امام جعفر صادقؑ

امام جعفر صادقؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام جعفر صادقؑ

امام جعفر صادقؑ

ہجری ۸۳

ہجری ۱۴۸

خفیہ تنظیمیں

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

تنظیم سے کیا مراد ہے؟ واضح رہے کہ اس تنظیم سے مراد موجودہ زمانے کے مفہوم میں ایک منظم پارٹی کے جس کے مختلف علاقوں میں ایک منظم نیٹ ورک ہو نہیں ہے اور نہ ہی اس وقت ایسا ہو سکتا تھا بلکہ یہاں تنظیم سے مراد کچھ لوگوں کا کسی مشترکہ ہدف کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ایک دھڑکتے ہوئے دل اور ایک بیدار دماغ رکھنے والے شخص کی سرپرستی میں اپنے فرائض انجام دینا اور آپس کے روابط اور تعلقات کو فروغ دینا ہے لوگوں کا یہ گروہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں یعنی سقیفہ سے لے کر آپ کی ظاہری خلافت پر فائز ہونے تک کے پچیس سالوں میں آپ کے خاص اصحاب پر مشتمل تھا جو اعلانیہ حق کے ساتھ تھے اور ان عام لوگوں کے برعکس جنہوں نے خلافت کو تسلیم کیا وہ اس بات کے معتقد تھے کہ مسلمانوں میں خلافت کا حق ان کی سب سے برتر اور فداکار ہستی یعنی حضرت علی کو حاصل ہے

کیونکہ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت اور جانشینی کے بارے میں حضورؐ کے اعلان کو فراموش نہیں کیا تھا اور شروع دن سے ہی سقیفہ والوں کی مخالفت اور امیر المومنین حضرت علی سے اپنی وفاداری کا ایک واضح اعلان کر رکھا تھا۔ اس کے بعد جب ایک عظیم مصلحت کی بنا پر امیر المومنین علیہ السلام خاموشی اختیار کرنے بلکہ شروع کے خلفاء کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہوئے تو انہوں نے بھی معاشرے کے ایک عام فرد کی طرح زندگی بسر کرنا شروع کی لیکن وہ کسی بھی صورت اپنے نظریے اور درست نقطہ نظر سے دستبردار نہ ہوئے اور ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام ہی کی پیروی کرتے رہے اسی وجہ سے انہیں **شیعہ علی** کا نام دیا گیا۔

یہ لوگ اپنے مخصوص نظریات اور سوچ کی وجہ سے مشہور ہوئے اس گروہ کے بعض مشہور اور قابلِ فخر شخصیات میں سلمان فارسی، ابوذر غفاری، ابی بن کعب، مقداد، عمار یاسر اور حذیفہ یمانی کا نام سرفہرست آتا ہے تاریخی شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ گروہ شیعہ طرز فکر یعنی ایک فکری اور سیاسی رہبر کی حیثیت سے امام کی اطاعت کی ضرورت کا ہمیشہ مصلحت اور حکمت کے ساتھ لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتا رہتا تھا اور آہستہ آہستہ ان ہم خیال لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ان لوگوں کا یہ کام علوی حکومت کے قیام کے لیے ایک ضروری تمہید میں شمار ہوتا تھا۔

اس کے بعد جب 35 ہجری میں امیر المومنین علیہ السلام منصب خلافت پر فائز ہوئے تو جس گروہ نے شیعہ معیارات پر حکومت اور امامت پر یقین رکھتے ہوئے نظریاتی لحاظ سے پورے ایمان کے ساتھ آپ کی حکومت کو قبول کیا تھا وہ شیعہ کا یہی گروہ تھا یعنی یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے گزشتہ پچیس سالوں کے دوران بالواسطہ یا بلا واسطہ امام علی سے تربیت حاصل کی تھی ان کے علاوہ باقی لوگ یعنی لوگوں کی اکثریت اگرچہ وہ بھی امام ہی کی خلافت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور عملاً بھی شیعہ فکر کی جانب گامزن تھے لیکن وہ ایسی فکری اور روحانی وابستگی کے حامل نہیں تھے جو انہیں شیعہ تنظیم میں شامل کر سکے امام کے طرفداروں اور حامیوں میں ان دو قسم کے نظریات رکھنے والے لوگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں ایک طرف عمار، مالک اشتر، حجر بن عدی، سہل بن حنیف اور قیس بن سعد جیسے نامور اشخاص نظر آتے ہیں تو دوسری طرف آپ کی امامت کو ظاہری طور پر قبول کرنے والے افراد میں ابو موسیٰ اشعری، زیاد بن ابیہ اور سعد بن وقاص جیسے کم اندیش لوگوں کا ایک گروہ بھی تھا

ان لوگوں کا امام کے ساتھ برتاؤ اور ان کے طرز عمل کی وضاحت کی جا سکتی ہے ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ اگر واقعاً شیعہ تنظیم کی بنیاد اس ملاقات میں رکھی گئی تھی جس کا تذکرہ پانچویں باب میں بیان کیا گیا ہے تب بھی اس کے لیے منصوبہ سازی اور میدان ہموار ہونے کی پیشگوئی مدتوں پہلے امام علیؑ کے اپنے اصحاب اور قریبی ساتھیوں کے ساتھ ایک گفتگو میں کی گئی تھی۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کی صلح کے واقعے کے بعد ایک انتہائی اہم قدم جو اٹھایا گیا وہ شیعہ نظریات کا پھیلاؤ اور تنظیمی لوگوں کے درمیان قربت اور روابط کو مضبوط بنانا تھا جس نے اس وقت بنو امیہ کے ظالم بادشاہ کے ظالمانہ تسلط اور ظلم و جور کے خلاف ایک متحرک اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی شکل اختیار کر لی تھی اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ گھٹن اور دباؤ کسی منظم گروہ کی توڑ پھوڑ کا سبب بننے کی بجائے اس کے اور زیادہ پھیلنے، مضبوط ہونے اور وسیع ہونے کا موجب بن جاتا ہے۔

چنانچہ مطمئن اور قابلِ اعتماد شیعوں کی افرادی قوت کی جمع آوری اور اموی حکمرانوں کی سازشوں اور شیعہ مخالف اقدامات سے انہیں محفوظ رکھنا ایک محدود لیکن گہرے پیمانے پر اسلام کی اصلی اور حقیقی افکار کا پرچار کرنا، باصلاحیت لوگوں کو ساتھ ملانا اور انہیں شیعوں میں شامل کر کے شیعوں کی تعداد اور قوت میں اضافہ کرنا اور ایک مناسب وقت کا انتظار کرنا جب مناسب موقع ملے تو بنو امیہ کے جاہل نظامِ سلطنت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے ان کے ایوانوں کی اینٹ سے اینٹ بجانا اور ایک بار پھر سے اسلام کے حقیقی نظام اور علوی طرزِ حکومت کا قیام عمل میں لانا وغیرہ امام حسن علیہ السلام کی پالیسی اور وہ بنیادی اسباب تھے جن کی وجہ سے آپ کے لیے صلح قبول کرنا ناگزیر ہو گیا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ واقعہ صلح کے بعد جب شیعوں کا ایک گروہ مسیّب بن نجبہ اور سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں مدینہ جہاں امام حسن علیہ السلام حال ہی میں کوفہ سے لوٹ کر آئے تھے

اور اس شہر کو ایک مرتبہ پھر سے اپنا نظریاتی اور سیاسی مرکز بنا لیا تھا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عسکری قوت کی از سر نو تیاری، کوفہ پر قبضے اور شام پر حملے جیسی تجاویز پیش کیں تو آپ نے اس وقت ان میں سے دو افراد کا انتخاب کیا اور انہیں تنہائی میں اپنے پاس بلایا اور اپنے بیانات کے ذریعے انہیں اس منصوبے کے غلط ہونے کا یقین دلایا لیکن افسوس کہ اس نشست اور میٹنگ میں کیے جانے والے فیصلوں کی کمیّت اور کیفیت کے بارے میں کسی قسم کی معلومات تاریخ کے سینے میں محفوظ نہیں ہے اور جب یہ دو آدمی اپنے ساتھیوں اور ہم سفر لوگوں کے پاس واپس لوٹے تو مختصر اور دھیمے الفاظ میں انہیں یہ بات سمجھائی کہ مسلح قیام کا معاملہ اب ختم ہو گیا ہے اور جب آپ لوگ واپس کوفہ پہنچ کر اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائیں انہیں کرائین کو مد نظر رکھتے ہوئے مصر کے معاصر مورخ ڈاکٹر طٰہٰ حسین اس بات کے معتقد ہیں کہ شیعوں کی تنظیم سازی کی پہلی اینٹ اسی روز اور اسی میٹنگ میں رکھ دی گئی تھی جب دو مشہور شیعہ شخصیات نے امام حسن علیہ السلام سے ملاقات اور مذاکرات کیے تھے

امیر المومنین علی علیہ السلام ان حالات کی پیشگوئی اور ایسی صورتحال سے مقابلے کے لیے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ جب تم مجھے کھو دو گے تو بہت سی ایسی چیزیں دیکھو گے جن کو دیکھنے کے بعد تم موت کی تمنا کرو گے معاشرے میں نا انصافی، دشمنی، اجارہ داری، اللہ کے حق کو حقیر سمجھنا، جان کا خوف جب اس طرح کے حالات کا مشاہدہ کرو تو تمہیں چاہیے کہ سب مل کر خدا سے اپنا رشتہ جوڑو اور انتشار کا شکار نہ ہو مقاومت، نماز یعنی خدا کی یاد اور تقیہ یعنی اپنے کاموں کو خفیہ رکھنا کو اپنی عادت بنالو یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے اس عمل کو پسند نہیں فرماتا کہ وہ بدلتے حالات کے ساتھ اپنا رنگ بدلتے رہیں حق اور اہل حق کو نظر انداز نہ کرو کیونکہ جو شخص ہماری جگہ کسی غیر کا انتخاب کرے گا وہ اپنی دنیا کو کھو دے گا اور گناہوں کا سنگین باڑ لیے سفرِ آخرت پر روانہ ہوگا۔

یہ گفتگو واضح طور پر بنو امیہ کے اقتدار کے دگرگوں حالات کی تصویر کشی کرنے کے ساتھ ساتھ آپس میں ہم آہنگ اور مربوط رہنے کی ہدایت پر مشتمل ہے اور ایک شیعہ تنظیم کے وجود پر ایک خوبصورت دستاویزی ثبوت ہے اور یہ وہی پالیسی ہے جسے امام حسن علیہ السلام اور دو نمایاں ترین شیعہ شخصیات کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے کی گئی تھی یقیناً تمام پیروکاروں اور شیعوں کو اس انتہائی دانش مندانہ پالیسی کی اطلاع نہیں تھی۔ امام حسن علیہ السلام پر آپ کے دوستوں کی جانب سے اعتراضات اور تنقید کی وجہ بھی یہی تھی۔ لیکن ان اعتراضات کے جواب میں مسلسل آپ کی طرف سے یہ کہنا کہ کیا معلوم شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش اور تمہارے دشمن کے لیے زوال کا سبب ہو وہ اسی سیاست اور تدبیر کی جانب اشارہ تھا۔

معاویہ کے بیس سالہ دورِ اقتدار کے دردناک حالات کے حوالے سے اکثر مورخین نے علویوں کے خلاف کی جانے والی تبلیغات کی کیفیت کے بارے میں لکھا ہے۔ یہاں تک کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام پر لعن و طعن کی ایک رائج سنت اور رسم بن چکی تھی اور امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی طرف سے اس رسم کے خلاف کسی نمایاں سرگرمی کے ظاہر نہ ہونے کی وجہ صرف یہی باہمی تنظیم تھی جس نے پورے حجاز اور عراق میں شیعہ نظریات کی نشو و نما اور ان کی تعداد میں اضافے کا امکان پیدا کیا تھا اس صلح کے بیس سال بعد جب ہم اس علاقے کے لوگوں کے نظریات کا جائزہ لیتے ہیں تو کوفہ کی عظیم اور نامور ترین شخصیات شیعوں کی صف میں دکھائی دیتی ہیں اس طرح مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور بعض دوسرے دور دراز کے علاقوں میں بھی شیعہ زنجیر کے حلقوں کی طرح ایک دوسرے سے متصل اور ایک دوسرے کے حالات سے باخبر دکھائی دیتے ہیں۔

جب چند سال بعد ایک شیعہ رہنما حجر بن عدی کو شہید کر دیا جاتا ہے تو ملک کے کئی حصوں میں گھٹن اور شدید دباؤ کے باوجود اس حکومتی اقدام پر صدائے احتجاج اور حکومت کے خلاف آوازیں بلند کی گئیں اور خراسان میں ایک مشہور و معروف شخصیت اس سانحے پر غیظ و غضب کے بعد شدت غم سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے (صلح امام حسن، تالیف شیخ راضی آل یاسین، ترجمہ فارسی آیت اللہ سید علی خامنہ ای) معاویہ کی حکومت کے بعد ہزاروں لوگوں نے خطوط لکھ کر حضرت امام حسین کو قیام کے لیے کوفہ آنے کی دعوت دی اور امام کی شہادت کے بعد سینکڑوں لوگ امام کے انتقام لینے والے گروہوں سے جاملے اور توابین یا مختار اور ابراہیم بن مالک اشتر کے سپاہیوں میں شامل ہو کر بنو امیہ کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تاریخ کا مطالعہ اور تجزیہ کرنے والا شخص اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا شیعہ نظریات اور عقائد کا اس حد تک پھلنا پھولنا ہم خیال اور ہم فکر شیعوں کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر یکجہتی سے تنظیمی سرگرمیوں کو انجام دیے بغیر یعنی ایک ایسی تنظیم کہ طٰہٰ حسین نے جس کے امام حسن علیہ السلام کی صلح کے فوراً بعد وجود میں آنے کا امکان ظاہر کیا ہے، ممکن ہو سکتا ہے؟

یقیناً اس کا جواب نفی میں ہو گا کیونکہ مسلمانوں پر مسلط اموی حکمرانوں کا منظم پروپیگنڈا جو سینکڑوں قاضیوں، قاریوں، خطیبوں اور گورنروں کے ذریعے کیا جا رہا تھا، اس کا مقابلہ ایک ایسے منظم تبلیغاتی نظام کے بغیر ممکن نہ تھا جس کے اراکین آپس میں متحد اور ایک ہی جہت کے حامل ہوں لیکن اس نیٹ ورک کا وجود زیر زمین ہو یہاں تک کہ بعض موارد میں ان حکومتی لوگوں کے عزائم کو ناکام بھی بنایا گیا ہو معاویہ کی موت کے قریب شیعوں کی یہ منظم سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں اور ان میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ جب حاکم مدینہ کو امام حسین علیہ السلام کی خفیہ سرگرمیوں کی اطلاع دی گئی تو اس نے معاویہ کے نام لکھا "اما بعد! عمر بن عثمان نے مجھے اطلاع دی ہے کہ عراق اور حجاز کی بعض معروف اور مشہور شخصیات کا حسین کے ہاں آمد و رفت ہے" "مجھے شک ہے کہ یہ لوگ قیام کرنے والے ہیں اور میں نے اس سلسلے میں تحقیق کی ہے اور مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ امام حسین مخالفت کا پرچم بلند کرنا چاہتے ہیں"

"لہٰذا آپ اپنی رائے اور حکم صادر کیجئے" ("ایانو الشیعة والاخبار، توال") سانحہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد عراق میں شیعوں کی منظم سرگرمیاں مزید منظم اور متحرک ہو چکی تھیں۔ یہ حالات کوفہ کے ان شیعوں جن میں بہت سے افراد اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے حکومت کے ہاتھوں نقصان اٹھا چکے تھے اور وہ معرکہ کربلا میں پہنچنے سے قاصر رہے تھے، کی نفسیاتی کیفیت کا نتیجہ تھے اور امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نہ دینے کے افسوس اور درد نے اس کیفیت کو مزید جلا بخشی تھی تیسری صدی ہجری کے مشہور و معروف مورخ طبری لکھتے ہیں "یہ گروہ یعنی شیعہ مسلسل اسلحہ جمع کرنے اور جنگ کی تیاری میں مشغول تھا" "اور لوگوں کو خواہ وہ شیعہ ہوں یا غیر شیعہ، خونِ حسین کے انتقام کی دعوت دے رہا تھا" "اور لوگ بھی گروہ در گروہ ان کی دعوت پر لبیک کہہ رہے تھے اور ان میں شامل ہو رہے تھے" "ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ یزید بن معاویہ مر گیا"

(طبری، "جلسات نقل رز"، "جہاد و شیعہ"، صفحہ 28) "جہاد و شیعہ" کے مؤلف نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد شیعہ ایک منظم گروہ کی صورت میں ظاہر ہوئے یہ لوگ جو سیاسی اور دینی و مذہبی نظریات میں بالکل متفق تھے ان کے پاس بڑے بڑے سردار اور جنگجو موجود تھے اور توابین کا گروہ اس تحریک کا ہراول دستہ تھا (جہاد و شیعہ، صفحہ 27) تاریخی واقعات کا مطالعہ اور ان مورخین کے تجزیوں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ معاویہ کے دور کے حادثات اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد پیش آنے والے ان واقعات کی قیادت اور منصوبہ بندی کرنے والوں کا تعلق صرف شیعوں سے تھا ورنہ تو بہت سارے ایسے لوگ تھے جو انسانی ہمدردی یا اموی حکمرانوں سے ناراضگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر مختلف معرکوں میں عملی طور پر شیعوں کے ہم قدم اور ان کے دوش بدوش کھڑے اور ان کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوتے تھے۔

لہٰذا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ تاریخ کے اس دور میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات میں شریک ہونے اور ان میں فعال یا معمولی کردار ادا کرنے والے سارے لوگ شیعہ تھے اور وہ سب کے سب آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی تشکیل کردہ اس تنظیم کے ممبر تھے، ایسا نہیں ہے مندرجہ بالا وضاحت کی روشنی میں ایک اہم نکتے پر غور و فکر کی تاکید کرتا ہوں اور وہ یہ کہ زیر بحث زمانے تک، یعنی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے دور کی طرح لفظ "شیعہ" کی اصطلاح کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا تھا جو عقائد، نظریات اور عمل کے اعتبار سے سچے اور پکے تھے اور ان کا امامِ وقت کے ساتھ رابطہ مستحکم اور مشخص ہوتا تھا۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد آپ ہی کے حکم پر شیعوں کی ایک منظم اور مربوط تنظیم کو تشکیل دیا تھا اور یہی لوگ تھے جنہوں نے اپنی زبردست تبلیغات کے ذریعے لوگوں کو اس تنظیم میں داخل کیا اور بہت سارے ایسے لوگوں کو جو عقائد اور نظریات کے اعتبار سے خود ان جیسے نہیں تھے لیکن پھر بھی انہیں شیعہ کارروائیوں میں شامل کر لیا تھا

بے شک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول وہ روایت جسے ہم نے اس گفتگو کے شروع میں نقل کی تھی کہ جس کے مطابق سانحہِ کربلا کے بعد شیعوں کی تعداد تین یا پانچ افراد تک محدود تھی، اس میں ایسے ہی لوگوں کو مدنظر رکھا گیا ہے یعنی اس سے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے سچے اور حقیقی شیعہ مراد ہیں جنہوں نے علوی انقلاب، علوی اور ہاشمی تحریکوں کے ہراول دستے کے طور پر ان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی خفیہ اور بظاہر آہستہ کوششوں سے یہ گروہ اپنی استعداد کو عملی شکل دینے اور دوسروں کو راغب کرنے اور اپنی تعداد میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوا اور امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی ایک روایت میں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، فرماتے ہیں، "لوگ شامل ہوتے گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔"

امام زین العابدین علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے ادوارِ امامت میں بھی مسلسل یہ گروہ موجود رہا جو اپنی سرگرمیوں سے خلافت کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہراساں کرتا اور کبھی کبھار تو انہیں سختی کے ساتھ دفاعی پوزیشن لینے پر بھی مجبور کرتا تھا مختصر یہ کہ تاریخِ اسلام کے ابتدائی صدیوں اور آئمہ اطہار کے ادوار میں شیعہ تہذیب اور اسی طرح غیر شیعہ شعور و ادراک میں لفظ شیعہ کا اطلاق صرف ان لوگوں پر نہیں ہوتا تھا جو محبانِ اہل بیت رسولؐ تھے اور ان کی حقانیت اور دعوت پر یقین رکھتے تھے اگرچہ امام وقت کے پرچم تلے اور آپ کی رہبری اور پیشوائی میں عملی طور پر انہوں نے کوئی کردار ادا نہ کیا ہو بلکہ اس کے علاوہ شیعہ ہونے کے لیے ایک بنیادی اور حتمی شرط بھی ہوا کرتی تھی جو یہ تھی۔

امام سے نظریاتی اور عملی وابستگی اور امام کی قیادت اور رہبری میں ایسی سرگرمیوں میں شرکت جو وہ اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی اور علوی اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے نظریاتی، سیاسی اور عسکری لحاظ سے انجام دیتے ہیں یہ وابستگی وہی ہے جسے شیعہ تہذیب میں "ولایت" کہا جاتا ہے در حقیقت "شیعہ" نام ہی امامت کی پارٹی کا تھا۔ وہ پارٹی جو امام کی قیادت اور رہبری میں مخصوص سرگرمیوں میں مصروفِ عمل ہوتی تھی اور گھٹن کے اس ماحول میں دیگر حکومت مخالف پارٹیوں اور تحریکوں کی طرح خفیہ طور پر تقیہ میں زندگی گزار رہی تھی آئمہ اہل بیت علیہم السلام بالخصوص امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کا ایک خلاصہ ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ خفیہ تنظیم یا منصوبہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کے ثبوت کے لیے ہم واضح دلائل ڈھونڈیں کیونکہ کسی خفیہ گھر کے دروازے پر کسی ایسی تختی کی توقع کو کبھی نہیں رکھنی چاہیے جس پر یہ لکھا گیا ہو کہ "یہ ایک خفیہ گھر ہے" اگرچہ حتمی کرائین کے وجود کے بغیر اس بات کو مسلمہ بھی نہیں سمجھا جا سکتا لہٰذا مناسب یہی ہے کہ ہم قرائن اور شواہد کی تلاش میں بھی رہیں۔

ڈھائی سو سالہ انسان