حصہ 2 از 4
حضرت امام حسن مجتبؑی
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
یہاں پر قابلیت اور معیار کی بنا پر اختیارات دینے کا رواج ہی نہیں تھا بنیادی طور پر عرب معاشرے میں حسب و نسب کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے کہ فلاں شخص کا تعلق کس قبیلے سے ہے اور اس کے والدین کون ہیں۔ لیکن یہ لوگ بنو امیہ تو حسب و نسب کا بھی کوئی خیال نہیں رکھتے تھے عبد الملک بن مروان اور ان کے بعض بیٹوں کے دور حکومت میں انہوں نے یوسف بن عمر ثقفی نامی شخص کو ایک طویل عرصے تک عراق پر مسلط کیے رکھا جو انتہائی بدبخت اور کینہ پرور شخص تھا تاریخ میں اس کی کینہ پروری کے بہت سارے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
یہ شخص چھوٹے قد کا حامل تھا۔ وہ جب درزی کو کپڑے دیتا تو اسے پوچھتا تھا کہ کیا یہ کپڑا اس کے سوٹ کے لئے کافی ہے۔ جب درزی کہتا کہ جی ہاں یہ کپڑا کافی ہے بلکہ تھوڑا کپڑا بچ بھی جائے گا تو وہ اس درزی سے کپڑا واپس لیتے ہوئے اسے گرفتار کرنے اور سزا دینے کا حکم دیتا تھا۔ جب درزیوں کو اس کی عادت کا پتہ چل گیا تو جب بھی وہ کسی درزی کو کپڑا سینے دیتا اور پوچھتا کہ کیا یہ کپڑا میرے لئے کافی ہے تو درزی اس کے طرف دیکھتے ہوئے کہتا نہیں جناب شاید یہ کپڑا آپ کے قدوقامت کے لئے کم پڑ جائے گا۔
لیکن ہمیں کافی محنت کرنی ہوگی تاکہ اسے آپ کے قدوقامت کے مطابق بنا سکیں۔ وہ یہ جاننے کے باوجود کہ درزی جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کی بات پر خوش ہوتا تھا۔ یہ ایسا احمق اور بےوقوف شخص تھا۔ یہ وہی تھا جس نے کوفہ میں زید بن علی علیہ السلام کو شہید کیا۔ ایک ایسا شخص کئی سالوں تک لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو پر مسلط رہا نہ تو کوئی صحیح حسب و نسب رکھتا تھا اور نہ ہی عقل و شعور کا مالک تھا۔ لیکن صاحبانہ اقتدار سے وہ وابستہ تھا۔ اس لئے اس کو منصب پر بٹھایا گیا۔ یہ چیزیں کسی بھی نظام کے لیے بہت بڑی آفت کا درجہ رکھتی ہیں۔
یہ اسلام مخالف تحریک اسی طرح جاری و ساری تھی جبکہ اس کے مقابلے میں حقیقی اسلام اور قرآنی اقدار پر مبنی تحریک جو کسی بھی صورت میں اس غیر اسلامی تحریک کے مقابلے میں گھٹنے ٹیکنے والی نہیں تھیں بھی جاری و ساری تھی جس کی سب سے واضح مثال ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے باوفا اصحاب ہیں۔ امام حسن مجتبیٰ کی برکت سے اسلامی اقدار پر مبنی تحریک نے اسلام کو بچا لیا اگر امام حسن علیہ السلام صلح نہ کرتے تو دینِ اسلام کے ان متحرک اقدار میں سے کچھ بھی باقی نہ بچتا بلکہ سب کچھ ختم ہو جاتا کیونکہ اس صورت میں بظاہر غلبہ تو معاویہ ہی کو حاصل ہونا تھا کیونکہ حالات یہ بتاتے ہیں کہ امام حسن کو کامیابی ملنے کے کوئی امکانات نہیں تھے بلکہ کامیابی معاویہ ہی کو ملنے والی تھی کیونکہ تمام تبلیغاتی ذرائع پر اس کا قبضہ تھا دوسری طرف مسلمانوں کے درمیان اس کی شخصیت بھی جانی پہچانی تھی اور وہ کوئی غیر معروف آدمی نہیں تھا۔
امام حسن مجتبیٰؑ اگر صلح نہ کرتے تو خاندانِ رسالت کے تمام افراد مارے جاتے اور معاویہ ان میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑتا تاکہ وہ اسلام کے اصلی اقدار کی حفاظت کر سکیں سب کچھ ختم ہو جاتا اور اسلام کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں بچتا اور واقعۂ عاشورہ کی نوبت بھی نہ آتی یعنی اگر امام حسن معاویہ کے ساتھ اس جنگ کو جاری رکھتے تو اس کے نتیجے میں خاندانِ رسالت کے تمام افراد ختم ہو جاتے امام حسینؑ کے علاوہ حجر بن عدی جیسے اور بھی نام ور اصحاب قتل کر دئیے جاتے کوئی ایسا شخص باقی نہیں بچتا جو اسلام کی حقیقہ اقدار کی حفاظت کر سکے۔
اس لئے امام نے صلح کی اور یہ امام حسن مجتبیٰؑ علیہ السلام کا اسلام پر بہت بڑا احسان ہے۔ البتہ صلح امام حسن ایک زبردستی کی صلح تھی۔ لیکن پھر بھی ایک صلح واقع تو ہوئی تھی۔ لیکن امام حسن دل سے اس کے لئے راضی نہ تھے۔ اس لئے امام حسن نے جن شرائط پر معاویہ کے ساتھ صلح کی ان شرائط نے معاویہ کی سیاست کو متزلزل کر دیا تھا صلح امام حسن علیہ السلام اور اس کی شرائط بھی الہی تدبیر تھی وَمَكَرُوا۟ وَمَكَرَ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَـٰكِرِينَ انہوں نے دشمنوں نے مکاری کی تو اللہ نے بھی جوابی تدبیر کی اور خدا بہترین تدبیر کرنے والا ہے سورہ آل عمران آیت چون یعنی اگر امام حسن علیہ السلام اس وقت معاویہ کے ساتھ جنگ کرتے تو یقینا مارے جاتے اور وہ بھی اپنے ہی اصحاب کے ہاتھوں جنہیں معاویہ کے جاسوسوں نے بھاری رقم دے کر خریدا تھا اور معاویہ کہتا کہ حسن ابن علی علیہ السلام کو میں نے تو نہیں مارا بلکہ خود ان کے اصحاب ہی نے مارا ہے
اور ممکن ہے کہ وہ اس صورت میں امام حسن کے لئے مجلس ترحیم کا بھی انتظام کرتا لیکن بعد میں وہ امیر المومنین کے اصحاب کو ایک ایک کر کے تہ تیغ کر دیتا اور شیعہ نام کا کوئی ایک شخص بھی باقی نہیں بچتا جو بیس سال بعد کوفہ میں امام حسین کو دعوت دے سکے لہذا امام حسن علیہ السلام نے تشیع کی بنیادوں کو بچایا تاکہ بیس پچیس سال بعد حکومت کی باگ ڈور اہلِ بیتِ رسولؐ کے ہاتھ آ جائےٰ جب امام حسن مجتبی نے معاویہ سے صلح کر لی تو بہت سے جاہل اور کم فہم لوگوں نے آپ کو مختلف طریقوں سے ہدف تنقید بنایا تبھی وہ آپ کو مومنین کی ذلت اور رسوائی کا باعث گردانتے ہوئے کہتے تھے یا مزلل المومنین توفل اقول صفحہ 308 آپ نے معاویہ کے ساتھ صلح کر کے مومنین کی اس پرجوش جماعت کو ذلیل اور رسوا کر دیا ہے اور انہیں معاویہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کیا ہے کبھی احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ذرا دھیمے لہجے میں یہی باتیں دہرائی جاتی تھیں۔
لیکن امام علیہ السلام ان تمام اعتراضات اور تنقیدوں کے جواب میں ان سے صرف ایک جملہ ارشاد فرماتے تھے جو شاید آپ کے تمام فرمودات میں سب سے زیادہ واضح اور بہتر ہے اور وہ جملہ ہے ماخوذ از سورہ انبیاء آیت 111 أَدْرِى لَعَلَّهُۥ فِتْنَةٌۭ لَّكُمْ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ مجھے نہیں معلوم شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو بحارُالأنوار، جلد 44، صفحہ 56 تمہیں کیا معلوم شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور معاویہ کے لیے ایک عارضی سرمایہ ہو آپ کا یہ جملہ در حقیقت قرآنِ کریم کا ایک اقتباس ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو مستقبل کا انتظار ہے اور وہ مستقبل اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ آپ کی نظر میں حق سے منحرف اور ناقابل قبول حکومت برطرف ہو جائے اور اس کی جگہ آپ کی پسند کی ایک حکومت قائم ہو جائے لہذا آپ نے ان لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تم صلح کے فلسفے کو نہیں جانتے ہو تمہیں کیا معلوم شاید اسی میں ہی کوئی مصلحت پوشیدہ ہو صلح کے آغاز ہی میں جب شیعہ عمائدین میں سے دو مشہور شخصیات مسیب بن نجباء اور سلیمان بن صرد خزاعی چند مسلمانوں کے ہمراہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہمارے پاس خراسان اور عراق وغیرہ میں خاصی افرادی قوت موجود ہے اور ہم اسے آپ کے اختیار میں دینے کے لیے تیار ہیں
اور معاویہ کا شام تک تعاقب کرنے کرنے کے لیے حاضر ہیں تو آپ نے انہیں تنہائی میں گفتگو کے لیے طلب کیا اور کچھ بات چیت کی اور جب وہ آپ کے ہاں سے باہر نکلے تو ان کے چہرے پر طمانیت کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے فوجی دستوں کو رخصت کر دیا حتیٰ کہ ساتھ آنے والوں کو بھی کوئی واضح جواب نہ دیا طٰہٰ حسین مشہور معاصر مصری مورخ کا یہ دعویٰ ہے کہ در اصل اسی ملاقات میں اسی شیعوں کی تحریک کا سنگ بنیاد درست رکھ دیا تھا یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اور آپس میں بات چیت کر کے ایک عظیم شیعہ تنظیم کی بنیاد رکھ دی تھی۔
چنانچہ خود امام حسن علیہ السلام کے حالات زندگی اور مقدس ارشادات سے بھی واضح طور پر یہی مفہوم نکلتا ہے اگرچہ وہ زمانہ اس قسم کی تحریک ور سیاسی جدوجہد کیلئے سازگار نہ تھا کیونکہ لوگوں میں سیاسی شعور بے حد کم اور دشمن کے پروپیگنڈوں نیز مالی وسائل کے بے دریغ استعمال کا بازار گرم تھا دشمن جن طریقوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا آپ ان طریقوں کو اختیار نہیں کر سکتے تھے مثلا بے حصہ پیسہ خرچ کرنا اور معاشرے کے چھٹے ہوئے بدقماش افراد کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر لینا آپ کے لیے ممکن نہ تھا ظاہر ہے دشمن کا ہاتھ کھلا ہوا تھا اور اس حوالے سے امام عالی مقام کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے پاسدار اسلام شمارہ 6 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں آپ فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس عمر کے لئے ستر ہجری کو معین فرمایا تھا الکافی، جلد 1 صفحہ 368 یعنی خدا کی تقدیر میں یہ تھا کہ امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت کے بیس سال اور امام حسینؑ شہادت کے 10 سال بعد حکومتِ اسلامی کی باگ ڈور اہل بیتِ رسولؐ کو واپس کی جائے لیکن اتنا بڑا نتیجہ کب سامنے آتا جب لوگ اپنے قصد اور ارادے کے ساتھ اس کے لئے مقدمات فراہم کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کسی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے لوگوں نے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ادا نہیں کیں جبکہ امام حسن اور امام حسین علیہ وسلم نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا۔
لیکن خواص جیسے عبداللہ ابن جعفر اور عبداللہ ابن عباس اور ان جیسے دوسرے لوگوں نے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھایا یہاں تک کہ ان لوگوں نے بھی جنہوں نے بعد میں واقعہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہم رکاب ہو کر جنگ کی انہوں نے بھی جناب مسلم بن عقیل سفیر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ وہ تعاون نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھا بلکہ انہوں نے کوتاہی کی ورنہ جناب مسلم کے ساتھ وہ کچھ نہ ہوا ہوتا انہیں جناب مسلم کے ساتھ مل کر حکومت کوفہ کا قصہ تمام کر دینا چاہیے تھا جو کہ نہیں کیا اور ان لوگوں کی یہی کوتاہیاں کربلا کے دلخراش واقعے کا سبب بنی اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام مزید فرماتے ہیں۔
جب امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا تو اہل زمین پر اللہ تعالیٰ کے غضب میں شدت پیدا ہو گئی اور تاخیر سے حکومت کا وقت 140 ہجری تک کے لیے آگے بڑھا دیا گیا الکافی جلد 1 صفحہ 368 یعنی یہ کام تاخیر کا شکار ہو گیا اور میرے خیال میں 140 ہجری تک پہنچ گیا یعنی 70 سال مزید تاخیر ہو گئی اور بنو عباس کے دور خلافت تک پہنچ گیا۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی صلح ایک عظیم کام کا مقدمہ قرار پائی ورنہ ائمہ معصومین علیہم السلام اتنی آسانی کے ساتھ اپنے موقف سے دستبردار ہونے والے کب تھے اور کیا ولایت اور حکومت کا مسئلہ کوئی چھوٹی بات تھی نہیں بلکہ یہ دین کی بنیاد تھی۔
لیکن حالات اس قسم کے درپیش آئے تھے صلح امام حسن علیہ السلام کے بارے میں اب تک بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے لیکن میں یہاں پر اس عظیم واقعے کا ایک دوسرے زاویے سے جائزہ لینا چاہتا ہوں کیونکہ اس واقعے کا تعلق تاریخ کے ایک انتہائی حساس موڑ سے ہے جو اس کی اہمیت میں اضافہ کر دیتا ہے کیونکہ تاریخ اسلام ایسے سیاسی واقعات سے بھری پڑی ہے جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امیرالمؤمنینؑ اور دوسرے ائمہ معصومین علیہ وسلم کے دور کے واقعات یا خلفائے بنو اُمیہ اور بنو عباس کے دور کے واقعات وغیرہ لیکن صلح امام حسن علیہ سلام جیسے واقعات جو پورے تاریخ اسلام پر اثرانداز ہوئے ہوں بہت کم ہیں میری نظر میں تاریخ اسلام میں اس قسم کے چند ایک واقعات پائے جاتے ہیں جو اس طرح پوری تاریخ پر اثرانداز ہوئے ہوں اس لحاظ کئی صدیوں پر مشتمل تاریخ اسلام میں صلح امام حسن علیہ السلام کا واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس واقعے کا ایک اہم موڑ اسلامی خلافت کا ملوکیت میں تبدیل ہونا ہے۔ اگر ہم اس نکتے پر غور و فکر کریں تو یہ جملہ بہت ہی پر مغز اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ خلافت اور ملوکیت دو الگ قسم کے طرزِ حکومت ہیں۔ ان دونوں قسم کے طرزِ حکومت میں صرف کسی ایک یا دو تین چیزوں میں اختلاف موجود نہیں بلکہ یہ دونوں بالکل ہی ایک دوسرے سے مختلف ہیں یعنی خلافت کوئی اور چیز ہے جبکہ ملوکیت بادشاہت دوسری چیز ہے جن کا مسلمانوں اور اسلامی معاشرے پر حکمرانی کا انداز بھی مختلف ہے۔ اس واقعے نے تاریخ اسلام کا رخ موڑ دیا اور رخ موڑنے کا مطلب تو آپ جانتے ہی ہیں جیسا کہ ایک ریل گاری جو شمال کی طرف رواں دواں ہے کسی ایک مقام پر ڈرائیور اس کے ٹریک کو تبدیل کرتے ہوئے اس کا رخ دوبارہ جنوب کی طرف موڑ دیتا ہے۔
البتہ یہ ایک دم محسوس نہیں ہوتا لیکن تھوڑی دیر بعد جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تب اسے احساس ہونے لگتا ہے میں اس واقعے کو اس نظر سے دیکھتا ہوں حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی امیر شام سے صلح کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا جسے آج کی اصطلاح میں گویا پاور ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو منتقل ہوئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کی خصوصیات کیا ہیں۔ یہ جو دو پارٹیوں نے ایک دوسرے کی جگہ لے لی ہے۔ ان کے درمیان کیا فرق ہے۔ یہ ایک بات ہے دوسری بات یہ کہ جب باطل تحریک نے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس نے اسلامی معاشرے پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے کون سے حربے استعمال کیے، تیسری بات یہ کہ جب حقیقی پارٹی امام حسن علیہ السلام اور ان کے ساتھی کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا تو اس نے باطل تحریک کے مقابلے میں صبر و استقامت کے کون سے طریقوں کو اپنایا یعنی اس نے کون کون سے طریقے اختیار کیے چوتھی بات یہ کہ شکست کی وجہات کیا تھیں
یعنی وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنا پر حق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کی کیا وجوہات تھیں پانچویں بات یہ کہ، فاتح گروہ مغلوب کے ساتھ کس طرح پیش آیا یہ واقعے کا انتہائی اہم اور عبرتناک باب ہے چھٹی چیز مغلوب گروہ کا فاتح کے ساتھ کیسا رویہ رہا۔ اس گروہ نے کون سی پولیسی اختیار کی ساتویں بات یہ کہ اس واقعے کا نتیجہ کیا نکلا ان دونوں تحریکوں کی بہت سے خصوصیات ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق حق سے ہے جبکہ بعض کا تعلق باطل سے ہے اگر میں یہاں ان خصوصیات کو ایک ایک کرکے گننا چاہوں تو ایک طویل فہرست بن جائے گی۔
لہٰذا میں نے ان کا خلاصہ کیا ہے حق کی تحریک یعنی امام حسن علیہ السلام کی پارٹی کی نظر میں سب سے اہم چیز دین تھا دین سے مراد کیا ہے یعنی لوگوں کے ایمان اور عقیدے میں دین باقی رہے لوگ ایمان اور عمل میں دین کی پابندی کریں اور معاشرے پر بھی دین حاکم ہو اس نظر میں اصل بات یہ تھی کہ معاشرہ دین کی قوت دین کی حاکمیت اور دین کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھے دوسرے الفاظ میں معاشرے میں اسلامی نظام نافذ ہو جبکہ اقتدار ہاتھ میں لینا حکومت قائم کرنا اور امور کو اپنے ہاتھوں میں لینا اور اس قسم کے دیگر فروعی مسائل ان کی نظر میں دوسرے تیسرے اور چوتھے درجے کے کام تھے۔
ان کی نظر میں بنیادی مسئلہ یہ کہ اس نظام اور معاشرے پر دین کی حاکمیت کار فرما ہو اور جو لوگ اس معاشرے میں رہ رہے ہیں ان کا ایمان نہ صرف باقی رہے بلکہ ان کے دلوں کی گہرائیوں میں بھی راسخ ہو یہ تھی حق کی پارٹی کی پہلی خصوصیت دوسری پارٹی یعنی باطل پارٹی کا اصلی مقصد کسی بھی طریقے سے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینا تھا یعنی ہر قیمت پر اقتدار کا حصول یہ تھی باطل پارٹی کی اصل سیاست اس کی نظر میں اصل چیز اقتدار کا حصول تھا چاہے کسی بھی قیمت اور کسی بھی طریقے سے ہو جیسا کہ دنیا کے اکثر سیاست دانوں کا یہی طریقہ ہے کہ ان کے نظر میں اقدار اور اصولوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اگر وہ کسی اصول کو اپنا سکیں تو ٹھیک ہے اور اگر نہ اپنا سکیں تو بھی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ان کے لیے سب سے اہم چیز اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے اور یہی ان کے لیے اہمیت کا حامل ہے