حصہ 3 از 3
امام محمد باقؑر
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
پس ہشام کے حکم سے امام محمد باقر علیہ السلام کو ایک تیز ترین سواری پر جو بغیر کسی توقف کے مدینہ آپ کو پہنچا سکے سوار کرا کر مدینہ کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے اور دمشق سے روانگی سے پہلے ہی راستے بھر کی بستیوں میں یہ اعلان کرایا جاتا ہے کہ حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا قافلہ ہے۔ لہٰذا کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی لین دین کرے یا کھانے پینے کی کوئی چیز فروخت کرے بعض روایات کے مطابق شام اور مدینہ کے درمیان تمام شہروں اور بستیوں میں اعلان کرایا گیا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے دینِ اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر رکھی ہے بحار الانوار جلد 46 صفحہ 306 اسی طرح کا واقعہ انیسویں صدی کے درمیانی دہائیوں کے دوران ہندوستان کی تحریک آزادی میں دیکھا جا سکتا ہے مولانا سید احمد جن کا شمار ہندوستان کے معتبر اور مذہبی علماء میں ہوتا تھا جو برصغیر کی آزادی کی تحریک میں پیش پیش تھے
تحریک مزاحمت کے مخالف بعض مولویوں نے انہیں وہابی کے طور پر متعارف کروایا اس الزام کے لیے انہیں کسی جواز اور بہانے کی بھی ضرورت نہ تھی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس محبوب، مشہور اور مجاہد شخصیت کو بے خبر اور جاہل عوام کی نظروں میں بے اعتماد اور بے اعتبار قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے وہابیت کا الزام ایک بہترین ذریعہ تھا کیونکہ ان دنوں حجاز اور اس کے ملحقہ علاقوں میں وہابیت نے جس بربریت اور اعتقادی مسائل میں شدت پسندی کا مظاہرہ کیا تھا اس کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ اس دوران اس فرقے نے استعمار کے بطن سے تازہ جنم لیا تھا جس کی وجہ سے عالم اسلام میں وہابیوں کے بارے میں بغض اور کینہ پیدا ہو گیا تھا لہٰذا وہابیت ایک ایسا الزام تھا جو محبوب ترین اشخاص کو بھی عام اور کم فکر لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لیے کافی تھا کیونکہ عام اور سادہ لوح افراد نہ تو وہابیت کے بارے میں کچھ جانتے تھے اور نہ ہی ان میں جاننے کی صلاحیت تھی
انہیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ وہابیت کیا ہے اور کہاں سے آئی ہے اور ان کا مقصد کیا ہے وہ کیا کہتی ہے لوگوں کو کہاں پتہ تھا کہ پاکباز اور دور اندیش علماء جنہوں نے وقت کے استعمار یعنی برطانیہ کے خلاف برسر پیکار ہو کر اپنی زندگی بسر کی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ وہ وہابی یعنی انگریزوں کے آلہ کار ہو سکتے ہیں انہیں تو بس اتنا معلوم تھا کہ وہابی ایک غلط اور گمراہ فرقہ ہے اور جب وہ سنتے تھے کہ یہ مجاہد علماء وہابی ہیں تو ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا مزید معلومات کے لیے دیکھیے کتاب ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار مطبوعہ خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران، کراچی جب حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو شام طلب کرنے اور ان پر عیسائیت کے الزام کو آج سے ایک سو کچھ سال پہلے ہندوستان میں پیش آنے والے واقعے کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اپنے ارد گرد کے حالات اور واقعات کا تجزیہ کرتا ہوں
تو مجھے بڑی حیرت اور تعجب کے ساتھ عربی زبان کا یہ ادبی جملہ یاد آتا ہے کہ ہر زمانے کے لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں اور زمانے بھی ایک جیسے ہوتے ہیں مسلسل تین دن اور تین راتوں کی زحمتوں اور سفری تھکان کے بعد یہ قافلہ مدینہ پہنچ جاتا ہے جس کے پاس اب کھانے پینے کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی۔ اب یہ قافلہ مدینہ پہنچ تو گیا لیکن شہر کے لوگ حاکم کے ڈر سے اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کر دیتے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا معاملہ کرنے اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے سے گریزاں ہیں۔ امام محمد باقر علیہ السلام کے اصحاب آپ سے اپنی بھوک اور پیاس کی شکایت کرتے ہیں۔
اس وقت امام محمد باقر علیہ السلام مدینہ کے نزدیک ایک پہاڑی ٹیلے پر جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک دل خراش آواز کے ساتھ فریاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں اے مدینہ کے ستم پیشہ لوگوں میں خدا کا وہ ذخیرہ ہوں کہ جس کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے تمہارے لیے ذخیرہِ خدا بہتر ہے اگر تم لوگ واقعی مؤمن ہو سورہ ہود آیت 86 امام کا ہوشیاری کے ساتھ یہ بروقت اقدام حکمرانوں کی سازش کو بے نقاب اور اسے نقش برآب کر دیتا ہے اتنے میں شہر کا ایک ہوشیار اور بہادر شخص کھڑا ہوتا ہے اور شہر کے فریب خوردہ اور بے خبر لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور انہیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ یاد رکھو کہ یہ اسی آواز کی صدائے بازگشت ہے جو خدا کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی گمراہ قوم کو مخاطب کر کے لگائی تھی وہ جوان اپنی اس پیغام بھری آواز کے ذریعے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اے لوگوں! یہ آواز جو تم سن رہے ہو یہ وہی آواز ہے جسے کئی سو سال پہلے تمہارے اسلاف نے بھی سنی تھی
آج تم اپنے ان اسلاف پر لعنت ملامت کرتے ہو کہ انہوں نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا یاد رکھو آج تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ہے آج وہی آواز فضا میں گونج رہی ہے آواز دینے والا بھی وہی ہے اور اس آواز کو سننے والے بھی وہی ہیں موقع کی مناسبت سے اس جوان کی یہ باتیں لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہیں لوگ اپنے اپنے دروازے کھول دیتے ہیں اور تمام تر حکومتی سازشوں کے باوجود وہ حکومت وقت کے ایک دشمن یعنی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں بحار الانوار جلد 46 صفحہ 264 بہ نقل از اصولِ کافی اس تاریخی روایت کا آخری حصہ ایک طرف کئی جہتوں سے اس وقت کے پُرآشوب سیاسی فضا اور گھٹن کے ماحول کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسری طرف بنو امیہ کی حکومت کے خلاف حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی سیرت اور کردار کو بھی واضح کرتا ہے۔
جب ہشام کو مدینہ میں پیش آنے والے اس واقعے کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ سب سے پہلے اس گستاخ جوان کو اس کے کیے کی سزا دی جائے کہ اسے یہ جرات کیسے ہوئی کہ وقت کے حکمرانوں کی مرضی کے خلاف بات کرے اور لوگوں کو اتنی بڑی غفلت سے خبردار کر سکے اسے اس کی اس خیانت کی سزا ملنی چاہیے لہٰذا خلیفہ کے حکم سے اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود حضرت امام باقر علیہ السلام لوگوں کے سروں پر مسلط حاکم وقت کے خلاف مسلح جدوجہد اور قیام سے گریز کرتے ہیں۔ آپ نہ فقط تلوار ہاتھ میں نہیں لیتے بلکہ اس طرح کی جلد بازی میں اقدامات کرنے والوں کو بھی اپنی تلواروں کو نیاموں میں رکھنے اور حالات کی نزاکتوں کا بھرپور اور دل کی آنکھوں سے جائزہ لینے پر زور دیتے ہیں۔
یہاں تک کہ اپنی زبان کی شمشیر کو بھی اس حد تک استعمال کرتے ہیں جہاں تک ضرورت کا تقاضا ہو اپنے بھائی جنابِ زید کو بھی جو جذبات اور احساسات کی رو میں بہہ کر صبر و شکیبائی کھو چکے تھے بڑے نصیحت آمیز لہجے میں سمجھاتے ہیں اور مسلح قیام اور جدوجہد سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش فرماتے ہیں۔ آپ اپنے معمولی اور محدود رابطوں سے لے کر ناتجربہ کار عناصر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور تعلقات میں فرہنگی اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر زور دیتے ہیں۔ ایک ایسا کارنامہ جو آپ کی سیاسی اور فکری آرزوؤں کی بنیاد بھی ہے اور سیاسی طور پر ایک بہترین تقیہ بھی جیسا کہ سابقہ صفحات میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ کا یہ حکیمانہ طرز عمل اس بات کا ہرگز موجب نہیں بن سکتا ہے کہ اپنے چاہنے والے قریبی ساتھیوں اور تمام شیعوں کو امامت کی تحریک سے بالکل الگ کر دے اور شیعوں کی دیرینہ خواہش یعنی اسلامی اور علوی نظامِ عدل کو معاشرے میں نافذ کرنے کی امنگ کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش اور جدوجہد کو ان کے دلوں میں ہمیشہ اجاگر اور زندہ جاوید نہ رکھے یا مناسب ترین مواقع میں اس راہ کی تکمیل کے لیے مناسب اقدامات اور ان کے دلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی طرف راغب نہ کرے اپنے چاہنے والوں کو مستقبل قریب میں ان کی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کی نوید حضرت امام باقر علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کا امید بخش پہلو ہے
اور آپ کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ حضرت امام باقر علیہ السلام اپنے آپ کو شیعوں کی اس تدریجی تحریک میں کہاں اور کس مرحلے میں دیکھتے ہیں۔ حضرت امام باقر علیہ السلام کا گھر آپ کے خاندان اور آپ کے چاہنے والوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اتنے میں ایک عمر رسیدہ شخص وارد ہوا اور سلام کے بعد کہنے لگا اے فرزند رسول! میری جان آپ پر قربان خدا کی قسم میں آپ اور آپ کے چاہنے والوں سے محبت اور دوستی رکھتا ہوں اور خدا کی قسم میری یہ دوستی اور محبت دنیاوی زندگی کی طمع و لالچ میں نہیں ہے۔
آپ کے دشمنوں سے دشمنی اور ان سے اظہار برائت اور نفرت کرتا ہوں میرا یہ کینہ ان سے دشمنی اس لئے نہیں کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی خون ریزی ہوئی ہے۔ خدا کی قسم میں آپ کے اوامر و نواہی کی پاسداری کرتا ہوں اور اس بات پر مکمل بھروسہ اور عقیدہ رکھتا ہوں کہ ایک نا ایک دن آپ کو خدا کی طرف سے فتح و نصرت ضرور حاصل ہوگی اور اس وقت کا شدت سے انتظار کرتا ہوں کیا میرے اس عمل اور کردار کی بنیاد پر میری نجات کی کوئی امید ہے؟
حضرت امام باقر علیہ السلام نے اس بوڑھے شخص کو اپنے قریب بلایا اور اپنے پاس بٹھایا اور پھر ارشاد فرمایا اے بزرگ! ایک آدمی نے میرے پدر بزرگوار امام علی بن الحسین علیہ السلام سے بھی یہی سوال کیا تھا۔ چنانچہ میرے والد بزرگوار نے فرمایا تھا کہ اگر تم اس غرض کی تکمیل کے انتظار میں انتقال کر جاؤ تو یقیناً تمہارا حشر پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علی ابن ابی طالب اور حسن و حسین علیہم السلام کے ساتھ ہوگا تمہارا دل ٹھنڈا، تمہاری جان کامیاب اور تمہاری آنکھیں روشن ہوں گی۔ خدا کے بزرگ ترین بندوں کی آغوش اور ان کے سائے میں تمہیں جگہ ملے گی اور اگر تم زندہ رہے تو اس دنیا میں ایک دن اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھو گے کہ جس کے دیکھنے کے سبب تمہاری آنکھیں روشن ہوں گی اور اس وقت ہمارے پہلو میں بہترین مقام اور منزل پر خود کو پاؤ گے وہ بوڑھا شخص وہاں سے جانے لگا تو امام محمد باقر علیہ السلام نے اس شخص کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا
جس کو کسی جنتی آدمی کو دیکھنا ہے تو وہ اس بوڑھے شخص کو دیکھ لے کبھی کبھار تو آپ اس سے بھی آگے بڑھتے ہیں اور اپنی فتح و کامیابی کا سال بھی لوگوں کے سامنے مشخص فرماتے ہیں اور اپنے شیعوں کی دیرینہ خواہش اور آرزو کو جامہ حقیقت پہناتے ہیں بحار الانوار جلد 46 صفحہ 361-362 ابو حمزہ ثمالی نے کہا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے میں نے سنا کہ آپ فرماتے تھے۔ خدا نے اس کام یعنی حکومتِ الہیہ اور علوی نظام کے لیے 70 ہجری کو معین کیا ہوا تھا۔ لیکن حضرت امام حسین کی شہادت پر خاک نشینوں سے ناراض ہوا اور اس کام کو 140 ہجری تک مؤخر کر دیا۔
ہم نے اس وعدے کو تمہارے لیے نزدیک ترین شیعوں کے لیے کھول دیا اور تم لوگوں نے اس راز کی پاسداری نہیں کی اور اسے دوسروں کو بتا دیا۔ اس لیے خداوندی عالم نے اس کام کے لیے ہم سے کسی خاص اور معین وقت کا وعدہ نہیں کیا یقیناً خدا جسے چاہے محو کرتا ہے اور جسے چاہے ثبت کرتا ہے ابو حمزہ ثمالی کہتا ہے کہ میں نے یہی بات حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا جی ہاں بالکل ایسا ہی تھا نظامِ اسلامی کی تشکیل اور حکومتِ علوی سے متعلق حضرت امام باقر علیہ السلام کے بیانات وہ بھی بنو امیہ کے اس پُرآشوب دورِ حکومت میں جبکہ ہر طرف شیعوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی تھی در حقیقت ایک دل انگیز خواب اور ستم دیدہ افراد اور بالخصوص شیعوں کی آخری تگ و دو اور آرزو کی تکمیل کے لیے امیدِ سحر کی حیثیت رکھتے ہیں جسے وہ ایک یقینی اور خدا کے حتمی فیصلے کے طور پر دیکھتے ہیں
اور اسی عقیدے اور نظریہ کی بنیاد پر وہ وقت کے مقتدر ترین حکمرانوں کے سامنے بھی سرِ تسلیم خم ہونے کی بجائے اس پُرخطر راہ میں پیش آنے والے ہر طرح کے خس و خاشاک اور نشیب و فراز کا مقابلہ کرتے اور اپنی منزلِ مقصود کی طرف گامزن نظر آتے ہیں۔ حضرت امام باقر علیہ السلام کے دورِ امامت کے پورے انیس سال ایک زنجیر کی مختلف لڑیوں کی طرح آپس میں جُڑے ہوئے روشن اور واضح حکمت عملی کے ساتھ گزرے مجموعی طور پر آپ کے دورِ امامت کے یہ انیس سال یوں ایک سیدھے اور روشن راستے کے مانند گزر گئے مگر ان انیس سالوں میں آپ نے لوگوں کو آئیڈیالوجی کی تعلیم بھی دینی تھی تو انفرادی طور پر لوگوں کی تربیت بھی کرنی تھی جنگی حربے آزمانے تھے تو دوسری طرف تنظیم سازی اور اپنے سیاسی مؤقف کی حفاظت بھی کرنی تھی اور تقّیہ کے اصولوں کو بھی اپنانا تھا اور ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں امید کی شمعیں بھی روشن رکھنی تھیں
مختصر یہ کہ آپ کا انیس سالہ دورِ امامت سخت جدوجہد اور سنگلاخ اور دشوار راستوں کو طے کرنے سے عبارت ہے یوں آخرکار آپ کی مختصر اور بابرکت زندگی اپنے اختتام کو پہنچی علوی تحریک کے دیرینہ دشمن اس کے دھڑکتے دل کے خاموش ہونے پر یہ سمجھتے تھے کہ شاید اب وہ سکھ کا سانس لے سکیں گے اور شیعوں کی تبلیغات اور تعلیمات سے مکمل چھٹکارا حاصل کر کے ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر کا مقابلہ کر سکیں گے ایسے میں اُس بھڑکتے ہوئے اور جھلسا دینے والی بھٹی سے بنو امیہ کی حکومت کی بنیادوں پر آخری بجلی گرتی ہے۔ چنانچہ جس طرح آپ نے اپنی ساری زندگی بنو امیہ کے ہتھکنڈوں کو اجاگر کرنے میں گزاری اسی طرح اپنی رحلت کے بعد بھی اس کام کو جاری رکھنے کا پورا اہتمام اپنی حیات میں ہی کرتے ہیں جس طرح آپ اپنی زندگی میں لوگوں کو علم و آگاہی فراہم کرتے رہے اسی طرح اپنی رحلت کے بعد بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔
آپ اپنے اصحاب اور بےخبر لوگوں کی کثیر تعداد کے نام جن میں سوچنے اور سمجھنے کی لگن تھی۔ ایک تازہ اور نیا پیغام بھیجتے ہیں۔ آپ کا یہ پیغام بھی آپ کی زندگی کے مجموعی حالات کی طرح بڑا پُرسکون اور عمیق ہے۔ آپ کے اس پیغام سے جہاں آپ کے ساتھی اور دوسرے بہرہ مند ہوتے ہیں وہاں آپ کے دشمنوں کی نیند میں بھی کوئی خلل واقع نہیں ہوتا یہ امام محمد باقر علیہ السلام کے تقیہ کے اصول پر عمل کی ایک مثال ہے جو اس مخصوص دور کے عمومی حالات اور آپ کے طرز عمل کی مکمل عکاسی کرتی ہے جن لوگوں نے بعد میں امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی کے حالات کو تاریخ کے صفحات میں قلم بند کیا ہے وہ بھی آپ کے اس عظیم اقدام کے بارے میں جسے آپ نے ایک مختصر حدیث کے ذیل میں بیان فرمایا غفلت یا لاپرواہی کا شکار ہوئے ہیں کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو نہ دیکھا ہو؟
مختصر طور پر اتنی سی بات ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری لمحات میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ حکم دیتے ہیں۔ آپ کی جائیداد کے ایک حصے آٹھ سو درہم کو آئندہ دس سال تک آپ کی مجلسِ عزا اور آپ پر گریہ کرنے کے لیے خرچ کیا جائے عزاداری کا مقام میدانِ منیٰ ہے زمان اور وقت حج کے ایام ہیں چونکہ حج ایک ایسا موسم ہوتا ہے جس میں دور دراز رہنے والے ہزاروں لاکھوں افراد ایک ہی وقت میں جمع ہوجاتے ہیں یہ مختلف زبانوں اور رنگوں والے ہم خیال لوگ وہاں جمع ہو کر ایک ہی زبان میں اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اسی طرح مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک پرچم تلے جمع ہونے کا عملی مشاہدہ کرتے ہیں۔
اگر کسی پیغام کو دنیا کے گوشہ و کنار تک پہنچانا مقصود ہو تو اس سے بہتر موقع مل ہی نہیں سکتا دوسری طرف چونکہ مناسکِ حج چند دنوں میں متواتر اور مختلف مقامات پر انجام دیے جاتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ مجلسِ عزا منعقد کرنے کے لیے ان میں سے مناسب وقت اور جگہ کون سی ہے مکہ ایک شہر ہے جہاں لوگ پھیلے ہوئے بھی ہوتے ہیں اور مصروف بھی اس کے علاوہ لوگ یہاں اعمالِ حج بجا لانے میں مشغول ہوتے ہیں طواف، سعی، نماز وغیرہ مشعر رات کو ٹھہرنے کی ایک جگہ ہے جہاں مجلسِ عزا کے لیے نہ تو وقت مناسب ہے اور نہ ہی جگہ مختصر یہ کہ منیٰ کے راستے پر واقع ایک اسٹیشن سے زیادہ کچھ نہیں ہے عرفات اگرچہ دن کے وقت ٹھہرنے کی جگہ ہے لیکن یہاں بھی ایک مختصر مدت یعنی صرف ایک دن کے لیے وہ بھی صبح کے وقت تھکے ہارے پہنچ جاتے ہیں اور پھر عصر کے وقت وہاں سے اپنی اگلی منزل کی طرف روانگی کی تیاری ہوتی ہے۔
پس اس کام کے لیے سب سے بہترین جگہ منیٰ ہے جہاں پر عرفات سے واپسی پر حجاج کرام مسلسل تین دن تک ٹھہرتے ہیں۔ لہٰذا حجاج کرام کے لیے ایک دوسرے سے واقفیت حاصل کرنے اور آپس میں درد دل بیان کرنے کے لیے یہ مناسب ترین جگہ ہے کیونکہ اس دوران کون حاجی ایسا ہے جو دن کو مکّہ جا کر خانہ کعبہ کی زیارت کرے اور رات کو دوبارہ منیٰ آنے کی زحمت برداشت کر سکے؟
لہٰذا حجاج کرام کے لیے ہر محفل ہر کاروان اور ہر اجتماع کے پاس جا کر ملنے کا یہ بہترین اور مناسب وقت ہوتا ہے فطری طور پر تمام لوگوں کو اس مجلسِ عزا کے بارے میں پتہ چلتا ہے جو ہر سال ان تین دنوں کے دوران اسی مقام پر منعقد کی جاتی ہے آہستہ آہستہ دنیا بھر کے لوگوں کو پتہ چلنے لگا کہ کئی سالوں سے اہلِ مدینہ یعنی اسلام کا اصلی مرکز اور صحابہِ کرامؒ، فقہاء عظام اور محدثینِ کبار کا مسکن کا ایک گروہ ہر سال انہیں ایام میں یہاں پر ایک مجلسِ عزا برپا کرتا ہے مگر کس کے لیے؟ اسلام کی ایک جانی پہچانی شخصیت یعنی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی یاد میں خاندانِ پیغمبر اکرمؐ سے تعلق رکھنے والے ایک عظیم انسان کی یاد میں، تمام فقہاء کرام کے سردار اور محدثینِ عظام کے استاد اور فقہ و حدیث سے تعلق رکھنے والے تمام دانشمندوں کے استاد کی یاد میں یہ لوگ کیوں اس طرح مجلسِ عزا برپا کر رہے ہیں؟ کیا وہ اپنی طبعی موت رحلت نہیں کر گئے تھے؟ کسی نے انہیں قتل کیا یا زہر دیا تھا؟ اور کیوں؟ انہوں نے کیا کیا تھا؟ ان کا قصور کیا تھا؟ وہ کیا کہہ رہے تھے؟ ان کا ایک خاص دعویٰ اور نقطہ نظر تھا؟ کیا وہ لوگوں کو اپنے طرف دعوت دے رہے تھے؟ کیا وہ خلیفہِ وقت کے لیے خطرہ تھے؟ وغیرہ وغیرہ اس طرح کے سیکڑوں سوالات اور ابہامات کے پیچھے صاحبان عزا اور دوسرے جاننے والوں کی ایک طرف سے کئی جوابات جو اس عظیم اجتماع میں جگہ جگہ دیا کرتے تھے
جو مدینہ یا کوفہ سے اس لئے یہاں آتے تھے تاکہ لوگوں کے سوالات کے جوابات دے سکیں وہ یہاں اس لئے آتے تھے تاکہ اس بہترین موقع سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے اصل حقائق بیان کر سکیں نیز اپنے بھائیوں اور دوستوں سے ملاقات کر سکیں، انہیں اپنے حالات سے آگاہ کر سکیں اور اپنے لیے نئے احکامات حاصل کر سکیں خلاصہ یہ کہ اس مجلس کا مقصد اس زمانے کے اس تبلیغاتی مرکز کے سیکڑوں ذرائع سے شیعیت کی تبلیغ اور نشر و اشاعت تھا۔ یہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا کامیاب منصوبہ تھا جو آپ کی رحلت کے بعد جہاد کا منصوبہ ہے اور یہ ہے وہ بابرکت ہستی کہ جس کی زندگی بھی خدا کے لیے تھی اور موت بھی خدا ہی کے لیے ہوتی اور میں جہاں بھی ہوں میرے وجود کو خدا نے بابرکت قرار دیا ہے ان پر ہمارا سلام جس دن وہ پیدا ہوئے