بنو امیہ کا آخری دورِ حکومت اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی امامت
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے 57 سال کی عمر میں بنو امیہ کے مقتدر ترین خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں شہادت پائی سلطنت کے ناگفتہ بہ حالات، بے شمار مصروفیات، مشاغل اور وسیع و عریض مملکت کو درپیش مشکلات بھی اس امر میں رکاوٹ نہ بن سکیں کہ ہشام کو شیعہ تنظیم کے اس دھڑکتے دل یعنی امام محمد باقر علیہ السلام کے خلاف سازشوں سے غافل کر سکیں ہشام کے حکم سے اس کے کارندوں نے امام علیہ السلام کو زہر دیا اور بنو امیہ کے طاغوتی حکمرانوں نے مملکت کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر اپنی کامیابیوں اور فتوحات کی لذتوں اور سرمستیوں کو سلطنت کے اندر اپنے سب سے بڑے اور خطرناک دشمن کے قتل سے مکمل کر دیا مورخین بغیر کسی استثناء کے ان سب کو خوارج سے منسوب کرتے ہیں جو خود ان بغاوتوں اور تحریکوں کے خلاف اموی دربارِ خلافت کے مخصوص الزامات کی نشاندہی کرتی ہے ان تمام شورشوں اور تحریکوں میں سے اکثر یا کم از کم بعض گروہ تو حق پر تھے۔
بنو امیہ کی سرکار امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری اور آپ کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کے ابتدائی سالوں میں اپنے زمانے کے انتہائی سخت اور نازک ترین دور سے گزر رہی تھی جہاں ایک طرف شمال مشرق کی سرحد پر ترکستان اور خراسان، شمال میں ایشیائی کوچک اور آذربائیجان اور مغرب میں افریقہ، اندلس اور یورپ کی سرحدوں پر حکومت مخالف عسکری طاقت کے مظاہرے ہوتے تھے تو دوسری طرف عراق اور خراسان کے نواحی علاقوں اور شمالی افریقہ میں مسلسل جنم لینے والی شورشیں جو عموماً یہاں کے ناراض اور مظلوم مقامی لوگوں یا کبھی کبھار بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے سرداروں کے اکسانے یا ان کی مدد سے سر اٹھا رہی تھیں۔
اسی طرح دوسری طرف پوری سلطنت کے نامنظم اور مخدوش معاشی حالات خصوصاً سرزمینِ عراق کے مختلف علاقے جہاں بادشاہ کی املاک کی حفاظت پر مامور لوگ رہ رہے تھے یا وہاں کی بھرپور پیداوار دینے والی اکثر زمینیں خود خلیفہ یا اس کے گماشتوں کی ہوتی تھیں خود ہشام اور عراق میں اس کے مقتدر گورنر خالد بن عبداللہ قصری پر یہ الزام تھا کہ اس کی سالانہ آمدنی تیرہ ملین تھی ہشام نے اسے ایک خط لکھا کہ کوئی شخص اس وقت تک اپنا غلہ فروخت نہ کرے جب تک امیر المومنین یعنی خلیفہ کا غلہ فروخت نہیں ہوتا خالد نے جو دل سے خلیفہ کا ہم خیال نہ تھا اپنے ایک خطبے میں کہا "لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قیمتیں میں بڑھاتا ہوں جو بھی قیمتیں بڑھاتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو" یعنی وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ یہ کام خلیفہ کا ہے ہشام کی بیوی کے پاس ایک ایسا سوٹ تھا کہ جس کے تار سونے کے تھے اور اس پر انتہائی قیمتی نگینے جڑے ہوئے تھے
اور وہ اتنا وزنی تھا کہ وہ اسے پہن کر چل بھی نہیں سکتی تھی بڑے بڑے دولت مند اس کی قیمت کا تعین نہیں کر سکے تھے اور خود اس کے پاس ریشم اور سونے سے تیار کیا ہوا۔ ایک ایسا فرش تھا کہ جس کی لمبائی سو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ تھی (ابن اثیر، جلد 5، صفحہ 220 اور بین الخلفاء والخلیفہ، صفحہ 28 اور 56، مؤلف) خالد بن عبداللہ قصری کے خورد برد کے واقعات اور آخرکار بنو امیہ کی سرپرستی میں ان کے مشہور حکمرانوں کے ذریعے چلائی جانے والی اس وسیع و عریض مملکت کے مختلف علاقوں خراسان، عراق اور شام میں قحط اور وبائی بیماریوں نے عجیب و غریب حالات پیدا کر دیے تھے۔
اس پر عالمِ اسلام کا سب سے بڑا اور اہم معانوی، فکری اور نفسیاتی نقصان مستزاد تھا اموی حکمرانوں کی قدرت طلبی اور ظلم و استبداد کے نتیجے میں اسلامی مملکت کے پریشان حال اور غمزدہ ماحول میں جہاں غربت، بدامنی اور بیماریاں ان کے بے سہارا لوگوں کے سروں پر بجلی بن کر گر رہی تھیں وہاں فضیلت، تقوی، اخلاقیات اور معانویات کو پروان چڑھانا بظاہر ایک مشکل اور ناممکن عمل دکھائی دیتا ہے علماء، قاضی صاحبان، محدثین اور مفسرین جنہیں ان بے سہارا اور مظلوموں کے لیے پناہ گاہ بن جانا چاہیے تھا وہ نہ صرف یہ کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر اوقات وہ سیاست دانوں سے بھی زیادہ خطرناک انداز میں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے درپے رہتے تھے فقہ، کلام، حدیث اور عرفان کے نامور علماء جیسے حسن بصری، قتادہ بن دعامہ محمد بن شہاب زہری، ابن بشر، محمد بن المنکدر، ابن ابی لیلیٰ جیسے دسیوں لوگ دربارِ خلافت سے وابستہ ہو کر در حقیقت خلافت کے مہرے یا حکمرانوں کے ہاتھوں کھلونے بن چکے تھے
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مشہور و معروف شخصیات کے حالاتِ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو محقق اور تجزیہ نگار کے سامنے یہ لوگ اپنی ناپاک خواہشات میں غرق طاقت اور نام و نمود کے شیدائی، لذتوں کے طلبگار، ڈرپوک، پست فطرت، عافیت طلب بے بس، ریاکار اور بے وقوف زاہد یا علمِ کلام اور اعتقاد کے خونی مباحث میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس زہر آلودہ، گھٹن، تاریک، مشکلات سے پر اور دشوار زمانے میں امانتِ الٰہی یعنی امامت کے اس گراں بار کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا اندازہ کیجئے کہ امامت کا معاملہ کس قدر اہم اور حیات بخش ہے خصوصاً ایسے مظالم اور مشکلات سے پر زمانے میں ایک ایسی امت کے لیے جو پریشان حال فریب خوردہ، مظلوم اور بے شعور ہو، امامت کو اس مفہوم میں سمجھنا جسے ہم نے شیعہ تہذیب میں سمجھا اور پہچانا ہے، انتہائی اہم اور ضروری ہے۔
ہم جان چکے ہیں کہ امامت دو حیات بخش تحریکوں کا سرچشمہ ہے صحیح اسلامِ فکر کا پرچار اور عادلانہ توحیدی نظام کا قیام امام پر یہ دونوں ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں سب سے پہلی ذمہ داری مکتب کی تشریح، تطبیق اور تفسیر ہے جس کا لازمہ تحریفات، جاہلانہ رسوم و رواج اور خود غرضیوں سے مقابلہ کرنا ہے دوسری ذمہ داری عدل و انصاف پر مبنی توحیدی نظام کا قیام اور ایسے نظام کی موجودگی کی صورت میں اس کی حفاظت کرنا ہے۔ اب ایسے پرآشوب اور ناگفتہ بہ حالات میں امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارِ امانت کو اپنے کاندھوں پر لیتے ہوئے ان دونوں ذمہ داریوں کو اٹھاتے ہیں۔
ایک ہی وقت میں دونوں ذمہ داریاں آپ کے سامنے تھیں تو سوال یہ تھا کہ آپ کو پہلے کس کو انجام دینا چاہیے۔ یہ بات صحیح ہے کہ سیاسی کاموں میں بہت ساری مشکلات ہوتی ہیں اور یہ کوئی ایسا معمولی کام نہیں کہ جسے اموی خلیفہ ہشام اپنی تمام تر مصروفیات اور اخلاقیات کے باوجود آسانی سے کرنے دے اور پھر ایسا کرنے والوں سے اس کا سخت بدلہ نہ لے ان لوگوں کی بے حیائی، خیانت آمیز اور بے وقوفانہ نظریات کی سینکڑوں مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے کہ حسن بصری جو حجاج بن یوسف جیسے ظالم و جابر، خون آشام اور بے نمازی شخص کے خلاف جہاد کو جائز نہیں سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ "میری رائے تو یہ ہے کہ اس کو نہ چھیڑا جائے کیونکہ اگر وہ تم لوگوں پر خدا کا مسلط کردہ عذاب ہے تو تم اس خدائی عذاب کو اپنی تلواروں کی طاقت سے ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتے" "اور اگر وہ تم پر نازل ہونے والی بلا ہے تو صبر کرو تاکہ اللہ تعالیٰ خود ہی اس بلا کو ٹال دے گا کیونکہ وہ بہترین حکم دینے والا ہے"
("محمود صحافی"، صفحہ 23، مؤلف) لیکن فکری اور نظریاتی کام یعنی تحریفات سے مبارزہ، یہ کام در حقیقت خلافت کی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔ ایک ایسی حکومت کے جس کے پاس اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے دین میں انحرافات کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ لہٰذا امام کو اس کام کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی نہ تو ہشام کی طرف سے اور نہ علماء عامہ یعنی وہ علماء جو خود بھی عمومی اور معاشرے میں رائج تنزلی اور انحراف کی راہ پر بھرپور طریقے سے گامزن تھے، کی طرف سے اس کی اجازت دی گئی دوسری طرف شیعوں کو اپنے انقلابی نظریات پھیلانے کے لیے بھی حالات سازگار ہیں کیونکہ ملک میں ایک طرف خانہ جنگی ہے تو دوسری طرف ظلم و استبداد کا راج ہے۔
یہ تینوں عوامل کسی بھی معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کے بنیادی عوامل ہیں اور پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ اماموں نے نہ صرف اپنے قریبی علاقوں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں بھی حالات کو ایک حد تک سازگار بنا دیا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں لوگوں کے ایک گروہ کی موجودگی میں جو نظریہ امامت کو جانتا ہے اور اسے قبول بھی کرتا ہے اور نظریہ امامت کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا پورے ذوق اور شوق سے منتظر ہے تو ایک دوسرا ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اپنے پورے مصمم ارادے کے ساتھ مبارزاتی تنظیم سے منسلک ہو چکا ہے ایسے میں امامت کی مجموعی پالیسی ایک توحیدی اور علوی انقلاب برپا کرنا ہے۔
اس عمومی پالیسی کا منطقی نتیجہ پورے عالمِ اسلام میں ایک ہمہ گیر دعوت ہے جس کا مقصد جہاں ایک طرف ہر سطح کے لوگوں کے لیے شیعہ نظریات کو قبول کرنے کا مناسب ماحول فراہم کرنا ہے تو وہاں دوسری طرف شیعوں کی خفیہ تنظیم کے لیے مؤثر فداکار افراد بھی تیار کرنا ہے۔ ایک بہت غور طلب بات یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کے صحیح اسلامی طرزِ فکر سے واضح انحراف کے باوجود عام لوگوں بلکہ بعض سرداروں کے ذہنوں میں دینی عقیدت اس قدر مضبوط ہو گئی تھی کہ ان کے عمل اور زندگی پر اس کا گہرا اثر تھا۔ اسی عمومی عقیدے جو بدقسمتی سے ایک من گھڑت عقیدہ تھا، کے ذریعے خلفاء اپنی ذلت آمیز زندگی کو محفوظ رکھ سکتے تھے دینی عقیدے کی اس پابندی سے حکمران کیسے استفادہ کرتے تھے اس کی ایک مثال بیعت کے مسئلے میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے کتنے ایسے لوگ تھے جو خلیفہ کے تمام طرح کے انحرافات کو دیکھنے کے باوجود صرف اس عہد کے احترام میں کہ بیعت کا عہد توڑنا حرام ہے
خلیفہ سے کی ہوئی بیعت کا پاس رکھتے تھے اور اس کی باتوں سے روگردانی نہیں کرتے تھے اور کتنے ہی مواقع پر وصیت اور بیعت نے نظامِ خلافت کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ ان بدعنوان خلفا کے خلاف منظم جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہے۔ امامت کی سچی دعوت کے کام کی دشواری کا راز اسی نکتے میں پوشیدہ ہے۔ جب ایک مکمل نظریاتی دعوت اسلام کے بنیادی اصولوں اور معیارات کا پاس رکھتے ہوئے حکومت کو لوگوں پر ظلم و استبداد اور ان کے حقِ آزادی کو پامال کرنے سے روکنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے فہم و شعور پر تکیہ کرتے ہوئے ان کی فطرتی خواہشات کی ضرورتوں کا احساس اور اپنی پیشرفت کو مسلسل جاری رکھا جائے اس کے برعکس ایسی تحریکیں جو بظاہر فکری اور نظریاتی نعروں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرتی ہیں۔
لیکن عملی میدان میں وہ اپنے اخلاقی اور اجتماعی اصولوں کو نظر انداز کر کے معاشرے کے دوسرے طاقتور لوگوں کی طرح اپنی طاقت و قدرت کا اظہار کرتی ہیں اور وہ اس کام میں کوئی مضائقہ بھی نہیں سمجھتی ہیں۔ ان کو کسی ایسی دشواری اور مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور امامت کی تحریک کے طولانی ہونے اور اس کے مقابلے میں چلنے والی تحریکوں جیسے بنو عباس کی تحریک کی پیشرفت اور ان کے مقابلے میں اس تحریک کی کسی حد تک شکست کی وجہ بھی یہی ہے۔ اس بات کو تاریخی مصادر کی بنیاد پر مزید تفصیل کے ساتھ آئندہ صفحات میں بیان کیا جائے گا مناسب اور سازگار حالات نیز گزشتہ اماموں کی بے پناہ جدوجہد اس بات کا سبب بنی کہ شیعہ تحریکوں کے طویل اور پر مشقت سفر میں امام جعفر صادق علیہ السلام ہی اس امید کے سچے مظہر بن گئے جس کے شیعہ کئی سالوں سے منتظر تھے، وہ قائم جو اپنے اسلاف کی طویل جدوجہد کو نتیجہ خیز بنائے گا اور شیعہ انقلاب کو پورے عالمِ اسلام میں پھیلائے گا
مختلف مواقع پر امام محمد باقر علیہ السلام کے اشارے کنائے اور کبھی کبھار اس کی وضاحت بھی اس خواہش کو پروان چڑھانے میں موثر ثابت ہوئی (بحار الانوار، جلد 47، صفحہ 131) جابر بن یزید کہتا ہے کسی شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے ان کے بعد قیام کرنے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ابی عبداللہ یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام کے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے فرمایا "خدا کی قسم، آلِ محمد میں قیام کرنے والا یہ ہے" (پیشوائے صادق، صفحہ 54-61) امام جعفر صادق علیہ السلام کے حالاتِ زندگی میں ابہامات کا پہلو یہاں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی پر تحقیق کرنے والوں کے لیے درپیش ایک افسوسناک حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ امام کے حالاتِ زندگی خصوصاً آپ کی امامت کے ابتدائی چند سالوں پر جو بنو امیہ کی حکومت کے آخری سالوں میں گزرے ہیں ابہامات کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں مختلف قسم کے واقعات اور حادثات سے بھرپور آپ کی زندگی میں موجود کشمکش اور اتار چڑھاؤ کو تاریخ کی سیکڑوں روایات میں دیکھا جا سکتا ہے
مگر انھیں نہ تو مورخین نے اور نہ محدثین اور تذکرہ نگاروں نے کسی مرتب اور مربوط شکل میں پیش کیا ہے۔ آپ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے وقت اور خصوصیات کا تعین نہیں کیا گیا۔ لہٰذا محققین کو چاہیے کہ اس زمانے کے مجموعی حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے مختلف قرائن اور شواہد کی بنیاد پر ہر روایت کا موازنہ ان معلومات کے ساتھ کرکے جو اس روایت میں مذکور افراد کے بارے میں دوسری کتابوں میں موجود ہیں واقعات کے زمان و مکان اور دیگر خصوصیات کا پتہ چلائیں شاید اس خاموشی اور ابہام کی ایک علت کو امام کے اپنے اصحاب کے ساتھ تنظیمی سرگرمیوں کی ماہیت میں تلاش کیا جا سکتا ہے خفیہ اور تنظیمی عمل کو معمول کے مطابق خصوصاً جب اسے خفیہ طور پر صحیح طریقے سے انجام دیا گیا ہو ہمیشہ خفیہ ہی رہنا چاہیے یعنی جو کام اس دن مخفی تھا اسے بعد میں بھی مخفی ہی رہنا چاہیے کیونکہ اس عمل کو انجام دینے والوں کی راز داری اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہر ایرا غیرا اس سے واقف اور باخبر ہو جب وہ کام مکمل ہوگا اور اسے انجام دینے والے اس کے نتائج کنٹرول کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو وہ خود ہی اپنے اس خفیہ کام کی تفصیلات ظاہر کریں گے
یہی وجہ ہے کہ بنو عباس کے دور کے بہت سارے راز یہاں تک کہ ان کے سرداروں کے خصوصی احکامات اور ان کا اپنے ماتحت تنظیمی افراد کے ساتھ خفیہ روابط کی تفصیلات تاریخ میں درج ہیں اور سب ان سے آگاہ ہیں یقیناً اگر علوی تحریک بھی اپنے منطقی انجام تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی اور طاقت اور حکومت خود آئمہ اطہار علیہم السلام یا ان کے منتخب افراد کے ہاتھ لگ جاتی تو آج ہم علوی تحریک کے ان تمام خفیہ رازوں اور وسیع تنظیمی نیٹ ورک سے بھی باخبر ہو جاتے ایک اور وجہ جسے مورخین کے آثار اور تاریخ نگاری میں تلاش کرنی چاہیے۔
اگر کسی باضابطہ لکھی جانے والی تاریخ میں کسی محکوم اور مظلوم گروہ کا صرف نام آ جائے یا اس کا کوئی واقعہ درج ہوگا تو یقیناً وہ اس طریقے سے ہوگا جس طرح اس زمانے کے ظالم و جابر نے چاہا ہوگا یا کہا ہوگا یا جس طرح اسے ظاہر کیا ہوگا۔ ایک سرکاری مورخ جب کسی مظلوم اور محکوم گروہ کے بارے میں دل آزار باتوں کے علاوہ کچھ اور لکھنا چاہے گا تو اسے بہت سی زحمتوں کے بعد ادھر ادھر سے کچھ چیزیں ملیں گی اور انہیں بھی وہ ڈرتے ڈرتے لکھے گا جبکہ حکمرانوں کے بارے میں بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ انہیں وہ بغیر کسی خوف و خطر اور زحمت کے لکھ سکتا ہے اور اس کی اجرت بھی وصول کر لیتا ہے اور اسے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوتا اب ہم اس روشن حقیقت کو ایک دوسری حقیقت کے پہلو میں رکھتے ہیں۔
وہ تمام معروف اور معتبر تاریخ جو بعد کی اکثر تحقیقات کے لیے مدرک اور ماخذ شمار ہوتی ہیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے پانچ سو سال بعد تک لکھی جاتی رہی ہیں۔ ان سب پر عباسی رنگ چھایا ہوا ہے کیونکہ عباسی حکومت ساتویں صدی ہجری کے وسط تک باقی رہی ہے اور تمام قدیم اور معروف تاریخ ان ہی ظالم لوگوں کے دورِ سلطنت میں لکھی گئی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عباسی دور کے کسی بھی مورخ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام یا شیعوں کے کسی دوسرے امام کی زندگی کے بارے میں صحیح اور منظم معلومات حاصل کر کے انہیں اپنی کتاب میں درج کرے گا۔
یہ ہے امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں تحریفات اور ابہامات کی سب سے بڑی وجہ پس وہ واحد راستہ جو ہمیں امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کی مجموعی روش سے آگاہ کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم امام کے نظریات اور اخلاق کے کلی اصولوں کی مدد سے ابہامات کے اس ڈھیر میں سے آپ کی زندگی کے اہم مظاہر کو تلاش کریں اور اس کی بنیاد پر روش کی تصویر کشی کریں اور پھر خصوصیات اور باریکیوں کے تعین کے لیے تاریخ کے صفحات میں بکھرے ہوئے قرائن و دلائل نیز غیر تاریخی قرائن کا انتظار کریں