حصہ 2 از 3
امام جعفر صادؑق
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
جب آگ نے امام کے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو آپ آگ پر پیر رکھ کر یہ کہتے ہوئے آگ پر سے گزر رہے تھے میں زمین کی دھڑکتی ہوئی رگ کا بیٹا ہوں میں ابراہیم خلیل اللہ کا فرزند ہوں۔ حضرت امام جعفر صادق اور منصور کے درمیان شدید اختلاف تھا منصور نے متعدد بار امام جعفر صادق علیہ السلام کو دھمکیاں بھی دیں البتہ وہ روایات جن میں کہا گیا ہے کہ امام جعفر صادق نے منصور کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا اور گھٹنے ٹیک دیئے تھے وہ صحیح نہیں ہے میں نے ان روایات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا ہے مجھے ان روایات کے سر پیر کا کچھ پتہ نہیں چلا غالباً یہ وہ روایات ہیں جنہیں ربیع ابن حاجب نے نقل کیا ہے اور اس شخص کا فاسق ہونا قطعی ہے حاجب کا شمار منصور کے انتہائی قریبی لوگوں میں ہوتا تھا بعض لوگوں نے بغیر کسی تحقیق کے کہہ دیا ہے کہ حاجب شیعہ تھا لیکن یہ غلط ہے۔
وہ کہاں سے شیعہ تھا میں نے ربیع ابن یونس کے حالات زندگی کا بغور مطالعہ کیا ہے ربیع بن یونس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو بنو عباس کے ہاں پلے بڑھے تھے اور یہ ان کے دربار کا ملازم بنا تھا اور منصور کا ہمنشین تھا جس نے بعد میں ان کی بڑی خدمت کی ہے منصور کے مرتے وقت اگر ربیع موجود نہ ہوتا تو خلافت منصور کی اولاد کے ہاتھ سے نکل جاتی اور اس کے چچا کے ہاتھ لگ جاتی یہ ربیع ہی تھا جس نے ایک جعلی وصیت نامے کے ذریعے منصور کے بیٹے مہدی کو خلافت تک پہنچایا اس کے بعد اس کا بیٹا فضل بن ربیع بھی اپنے باپ کی طرح بنو عباس کا وفادار رہا۔
اسی طرح اس گھرانے کے سارے افراد بنو عباس کے مخلصین اور ان کے وفاداروں میں سے تھے انہیں اہل بیت علیہم السلام سے کوئی لگاؤ اور ارادت نہیں تھی۔ لہٰذا ربیع بن حاجب سے جو کچھ بھی نقل کیا گیا ہے وہ سب جھوٹ پر مبنی ہے کیوں کہ وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو اس دور کے اسلامی معاشرے میں ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا جس نے خلیفہ وقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے تاکہ دوسرے حکومت مخالف لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کر سکیں حالانکہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور منصور کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔
یہاں تک کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو ۱۴۸ھ میں جام شہادت نوش کرنا پڑا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کرنے سے جو اہم نکات ہمارے سامنے واضح ہو جاتے ہیں اور ہمارے موضوعِ بحث سے مربوط بھی ہیں وہ یہ ہیں ایک: مسئلہ امامت کی تبلیغ اور تشریح دو: شیعہ فقہ کے مطابق احکام دین کی تبلیغ اور ترویج اور اسی طرح شیعہ نظریہ کے مطابق قرآن مجید کی تفسیر و تشریح تین: شیعوں کی خفیہ سیاسی نظریاتی تنظیم کی تشکیل پیشوائے صادق، صفحہ ۷۶ امام جعفر صادق علیہ السلام کی دعوت اب ہم اصل بحث کی طرف آتے ہیں یعنی ہمارے دوسرے آئمہ معصومین کی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی امامت کو اپنی دعوت کا اصلی اور نُمایاں محور قرار دیا تھا۔
اس تاریخی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے واضح مدارک اور بہت ساری روایتیں ہیں جو آپ کی زبانی امامت کے دعوے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں جیسا کہ ہم بعد میں وضاحت کریں گے کہ امام اس مسئلہ کی تبلیغ اور اشاعت کے وقت اپنے آپ کو جہاد کے ایک ایسے موڑ پر محسوس کرتے ہیں کہ آپ براہ راست اور واضح طور پر وقت کے حکمرانوں کی نفی کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے خود کو ولایت اور امامت کے اصلی حقدار کے طور پر متعارف کراتے ہیں اصولاً اس کام کو اس وقت انجام دینا چاہیے جب مقابلے کے سارے گزشتہ مراحل کامیابی کے ساتھ طے کر لئے گئے ہیں۔
ایک وسیع حلقے میں سیاسی اور اجتماعی بیداری پیدا ہو گئی ہو ہر جگہ آمادگی کا احساس کیا جا رہا ہو نظریاتی حوالے سے بھی ایک قابل توجہ گروہ وجود میں آ چکا ہو اور کثیر تعداد کے سامنے حق اور عدل و انصاف پر مبنی حکومت کی ضرورت ثابت ہو گئی ہو اور آخرکار اس گروہ کے قائد اور رہبر نے بھی جنگ کا مصمم ارادہ کر لیا ہو ورنہ ان تمام مقدمات کے بغیر معاشرے کے حکمران اور امام برحق کے طور پر کسی ایک مشخص فرد کا نام پیش کرنا جلدبازی اور ایک بےفائدہ منصوبہ کہلائے گا۔ ایک اور نقطہ جس پر بھی توجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ امام کسی موقع پر بھی اس بات پر اکتفا نہیں فرماتے کہ امامت کو صرف اپنے لئے ثابت کریں بلکہ آپ اپنے نام کے ساتھ ساتھ آئمہ برحق اور اپنے گزشتہ اسلاف کے ناموں کا بھی ذکر کرتے ہیں اور اہل بیت علیہم السلام کی امامت کو آپس میں متصل سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں
شیعہ عقائد کے مطابق آپ نے اپنے اس موقف کے ذریعے گزشتہ حکمرانوں کو غاصب اور طاغوتی قرار دیا ہے نیز اس زمانے کے شیعوں کے جہاد کو گزشتہ زمانے کے جہاد کا تسلسل ہونے کو بیان کیا ہے در حقیقت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنی اس دعوت کے ذریعے اپنی امامت کو گزشتہ آئمہ کی امامت کا لازمی نتیجہ قرار دیا ہے اپنے اس دعوائے امامت کو مضبوط بنیاد کا حامل ثابت کیا ہے اور اس سلسلے کو ایک قابل اطمینان اور تسلسل کے ذریعے پیغمبر اکرم سے متصل ثابت کیا ہے۔ اب ہم یہاں پر امامت کی دعوت کے چند نمونے بیان کرتے ہیں۔ اس باب میں میں نے سب سے دلچسپ جو روایت دیکھی وہ عَمر بن ابی المقدام کی ہے جس نے ہر حیرت انگیز طریقے سے اس کی منظر کشی کی ہے نو ذی الحجہ کا دن یعنی عرفہ کا دن ہے۔
اس دن کے مخصوص اعمال بجا لانے کے لیے یہاں لوگوں کا ایک جم غفیر ہے تمام مسلمان علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے خراسان سے لے کر بحیرہ روم کے ساحلوں تک کے لوگ موجود ہیں۔ اس دور میں یہاں پر کی جانے والی ایک صحیح بات اس زمانے کے وسیع ترین ذریعہ ابلاغ کا کام کر سکتی تھی ایسے موقع پر امام لوگوں کے درمیان پہنچ جاتے ہیں اور ایک پیغام دے دیتے ہیں راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام لوگوں کے درمیان کھڑے اونچی آواز ایک ایسی اونچی آواز جو ہر جگہ اور ہر کان میں گونجتی اور سننے والوں کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے کے ساتھ اپنے اس پیغام کو تین مرتبہ دہراتے ہیں۔
اس کے بعد دوسری طرف رخ کرتے ہیں اور تین مرتبہ وہی پیغام دہراتے ہیں۔ اس کے بعد تیسری سمت رخ کرتے ہیں اور اس پیغام کو تین مرتبہ دہراتے ہیں اور اس کے بعد چوتھی سمت رخ کر کے تین مرتبہ اسی پیغام کا اعلان کرتے ہیں گویا اس طرح امام بارہ مرتبہ اپنے پیغام کو دہراتے ہیں اور وہ پیغام یہ تھا ایہا الناس انہ رسول اللہ کان الامامۃ سمیہ کان علی بن ابی طالب سم الحسن سم الحسین ثم علی بن الحسین ثم محمد بن علی ثم بحار الانوار جلد 47 صفحہ 58 اسی طرح ایک روایت جو ابی صباح کنانی سے منقول ہے کہ جس میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے خود اپنے اور شیعوں کے دوسرے اماموں کی یہ توصیف بیان کی ہے۔
ہم وہ ہیں کہ جن کی اطاعت اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر فرض کی ہے انفال اور صفی المال ہمارے اختیار میں ہے انفال اس مال غنیمت کو کہا جاتا ہے جو جنگ کیے بغیر اسلامی حکومت کے ہاتھ لگ جائے صفی المال اس مخصوص مال کو کہتے ہیں جسے ظالم و جابر حکمران اپنے لئے مخصوص کر لیتے ہیں اور اس کو مستحق افراد کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں اور جب مسلمان مجاہدین کی کامیابی کے بعد یہ غصب شدہ مال شکست خوردہ ظالم حکمرانوں کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو وہ دوسرے مال غنیمت کی طرح تقسیم نہیں ہوتا کہ کسی ایک شخص کے ہاتھ لگے اور اس کی جھوٹی شان و شوکت اور تفاخر کا ذریعہ بنے بلکہ اسے حاکمِ اسلامی کے حوالے کیا جاتا ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد میں استعمال کرتا ہے۔
امام نے اس روایت میں اپنے آپ کو صفی المال نیز انفال جس کا تعلق بھی امام ہی سے ہے کے مالک کے طور پر متعارف کروایا ہے اور اپنے اس بیان کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ آج اسلامی معاشرے کے حقیقی حاکم وہ خود ہیں اور ان تمام چیزوں کو آپ کے ہاتھ اور اختیار میں ہونا چاہیے اور آپ کی زیر نظر درست مصارف میں استعمال ہونا چاہیے۔ ایک اور حدیث میں آپ اپنے آباؤ اجداد کا ایک ایک کر کے نام لیتے ہیں اور ان کی امامت اور ان کے فرامین پر عمل کرنے اور ان کی اطاعت کے واجب و لازم ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور اپنے نام تک پہنچ کر خاموش ہو جاتے ہیں امام کی اس گفتگو کو سننے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے بعد علم و حکمت کی یہ میراث امام جعفر صادق ہی کے اختیار میں ہے یوں آپ اپنے حقِ حکمرانی کو ثابت کرنے کے ساتھ دلیل اور استدلال کے انداز میں اپنے جد بزرگوار حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ اپنے اتصال اور اعتبار کو بھی بیان کرتے ہیں
کتاب الحجت کے مختلف ابواب اور بحار الانوار کی 47 جلد میں ایسی بہت ساری احادیث دیکھی جا سکتی ہیں جن میں واضح یا بطور کنایہ امامت کے دعوے اور اس کی طرف دعوت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اس کے علاوہ دوسرے قطعی ثبوت وہ شواہد ہیں کہ جن میں مملکت اسلامی کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے امام کے وسیع تبلیغی نیٹ ورک کا تذکرہ موجود ہے اور ایسے نیٹ ورک کے وجود کو مسلم قرار دیتے ہیں یہ شواہد اتنے زیادہ اور مدلل ہیں کہ اگر ایک بھی واضح حدیث موجود نہ ہوتی تب بھی اس پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا تھا آئمہ معصومین علیہم السلام کے غیر تدوین شدہ زندگی ناموں کا مطالعہ کرنے والا محقق اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا بنو امیہ کے آخری دور میں اماموں کے پاس مملکت اسلامی کے گوشہ و کنار میں ایسے داعی اور مبلغین موجود نہیں تھے جو لوگوں میں ان کی امامت کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان سے اماموں کی اطاعت اور حمایت کا وعدہ لیتے تو پھر اس صورت میں اس تنظیمی وابستگی کی علامات کی کیا توجیہ کی جائے گی جو آئمہ اطہار اور ان کے شیعوں کے درمیان مالی اور نظریاتی تعلق کے حوالے سے واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں
مملکت اسلامی کے گوشہ و کنار سے مدینہ لائی جانے والی شرعی وجوہات، دینی مسائل سے متعلق اتنے سوالات، ہر طرف پھیلی ہوئی تشیعوں کی جانب دی جانے والی دعوت اسی طرح مملکت اسلامی کے اہم علاقوں میں آل علی سے لوگوں کی گہری محبت امام کے ارد گرد خراسانی، سیستانی، کوفی، بصری، یمنی اور مصری محدثین اور راویوں کا جم غفیر، وہ کون سی طاقت تھی جو ان تمام چیزوں کو وجود میں لے آئی تھی کیا ان متناسب اور باہم مربوط حقائق اور مظاہر کو کسی حادثے سے یا اتفاقی طور پر وجود میں آنے والے واقعات کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان تمام جھوٹے پروپیگنڈوں کے باوجود جو بنو امیہ کے خلفاء کی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے بلا استثنا ہر جگہ پھیلائے جا رہے تھے۔
یہاں تک کہ ممبروں اور خطبوں میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے نام کو اسلام کے ایک مجرم کے طور پر لیا جاتا تھا ایسے میں کیا ایک مضبوط تبلیغاتی نیٹ ورک کے بغیر یہ ممکن تھا کہ دور دراز کے علاقوں میں آل علی کو اس حد تک محبوبیت اور جاذبیت مل جائے کہ بعض لوگ صرف ان کی زیارت اور ان سے استفادہ کرنے نیز ان سے اپنی دوستی اور تعلق کا اظہار کرنے اتنا طویل سفر طے کر کے حجاز اور مدینہ پہنچ جائیں اور دینی علم جو شیعوں کے عقیدے کے مطابق سیاست اور حکومت کی طرح ہے خود ان ہی سے حاصل کریں اور متعدد مواقع پر صبر کا دامن چھوڑتے ہوئے ان سے عسکری اقدامات (راویوں کی اصطلاح میں جسے قیام یا خروج کہا جاتا ہے) کی خواہش کریں اگر شیعوں کا اسلحہ صرف آئمہ ہدیٰ کا علم و زہر تھا تو پھر ان سے مسلح قیام کی درخواست کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ممکن ہے کہ کوئی یہ سوال کرے کہ واقعاً اگر کوئی ایسا وسیع اور کارآمد تبلیغاتی نیٹ ورک موجود تھا
تو پھر تاریخ میں اس کا کوئی نام و نشان کیوں نہیں ملتا یا وضاحت کے ساتھ اس حوالے سے کوئی واقعہ کیوں نقل نہیں ہوا ہے بطور خلاصہ اس کا جواب جیسا کہ پہلے بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کا نام و نشان نہ ملنے کی پہلی وجہ آئمہ طاہرین کے اصحاب کی اس پابندی میں تلاش کرنا چاہیے جسے انہوں نے تقیہ کے معتبر اور ترقی یافتہ اصول کے تحت عائد کر رکھا تھا۔ یہ پابندی ہر شخص کے امام کی تنظیم میں داخل ہونے میں رکاوٹ بنتی تھی اور پھر اس کے بعد شیعوں کے جہاد اور حکومت کے حصول میں ناکامی میں تلاش کرنی چاہیے کہ یہ خود بھی مختلف عوامل کا نتیجہ ہے۔
اگر بنو عباس بھی اقتدار حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہوتے تو یقیناً ان کی خفیہ سرگرمیوں اور ان کی تحریک سے وابستہ تلخ و شیریں یادیں جن کا تعلق ان کی تبلیغاتی سرگرمیوں سے تھا لوگوں کے سینوں میں رہ جاتیں اور کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلتا اور تاریخ میں بھی یہ باتیں درج نہ ہوتیں پیشوائے صادق صفحہ ۸۴ جب ہم تقیہ کی بات کرتے ہیں تو ممکن ہے آپ یہ کہیں کہ تقیہ کا تعلق اس دور سے تھا جب معاشرے پر ایک حکومت مسلط تھی اور شیعہ چھپے ہوئے تھے اور حکومت کے ڈر سے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے ایسا نہیں ہے کیونکہ اس وقت بھی تقیہ ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں تھا تقیہ مومن کی سپر ہے سپر کہاں استعمال ہوتی ہے؟ سپر میدان جنگ میں استعمال ہوتی ہے یعنی لڑائی کے دوران پس تقیہ کا تعلق لڑائی سے ہے کیونکہ یہ ایک ڈھال، مورچہ اور سپر ہے۔
اس دور میں بھی ایسا ہی تھا جب ہم تقیہ کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم اپنی تلوار سے دشمن کے نجس جسم پر وار کرتے تھے۔ لیکن اس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ دشمن نہ تو ہماری تلوار دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی اس ہاتھ کو جس میں تلوار ہوتی تھی اور نہ ہی اپنے اوپر وار ہوتے ہوئے دیکھ سکتا تھا اور نہ سمجھ سکتا تھا۔ وہ صرف اس کی تکلیف کو محسوس کرتا تھا تقیہ اسی بہترین حکمت عملی کا نام تھا۔ اس دور میں جو لوگ تقیہ کرتے تھے وہ اس طرح کا طریقہ کار اختیار کرتے تھے وہ خفیہ طور پر دشمن کے نظروں سے دور کسی خفیہ مکان میں ہزاروں تدبیروں اور طریقوں کو اپناتے ہوئے ایک اعلامیہ مرتب کرتے تھے اور جب یہ اعلامیہ لوگوں کے درمیان نشر ہوتا تھا تو وہ مکمل طور پر حکومت کی مٹی پلید کر دیتا تھا یہ کام تلوار کے وار کی طرح ہوتا تھا کہ اٹھتا تو دشمن کی کمر اور پیشانی کو لگ جاتا تھا۔
ہم تقیہ کرتے تھے یعنی دشمن کو یہ سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ تقیہ سپر ہوتا ہے اور تقیہ کرنے والا اس سپر کے پیچھے چھپ جاتا ہے تقیہ کا پہلے بھی یہی مطلب تھا اور اب بھی تقیہ کے یہی معنی ہیں شیعہ فقہ کے مطابق احکام دین کی تبلیغ یہ بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے کردار کی ایک واضح اور روشن مثال ہے جس کے بنا پر آپ کو ہمارے دوسرے آئمہ پر ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ یہاں تک کہ شیعہ فقہ، فقہ جعفری کے نام سے موسوم ہوئی جن لوگوں نے آپ کی زندگی کے سیاسی پہلو کو نظر انداز کیا ہے وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے دور کے ایک بہت ہی بڑے یا بڑے مدارس میں سے ایک علمی اور فقہی مدرسے کے مہتمم تھے امام کی زندگی کا وہ گوشہ جو آپ کی زندگی پر تحقیق کرنے والے اکثر محققین کی نظر سے اوجھل رہا ہے وہ آپ کی سیاسی اور مزاحمتی عمل کا رخ ہے جسے اب ہم آپ کی خدمت میں بیان کرنے جا رہے ہیں