امام جعفر صادقؑ

امام جعفر صادقؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام جعفر صادقؑ

امام جعفر صادقؑ

ہجری ۸۳

ہجری ۱۴۸

حصہ 3 از 3

امام جعفر صادؑق

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

بطور تمہید یہ بات جان لینا بھی ضروری ہے کہ اسلام میں خلافت کا عہدہ اس لحاظ سے دوسرے حکومتی عہدوں سے مختلف ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی عہدہ نہیں بلکہ یہ سیاسی کے ساتھ ایک مذہبی عہدہ بھی ہے اسلامی مملکت کے سربراہ کے لیے خلیفہ کا نام اور لقب ہی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ایک سیاسی رہنما سے بڑھ کر ہے۔ وہ پیغمبر کا جانشین ہوتا ہے اور انبیاء کرام ایک دین کے بانی اور معلم اخلاق ہوتے ہیں۔ البتہ خلیفہ اس کے ساتھ ساتھ حکمران اور سیاسی رہنما بھی ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اسلام میں خلیفہ سیاست کے علاوہ لوگوں کے دینی امور کا ذمہ دار اور ان کا مذہبی پیشوا بھی ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت اس بات کا سبب بنی کہ اسلامی خلافت میں اوائل کے بعد آنے والے حکمرانوں نے جو اسلامی تعلیمات سے یا تو بالکل ہی بے بہرہ تھے یا بہت ہی کم واقف تھے اس کمی کو خود سے وابستہ دینی شخصیات کے ذریعے پورا کرنے کا فیصلہ کیا اور درباری فقہاء، مفسرین اور محدثین کو اپنے ساتھ ملا کر خلافت کو ایک مرتبہ پھر سے دین اور سیاست سے مزین کرنے کی کوشش کی حکومتی حلقوں میں شریعت مآب لوگوں کی موجودگی کا دوسرا فائدہ یہ بھی تھا کہ وہ ظالم و جابر حکمرانوں کی خواہشات اور مصلحتوں کے تقاضوں کے مطابق آسانی سے دینی احکام میں تغیر و تبدل کر دیتے تھے اور استنباط اور اجتہاد کے پردوں میں عام لوگ جنہیں سمجھنے سے قاصر تھے اپنے مجازی خداؤں، بادشاہوں کی خوشنودی کی خاطر حکم خدا میں رد و بدل کر دیتے تھے گزشتہ صدیوں کے مؤلفین اور مورخین نے جعلی حدیثوں اور تفسیر بالرائے کی ایسی وحشتناک مثالیں پیش کی ہیں کہ جن میں سے اکثر کے پیچھے سیاسی طاقتوں کا ہاتھ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے

یہ کام جو شروع کے دور میں یعنی پہلی صدی ہجری کے آخر تک زیادہ تر احادیث اور روایات میں نظر آتا تھا اس نے آہستہ آہستہ فتویٰ کی شکل اختیار کر لی لہذا بنو امیہ کے آخری اور بنو عباس کے ابتدائی دور خلافت میں ایسے بے شمار فقہاء موجود تھے جو قیاس اور استحسان جیسے بدعت آمیز طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے احکامِ اسلامی کو اپنی رائے جو در حقیقت حکمرانوں کی رائے ہوا کرتی تھی کے مطابق صادر کیا کرتے تھے استحسان حسن سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی مستحسن جاننا، اچھا جاننا اور کسی چیز کو پسند کرنے کے ہیں اور اسی طرح طلب حسن کے معنی میں ہے تاکہ اس کی پیروی کی جا سکے اور اس اصطلاح میں استحسان سے مراد کسی ایک مسئلے سے اس جیسے دوسرے مسائل کی طرف عدول کو کہتے ہیں مجتہد اپنی عقل کے فیصلے کے مطابق جس چیز کو اچھا سمجھے، وہ جو عقل انسانی سے تبادر کرتی ہے اور اس لحاظ سے استحسان کا قیاس کے ساتھ، استصلاح اور مصالحہ مرسلہ کے قاعدے میں ربط پایا جاتا ہے

اور مذکورہ عدول بھی قیاس ہی پر استوار ہے یہی کام وہ قرآن کے ساتھ بھی انجام دیتے تھے مفسر کی اپنی رائے کے مطابق قرآن کی تفسیر کا یہ عمل ان کاموں میں سے ایک تھا جو آسانی سے لوگوں کی نظروں کے سامنے حکم خدا میں رد و بدل کرتا اور انہیں اس چیز کا جس کا مفسر خواہشمند ہوتا تھا اس کی خواہش بھی اکثر وہی ہوتی تھی جو حاکم کی خواہش ہوا کرتی تھی معتقد بناتا تھا یہی وجہ تھی کہ اسلام کے قدیم ترین ادوار ہی سے فقہ، حدیث اور تفسیر کلی طور پر دو حصوں اور گروہوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ایک گروہ غاصب حکمرانوں کے ساتھ وابستہ تھا جو بہت سارے موارد میں حقائق کو حکومتوں کی مصلحتوں پر قربان کر دیا کرتا اور انتہائی سستے داموں حکم خدا میں تحریف کر دیتا تھا جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرا گروہ اصیل اور امین تھا جو کسی بھی مصلحت کو احکامِ الٰہی کی صحیح تفسیر پر مقدم نہیں سمجھتا تھا جس کے نتیجے میں اسے ہر قدم پر حکومت اور اس کے زرخرید فقہاء کی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا پس ابتدا ہی سے اکثر اوقات احکامِ الٰہی میں غیرقانونی اور غیررسمی رد و بدل کا سلسلہ جاری رہا۔

اس وضاحت کے بعد ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں فقہ جعفری کا اس دور کے رسمی فقہوں کے ساتھ کسی ایک سادہ دینی عقیدے کا اختلاف نہیں تھا بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دو اور قابل اعتراض پہلو بھی رکھتی تھی پہلی اور اہم ترین چیز یہ کہ حکمرانوں کا دینی شعور سے بے بہرہ ہونا اور لوگوں کے فکری امور کو حل کرنے میں ان کی کمزوری کا واضح ثبوت یعنی در حقیقت منصبِ خلافت کے لیے ان کی عدم صلاحیت کو ثابت کرنا تھا اور دوسری چیز رسمی فقہ میں کیے جانے والے تحریفات کے ان موارد کی نشاندہی کرنی تھی جہاں فقہی احکام کے بیان میں فقہاء نے مصلحتوں اور حکمرانوں کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے فتویٰ صادر کیا تھا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام حکومت سے وابستہ علماء کی روش سے ہٹ کر اپنی علمی بساط پھیلا کر اسلامی فقہ و معارف کے بیان اور تفسیر قرآن کے ذریعے عملاً حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ امام نے اپنے اس عمل کے ذریعے تمام مذہبی کارندوں اور حکومت سے وابستہ فقہاء جو حکومت کا اہم حصہ شمار ہوتے تھے کا راستہ روکا اور حکومت کو اس کے مذہبی پہلو سے تہی دست کر دیا تھا۔ بنو امیہ کی حکومت امام جعفر صادق علیہ السلام کی حکومت مخالف سرگرمیوں پر کس حد تک نظر رکھتی تھی۔ اس کا ہمارے پاس کوئی واضح اور قطعی ثبوت موجود نہیں ہے۔ لیکن گمان غالب یہ ہے کہ بنو عباس اور ان میں سے بھی بالخصوص منصور کے دور خلافت میں جو ایک ہوشیار اور ذہین آدمی تھا اور جس نے خلافت سے پہلے اپنی ساری زندگی بنو امیہ کے خلاف جدوجہد میں گزاری تھی۔

اسی وجہ سے وہ علویوں کے جہاد اور ان کے مجاہدین کے حوالے سے گہری آگاہی رکھتا تھا۔ بنو عباس کے سرداروں کو اس بالواسطہ جہاد کے اصلی کردار کی جانب متوجہ ہو جانا چاہیے تھا۔ امام کی علمی اور فقہی سرگرمیوں کے خلاف منصور کی دھمکیاں، سختیاں اور بے شمار دباؤ کہ جس کا تذکرہ بہت ساری تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے اس کی وجہ بھی یہی احساس تھا نیز منصور کا حجاز اور عراق کے معروف فقہاء کو اپنے دارالحکومت میں اکٹھا کرنے کی اس قدر تاکید کہ اس کا ثبوت بھی تاریخی روایات میں موجود ہے بھی اسی احساسِ ضرورت ہی کی وجہ سے تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے قریب ساتھیوں اور اصحاب کے ساتھ گفتگو اور لیکچرز کے دوران خلفاء کے علم و دانش سے تہی دست ہونے کو اس بات کی دلیل بناتے تھے کہ اسلام کی نظر میں انہیں حکومت کا حق حاصل نہیں ہے یعنی یہ کہ امام اپنے اس معترضانہ نظریے کو فقہ اور قرآن کے لیکچرز کی صورت میں واضح طور پر بیان فرمایا کرتے تھے۔

چنانچہ آپ سے منقول ایک روایت میں آپ فرماتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جن کی اطاعت کو اللہ نے واجب قرار دیا ہے جبکہ تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو کہ جس کی جہالت کی بنا پر لوگ اللہ کے ہاں کوئی عذر پیش نہیں کر سکیں گے یعنی وہ لوگ جو اپنے جاہل رہنماؤں اور حکمرانوں کی وجہ سے انحراف کا شکار ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستے پر چل پڑے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذر پیش نہیں کر سکیں گے کہ ہم نے اپنی تشخیص سے غلط راستے کا انتخاب نہیں کیا بلکہ رہنما اور پیشوا تھے کہ جنہوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے ہمیں اس راستے پر ڈال دیا ہے کیونکہ ایسے رہنماؤں اور قائدین کی اطاعت بذات خود ایک غلط کام ہے۔

لہٰذا اس کے ذریعے بعد کے غلط کاموں کی توجیہ نہیں کی جا سکتی قرآن کریم میں بھی اس بات کو کئی مقامات پر مختلف انداز سے دہرایا گیا ہے ضلالت اور گمراہی کی راہ پر گامزن تابعین اور متبوعین کے جھگڑے کو بیان کیا ہے تو تابعین کے اس شکوے کا ذکر بھی کیا ہے کہ ہمارے قائدین نے ہمیں گمراہی کی راہ پر لگایا تھا وغیرہ اور آخرکار لوگوں کو یہ باور بھی کرایا گیا ہے کہ کسی سے بھی اس قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا اور دونوں گُمراہوں کو ایک جیسی سزا دی جائے گی رجوع کیجئے سورۂ بقرہ آیت ۱۶۷، سورۂ شعراء آیت ۹۱-۱۰۲، سورۂ سبا آیت ۳۱-۳۳، سورۂ نساء آیت ۹۷ مؤلف: اسلام کے انقلابی معاشرے میں سیاسی رہنمائی وہی انقلابی رہبری ہوتی ہے جو فکری اور نظریاتی رہبری کے ساتھ ہوتی ہے یہ وہ بنیادی نقطہ ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے پہلے اور آپ کے بعد کے سارے اماموں کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے۔

ایک روایت میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام اپنے جد بزرگوار امام محمد باقر علیہ السلام کے حوالے سے سلسلہ امامت میں "سِلح" کو قوم بنی اسرائیل میں "تابوت" کی مانند قرار دیتے ہیں۔ ہمارے پاس سِلح کی ایسی مثال ہے جیسی بنی اسرائیل کے پاس تابوت کی تھی جس کے پاس تابوت ہوتا تھا نبوت بعض روایات میں حکومت بھی اسی کے پاس ہوتی تھی ہمارے درمیان بھی جس کے پاس سِلح ہو رہبری اور قیادت بھی اسی کا حق ہوتا ہے اس تعبیر کی علامتی صورت اور اس کے گہرے مفہوم پر غور کیجئے اس موقع پر راوی سوال کرتا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ اس سِلح (ہتھیار) کسی ایسے شخص کے پاس ہو جس میں دین کی آئیڈیالوجی ہی نہ ہو اور امام جواب میں فرماتے ہیں نہیں، اصولِ کافی جلد ایک صفحہ ۲۳۸، یعنی معاشرے کی حکمرانی اور امتِ مسلمہ کی انقلابی قیادت اس شخص کے پاس ہوگی جس کے پاس سِلح (ہتھیار) کے ساتھ علم ہوگا۔

پس امام ایک طرف دین کا علم اور قرآن کی صحیح فہم کو امامت کی شرط قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف وسیع علمی بساط بچھا کر دینی علوم میں دلچسپی رکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنے ارد گرد جمع کر کے ایک مخصوص طرز پر تعلیم دیتے ہیں جو فقہ، حدیث اور تفسیر کے مروجہ طریقوں سے مختلف تھا اور مجموعی لحاظ سے بھی درباری علماء، محدثین اور مفسرین کی دین شناسی سے بالکل مختلف انداز تھا علمی طور پر اپنی دین شناسی کے ذریعے خلفاء اور ان سے وابستہ مشہور و معروف علماء کی دین سے ناواقفیت کو ثابت کرتے ہیں یوں آپ متواتر، عمیق اور نرم انداز میں اعتراض کے ذریعے اپنے جہاد کو ایک نیا رخ دیتے ہیں جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا کہ بنو عباس کے ابتدائی حکمران اقتدار میں آنے سے پہلے سالوں سال آل علی اور ان کے اصحاب و انصار کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔

وہ علوی مبارزات کے ماحول، ان کے اسرار اور پیچ و خم سے بخوبی آگاہ تھے۔ وہ اموی اسلاف سے زیادہ ان دروس، ابحاث اور حدیث و تفسیر کے ذریعے آل محمد کے حکومت مخالف کردار سے اچھی طرح واقف تھے گویا اسی وجہ سے ہی خلیفہ منصور عباسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ اپنے ذلت آمیز اختلافات اور تنازعات کے دوران مدتوں امام کو لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور انہیں دینی تعلیم دینے نیز لوگوں کو امام علیہ السلام کی خدمت میں آمد و رفت رکھنے اور ان سے سوالات کرنے سے منع کر رکھا تھا۔ یہاں تک کہ مفضل بن عمر جو ایک مشہور و معروف شیعہ محدث سے راوی تھے کہ اگر کسی کو کوئی خاندانی معاملہ جیسے طلاق یا کوئی اور مسئلہ درپیش آتا وہ آسانی کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس کا جواب نہیں پوچھ سکتا تھا مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴ صفحہ ۲۳۸ پیشوائے صادق صفحہ ۸۸-۹۵ خفیہ نظریاتی اور سیاسی تنظیموں کا وجود حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد اور جد بزرگوار یعنی حضرت امام زین العابدین اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی بے پناہ جدوجہد اور ان کے بعد اپنی کوششوں سے پورے عالم اسلام میں مومنین کا ایک ایسا گروہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے

جو نظریاتی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ انقلابی اور فداکار اور ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار تھا یہ کوئی عام لوگوں کا گروہ نہیں تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس گروہ میں معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگ شامل تھے نہیں بلکہ یہ عام مزدور، تاجر، غلام اور اس قسم کے لوگ تھے۔ لیکن معنوی حوالے سے کسی بھی صورت میں عام لوگوں جیسے نہیں تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے کہ جن کی زندگی کا مقصد اور ہدف ان کا نظریہ تھا ایسے لوگ ہر جگہ موجود تھے تعجب کی بات یہ ہے کہ امام جعفر صادق کے پیروکار ہر جگہ موجود تھے۔

آپ یہ خیال نہ کریں کہ وہ صرف مدینہ ہی میں موجود تھے نہیں بلکہ کوفے میں مدینہ سے بھی زیادہ تھے۔ یہاں تک کہ خود شام میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔ یہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی اسی عظیم تنظیم کے نیٹ ورک کی وجہ سے ممکن ہوا تھا علوی تحریک، شیعہ تحریک یہ جو ہم نے عرض کیا کہ اس تنظیمی نیٹ ورک سے مراد شیعہ ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے۔ یہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کا ایک غیر معروف باب ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس پر میں تاکید اور اصرار کر رہا ہوں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی زیر قیادت ایک ایسا عظیم تنظیمی نیٹ ورک، ایک منظم تحریک موجود تھی جس کا وجود پورے عالمِ اسلام میں تھا تو اس نکتے میں وزن ہے اسلامی مملکت کے دور دراز علاقوں میں پھیلا ہوا ایک وسیع نیٹ ورک جو بالخصوص عرب، عراق اور خراسان کے نواحی علاقوں میں مسلح امامت کے حوالے سے نمایاں اور ثمر بخش سرگرمیوں میں مصروف تھا لیکن یہ مسلح کا صرف ایک رخ اور اس کا ایک معمولی حصہ ہے۔

حضرت امام جعفر صادق اور ہمارے دوسرے آئمہ طاہرین کی سیاسی زندگی میں خفیہ تنظیموں کا وجود ان کی ہنگامہ خیز زندگیوں کا اہم ترین، جذبات انگیز اور ساتھ ہی مجہول ترین اور مبہم ترین باب بھی ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ کسی ایسی تنظیم کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے واضح ماخذ کی توقع نہیں کی جا سکتی اور ایسی توقع رکھنی بھی نہیں چاہیے کہ کسی امام یا آئمہ کے قریبی ساتھیوں میں سے کسی نے نظریاتی اور سیاسی شیعہ تنظیم کے وجود کا واضح اعتراف کیا ہوگا کیوں کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں کہ جس کا اعتراف کیا جائے بلکہ توقع تو یہ ہونی اور رکھنی چاہیے کہ اگر کسی دن دشمن خفیہ تنظیم کی کھوج لگا لے اور اس کے بارے میں خود امام یا آپ کے ساتھیوں میں سے کسی سے پوچھے تو وہ صراحتاً اس کا مکمل انکار کریں اور اس بات کو بدگمانی یا بے جا تہمت قرار دیں کیوں کہ خفیہ سرگرمیوں کی خاصیت ہی یہی ہوتی ہے۔

البتہ آئمہ اطہار کی زندگی پر تحقیق کرنے والے محققین سے بھی یہ توقع کو نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ بغیر کسی ثبوت اور قابلِ اطمینان دلیل کے کسی ایسی تنظیم کے وجود کو قبول کریں ضروری ہے کہ قرائن اور شواہد کو دیکھتے ہوئے ایسے واقعات جو بظاہر سادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کر پاتے ہیں ان کے باطن میں جھانکا جائے کیوں کہ ان میں غور و فکر کرنے سے بہت ساری خفیہ باتوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ اگر اس نگاہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام کی ڈھائی سو سالہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کے تحت اور حکم پر چلنے والی ایک خفیہ تنظیم کا وجود تقریبََا مُسلَم دکھائی دیتا ہے۔ (پیشوائے صادق، ص ۹۶، ۹۷)

ڈھائی سو سالہ انسان