل کے لیے دعا کرتی رہیں اور جب صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا مادرِ گرامی پوری رات جس طرح دوسروں کے لیے دعا کرتی رہیں اسی طرح اپنے لیے دعا کیوں نہیں کی آپ نے فرمایا

بیٹے پہلے پڑوسی پھر اپنا گھر بحار الانوار جلد 43 صفحہ 81 یعنی پہلے دوسروں کا خیال ضروری ہے پھر اپنا یہ ہے آپ کی اعلیٰ سوچ زندگی کے تمام شعبوں میں اس عظیم خاتون کا جہاد ایک نمونہ اور رول موڈل کی حصیت رکھتا ہے چاہے آپ کا جہاد اسلام کے دفاع میں ہو یا امامت اور ولایت کے دفاع میں یا پرغمبرِ اسلام کی حمایت میں ہو یا اپنے شہر اور افواجِ اسلامی کے علمدار علی ابن عبی طالب کی دیکھوحال کے سلسلے میں یہی وجہ ہے کہ عمر المومنین جنابِ فاطمہ زہرہ کے بارے میں فرماتے ہیں پوری ازدواجی زندگی کے دوران فاطمہ نے ایک مرتبہ بھی مجھے ناراض نہیں کیا اور نہ کبھی میرے حکم کی نہ فرما نہیں کی بہار الانوار جلد 43 صفہ 134 حضرت فاطمہ زہرہ علیہ السلام نے اپنی تمام تر عظمت اور بزرگی کے باوجود اپنی گھرے لوز زندگی کو ایک بیوی اور شریق حیات کی حیثیت سے اس طرح گزارا ہے جیسے اسلام کا حکم ہے۔

آپ کی عبادت فساحت و بلاغت علم و فراصت معرفت و حکمت جہاد اور جد و جہود ایک لڑکی کی حیثیت سے آپ کا کردار ایک بیوی کی حیثیت سے آپ کا ترضے زندگی ایک ماہ کی حیثیت سے آپ کا کردار غریبوں اور مسکینوں پر آپ کا احسان ایک مسلمان عورت کے لیے مکمل نمونہ عمل ہے پرغمبر اسلام نے ایک ضعیف العمر غریب شخص کو یہ کہہ کر امیر المومنینؑ کے دروازے پر بھیجا کہ جا کر اس در سے مانگو اور جب وہ ضعیف شخص امیر المومنینؑ کے دروازے پر آیا تو آپ کے گھر میں اسے دینے کیلئے کچھ نہ تھا۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام نے ایک خال جس پر امام حسنؑ اور امام حسینؑ سوجایا کرتے تھے اٹھا کر اس شخص کو دی اور کہا کہ جاؤ اس کو فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرو یہ ہے جناب فاطمہ زہراؑ کی ہماغیر شخصیت جو سر و پار رول موڈل ہے ایک مسلمان عورت کو ہمیشہ علم و فراصت کی جستجو میں رہنا چاہیے

اور اپنی روحانی و اخلاقی حوالے سے خود سازی میں کوشہ رہنا چاہیے اسے ہر قسم کے میدان جہاد میں آگے آگے ہونا چاہیے دنیا کی پرکشش بے قیمت پر تکلف چیزوں سے لاپرواہی برتنی چاہیے اسمت و طہارت کے اس درجے پر فائز ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اسے بری نظروں سے دیکھنے کی جرد نہ کر سکے گھر کی چار دیواری میں اپنے شوہر اور بچوں کے اطمینان قلب کا باعث بنے اپنے گھر اور گھر والوں کے لئے باعث سکون ہو اور اپنے پیار اور محبت بھرے دامن اور اپنی باتوں کے ذریعے ایسے بچوں کی تربیت کرے جو روحانی اور نفسیاتی لحاظ سے صحیح و سالم انسان ہونے کے ساتھ ساتھ معنوی اور جسمانی لحاظ سے بھی پاک و صاف ہوں اور وہ معاشرے کے لئے فائدہ مند خواتین اور مردوں کو مہیا کرے سارے معماروں میں سب سے آلہ اور بہترین معمار ماں ہے ممکن ہے دنیا کے بڑے سے بڑے سائنسدان مل کر کوئی ایسا پیچیدہ قسم کا الیکٹرونک آلہ اجاد کریں بڑے آزموں کو نشانہ بنانے والے میزائل بنائیں یا فضاؤں کو تسخیر کرنے والے آلات اجاد کریں لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ اہمیت حاصل نہیں جو ایک آلہ صفات کے حامل انسان بنانے والے کی ہے اور یہ کام صرف اور صرف ایک ماں ہی انجام دے سکتی ہے۔

اس لئے خاتون جنت ایک مسلمان عورت کے لئے کامل نمو

ڈھائی سو سالہ انسان