امام باقرؑ

امام باقرؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام باقرؑ

امام باقرؑ

ہجری ۵۷

ہجری ۱۱۴

حصہ 2 از 3

امام محمد باقؑر

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

جبکہ شیر ایک قسم کا کتا ہے تو سورج ایک جامد جسم ہے، دریا ایک بے روح پیکر ہے اور اژدہا ایک بدبودار جانور ہے جبکہ پہاڑ ایک سخت پتھر ہے۔ امام علیہ السلام کسیر کی اس بے تکے وضاحت کو سن کر معنی خیز انداز میں مسکرائے اسی دوران کمیت نامی انقلابی شاعر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنے ہاشمیات نامی قصیدوں میں سے ایک منقبت پڑھنا شروع کرتا ہے یوں وہ وہاں پر موجود لوگوں اور رہتی دنیا تک کے لیے اس طرز فکر کے اختلاف کو بطور یادگار ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے مناقب ابن شہر آشوب جلد 4 صفحہ 207 ابن عباس کا شاگرد عکرمہ جو اپنی عظیم حیثیت اور شخصیت کی بناء پر لوگوں کے درمیان قابل بھروسہ اور معتبر سمجھا جاتا تھا۔

ایک دفعہ امام محمد باقر علیہ السلام سے ملاقات کے غرض سے حاضر ہوتا ہے اور آپ کی باوقار، علمی، روحانی اور معنوی شخصیت دیکھ کر یوں متاثر ہو جاتا ہے کہ بے اختیار خود کو امام کے قدموں میں گرا دیتا ہے اور بڑے تعجب کے ساتھ اپنے آپ سے کہتا ہے میں ابن عباس جیسے نامور اور عظیم لوگوں کی محافل میں بیٹھ چکا ہوں لیکن کبھی بھی مجھ پر ایسی کیفیت طاری نہیں ہوئی تھی۔ امام نے عکرمہ کے جواب میں ارشاد فرمایا اے شامیوں کے حقیر غلام! تیرے حال پر افسوس آج تم اس گھرانے میں آئے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے بلندی عطا کی ہے اور یہ وہ گھرانہ ہے جو یادِ الٰہی کا مرکز ہے بحار الانوار جلد 46 صفحہ 258 امام محمد باقر علیہ السلام ہر مناسب موقع پر شیعیت کی تلخ تاریخ اور واقعات کو دہراتے ہوئے وقت کے حکمرانوں کے طرف سے اپنے اور اپنے اصحاب پر کی جانے والی سختیوں کا پردہ چاک کرتے لوگوں کے احساسات اور جذبات کو جگاتے اور ان کے نیم مردہ جسموں اور ان کی رگوں میں جمے ہوئے خون کو جوش دلاتے اور ان کے مردہ دلوں میں ہیجان پیدا کرتے تھے

یعنی دوسرے لفظوں میں انہیں ایک انقلابی تحریک اور سخت ترین مقصد کے حصول کے لیے آمادہ ہونے کی ترغیب دلانے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک شخص نے آپ سے پوچھا اے فرزند رسول! آپ کی رات کیسے گزری؟ آپ نے فرمایا کیا اب بھی وہ وقت نہیں آ پہنچا ہے کہ تم سمجھ سکو کہ ہم کون لوگ ہیں اور ہماری راتیں کیسے گزرتی ہیں ہماری داستان بھی بنی اسرائیل کی سی ہے جس طرح فرعونی معاشرے میں بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کر دیا جاتا تھا اور ان کی عورتوں کو اسیر کیا جاتا تھا یاد رکھو کہ یہ بنو امیہ بھی ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیتے ہیں اور ہماری عورتوں کو زندہ ہم سے چھین لیتے ہیں۔

اس غم انگیز گفتگو کے بعد اصل مطلب یعنی حکومت اہل بیت اور شیعیت کی دعوت کی طرف آتے ہیں اور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں عربوں کا یہ گمان تھا کہ وہ عجموں سے افضل اور برتر ہیں اور وہ یہ دلیل دیتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عربی ہیں اور عجم بھی ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے قریش کا خیال تھا کہ وہ عرب کے دیگر قبائل سے بہتر ہیں کیونکہ محمد ان کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے قبیلے کے لوگ ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے۔ پس اگر ان کا یہ دعویٰ سچا ہے تو ہم اہل بیت اطہار تو قریش کے دیگر قبائل سے افضل ہوئے کیونکہ ہم تو حضرت محمد کے خاندان سے اور ان کی اولاد ہیں اور کوئی بھی شخص اس نسبت میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ شخص امام کی گفتگو سن کر جذباتی ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اللہ کی قسم ہم آپ کے خاندان سے محبت کرتے ہیں۔

امام نے جب اس شخص کو فکری، قلبی اور عملی لحاظ سے مکمل طور پر ولایت اور امامت کے نزدیک ہوتے مشاہدہ کیا تو اس کی آگاہی کے لیے ایک نصیحت کے طور پر یوں ارشاد فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو پھر اپنے آپ کو طرح طرح کی بلاؤں کے لیے آمادہ اور تیار رکھو خدا کی قسم بلائیں ہمارے شیعوں کے اس سے بھی زیادہ نزدیک ہیں جتنا پہاڑ کا دامن سیلاب کے نزدیک ہوتا ہے بلائیں سب سے پہلے ہمیں اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں اور پھر تمہارا رخ کرتی ہیں جس طرح قیامت کے دن راحت و سکون سب سے پہلے ہمیں نصیب ہوگا اور پھر تمہیں یہ راحت اور سکون ہمارے توسط سے ملے گا۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے اپنے چاہنے والے شیعوں کے ساتھ انتہائی محدود پیمانے پر روابط تھے۔ اس حوالے سے ہمیں امام محمد باقر کے اپنے شیعوں اور پیروکاروں کے ساتھ تعلق ایسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسے ایک زندہ جاوید پیکر اور مفکر دماغ کا بدن کے دیگر اعضاء سے ہوتا ہے یا دھڑکتے دل کا رابطہ بدن اور اس کے اعضاء سے ہوتا ہے۔ ایک محدود اندازے اور مطمئن دائرے میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام باقر علیہ السلام کے اپنے چاہنے والے شیعوں سے جو روابط تھے وہ مخصوص صفات کے حامل تھے اس سلسلے میں جب ہم آپ کی شخصیت پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یوں مشاہدہ کرتے ہیں کہ جیسے ایک زندہ جسم میں سوچنے والے دماغ کا جسم کے دیگر اعضاء و جوارح سے تعلق ہوتا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کا اپنے شیعوں اور پیروکاروں کے ساتھ روابط کے حوالے سے جو معلومات ہماری دسترس میں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ایک طرف اپنے چاہنے والوں کی فکری اور ذہنی تربیت میں مشغول نظر آتے ہیں تو دوسری طرف اپنے چاہنے والوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور روابط کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ فضیل بن یسار امام کی زبانِ مبارک سے جناب فضیل بن یسار کی مزید تعریف سننے کے لیے قاموس الرجال جلد 97 صفحات 345 تا 345 کی طرف رجوع کریں معلم جو آپ کے قریبی دوست اور رازدار شخص تھے کو امام کی معیت میں حج کرنے کا موقع ملا امام نے خانہِ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے حاجیوں کو دیکھا تو فضیل بن یسار سے فرمایا زمانہِ جاہلیت میں بھی لوگ یعنی مشرکین اسی طرح خانہِ کعبہ کے گرد چکر کاٹا کرتے تھے جبکہ حکم یہ ہے یہ ہماری طرف چلے آئیں اور ہمارے ساتھ دوستی اور محبت کا اظہار کریں جیسا کہ قرآنِ مجید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی نقل کرتا ہے کہ اے ہمارے پالنے والے! لوگوں کے دلوں کو ان اہل بیتِ اطہار کی طرف موڑ دے جابر جعفی کو اپنی پہلی ہی ملاقات میں یوں نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ کسی پر یہ ظاہر نہ کرے کہ ان کا تعلق کوفہ سے ہے

بلکہ یوں اظہار کرے کہ وہ بھی مدینہ ہی کا باسی ہے۔ آپ اس نصیحت کے ذریعے اس نوخیز نوجوان اور شاگرد کو جس میں پہلے ہی سے اسرارِ امامت اور تشیع کو اٹھانے کی صلاحیت موجود تھی رازداری برتنے کا درس دیتے ہیں اور بعد میں جا کر آپ کا یہی شاگرد امام کے رازدار کے نام سے مشہور ہوتا ہے حکمرانوں کے ساتھ آپ کے تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ نعمان بن بشیر کہتا ہے کہ ایک دفعہ میں جابر کے ساتھ حج کے سفر میں تھا مدینہ پہنچ کر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا مدینہ میں چند دن قیام کرنے کے بعد جب جابر امام سے آخری ملاقات کرنے چلا گیا تو واپسی پر وہ بڑا خوش دکھائی دے رہا تھا وہاں سے ہم کوفہ روانہ ہوئے دوران سفر راستے میں ایک منزل پر کسی شخص سے ملاقات ہوئی نعمان اس شخص کی نشانیاں اور جابر اور اس کے درمیان ہونے والی گفتگو کو اختصار کے ساتھ یوں بیان کرتا ہے کہ اس شخص نے ایک خط نکالا اور جابر کو دیا جابر نے اس کے ہاتھ سے خط لیا اور بوسہ دینے کے بعد اپنی آنکھوں سے لگایا اور خط کو کھول کر پڑھنا شروع کر دیا

میں مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جابر جوں جوں خط پڑھتا جاتا تھا اس کے چہرے سے پریشانی کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ اس نے پورا خط پڑھنے کے بعد اسے بند کر دیا ہم نے دوبارہ کوفہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا لیکن اس کے بعد کوفہ پہنچنے تک میں نے جابر کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی کوفہ پہنچنے کے اگلے دن میں جابر سے ملنے اس کے گھر کی طرف چلا جب اس کے گھر کے نزدیک پہنچا تو اچانک ایک حیرت انگیز منظر کا مجھے سامنا کرنا پڑا میں نے دیکھا کہ جابر چھوٹے بچوں کی طرح ایک لکڑی پر سوار ہے اور اس کے گلے میں بھیڑ کے پاؤں کی سوکھی ہڈی لٹکی ہوئی ہے اور بے ربط قسم کے اشعار پڑھتے ہوئے پاگلوں کی طرح گھر سے باہر نکل رہا ہے۔

اس نے مجھے دیکھا لیکن مجھ سے کوئی بات نہیں کی میں نے بھی اسے کچھ نہیں کہا لیکن اس کی یہ حالت دیکھ کر مجھے بے اختیار رونا آیا جتنے میں محلے کے بچے ہمارے ارد گرد جمع ہونا شروع ہو گئے جابر آگے چلتا گیا اور رحبہ کے مقام پر پہنچ گیا وہ جہاں بھی جاتا بچے بھی اس کے پیچھے چلے جاتے لوگ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ جابر پاگل ہو گیا ہے۔ اس واقعے کو ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ خلیفہ ہشام بن عبد الملک کا ایک خط حاکم کوفہ کو ملا جس میں لکھا تھا کہ تحقیق کر کے دیکھو کہ یہ جابر بن یزید جعفی نامی شخص کون ہے اسے گرفتار کر لو اور فوراً اس کی گردن اڑا کر سر میرے پاس بھیج دو حاکم کوفہ نے اپنے کارندوں کے ذریعے جابر کا پتہ چلایا اس کے کارندوں نے رپورٹ دی اے امیر وہ ایک عالم اور علم حدیث کا ماہر شخص تھا۔

اس سال حج کرنے گیا تھا مگر واپسی پر پاگل ہو گیا ہے اور اس وقت بھی وہ ایک لکڑی پر سوار ہو کر رحبہ کے مقام پر بچوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہے رحبہ مسجد کوفہ کا داخلی دروازہ نعمان کہتا ہے حاکم کوفہ اطمینان اور تسلی کے خاطر بذات خود جابر کو دیکھنے کیلئے مسجد کوفہ کی طرف چل پڑا اور وہاں جا کر جابر کو بچوں کے ساتھ اپنی لکڑی پر سوار کھیل کود میں مشغول دیکھنے لگا خدا کا شکر ہے اس نے مجھے جابر کے قتل سے بچا لیا مؤلف حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے اپنے چاہنے والے قریبی ساتھیوں اور شیعوں کے ساتھ منظم روابط کی یہ ایک مثال ہے نیز اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وقت کے حکمران کس قدر امام کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ روابط پر کڑی نظر رکھتے تھے ظاہر سی بات ہے حکمرانوں کو ہمیشہ اپنی کرسی اور اقتدار کو مستحکم کرنے کی سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔

اس لیے وہ امام کے اپنے قریبی ساتھیوں سے روابط اور ان کی سرگرمیوں کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا وہ کم و بیش ایسے معاملات کی کھوج میں رہتے تھے اور فوراً انہیں دبا دیتے تھے۔ اس بات کی تائید جابر کے اس واقعے کے علاوہ دیگر متعدد واقعات جیسے عبداللہ بن معاویہ جعفری کا حاکم مدینہ کی طرف سے امام کو دھمکی آمیز پیغام موصول ہونے سے بھی ہوتی ہے بحار الانوار جلد 46 صفحہ 246 مؤلف یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ امام محمد باقر علیہ السلام اور آپ کے شیعوں کے دلوں میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف قیام کے آثار نمایاں ہوتے رہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہوا اگرچہ تاریخ، حدیث اور دیگر موضوعات پر مشتمل کتابوں میں امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف سے وقت کے حکمرانوں کے خلاف کھلے عام قیام کے کوئی شواہد نہیں ملتے البتہ یہ بھی ان عوامل میں سے ایک ہے کہ وقت کے ظالم و جابر حکمرانوں کی طرف سے بے جا سختیوں کی وجہ سے امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے شیعوں کو تقیہ میں زندگی گزارنے کی ہدایت کی تھی۔

لہٰذا چند گنے چنے اصحاب کے علاوہ عام لوگوں کو امام کی ذاتی مصروفیات اور سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن بنو امیہ کا طاقتور اور زیرک بادشاہ ہشام بن عبد الملک کے بارے میں تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ وہ بنو امیہ کے خلفاء میں سب سے زیادہ با اختیار اور زیرک آدمی تھا۔ اب اگر وہ امام محمد باقر علیہ السلام یا کسی اور شخص کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آتا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے جبھی اپنے کردار سے مطمئن نظر نہیں آتا اور ان کے وجود کو اپنے لئے ناقابل برداشت قرار دیتا ہے۔

لہٰذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر امام محمد باقر علیہ السلام فکری، سیاسی اور تنظیمی امور سے ہٹ کر صرف علمی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے تو وقت کے ظالم و جابر حکمران بھی آپ کے خلاف تشدد آمیز پالیسی اختیار کر کے اپنے لیے مشکلات پیدا کرنے سے کتراتے کیونکہ اس صورت میں اولاً تو ان کا یہ عمل امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنے سامنے جارحانہ رویہ اختیار کرنے پر اکسانے کے مترادف قرار پاتا جیسا کہ کچھ عرصے پہلے اس قسم کے تجربات کا ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں منجملہ ان میں سے ایک حسین بن علی شہید فخ کا واقعہ ہے حسین بن علی، علی بن حسن بن حسن مُجتبٰیؑ کے بیٹے تھے اور ان کی ماں عبداللہ بن حسن کی بیٹی زینب ہے جنہوں نے منصور کے پوتے موسیٰ الہادی کے دور میں خروج کیا تھا اور فخ مکہ سے ایک فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک چشمے کا نام ہے ثانیاً اس تند اور سخت رویے اور حکمت عملی کی وجہ سے امام باقر علیہ السلام کے شیعوں کو جن کی تعداد اتنی کم بھی نہ تھی

ناراض کر کے اپنے خلاف مسلح قیام پر مجبور کر دیتا مختصر یہ کہ حکمران وقت کی طرف سے امام محمد باقر علیہ السلام اور آپ کے چاہنے والے افراد کے خلاف سخت ترین رویہ اور وہ بھی آپ کی زندگی کے آخری ایام میں اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خود حضرت امام باقر علیہ السلام نے بھی وقت کے طاغوتی بادشاہوں کو للکارا اور ان کے مظالم کی نشان دہی کر کے ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرنے کی پالیسی برابر جاری رکھی تھی۔ حضرت امام باقر علیہ السلام کی شام طلبی حضرت امام محمد باقر کے زندگی کے آخری ایام کا سب سے اہم واقعہ امام کی بنو امیہ کے دارالخلافہ یعنی شام طلبی ہے ہشام بن عبد الملک نے اپنی حکومت کے بارے میں امام محمد باقر علیہ السلام کا موقف جاننے کے لیے والی مدینہ ابراہیم بن عبد الملک کو حکم دیا کہ وہ امام محمد باقر کو بعض روایات کے مطابق آپ کے نوجوان بیٹے امام جعفر صادق کو بھی جو آپ کے واحد معاون و مددگار تھے

گرفتار کر کے شام بھیج دیا جائے امام کو گرفتار کر کے شام میں خلیفہ کے دربار میں پیش کیا گیا ہشام پہلے ہی اپنے کارندوں اور حاشیہ نشینوں کو خصوصی ہدایت دے چکا تھا کہ جب آپ دربار میں داخل ہوں تو کس طرح آپ پر بے بنیاد الزامات لگانا اور آپ کی تذلیل کرنی ہے پروگرام یہ طے پایا تھا کہ سب سے پہلے خود ہشام اور اس کے بعد اس کے درباری جو سب اعلیٰ حکومتی عہدیدار تھے کی طرف سے الزامات اور تہمتوں کی بوچھاڑ کی جائے گی ہشام بن عبد الملک اپنے اس گھناؤنے عمل سے دو قسم کے مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا پہلے یہ کہ وہ اس طرح گالم گلوچ اور برا بھلا کہہ کر امام کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنا چاہتا تھا تاکہ اپنی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کے لیے زمینہ فراہم کر سکے دوسرا یہ کہ وہ اپنی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں اپنی مخالف پارٹی کے قائد کو شرمندہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے ان کارندوں اور بے ضمیر علماء، خطباء اور جاسوسوں کے ذریعے اس خبر کو پھیلا کر اپنی حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو خبردار کر سکے۔

امام محمد باقر علیہ السلام دربارِ شام میں تشریف لاتے ہیں دربار کی رسم و رواج کے برعکس جہاں ہر آنے والا شخص پہلے خلیفہ کو امیر المومنین کہہ کر سلام کرتا تھا۔ آپ دربار میں موجود حاضرین کی طرف رخ کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ کے اشارے سے سب کو مخاطب کر کے السلام علیکم کہتے ہیں۔ اس کے بعد خلیفہ کی اجازت کا انتظار کیے بغیر اپنی نشست پر بیٹھ جاتے ہیں۔ امام کے اس جرات مندانہ اقدام سے حسد اور بغض و کینہ کے مارے ہشام کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زبان درازی کرتے ہوئے کہتا ہے تم اولادِ علی کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ تم ملتِ اسلامیہ کے درمیان پھوٹ ڈالتے اور انہیں اپنی طرف دعوت دیتے ہو اور اپنی کم عقلی اور جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا قرار دیتے ہو اس قسم کی فضولیات بکنے کے بعد وہ خاموش ہو جاتا ہے اس کے بعد اس کے کارندوں اور وظیفہ خوروں کی باری آتی ہے۔

وہ بھی اپنے اپنے انداز میں امام پر بے بنیاد تہمتوں اور الزامات کی بارش کرتے ہیں۔ امام محمد باقر علیہ السلام اس ساری صورتحال کا انتہائی اطمینان اور خاموشی سے جائزہ لیتے ہیں اور جب تمام لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر خاموش ہو جاتے ہیں تو امام اپنی نشست سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دربار میں موجود لوگوں کی طرف رخ کر کے اللہ کی حمد و ثنا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے بعد چند مختصر جملوں میں ان کے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑتے اور ان کے پراگندہ ذہنوں کو جلا دیتے ہیں اور دوسروں کا آلہ کار بن کر اپنے اختیار کو کھو دینے والے ان لوگوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے اور ان کے سروں پر سرزنش کے تازیانے برساتے ہیں اور پھر اپنے اور اپنے اعلیٰ ترین خاندان کے فخر و مباہات کو اجاگر کرتے ہیں اور اہل بیتِ اطہار کی سیرتِ طیبہ کو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے ان کی نیک اور بہترین انجام و عاقبت کو پوری دنیا کی تاریخی حقیقت پر محیط سنتِ الہیہ ٹھہراتے ہیں

یوں ان کے نفسیات کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں اے لوگوں! تم کہاں جا رہے ہو اور تمہارے بارے میں کیا سوچا جا رہا ہے۔ ہم ہی ہیں جن کے وسیلے سے اللہ نے تمہارے اسلاف کی ہدایت کی اور ہم ہی تمہارے اعمال پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے والے ہیں۔ اگر آج تمہارے ہاتھ میں ایک عارضی حکومت ہے تو کل ہمارے ہاتھ میں ایک دائمی حکومت ہوگی اور ہمارے بعد کسی اور کو یہ حکومت نہیں ملے گی ہم ہی اہل آخرت ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ آخرت تو بس متقین کے لیے ہے اے لوگوں! یہ خطاب ان اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے ہے جو دربار میں موجود خلیفہ کے دفاع پر کمر بستہ تھے یعنی یہ حقیقت میں ان ظالم و جابر حکمرانوں کے اس جاہ و جلال کی نفی تھی جو انہیں عام لوگوں سے الگ کرتی تھی یعنی آپ نے ایک سادہ خطاب کے ذریعے اپنا اصولی موقف بیان کر دیا مؤلف ارشاد بہ حوالہ بحار الانوار جلد 46 صفحہ 264 امام محمد باقر علیہ السلام کے اس مختصر لیکن پُرمغز بیان میں جو ظلم کے خلاف احتجاج حکمرانوں کی مذمت، خوشخبری، دھمکی، اثبات اور رد پر مشتمل ہے

اتنی تاثیر اور گہرائی پائی جاتی ہے کہ اگر یہ بات عام ہو جائے اور تمام لوگوں کے کانوں تک پہنچ جائے تو ممکن ہے کہ ہر سننے والا آدمی اس جملے کے کہنے والے کی حقانیت اور سچائی کا اعتراف کرے اب امام کی اس فصیح و بلیغ گفتگو کا جواب دینے کے لیے ایک ایسے قابل و باصلاحیت اور توانا خطیب کی ضرورت تھی جو لوگوں کے دلوں کو گرما سکے لیکن اس دربار میں ایسا کوئی شخص موجود نہ تھا ایسی صورتحال میں ان کے پاس انتقام، اہانت اور قید و بند کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ پس ہشام حکم دیتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کو قید کر دیا جائے دراصل وہ اپنے اس حکم کے ذریعے عملی طور پر اپنی نفسیاتی کمزوری اور شکست کا اعتراف کرتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر قید خانے میں بھی اپنی علمی صلاحیتوں کا جوہر دکھاتے ہوئے اپنے روشن اور دل کو چھو لینے والے بیانات اور حقائق کے ذریعے تمام کے تمام قیدیوں کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیتے ہیں کہ کوئی ایک بھی ایسا قیدی باقی نہیں رہتا جو دل و جان سے آپ کی محبت کا اسیر نہ ہوا ہو قید خانے کی نگرانی پر مامور اہلکار اس صورتحال سے متعلق اپنی رپورٹ ہشام کو پیش کرتے ہیں۔ یہ بات ایک ایسی حکومت کے لیے جس نے دہائیوں سے سرزمین شام کو علوی نظریات اور تعلیمات سے بچا کر رکھا تھا کسی بھی صورت میں قابل برداشت نہ تھی لہٰذا ہشام حکم صادر کرتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو فوراً قید خانے سے باہر نکالا جائے کیونکہ ان کے لیے مدینہ سے زیادہ کوئی مناسب جگہ نہیں وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں پلے بڑھے ہیں اور ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر کیا کہ وہاں پہلے سے بھی سخت اور کڑی نگاہ رکھی جائے اور ضرورت پڑنے پر اپنے آخری حربے کا استعمال کرتے ہوئے خاموشی سے اپنے اس حریف کو اس کے اپنے گھر اور بستر پر انجام کو پہنچایا جائے تاکہ ان پر امام کے قتل کا الزام بھی نہ لگ سکے۔

ڈھائی سو سالہ انسان