امام حسنؑ

امام حسنؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام حسنؑ

امام حسنؑ

ہجری ۳

ہجری ۵۰

حصہ 3 از 4

حضرت امام حسن مجتبؑی

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

اور یہ ایک انتہائی اہم اور حساس سرحد ہے ممکن ہے کہ کبھی دونوں پارٹیاں ظاہراً مذہب پر عمل پیرا ہوں جیسا کہ امیرالمومنین علیہ السلام اور امیر شام کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایسا تھا۔ ایک دن جنگ صفین کے موقع پر جو حضرت علی علیہ السلام اور امیر شام کے درمیان لڑی گئی تھی امیرالمومنین کے کچھ سپاہی شک و تردّد کا شکار ہو ئے بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب وہ شکوک میں پڑ جاتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں مشکوک افکار جنم لیتے ہیں تو نہ خود ان شکوک کو حل کرتے ہیں اور نہ ہی قابل اطمینان لوگوں سے رجوع کرتے ہیں بلکہ وہ انہی شکوک اور شبہات کو موضوع گفتگو بنا کر پروپیگنڈا کرتے اور دوسروں کے ذہنوں میں بھی شک ڈال دیتے ہیں اور غلط افکار پر مبنی ایک گروہ پیدا کر دیتے ہیں کچھ اس قسم کے افراد جنگِ صفّین کے موقع پر شک و تردد کا شکار ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپس میں کیوں لڑیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور ہم بھی نماز پڑھتے ہیں وہ بھی قرآن پڑھتے ہیں اور ہم بھی قرآن پڑھتے ہیں وہ بھی پیغمبر اسلام کو مانتے ہیں اور ہم بھی مانتے ہیں پس وہ لوگ شک و تردد کا شکار ہو گئے

عمار یاسر جن کے بارے میں میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ صدر اسلام میں وہ ایسے حساس مشکل اور پیچیدہ مسائل جن کے بارے میں لوگ غفلت اور جہالت کا شکار تھے کا تجزیہ و تحلیل کرنے کے ماہر تھے تاریخ اسلام میں عمار یاسر کا یہ مقام ہے کہ وہ گہرے اور دقیق مسائل کو سمجھتے تھے۔ اگر ہم مالک اشتر کو ان کی تلوار اور بہادری سے پہچانتے ہیں تو ہمیں عمار یاسر کو ان کی فصاحت زبان روشن فکری درست فہم و ادراک اور صدر اسلام کے ایک عظیم تجزیہ نگار کے طور پر جاننا چاہیے امیر المومنین علیہ السلام کے دور میں مجھے ایسے بہت کم موارد ملے جہاں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہو اور وہاں عمار یاسر موجود نہ ہوں وہ ایک مافوق الفطرت شخص تھے جنگ سفین کے موقع پر بھی جب عمار یاسر کو یہ اطلاع ملی کہ لشکر کے کچھ سپاہی شک و تردد کا شکار ہو چکے ہیں تو وہ ان تک پہنچ گئے اور ان کے سامنے کچھ حقائق بیان کیے آپ نے واضح کیا

کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور تم بھی نماز پڑھتے ہو چنانچہ انہوں نے کہا۔ خدا کی قسم میں نے ایک اور جنگ میں دیکھا ہے کہ یہی دونوں پرچم جو آج ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ یہ پرچم کہ جس کے نیچے امیر المومنین علیہ السلام موجود ہیں۔ اسی طرح اس پرچم کے مقابلے میں تھا جس کے نیچے معاویہ کھڑا تھا اور وہ جنگ بدر کا موقع تھا جس موقع پر یہ دونوں پرچم یعنی بنو حاشم اور بنو امیہ کا پرچم ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اور اس پرچم کے سائے تلے حضرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ سلام تھے اور اس پرچم کے نیچے یہی معاویہ اور اس کا باپ ابو سفیان تھے۔

ان دونوں کے درمیان اصولی اختلاف پایا جاتا ہے لیکن آپ لوگ ظاہر کو مت دیکھیں اسی طرح عمارِ یاسرؓ نے ان کے ذہنوں سے شکوک و شبہات کو دور کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ باطل تحریکیں جن کا اصل مقصد حصولِ اقتدار ہوتا ہے وہ بھی کبھی کبھار مسلحةً اسلام کے ظواہر پر عمل پیرا ہوتی ہیں اور یہ ان کے حق پر ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا ضرور ہے کہ ان کے باطن کو دیکھا جائے اور انتہائی ہوشیاری کے ساتھ یہ تشخیص دی جائے کہ کونسی تحریک کس سے وابستہ ہے یہ پہلی بات ہے۔ ان دونوں تحریکوں کی پہچان اور علامت یہ ہے کہ ایک طرف اقتدار پرستی اور اقتدار کو تحفظ دینا ہے تو دوسری طرف اصول پرستی اور اقتدار کا تحفظ اور پاسداری ہے۔

اسلام اور اس کے بنیادی افکار یعنی اسلامی اقتدار کو قبول کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے جدوجہد اور جہاد کرنا پس ایک طرف اقتدار ، اصول پرستی اور ان کا تحفظ ہے اور دوسری طرف اقتدار پرستی ہے یعنی ہر قیمت پر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینا یعنی کچھ بھی ہو جائے وہ اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔ لیکن یہ باطل تحریکیں کون سے طریقہ کار اور ذرائع سے استفادہ کرتی ہیں یہ بھی ایک اہم اور توجہ طلب نکتہ ہے ہمیشہ باطل تحریکیں مختلف طریقہ کار اپناتی ہیں جیسا کہ معاویہ کا منصوبہ ایسے طریقوں پر مشتمل تھا جو اس کے اقتدار، طاقت اور تحفظ سے عبارت ہے اس کے ہر عمل سے کسی نہ کسی حوالے سے اپنے اقتدار کے استحکام کا مقصد پھوٹتا ہے۔

اس کے اقدامات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ ایک طاقت کا اظہار بہت جگہوں پر وہ اپنی طاقت کا بھرپور اظہار کرتا ہے اور اپنے مخالفین کی بے رہمی سے سرکوبی کرتا ہے دو دولت اور پیسے کا استعمال جو سازشی عناصر کے لیے ایک بہترین ذریعہ آمدنی ہے تین تبلیغ اور جھوٹا پروپیگنڈا چار سیاستبازی یعنی سیاسی طریقوں سے اپنے مخالفین کو شکست دینا یہ وہ حربے تھے جن سے معاویہ خوب استفادہ کرتا تھا ملاحظہ کیجئے کہ معاویہ ایک جگہ اس قدر سختی کے ساتھ پیش آتا ہے کہ حجر بن عدی جن کا شمار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نامور اصحاب میں ہوتا ہے جنہیں قتل کر دینا اس کے لیے انتہائی مہنگا بھی پڑ سکتا ہے لیکن وہ اسے قتل کرا دیتا ہے رشید حجری کا تعاقب کرتا ہے۔

یہاں تک کہ انھیں بھی شہید کر دیتا ہے زیاد بن ابیہ کو جو ایک انتہائی ظالم بد اخلاق اور بے حسب و نسب اور طاقت کا دلدادہ شخص تھا کوفہ کا جو تشیع اور پیروانِ ولایت کا گڑھ تھا گورنر مقرر کرتا ہے اور اسے پورے اختیارات دے دیتا ہے کہ جو تم چاہو کر سکتے ہو اسی زیاد بن ابیہ کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ تم لوگوں کو شک کی بنا پر گرفتار کرتے ہو اور اولیاء الہی پر جھوٹے الزامات لگا کر قتل کر دیتے ہو الدرجات الرفیعہ، صفحہ 360 جس شخص کے بارے میں معمولی بھی شک ہوتا کہ اس کا جھکاؤ اہل بیت اطہار علیہم السلام کی طرف ہے اسے گرفتار کر کے زندان میں ڈال دیتا تھا اور اسے سخت اذیتیں دیتا تھا اور جس شخص پر اہل بیت علیہم السلام کے تعاون کا الزام لگتا اسے قتل کر کے اس کا نام و نشان مٹا دیتا تھا یعنی عراق اور کوفہ میں جو شیعانِ اہل بیت کا مرکز تھا۔

ایک عجیب افراتفری اور دگرگون صورت حال تھی۔ معاویہ کہیں اس طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا تھا اور دوسری جگہ یہی معاویہ ہے مگر اس کا کردار آپ دیکھ لیں کہ جب کسی قبیلے کی ایک ضعیف خاتون آکر اسے گالیاں دیتی ہے اور اسے خوب برا بھلا کہتی ہے تم نے یہ کیا تم نے وہ کیا۔ معاویہ اسے کچھ بھی نہیں کہتا بلکہ ہنستے ہوئے اس کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتاؤ کرتا ہے عدی بن حاتم اس حالت میں امیر شام کے پاس آتا ہے۔ جب وہ دونوں آنکھوں سے نابینا ہو چکا ہے معاویہ کہتا ہے اے عدی! علی نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا تم نے میرے ساتھ علی کی جنگ میں اپنے دونوں بیٹوں کو کھو دیا۔

لیکن علی نے اپنے دونوں بیٹوں یعنی حسن اور حسین کو بچا کر رکھا عدی بن حاتم نے روتے ہوئے کہا معاویہ! حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے علی علیہ السلام کے ساتھ انصاف نہیں کیا کیونکہ وہ تو شہید ہو کر اپنے رب سے ملاقات کر چکے جبکہ میں ابھی تک زندہ ہوں امیر شام کے دربار میں جب کبھی کسی اہل بیت کے چاہنے والے کی موجودگی میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان میں معمولی سے گستاخی بھی کی جاتی وہ اپنی پوری طاقت اور شجاعت کے ساتھ معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف احتجاج کرتا اور معاویہ ہنستے ہوئے اسے نظر انداز کر دیتا تھا۔

یہاں تک کہ کبھی کبھار وہ روتے ہوئے کہتا تھا جی ہاں آپ صحیح کہہ رہے ہیں شاید ان باتوں کا قارئین کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہیں۔ یہ پروپیگنڈا ہی ہے کہ پوری تاریخ میں باطل قوتوں نے اس سے خطرناک اور مسموم ترین وسیلے کے طور پر کام لیا ہے حق کی تحریکیں باطل تحریکوں کی طرف پروپیگنڈوں سے کام نہیں لے سکتی ہیں کیوں کہ اگر جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے کسی کے ذہن کو مکمل طور پر متاثر کرنا چاہیں تو اس کے لیے بہت زیادہ ڈرامہ بازی جھوٹ اور فریب سے کام لینا پڑتا ہے جو حق کی تحریکوں کے لیے ناممکن ہے یہ باطل تحریکیں ہی ہیں کہ جن کے نزدیک ان کاموں کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک اہمیت اس بات کی ہے کہ ایک حقیقت کو کسی دوسری شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کام کے لیے تمام وسائل سے استفادہ کرتی ہیں۔

آپ حضرات یہ سنتے رہتے ہیں کہ جب امیرالمومنین امام علی علیہ السلام محراب عبادت میں شہید کر دئیے گئے تو اہل شام کو تعجب ہوا کہ علی محراب میں کیا کر رہے تھے مہراب تو نمازیوں کی جگہ ہے بعض لوگوں کو ان باتوں پر یقین نہیں آتا لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ معاویہ نے کئی سالوں پر مشتمل حکومت کے دوران اور اس سے قبل اس کے بڑے بھائی یزید بن ابی سفیان کے دور حکومت میں مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے شام کے ماحول کو اس قدر دھندلا کر دیا اور لوگوں کے ذہنوں کو خراب کر دیا تھا کہ وہ اس کی جھوٹی باتوں کے علاوہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے اور وہ معاویہ اور بنو اُمیہ کی حمایت اور اہل بیت اطہار کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے تھے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا اسلام میں ہجرت کے سو سال بعد یعنی شاید امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت کے چالیس پچاس سال بعد تک ممبروں سے آپ پر لعن طعن ہوتا رہا میں نے یہ جو کہا کہ اسلامی دنیا میں لعن طعن کا بانی خود معاویہ ہے اور یہ اس کے اخلاق کا معیار تھا بعض لوگ اہلِ تشیع کو معرضِ الزام ٹھہراتے ہوئے انہیں برا بھلا کہتے ہیں کہ وہ کیوں بعض صحابہ پر لعن طعن کرتے ہیں جبکہ یہ وہ کام ہے جس کی بنیاد خود معاویہ نے رکھی تھی جس نے امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے جن کے بارے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔

حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیٹی جناب فاطمہ زہرا علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں میں نے تمہاری شادی ایک ایسے شخص سے کی ہے جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا جو حرم میں سب سے بڑا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے جو سب سے زیادہ اللہ کی معرفت رکھتا ہے عوالم العلوم و المعارف، جلد 11، صفحہ 383 رسولِ اکرم کے بعد سب سے افضل شخص حضرت علی تھے الکافی، جلد 15، صفحہ 201 وہ علی جو اصحاب میں سب سے زیادہ آپ کے قریب اور اسلام لانے میں پہل کرنے والے تھے۔ ان پر سال ہا سال تک ممبروں سے لعن وطعن ہوتا رہا۔

آپ کی برائیاں کی گئیں یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ بن گیا تو اس نے اس سلسلے کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ یہ کام کرے عبدالملک بن مروان کے بعد یک کے بعد دیگرے اس کے دو بیٹے ولید اور سلمان خلیفہ بنے اس کے بعد دو سال کے لیے خلافت عمر بن عبدالعزیز کو ملی دو سال بعد دوبارہ خلافت عبدالملک کے دوسرے دو بیٹوں یعنی یزید اور ہشام کو ملی جب خلافت عمر بن عبدالعزیز کو ملی تو اس نے ان لوگوں کو امیر المومنین امام علی علیہ السلام پر سب وشتم سے روکا اس وقت تک یہ سلسلہ جاری تھا اور شروع شروع میں تو لوگوں کو اس کام پر تعجب ہوتا تھا۔

لیکن آہستہ آہستہ وہ اس بات کے عادی ہوتے گئے میں نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ دنیا اسلام میں کوئی قاری محدث اور راوی ایسا باقی نہیں جسے معاویہ اور بنو امیہ کے حکومتی کارندوں نے اہل بیتِ اطہار کے خلاف اور بنو امیہ کے حق میں احادیث گڑھنے اور ان کے حق میں آیاتِ الہی کی تفسیر بیان کرنے اور اس قسم کے دوسرے کاموں کے لیے تیار نہ کیا ہو سمرہ بن جندب کی مشہور حدیث لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِي الْإِسْلَامِ یعنی اسلام میں نہ تو خود نقصان اٹھانے کی اجازت ہے اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچانے کی من لا یحضره الفقیہ جلد 4 صفحہ 334 بھی اسی سے مربوط ہے۔

اس کا تعلق اصحابِ پیغمبرِ اسلامؐ سے ہے۔ البتہ یہ ایک ایسا صحابی ہے کہ آپ اس سے نفرت کرتے تھے۔ اس کی وجہ وہی مشہور داستان ہے کہ کسی انصاری کے گھر کے صحن میں سمرہ کا ایک درخت تھا اور وہ اپنے درخت کو دیکھنے کے بہانے بغیر اطلاع کے اچانک اس انصاری کے صحن میں داخل ہو جاتا جبکہ اس گھر میں اس کے بیوی بچے سب موجود ہوتے تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ اچانک ایک شخص بغیر اطلاع کے ان کے گھر میں داخل ہو جاتا ہے سمرہ کی اس حرکت سے ان کو بہت تکلیف پہنچتی تھی لہذا وہ انصاری اس شخص کی شکایت لے کر پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں پہنچ گیا۔

پیغمبرِ اسلامؐ نے سمرہ بن جندب سے کہا کہ وہ اس درخت کو انصاری کے ہاتھوں فروخت کر دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ درخت میری ملکیت ہے میں اس کے دیکھ بھال کے لیے جاتا رہوں گا۔ یہ سن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا چلو اس درخت کو میرے ہاتھ فروخت کر دو اس نے قبول نہیں کیا حضورؐ نے فرمایا میں تجھے اس درخت کے بدلے جنت میں ایک درخت کی ضمانت دیتا ہوں گویا آپ نے اسے جنت کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن اس نے قبول نہیں کیا اور کہا مجھے ہر صورت میں اپنا یہی درخت چاہیے۔ اس کی یہ بات سن کر آپ نے مالک مکان کو حکم دیا کہ گھر جا کر اس کا درخت جڑ سے اکھاڑ کر باہر پھینک دو تاکہ یہ اسے لے جائے آپ نے فرمایا لا ضرر ولا ضرار فی الاسلام یعنی دینِ اسلام میں ضرر اور ضرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اس بہانے کہ یہاں میری ملکیت کی چیز ہے۔ آپ کسی کو تکلیف پہنچا نہیں سکتے کیونکہ اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے لا ضرر کی یہ مشہور حدیث جسے ہمارے ہاں ایک فقہی اصول کی حیثیت حاصل ہے کا تعلق اسی سمرہ بن جندب سے ہے۔ یہ شخص امیر شام کے دور حکومت تک زندہ رہا۔ اس کی عاقبت کو دیکھ لیجئے معاویہ اصحابِ پیغمبرؐ کی تلاش میں رہتا تھا کیونکہ معاشرے میں ان کا ایک نام اور مقام تھا۔ لہٰذا وہ انہیں اپنے ارد گرد جمع کرنا چاہتا تھا۔ اس نے سمرہ بن جندب کو بھی اپنے حلقہ احباب میں شامل کر لیا اور اسے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ درج ذیل مشہور آیت کے نسبت امیر المومنین علیؐ کے طرف دے وہ آیت یہ ہے وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ دنیا کے مذمت کے بارے میں ان کی باتیں آپ کو بھلی لگتی اور وہ اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بناتے ہیں

حالانکہ وہ بد ترین دشمن ہیں سورۃ البقرہ (آیت 204) یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، کہ جب وہ دنیا کے بارے میں بولتے ہیں تو دنیا کے مذمت میں ان کی باتیں تجھے تعجب میں ڈال دیتے ہیں اور وہ باتیں تمہیں بھلی لگتے ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ ریاکاری کرتے ہیں دنیا کی مذمت میں نہج البلاغہ میں موجود امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی اس فصیح و بلیغ خطبے کے مقابلے میں جو انتہائی اثرات کا حامل ہے امیر شام نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ آپ دیکھئے کہ آج بھی اگر کوئی شخص فصیح و بلیغ گفتگو کرتا ہے کوئی شعر کہتا ہے یا کوئی کتاب لکھتا ہے اور کسی مطلب کو خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے تو فطری سی بات ہے کہ یہ کام لوگوں میں مشہور ہو جاتا ہے اور اس لکھنے والے کو بھی لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اگرچہ امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے کلام کو آج کے کسی ادیب کے کلام کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آپ کا کلام ایک نمونہ ہے

بلکہ نہج البلاغہ تو اسلامی معارف اور اقدار کی ایک بے مثال شہکار ہے لوگوں کے درمیان امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی شہرت کو معاویہ کیوں کر برداشت کر سکتا تھا۔ لہٰذا اس نے امیر المومنین کا دنیا کی مذمت اور زہد و تقویٰ پر مبنی خطبے کے مقابلے آپ کے خلاف کوئی سازش کرنا چاہی اور سمرہ سے کہا کہ تم لوگوں میں جا کر کہو کہ مذکورہ بالا آیت امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی امیر المومنین امام علی جو دنیا کی مذمت میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں تو تجھے تعجب ہونے لگتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ خود دنیا دار اور ایک لالچی انسان ہیں۔

لہٰذا یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کی درج ذیل آیت ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ رؤوف بالعباد سورۂ بقرہ آیت 207 اور لوگوں میں ایک آدمی ایسا بھی ہے جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کیلئے بیچ ڈالتا ہے اس کے بارے میں اس سے کہا گیا کہ تم یہ کہو کہ یہ آیت ابن ملجم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی معاویہ کو بہت ضرورت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت فائدہ حاصل کر سکتا تھا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی جس نے متعدد جنگوں میں حضور اکرم کے ساتھ شرکت کی ہو جیسا کہ سمرہ بن جندب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بچپنے ہی سے ایک جنگجو سپاہی تھا اور بالغ ہونے سے پہلے ہی کئی جنگوں میں حصہ لے چکا تھا۔

ڈھائی سو سالہ انسان