امام زین العابدینؑ

امام زین العابدینؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام زین العابدینؑ

امام زین العابدینؑ

ہجری ۳۸

ہجری ۹۵

حصہ 4 از 6

امام زین العابدیؑن

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

یہ جملہ اسی مطلب کی نشاندہی کرتا ہے جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ امام فرماتے ہیں یہ حوادث جو انسانی زندگی میں شب و روز آتے ہیں خصوصاً ایسے گھٹن کے ماحول میں دلوں کو ان کی نیت اور جہد سے موڑ دیتے ہیں جہاد کے شوق اور اس کے محرکات کو ختم کر دیتے ہیں موجودہ ہدایت یعنی وہ ہدایت جو موجودہ معاشرے میں پائی جاتی ہے اس کی طرف سے ذہنوں کو غافل اور برگشتہ کر دیتے ہیں اصولِ کافی جلد 8 صفحہ 15 اور انسان اہل حق کی معرفت کو بھلا دیتے ہیں اور اہل حق کی یاد کو ان کے دلوں میں باقی نہیں رہنے دیتے امام علیہ السلام کے اس پورے بیان میں وہی اسلوب و انداز پایا جاتا ہے جس کا ہم نے شروع میں تذکرہ کیا ہے یعنی لوگوں کو موعظہ و نصیحت کے انداز میں خبردار کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے حوادث زندگی کو ان کی مجاہدانہ روش سے غافل بنا دیں اور انہیں ان کے راستے سے منحرف کر دیں اور دل و دماغ اس کی یاد سے خالی ہو جائیں امام کے ایسے متعدد بیانات ملتے ہیں جن میں سلطان اور حاکم جور کا ذکر کیا گیا ہے

خبردار گناہگاروں کی صحبت اور ظالموں کی مدد سے ہمیشہ دور رہنا اصولِ کافی جلد 8 صفحہ 16 اب ان حقائق کی روشنی میں امام زین العابدین کی تصویر پردہ تخیل پر اتار کر دیکھئے کہ آپ کی کیسی شخصیت ذہن میں ابھر جاتی ہے کیا اب بھی وہی مظلوم، بے زبان، کمزور اور بیمار امام جو زندگی کے امر سے کوئی مطلب نہیں رکھتا آپ کے ذہن میں آتا ہے امام اپنے کچھ مومن دوستوں، طرفداروں اور بہی خواہوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان کو ظالم حکام اور درباریوں کی ہمنشینی اختیار کرنے نیز اپنی مقدس مہم اور جدوجہد سے غافل اور بے پرواہ ہونے سے سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں۔

ان کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں سے منحرف ہو جائیں امام ان کے ایمانی جذبات کو تر و تازہ، زندہ اور باقی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایک دن ان کا وجود اسلامی حکومت کے قیام کی راہ میں مؤثر ثابت ہو سکے من جملہ ان تمام چیزوں کے جو امام کے بیانات کے اس حصے میں مجھے بہت ہی اہم اور قابل توجہ نظر آئیں آپ کے وہ ارشادات ہیں جن میں اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ افراد کے گزشتہ تجربات کا آپ نے ذکر فرمایا ہے بیان کے اس حصے میں امام زین العابدین لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کیا تم لوگوں کو یاد ہے یا تم کو اس بات کی خبر ہے کہ گزشتہ ادوار میں ظالم اور جابر حکمرانوں نے تم پر کیا کیا زیادتیاں کی ہیں۔

یہاں ان مصیبتوں اور زیادتیوں کی طرف اشارہ مقصود ہے جو محبان اہل بیت علیہم السلام کو معاویہ، یزید اور مروان وغیرہ کے ہاتھوں اٹھانی پڑی تھیں چنانچہ امام کا اشارہ واقعہ کربلا، واقعہ حرہ، حجر بن عدی اور رشید حجری جیسے نیز ایسے بہت سے مشہور و معروف اور اہم ترین واقعات اور سانحات کی طرف ہے جن کا اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والے ایک طویل مدت سے سامنا کرتے چلے آ رہے تھے اور وہ واقعات ان کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ تھے۔ امام چاہتے ہیں کہ گزشتہ تجربات اور تلخ ترین یادوں کو تازہ کر کے ان لوگوں کے مجاہدانہ عزم و ارادے میں مزید پختگی پیدا کریں چنانچہ مندرجہ ذیل عبارت پر ذرا توجہ فرمائے میری جان کی قسم گزشتہ واقعات جو تمہاری آنکھوں کے سامنے گزر چکے ہیں فتنوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس میں ایک دنیا غرق نظر آتی تھی تمہیں ان حوادس اور تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ان کو اپنے لئے سبق اور استدلال بناتے ہوئے زمین پر فساد پھیلانے والے گمراہ اور بدعتی لوگوں سے دوری اختیار کر لینا چاہئے یعنی تمہیں اس بات کا بخوبی تجربہ حاصل ہے کہ اہل بغی و فساد یعنی یہی ظالم حکمران جب تسلط حاصل کر لیتے ہیں تو تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں گزشتہ تجربات کی روشنی میں تم جانتے ہو کہ تمہیں ان لوگوں سے دور رہنا چاہئے اور ان کے مقابلے میں صف آرائی کرنی چاہئے امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے بیان میں مسئلہ امامت کو بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے

مسئلہ امامت یعنی خلافت و ولایت اور مسلمانوں پر حکومت کرنے اور نظام اسلامی کے نفاذ کا مسئلہ ہے۔ یہاں امام زین العابدین علیہ السلام مسئلہ امامت واضح انداز میں بیان کرتے ہیں حالانکہ اس وقت کے حالات ایسے تھے کہ اس قسم کے مسائل اتنی صراحت کے ساتھ عوام میں پیش نہیں کیا جا سکتے تھے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں فرمانِ الہی اور اطاعتِ الہی کو مقدم رکھو اور اس ہستی کی اطاعت اور پیروی کرو جس کی اطاعت خدا نے واجب قرار دی ہے امام نے یہاں امامت کی بنیاد اور فلسفے کو شیعہ نقطہ نظر سے بیان کیا ہے کہ خدا کے بعد وہ کون سے افراد ہیں جن کی اطاعت کی جانی چاہیے وہ جن کی اطاعت خدا نے واجب قرار دی ہے۔

اگر لوگ اس وقت اس مسئلے پر غور و فکر سے کام لیتے تو بڑی آسانی سے یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ عبد الملک کی اطاعت واجب نہیں ہے کیونکہ خدا کی طرف سے اس کی اطاعت واجب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عبد الملک کا اپنے ظلم و ستم اور اسلامی احکام سے بغاوت و فساد کی وجہ سے لائق اطاعت نہ ہونا صاف ظاہر ہے۔ یہاں پہلے تو امام مسئلہ امامت بیان فرماتے ہیں۔ اس کے بعد صرف ایک شبہ جو مخاطب کے ذہن میں باقی رہ جاتا ہے اس کا بھی اضالہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور تم لوگوں پر طاغوتوں کی طرف سے جو احکام عائد کیا جاتے ہیں ان کو خدا کی اطاعت سمجھ کر خدا اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت پر مقدم قرار نہ دو اصل میں امام نے اپنے بیان کے اس ٹکڑے میں بھی مسئلہ امامت بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔

آپ نے گزشتہ بیان کے ساتھ یہاں بھی دو بنیادی اور اساسی مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ دونوں بیانات میں مذکورہ تبلیغ کے تین مراحل میں سے دو مرحلے یعنی لوگوں کو اسلامی افکار و عقائد کی یاد دہانی تاکہ لوگ عقائد اسلامی کا پاس رکھیں اور ان میں دینداری کا شوق پیدا ہو سکے اور دوسرا مسئلہ ولایت امر یعنی نظام اسلامی میں حکومت و قیادت کے استحقاق کو واضح کیا ہے۔ امام اس وقت لوگوں میں ان دونوں مسائل کو بیان کرتے ہیں اور حقیقت میں اپنے مدنظر علوی نظام یعنی اسلامی و الہی نظام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ امام کے یہاں ایک تیسری نوعیت کے حامل بیانات بھی ملتے ہیں جو ان دونوں سے بھی زیادہ قابل توجہ ہیں ان بیانات میں آپ اعلانیہ طور پر لوگوں کو ایک اسلامی تنظیم کی تشکیل کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

البتہ یہ بات ان ہی لوگوں کے درمیان ہوئی ہے جن کا آپ کو اعتماد حاصل رہا ہے ورنہ اگر عام لوگوں کو اس قسم کی کسی جماعت کی تشکیل کی دعوت دی گئی ہوتی تو اس بات کا راز میں رہنا مشکل ہو جاتا اور آپ کے لیے بڑی زحمت اور پریشانی کا سبب بن جاتا خوش قسمتی سے تحف العقول میں اس نوعیت کے بیانات کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امام زین العابدین سے منقول اس قسم کی روایات کے انتخاب میں جنہیں مختلف محدثین نے منتخب کیا ہے کسی کی سرخی میں ان مطالب کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا جن کو ہم نے بیان کیا ہے غالباً انہوں نے اس قسم کی احادیث کو بھی زہد و تقویٰ کے ذیل میں بیان کیا ہے۔

البتہ حقیقت میں دیکھا جائے تو زہد و تقویٰ بھی یہی ہے۔ لیکن عام طور پر زہد سے جو مراد لیا جاتا ہے یہاں پر وہ مراد نہیں ہے۔ لہٰذا اس مطلب کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ امام اس قسم کے فرمودات کے ذریعے سیاسی مسائل کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں مؤلف امام زین العابدین کا بیان یوں شروع ہوتا ہے دنیا کے وہ زاہدین جو دنیا کے پیچھے نہیں بھاگتے اور اپنی دلچسپی آخرت پر مرکوز رکھتے ہیں ان کی پہچان اور علامت یہ ہے کہ ان کے جو دوست ان کے ہم فکر ہم عقیدہ اور ہم مشرب نہیں ہوتے وہ ان کو چھوڑ دیتے ہیں کیا یہ واضح طور پر ایک شیعہ تنظیم کی تشکیل کی دعوت نہیں ہے؟ بہار الانوار جلد پچھتر صفحہ 128 اس بیان سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جو لوگ آپ کے مطالبات اور خیالات سے اتفاق نہیں رکھتے اور جن کے احساسات اور جذبات بالکل مختلف ہیں جو حکومت حق یعنی علوی نظام نہیں چاہتے آپ کے دوستوں کو چاہیے کہ ان سے کنارہ کش ہو کر ان سے اجنبی اور بیگانہ نہ بن جائیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے یہاں آمد و رفت بند اور ان سے تعلقات ختم کر لیں یہ تعلقات ویسے ہی ہوں جیسے انقلاب اسلامی ایران سے پہلے ملت ایران ساواک اور دوسرے حکومتی کارندوں کے ساتھ رکھتی تھی

یعنی امام فرماتے ہیں وہ لوگ جو تمہارے فکر و عزائم سے متفق نہ ہوں یا ہدف و مقصد سے ہم آہنگی نہ رکھتے ہوں ان کے ساتھ تمہارے معاملات اور آمد و رفت کسی اجنبی اور بیگانے کے مانند ہونی چاہیے۔ ان سے دوستانہ تعلقات ختم کر دینے چاہیے میں سمجھتا ہوں اس طرح کے مزید بیانات خود امام زین العابدین علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین علیہم السلام کے یہاں بھی مل جائیں گے بلکہ دیگر ائمہ علیہم السلام کے ارشادات میں یہ باتیں زیادہ ملیں گی جہاں تک خود میرا مطالعہ ہے اس طرح کے بیانات امام جعفر صادق اور امام محمد باقر علیہ السلام نیز ان کے بعد کے کم از کم تین چار ائمہ اہل بیت کے یہاں مجھے ملے ہیں حتیٰ کہ امیر المؤمنین علیہ السلام کے فرمودات میں بھی منظم و مرتب اسلامی جماعت کی تشکیل کی طرف اشارے ملتے ہیں۔

البتہ یہاں اس تفصیل طلب موضوع پر زیادہ بحث کی گنجائش نہیں ہے مولف امام زین العابدین علیہ السلام کے کچھ بیانات ایسے بھی ہیں جن کے مطالب کلی نوعیت کے ہیں ان میں ان مخصوص پہلوؤں پر بحث نہیں کی گئی ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے مثال کے طور پر امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک رسالہ حقوق سے متعلق ہے جو دراصل آپ کا ایک نہایت ہی مفصل خط ہے اور ہماری اصطلاح میں اس کو ایک مستقل رسالے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جی ہاں یہ کتاب جو رسالۃ الحقوق کے نام سے مشہور ہے آپ کا ایک خط ہے جو آپ نے اپنے کسی محب کے نام لکھا ہے اور اس میں انسانوں کے ایک دوسرے پر حقوق اور ذمہ داری کا ذکر فرمایا ہے یقینا یہ ایک رسالے سے کم نہیں ہے۔

آپ نے اس خط میں مختلف جہتوں سے لوگوں کے ایک دوسرے پر حقوق کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے مثلا خدا کے حقوق، اعضا و جوارح کے حقوق، کان کے حقوق، آنکھ کے حقوق، زبان کے حقوق، ہاتھ کے حقوق وغیرہ اسی طرح اسلامی معاشرے کے حاکم کے عوام پر اور عوام کے حاکم پر حقوق ہیں دوستوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، خاندان کے حقوق وغیرہ ان تمام حقوق کا اس عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جس کا لحاظ ایک اسلامی نظام میں زندگی بسر کرنے والے شخص کو رکھنا ضروری ہے گویا امام نے بہت ہی نرم انداز میں حکومت سے مقابلہ آرائی یا آئندہ نظام کا حوالہ دیے بغیر مستقبل میں قائم کیا جانے والے نظام کی بنیادوں کو بیان کر دیا ہے کہ اگر ایک دن خود امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانہ حیات میں جس کا اگرچہ احتمال نہیں تھا یا آپ کے بعد آنے والے زمانے میں اسلامی نظام حکومت قائم ہو جائے تو مسلمانوں کے اذہان باہمی ذمہ داریوں سے پہلے ہی سے مانوس رہیں دوسرے لفظوں میں آپ لوگوں کو آئندہ کی متوقع اسلامی حکومت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی امام کے بیانات کی ایک قسم ہے جو بہت ہی زیادہ قابل توجہ ہے ایک قسم وہ بھی ہے جس کا مشاہدہ ہم صحیفۂ سجادیہ میں کرتے ہیں ظاہر ہے صحیفۂ سجادیہ سے متعلق کسی بحث کے لیے بڑی تفصیل اور تشریح کی ضرورت ہے مناسب یہی ہے کہ کوئی اس کتاب پر باقاعدہ کام کرے صحیفۂ سجادیہ دعاؤں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں ان تمام موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے جن کی طرف بیدار اور ہوشمند انسان اپنی زندگی میں متوجہ ہوتا ہے ان دعاؤں میں زیادہ تر انسان کے قلب روابط اور مانوی ارتباطات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بے شمار مناجاتیں اور دعائیں مختلف انداز میں معنوی ارتقا کی خواہش اور آرزو سے پر ہیں۔

امام نے ان دعاؤں کے ضمن میں دعاؤں کی ہی زبانی لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی زندگی کا ذوق و شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے دعا کے ذریعے جو فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں ان میں ایک وہ بھی ہے جس میں کئی مرتبہ ذکر کر چکا ہوں کہ دعا لوگوں کے قلوب میں ایک صحیح و سالم محرک اور رجحان پیدا کر دیتی ہے جس وقت آپ کہتے ہیں خدایا ہمارا انجام بخیر فرما تو ظاہر ہے آپ کے دل میں اس وقت انجامکار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور آپ عاقبت کی فکر میں ہوتے ہیں بہت وقت انسان اپنی عاقبت سے غافل ہو جاتا ہے اپنے حال میں مست زندگی گزارتا ہے اور اسے اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ عاقبت کا تصور انسانی سرنوشت کے تعین میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جب آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے تو فورا ذہن اس طرف متوجہ ہوا اور انجام پر نظر رکھنے کا جذبہ بیدار ہو گیا اور پھر آپ اس فکر میں پڑ گئے کہ ایسے امور انجام دیں جو آپ کی عاقبت بہتر بنا سکیں ویسے اس کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے یہ ایک دوسری بحث ہے میں تو اس مثال کے ذریعے صرف اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ دعا کس طرح انسان کے اندر ایک صحیح اور سچا جذبہ بیدار کر دیتی ہے صحیفہ سجادیہ ایک ایسی کتاب ہے جو شروع سے آخر تک دعاؤں کے قالب میں ایسے ہی عالیٰ جذبے و افکار سے معمور ہے جن پر انسان اگر غور کرے تو صرف یہی صحیفہ سجادیہ معاشرے کی اصلاح اور بیداری کے لیے کافی ہے فلحال اس بحث کو ہم یہیں ختم کرتے ہیں۔

البتہ اس کے علاوہ بھی ایسی بہت چھوٹی چھوٹی روایات ہیں جو امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں جس کا ایک نمونہ ہم گزشتہ بحث کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں جیسا کہ امام فرماتے ہیں یعنی کتے کا جھوٹا ملاحظہ کیجئے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ بیان کتنا اہم ہے کیا ایک حریت پسند ایسا نہیں جو کتے کے جھوٹے کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دے کتے کے جھوٹے کا کیا مطلب ہے یہی دنیوی آرائش اونچے اونچے محلات شان و شوکت اور چمک دمک وہ چیزیں جن کی طرف تمام کمزور دل افراد عبد الملک کے دور میں کھنچے چلے جا رہے تھے ان کو امام نے کتے کے جھوٹے سے تعبیر کیا ہے۔

وہ تمام لوگ جو عبد الملک کے غلامی یا اس کے غلاموں کی غلامی میں مشغول تھے یا ان کی حرکتوں سے راضی تھے۔ ان سب کا مقصد یہی کتے کی جھوٹی غذا کا حاصل کرنا تھا۔ امام اسی لیے فرماتے ہیں کہ کتے کے جھوٹے کے پیچھے بھاگتے نہ پھرو تاکہ مومنین عبد الملک کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر اس کی طرف راغب نہ ہونے پائیں اس طرح کے نہایت ہی قابل توجہ انقلابی بیانات امام کے ارشادات میں بہت ملتے ہیں جن کا ہم آگے چل کر انشاء اللہ ذکر کریں گے اسی فہرست میں آپ کے اشعار بھی شامل ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے اشعار بھی کہے ہیں اور ان اشعار کے مضامین بھی اسی قسم کے ہیں انشاء اللہ ہم آگے اس پر روشنی ڈالیں گے پاسدار اسلام شمارہ دس آئمہ اطہار علیہم السلام کی تحریک کے تیسرے مرحلے کا آغاز جہاں تک امام زین العابدین کی حیات مبارکہ کا میں نے مطالعہ کیا ہے اس کے مطابق مجھے آپ کی زندگی میں کوئی ایک موقع بھی ایسا نہ مل سکا

جہاں حکومت سے آپ نے اس طرح کھلے عام تعارض کیا ہو جیسے دیگر آئمہ طاہرین علیہم السلام کے ہاں مثلا بنو امیہ کے دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام یا بعد میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے یہاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ بھی معلوم ہے کیونکہ آئمہ معصومین علیہم السلام کی امامت اور سیاسی تحریک کے چار ادوار ہیں۔ ان کے تیسرے مرحلے کا آغاز امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی سے ہوتا ہے۔ اگر اسی مرحلے میں خلافت سے تعارض کی تحریک شروع کر دی جاتی تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ خطروں سے معمور ذمہ داریوں کا یہ کاروان وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا جس منزل تک اہل بیت علیہ السلام لے جانا چاہتے تھے وہ گلستان اہل بیت علیہ السلام جس کی تربیت و آبیاری امام زین العابدین جیسے ماہرانہ صلاحیت کے حامل باغباں کر رہے تھے ابھی یہ باغ اتنا زیادہ مستحکم اور پائدار نہیں ہو سکا تھا۔

اس باغ میں ایسے نونہال پودے بھی موجود تھے جن میں طوفانی جھکڑوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی جیسا کہ ہم اس بحث کے آغاز میں اشارہ کر چکے ہیں۔ امام کے گردوپیش اہل بیت علیہ السلام سے محبت و عقیدت رکھنے والے مومنین کی بہت ہی مختصر تعداد تھی اور اس زمانے میں ممکن نہیں تھا کہ اس قلیل تعداد کو جس کے کاندھوں پر شیعی تنظیم چلانے کی عظیم ذمہ داری بھی ہے ظالم تھپیڑوں کے حوالے کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتر جانے پر مجبور کر دیں اگر چاہیں تو امام زین العابدین کے دور کو مکہ میں پیغمبر اسلام کی دعوت کے ابتدائی دور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے یعنی دعوت اسلام کے وہ چند ابتدائی سال جب اعلان دعوت دینا بھی ممکن نہ تھا۔

اسی طرح شاید امام محمد باقر علیہ السلام کے دور کو پیغمبر اکرم کی تبلیغ کے دوسرے دور اور پھر اس کے بعد کی ادوار کو دعوت اسلام کے بعد کے ادوار سے تشبیہ غلط نہ ہوگی۔ لہٰذا تعرض اور مڈبھیڑ کی حکمت عملی ابھی صحیح طور پر انجام نہیں دی جا سکتی تھی یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہی تیز و تند حکمت عملی جو امام جعفر صادق علیہ السلام، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام کے بعض کلمات سے مترشح ہوتی ہے۔ امام زین العابدین بھی اپنا لیتے تو عبدالملک بن مروان جس کا اقتدار پورے اوج پر نظر آتا ہے بڑی آسانی کے ساتھ تعلیمات اہل بیت علیہ السلام کی پوری بساط اُلٹ کے رکھ دیتا اور پھر نئے سرے سے کام شروع کرنا پڑتا اور یہ اقدام ہرگز عاقلانہ نہ ہوتا اس کے باوجود امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشادات و اقوال میں جو غالبا آپ کی زندگی اور طویل دور امامت کے آخری دنوں سے مربوط ہیں کہیں کہیں حکومتی مشینری کے ساتھ تعارض و مخالفت کے اشارے بھی مل جاتے ہیں۔

یہاں پر اس بات کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ اس وقت امام کے جس رویے کو ہم بیان کر رہے ہیں وہ آپ کے اس رویے کے برعکس ہے جسے آپ نے یزید اور آل ابو سفیان کی خلافت کے خلاف اپنایا تھا وہ ایک الگ بحث ہے جس کی طرف میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں مولف آئمہ اطہار علیہ السلام کی تعارض آمیز روش کے جلوے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے جن میں سے ایک شکل تو وہی تھی جو محمد بن شہاب زہری کے نام امام زین العابدین کے خط میں قارئین نے ملاحظہ کیا ایک اور شکل معمولی دینی مسائل اور اسلامی تعلیمات کے پردے میں اموی خلفا کے کردار اور حقیقت پر روشنی چنانچہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔

بنی امیہ نے لوگوں کے لیے ایمانی تعلیمات کی راہیں کھلی چھوڑ رکھی ہیں لیکن شرک کی حقیقت کو سمجھنے کی راہیں بند کر دی ہیں کیونکہ اگر عوام شرک کے مفہوم سے نابلد رہیں گے تو شرک کی حقیقت بھی نہ سمجھ سکیں گے 'الکافی' جلد 2، صفحہ 415 . مطلب یہ ہے کہ بنی امیہ نے علماء اور متدین افراد من جملہ آئمہ معصومین علیہم السلام کو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، نیز دیگر عبادات اور اسی طرح توحید و نبوت سے متعلق بحث و گفتگو کرنے کی مکمل چھوٹ دے رکھی تھی کہ وہ ان موارد میں احکامِ الہی بیان کر سکتے تھے لیکن انہیں اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ شرک کا مفہوم اور اس کے مصادیق نیز اسلامی معاشرے میں موجود اس کے جیتے جاگتے مظاہر کو بحث اور تدریس کا موضوع قرار دیں اس لیے کہ اگر عوام الناس کو شرک سے متعلق اسلامی معارف کا علم ہو گیا تو وہ مشرک چہروں کو پہچان لیں گے اور فورا سمجھ جائیں گے کہ بنی امیہ جن اوصاف کے حامل ہیں اور جس کی طرف عوام کو گھسیٹ کر لے جانا چاہتے ہیں دراصل یہ بھی شرک ہے وہ پہچان لیں گے کہ عبد الملک بن مروان اور دیگر خلفائے بنی امیہ طاغوتی ہیں جنہوں نے خدا کے مقابلے میں سر اٹھا رکھا ہے گویا جس نے بھی ان کی اطاعت کی ہے دراصل اس نے شرک کے مجسموں کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے یہی وجہ تھی کہ عوام کے درمیان شرک سے متعلق حقائق و معارف بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی

ڈھائی سو سالہ انسان