حصہ 2 از 3
امام موسیٰ کاظؑم
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
جنہیں جمع کر کے ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کے 35 سالہ دورِ امامت میں بنو عباس کے چار خلفاء نے حکومت کی ان میں سے ایک منصور عباسی ہے جو امام کے پہلے دس سالہ دورِ امامت میں برسرِ اقتدار رہا اس کے بعد اس کا بیٹا مہدی خلیفہ بنا اور وہ بھی دس سال تک اقتدار پر رہا مہدی کے بعد اس کا بیٹا ہادی ایک سال تک منصبِ خلافت پر بیٹھ گیا اور ہادی کے بعد ہارون رشید تقریباً بارہ سال تک برسرِ اقتدار رہا۔ ہارون رشید سمیت ان تمام خلفاء کے دورِ حکومت میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام لوگوں کو امامت کی طرف دعوت دیتے رہے اور ان چاروں خلفاء میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طریقے سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو کوئی نہ کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتا رہا منصور دوانیقی نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بغداد طلب کیا یعنی آپ کو اپنے گھر سے جلا وطن کر کے زبردستی بغداد بلا بھیجا البتہ یہ جو باتیں میں عرض کر رہا ہوں یہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔
جب کہ انسان آپ کی حیاتِ مبارکہ کا بغور مطالعہ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ان ہی واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو زبردستی مدینہ سے بغداد لایا گیا بغداد لانے کے بعد ایک عرصے تک آپ کو نظر بند رکھا گیا اور آپ پر بہت سختی کی گئی جیسا کہ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو تنہا کر دیا گیا اور یہ آپ کی زندگی کا ایک واقعہ ہے۔ لیکن یہ سلسلہ کتنا عرصہ جاری رہا یہ معلوم نہیں بظاہر ایک مرتبہ پھر اسی منصور ہی کے دورِ خلافت میں امام موسیٰ علیہ السلام کو جلا وطن کر کے عراق کے علاقے ابجر بھیجا گیا راوی کہتا ہے کہ جب میں حضرت امام موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وہاں پر ان واقعات کی تفصیل مجھے بیان کی مہدی عباسی کے دورِ خلافت میں بھی امام موسیٰ علیہ السلام کو کم از کم ایک مرتبہ مدینہ سے بغداد لایا گیا تھا
راوی کہتا ہے کہ "جس راستے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بغداد جا رہے تھے یا آپ کو بغداد لے جایا جا رہا تھا" "فلمقدم تل اولا" یعنی اس راستے سے پہلی مرتبہ آپ کو بغداد لے جایا جا رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کئی مرتبہ بغداد لے جایا گیا اور میرے خیال میں مہدی عباسی کے دورِ خلافت میں آپ کو دو یا تین مرتبہ مدینہ سے بغداد لے جایا گیا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور افسوس کا اظہار کیا تو حضرت نے فرمایا "تم پریشان مت ہو میں اس سفر سے صحیح و سالم واپس لوٹ آؤں گا" "اس سفر میں یہ لوگ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے" یہ ہے مہدی عباسی کا دورِ خلافت ہادی عباسی کے دورِ خلافت میں بھی امام موسیٰ علیہ السلام کو بغداد لا کر شہید کرنے کی کوشش کی گئی۔
لیکن اہل بیتِ رسولؐ کے ساتھ بنو عباس کے اس رویے پر ہادی عباسی کے دربار سے وابستہ ایک فقیہ کو دلی صدمہ ہوا جس نے ہادی عباسی کو اپنے اس منصوبے سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا۔ اسی طرح ہارون رشید کے دورِ خلافت میں بھی حضرت امام موسیٰ علیہ السلام کو بغداد بلایا گیا میرا خیال میں ہارون کے دورِ خلافت میں بھی آپ کو ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے شہر مدینہ سے جدا کیا گیا۔ لیکن یہ تو مسلم ہے کہ حضرت کو مدینہ سے بغداد لا کر وہاں کے مختلف قید خانوں میں قید رکھا جاتا یہاں تک کہ بغداد ہی کے سندی بن شاہک کے قید خانے میں آپ کو شہید کر دیا گیا ذرا غور کیجئے کہ اس چونتیس یا پینتیس سالہ دور میں آپ اپنے فرائضِ منصبی کو نبھاتے ہوئے مسلسل نظریہِ امامت کی تبلیغ میں مشغول دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ تھی کہ اس دوران کئی خلفاء متعدد بار آپ کو شہید کرنے کے منصوبے بناتے رہے منصور کا بیٹا مہدی جب پہلی مرتبہ خلیفہ بنا تو اس نے اپنے وزیر یا قریب رازدار شخص "ربیع" سے کہا کہ "موسیٰ بن جعفر کا کام تمام کرنے کا کوئی منصوبہ بناؤ" کیونکہ اسے بخوبی معلوم تھا کہ اگر اس کے لیے کوئی خطرہ لاحق ہے تو وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ہی ہے۔
اسی طرح ہادی عباسی نے بھی اپنی خلافت کی ابتداء میں ہی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ یہاں تک کہ اس نے اس حوالے سے ایک شعر بھی کہا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے "بنو ہاشم کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کا زمانہ اب ختم ہو گیا ہے" "اب تو میں نے یہ مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ تم میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا اور موسیٰ بن جعفر وہ پہلا شخص ہے جس کا کام سب سے پہلے تمام کروں گا" ہادی کے بعد اس کا بیٹا ہارون بھی یہی کچھ کرنا چاہتا تھا اور اس نے ایسا کر دکھایا اور اس قبیح جرم کا وہ مرتکب ہوا۔
اب آپ غور کیجئے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے کس قسم کے حالات میں زندگی گزاری ہے۔ اس کے علاوہ بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی کے بہت سارے اذیت ناک چھوٹے بڑے واقعات موجود ہیں یقیناً آپ کی زندگی کا ایک حصہ روپوشی میں گزرا ہے اور لوگوں کو بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ آپ کہاں ہیں۔ اس دوران خلیفہِ وقت لوگوں کو بلا بلا کر ان سے پوچھتا رہتا تھا کہ "کیا تم نے موسیٰ بن جعفر کو دیکھا ہے؟" اور وہ کہتے تھے "نہیں ہم نے نہیں دیکھا" یہاں تک کہ جیسا کہ روایت میں ہے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ایک شخص سے کہا کہ "تجھ سے میرے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا" "لیکن تم بالکل انکار کرنا اور ان سے کہنا کہ میں نے نہیں دیکھا ہے" اور بعد میں ایسا ہی ہوا اور اس شخص کو زندان میں ڈال دیا گیا تاکہ اس سے بات اگلوائی جا سکے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کہاں پر ہیں، اندازہ کیجئے کہ ایسی زندگی گزارنے والا شخص کون ہو سکتا ہے۔
ایک ایسا شخص جو صرف دینی احکام اور اسلامی معارف بیان کرتا ہو حکومتی معاملات سے کوئی سروکار نہ رکھتا ہو وہ کبھی ایسی مشکلات کا شکار نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بارے میں میں نے ایک روایت میں پڑھا ہے کہ آپ اپنی روپوشی کے دوران شام کے گاؤں، دیہاتوں میں زندگی گزار رہے تھے (بحار الانوار، جلد 48، صفحہ 105) یعنی روایات میں ہے کہ ایک مدت تک امام موسیٰ کاظم علیہ السلام مدینہ میں موجود ہی نہیں رہے بلکہ شام کے دیہاتوں میں حکومتی جاسوس آپ کا پیچھا کر رہے تھے اور آپ اپنا لباس بدل کر اجنبی شخص کے بھیس میں ایک دیہات سے دوسرے دیہات چلے جاتے تھے چلتے چلتے آخرکار ایک غار میں پہنچتے ہیں اور اس میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ایک نصرانی بھی موجود تھا۔
حضرت اس شخص کے ساتھ اسلام کی حقانیت کے بارے میں مناظرہ کرتے ہیں یعنی اس حال میں بھی آپ الٰہی فریضے کی انجام دہی یعنی حقیقت بیان کرنے سے غافل نہیں اس نصرانی کے ساتھ بحث و مباحثہ کر کے اور اسے مسلمان بناتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی کس قدر پرجوش اور ولولہ انگیز واقعات سے بھری ہوئی ہے آج ہم یہاں بیٹھ کر یہ سوچتے ہیں کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ایک مظلوم، خاموش اور غیر جانبدار شخص تھے جو مدینہ میں خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے حکومتی کارندوں نے ایسے ہی آپ کو گرفتار کر کے بغداد، کوفہ یا بصرہ میں قید کیا اور بعد میں زہر دے کر آپ کو شہید کر دیا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد اور تنظیمی امور کارفرما تھے۔
یہ ایک ایسی جنگ کا نتیجہ ہے کہ جس میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام پورے عالمِ اسلام میں موجود اپنے بہت سارے پیروکاروں کے ہمراہ حکومتِ وقت کے خلاف مشغولِ عمل تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کا وہ نافرمان بھتیجہ جو دربارِ خلافت سے وابستہ تھا۔ ہارون رشید کے ساتھ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے یوں اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "اے ہارون تم یہ خیال نہ کرنا کہ اسلامی سلطنت پر صرف تم ہی خلیفہ ہو" "اور لوگ صرف تمہیں خراج دیتے ہیں بلکہ اس وقت عالمِ اسلام میں دو خلفاء ہیں" "ایک تم ہو اور دوسرے موسیٰ کاظم علیہ السلام ہیں" "جس طرح لوگ تمہیں خراج دیتے ہیں ایسے ہی موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بھی دیتے ہیں" اور یہ ایک حقیقت بھی تھی اگرچہ وہ تو یہ باتیں اپنی خباثت کی وجہ سے کر رہا تھا اور وہ ان باتوں کے ذریعے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے خلاف خلیفہ کو بھڑکا رہا تھا۔
لیکن یہ اپنی جگہ ایک حقیقت بھی تھی کہ پورے عالمِ اسلام میں ایسے لوگ موجود تھے جن کے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے تعلقات تھے۔ لیکن وہ اس حد تک نہیں تھے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کھلم کھلا کوئی مسلحانہ جدوجہد کر سکتے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کچھ ایسے حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ یہاں تک کہ ہارون رشید کی باری آ پہنچی جب ہارون خلیفہ بن گیا تو اسلامی معاشرے میں کسی قسم کے اختلاف و انتشار کا نام و نشان بھی نہ تھا حکومتِ وقت کسی قسم کی پریشانی کے بغیر یکسوئی کے ساتھ اپنے معاملات چلانے میں مشغول تھی۔ لیکن اس کے باوجود امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حالاتِ زندگی اور آپ کی وسیع تبلیغات کا سلسلہ کچھ اس طرح جاری تھا کہ اس سے نمٹنا حکمرانوں کے لیے کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ ہارون رشید سیاست سے باخبر اور ایک انتہائی ہوشیار شخص تھا۔
لہٰذا ہارون رشید نے جو اقدامات کیے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ بذاتِ خود مکہ چلا گیا مشہور مورخ طبری کا خیال ہے کہ بظاہر تو ہارون رشید حج کے لیے مکہ گیا تھا۔ لیکن اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ مدینہ جا کر حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قریب سے دیکھے کہ آپ ہیں کیا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ عظیم شخصیت جس کے بارے میں اتنی ساری باتیں کی جا رہی ہیں جس کے اتنے سارے چاہنے والے موجود ہیں یہاں تک کہ بغداد میں بھی ان سے محبت کرنے والے بہت سارے موجود ہیں۔ یہ کیسا شخص ہے؟ کیا واقعاً ان سے ڈرنا چاہیے یا نہیں؟
لہٰذا وہ مدینہ آتا ہے اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کئی ملاقاتیں کرتا ہے۔ یہ ملاقاتیں ناقابلِ تصور حد تک اہم اور حساس ہیں۔ ان میں سے ایک ملاقات مسجد الحرام میں ہوئی جس میں بظاہر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہارون کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور دونوں کے درمیان سخت باتوں کا تکرار ہوتا ہے جس میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام لوگوں کی موجودگی میں ہارون کی شان و شوکت خاک میں ملا دیتے ہیں اس وقت ہارون امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو نہیں پہچانتا تھا۔ اس کے بعد ہارون مدینہ آتا ہے وہاں بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ساتھ کئی ملاقاتیں کرتا ہے۔
یہ ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں میں اس حد تک اشارہ کرنے پر اکتفا کرتا ہوں تاکہ جو لوگ اہلِ مطالعہ اور اہلِ تحقیق ہیں اور اس قسم کے مسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ ان مسائل پر تحقیق کریں اور ان کی بنیادوں تک پہنچ جائیں منجملہ یہ کہ ہارون رشید ان ملاقاتوں میں وہ سارے کام کرتا ہے جو اپنے کسی مخالف شخص کو رام کرنے نیز ایک حقیقی مجاہد کو زیر کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں یعنی دھمکی، لالچ، دھوکہ دہی وغیرہ ہارون رشید خلیفہ بننے کے بعد جب پہلی مرتبہ مدینہ آیا تو اس نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بڑی عزت دی اور آپ کا احترام کیا۔
اس سلسلے میں مامون کی زبانی ایک مشہور واقعہ بھی ہے۔ وہ کہتا ہے جب ہم مدینہ گئے تو ایک دفعہ امام موسیٰؑ ایک گدھے پر سوار ہو کر اس محل میں پہنچے جہاں میرے والد ہارون نے قیام کر رکھا تھا اور جب امام موسیٰؑ کاظم علیہ السلام سواری سے اترنے لگے تو ہارون نے قسم دے کر کہا نہیں آپ میری مسند تک اپنی سواری پر ہی تشریف لائیں چنانچہ آپ اپنی سواری پر ہی ہارون کی مسند تک چلے آئے اس کے بعد ہارون انتہائی عزت و احترام کے ساتھ آپ کے ساتھ پیش آیا اور اس کے بعد جب آپ جانے لگے تو ہم سے کہا کہ تم سب امام موسیٰؑ کاظم علیہ السلام کی سواری کی رکاب تھامے رکھو البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مامون اپنی اسی روایت میں کہتا ہے کہ میرے باپ ہارون نے سب کو پانچ سے دس ہزار دینار دیے اور امام موسیٰؑ کاظم علیہ السلام کو صرف دو سو دینار دیے جبکہ اس سے پہلے ہارون نے امام سے احوال پرسی کی تھی تو آپ نے کہا تھا کہ چونکہ میری اولاد زیادہ ہے جس کی وجہ سے بے شمار مسائل ہیں اور مالی حالت بھی صحیح نہیں ہارون کے ساتھ امام کی یہ گفتگو بھی بڑی دلچسپ ہے
میری نظر میں ہارون رشید کے ساتھ امام موسیٰؑ کاظم علیہ السلام کی اس قسم کی گفتگو ہمارے لیے بالکل واضح اور قابل فہم ہے کسی انسان کے لیے یہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ہارون جیسے شخص سے اپنے مسائل بیان کرے اور کہے کہ جی ہاں ہماری مالی حالت خراب ہے گزر بسر نہیں ہو رہا اور اس قسم کی باتوں کا مطلب کسی سے اپنی حاجت طلب نہیں بلکہ جو شخص ایسے تجربات سے گزر چکا ہو وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ان باتوں کا مطلب کیا ہوتا ہے میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سارے لوگوں نے شاہی دور حکومت کے ان مشکل ایام میں اس قسم کے بہت سے طریقے اپنائے ہوں گے۔
اس لیے یہ باتیں آپ لوگوں کے لیے بالکل قابل فہم ہیں۔ اب جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہارون سے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہارون کو چاہیے کہ امام سے یہ کہتے ہوئے کہ اگر آپ کو یہ پریشانیاں درپیش ہیں تو یہ لیجیے 50,000 دینار آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ صرف 200 دینار امام کی خدمت میں پیش کیے مامون کہتا ہے کہ بعد میں میں نے اپنے باپ ہارون سے پوچھا کہ آپ نے کیوں ایسا کیا تو ہارون نے کہا اگر میں انہیں اس سے زیادہ دینار دیتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ان پیسوں سے ہاتھوں میں تلواریں لیے بیٹھے ہوئے اور آسانیوں کو میرے خلاف منظم کریں اور دو لاکھ لوگوں کو لے کر مجھ پر حملہ آور ہو جائیں یہ تھے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بارے میں ہارون کے تاثرات اور خیالات اس کے اپنے اعتبار سے یہ خیالات صحیح بھی تھے۔