حصہ 2 از 6
امام زین العابدیؑن
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
امام زین العابدین علیہ السلام اور مختار کے درمیان رابطے کا علم ہو جانے کے بعد خود امام اور آپ کے دوستوں اور ہم نواؤں کو بھی اس کی سخت قیمت چکانی پڑتی اور شاید شیعیت کا قلع قمع ہو جاتا لہٰذا امام زین العابدین علیہ السلام مختار سے کھلم کھلا رابطہ رکھنا اپنے موقف کے لیے مفید نہیں سمجھتے تھے روایت میں ہے کہ جب واقعہ حرہ کے وقت مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ پہنچ گیا تو کسی کو اس بات میں شک نہ تھا کہ سب سے پہلی شخصیت جو اس کے ظلم جور کا نشانہ بنے گی وہ امام زین العابدین علیہ السلام کی ہوگی۔ لیکن آپ نے اپنی تدبیر و فراست سے کام لیتے ہوئے ایسی حکیمانہ روش اختیار کی کہ یہ بلا آپ سے دور ہو گئی۔
چنانچہ امام حیات رہے اس طرح شیعیت کا اصل محور اپنے مقام پر محفوظ رہ گیا۔ البتہ وہ روایتیں جو بعض کتب من جملہ بحار الانوار میں نقل کی گئی ہیں کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے مسلم ابن عقبہ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔ اس کو میں کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ میری نظر میں یہ امام پر جھوٹ اور افترا باندھا گیا ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ کہ ان میں سے کوئی روایت صحیح اسناد پر منتہی نہیں ہوتی دوسری یہ کہ ان کے بالمقابل دوسری ایسی بہت سی روایتیں موجود ہیں جو مضمون کے اعتبار سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کرتی ہیں امام زین العابدین علیہ السلام اور مسلم ابن عقبہ کی ملاقات کے ذیل میں متعدد روایتیں ملتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے مل نہیں کھاتی لیکن ان میں سے بہت روایات چونکہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی شخصیت اور ان کے کردار سے زیادہ قریب ہیں۔
لہٰذا ہم ان کو قبول کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں بہت سی دوسری روایتیں خود بخود غلط قرار پاتی ہیں اور میرے نزدیک ان کے غلط ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا بہرحال وہ امور جو بعض روایتوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام سے بعید ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ نے مسلم ابن عقبہ کے مقابلے میں کسی معاندانہ رویے کا اظہار نہیں کیا کیونکہ اگر آپ کوئی ایسا طریقہ کار اپناتے تو قتل کر دیے جاتے اور یہ امام حسین علیہ السلام کی اس تحریک کے حق میں ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوتا جس کو زندہ رکھنا امام زین العابدین علیہ السلام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تھا لہٰذا یہ ضروری تھا کہ آپ زندہ رہیں اور اسی طرح جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت میں کہا گیا ہے کہ رفتہ رفتہ لوگ آپ سے ملحق ہوتے رہے اور ان کی تعداد بڑھتی گئی در اصل امام زین العابدین علیہ السلام کا کام ایسے سخت اور نامساعد حالات میں شروع ہوتا ہے
جس کا جاری رکھنا عام آدمی کے لیے تقریباً ناممکن تھا عبد الملک کا دور جس میں آپ کی امامت کا بیشتر حصہ یعنی تقریباً تیس بتیس سال گزرے بڑا ہی دشوار دور تھا عبد الملک کی پوری حکومتی مشینری مکمل طور پر آپ کی نگرانی پر لگی ہوئی تھی۔ اس نے ایسے جاسوس مقرر کر رکھے تھے جو امام علیہ السلام کی زندگی کے ایک ایک لمحے حتیٰ کہ گھریلو معاملات کی بھی خبر اس تک پہنچاتے رہتے تھے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کے آہداف اور مقاصد امام زین العابدین علیہ السلام نے کس طرح کام کیا اور کن حالات میں اپنے تحریک کا آغاز کیا۔ یہ سب واضح ہو چکا یہاں میں ائمہ اہل بیت علیہ السلام کے مقصد اور طریقہ کار کے حوالے سے مختصر طور پر اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
پھر اس روش اور طریقہکار کے روشنی میں امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کی جزئیات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امام زین العابدین کا آخری مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا تھا۔ چنانچہ صادقِ آلِ محمد علیہ السلام کی اس روایت کے مطابق جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں خداوند عالم کے طرف سے 70 ہجری کو اسلامی حکومت کی تاسیس کا سال قرار دیا گیا تھا مگر 61 ہجری میں ہی امام حسین علیہ السلام کی شہادت واقع ہو گئی جس کے نتیجے میں یہ کام 147 ہجری یا 148 ہجری تک موقوف کر دیا گیا یہ چیز مکمل طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نیز دیگر تمام آئمہ اطہار علیہم السلام کا آخری مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہی رہا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان حالات میں حکومت اسلامی کس طرح قائم ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے چند باتیں بہت ضروری ہیں ایک، صحیح اسلامی طرز فکر جو واقعی طور پر آئمہ طاہرین علیہم السلام کے پاس تھی وہ مدون اور مرتب ہو اور درس و تبلیغ کے ذریعے عام ہو جائے کیونکہ یہی طرز فکر ہے جس کو اسلامی حکومت کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے اس حقیقت کے پیش نظر کے ایک طویل عرصے تک اسلامی معاشرہ صحیح اسلامی طرز فکر سے مسلسل دوری اختیار کیا رہا بھلا کس طرح ممکن ہے کہ لوگوں کے ذہنوں پر اسلامی افکار کا نقش قائم کیے بغیر اسلامی نظریات پر مبنی ایک حکومت قائم کر دی جائے جبکہ ابھی حکومت کے حقیقی احکام کی تدوین اور ترتیب بھی باقاعدہ عمل میں نہ آسکی ہو امام زین العابدین علیہ السلام کا عظیم ترین کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے اسلام کے بنیادی افکار و نظریات توحید، نبوت، انسان کی معنوی حیثیت، خدا اور بندے کے درمیان رابطہ، نیز دیگر اہم موضوعات کو مدون و مرتب کر دیا۔
چنانچہ زبور آل محمد یعنی صحیفہ سجادیہ کی اہم ترین خصوصیت یہی ہے۔ اگر آپ صحیفہ سجادیہ کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد اس زمانے کی عام اسلامی فکر کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ دونوں کے درمیان کتنا بڑا فاصلہ نظر آتا ہے جس زمانے میں پورا عالم اسلام مادیت میں گرفتار اپنی مادی ضروریات کی خواہشات کی تکمیل میں سرگرداں ہے خلیفہ وقت عبد الملک بن مروان سے لے کر اس کے ارد گرد بیٹھنے والے علماء تک مثال کے طور پر محمد بن شہاب زہری جیسے درباری علماء سب کے سب مفاد پرستی و دنیا طلبی میں غلطاں نظر آتے ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کی اسلامی حمیت کو للکارتے ہیں آیا تم میں کوئی ایسا آزاد مرد نہیں ہے جو اس دریدہ دہن حریص کتے کا بچا کچا اس کے اہل کے لیے چھوڑ دے یہاں اسلامی طرز فکر سے مراد معنویات کو اصلی ہدف قرار دے کر صحیح اسلامی و معنوی بلندیوں تک پہنچنے کی جدوجہد کرنا اور انسان کا اپنے معبود نیز اُس کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کی طرف متوجہ رہنا ہے
جبکہ اس کے مقابلے میں وہ مادی طرز فکر ہے جس نے اس دور کے مسلمانوں کو اپنا شکار بنا رکھا تھا بہرحال صرف مثال کے طور پر ہم نے ایک بات یہاں ذکر کی ہے ورنہ امام زین العابدین علیہ السلام نے اس طرح کے بے انتہا امور انجام دئے ہیں جس کے نتیجے میں صحیح اسلامی طرز فکر اپنی اصلی خد و خال کے ساتھ اسلامی معاشرے میں باقی رہ جائے اور اس کو امام زین العابدین علیہ السلام کا اولین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے 2. اسلامی حکومت کی تشکیل کی اہلیت رکھنے والے افراد کی طرف عوام کی رہنمائی ایسے حالات میں جبکہ دسیوں سال سے پیغمبر اسلامؐ کے اہل بیت کے خلاف پروپیگنڈے کا بازار گرم ہو اور تقریبا پورا عالمِ اسلام اس جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر ہو 3. پیغمبر اسلام کے طرف منسوب ایسی جعلی حدیثوں کا انبار لگا دیا گیا ہو جو اہل بیت علیہم السلام کی تحریک کے سو فیصد خلاف ہوں حتیٰ کہ بعض حدیثوں میں اہل بیت علیہم السلام کو ہی سب و شتم کا حقدار قرار دے دیا گیا ہو اور یہ حدیثیں عوام کے درمیان نشر بھی ہو چکی ہوں
لوگوں کو اہل بیت علیہم السلام کی صحیح معرفت اور ان کی معنوی حیثیت اور مرتبے کا علم ہی نہ ہو تو بھلا بتائیے اہل بیت علیہم السلام کے ہاتھ حکومت کی تشکیل کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ اسی لیے امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک اہم ترین مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کے درمیان اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کو واضح کریں اور انھیں بتائیں کہ ولایت و امامت اور خلافت و حکومت صرف ان کا حق ہے یہی حضرات پیغمبر ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی جانشین ہیں۔ اس کے ساتھ لوگوں کو اس مسئلے کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا جائے اگرچہ یہ مسئلہ اسلامی نظریات اور آئیڈیلوجی سے تعلق رکھتا ہے تب بھی اس کا سیاست سے بڑا گہرا تعلق ہے دوسرے لفظوں میں یہ موجودہ سیاسی نظام کے خلاف ایک سیاسی تحریک ہے تین امام زین العابدین علیہ السلام کی تیسری اہم ذمہ داری یہ تھی کہ ایک ایسی تنظیم تشکیل دی جائے جو آئندہ کے لیے ہر طرح کی سیاسی اور اسلامی تحریک کا اصل محور قرار پاسکے لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ گھٹن اقتصادی بدحالی اور معنوی دباؤ کی وجہ سے افراتفری اور پراگندگی کی زندگی گزارنے کے عادی ہو چکے ہوں
حتیٰ کہ خود شیعہ حضرات بھی ایسے سخت دباؤ میں مبتلا کر دیے جائیں کہ ان کی تنظیمیں درہم برہم ہو کر رہ گئی ہوں ایسے میں بھلا امام زین العابدین علیہ السلام کے لیے یہ کیوں کر ممکن تھا کہ اکیلے یا اپنے چند گنے چنے غیر منظم مخلصین کے ساتھ اپنا کام شروع کریں چنانچہ کسی بھی تحریک کے آغاز سے پہلے امام کے لیے ضروری تھا کہ وہ شیعوں کو منظم کریں اور باقاعدہ ان کی تنظیمیں تشکیل دیں اور یہ تنظیم جہاں تک میرا خیال ہے امیر المومنین علیہ السلام کے دور میں موجود تھی۔ البتہ بعد میں کربلا کے المناک سانحہ مدینہ میں واقعہ حرہ اور کوفہ میں قیام مختار کے واقعہ نے تقریباً ان کی بنیادیں متزلزل کر دی تھیں۔
اب ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کو دوبارہ منظم کر کے ان میں ایک نئی روح پھونک دی جائے مختصر یہ کہ امام زین العابدین علیہ السلام کو اپنی تحریک آگے بڑھانے کے لیے درج ذیل بنیادی نوعیت کے حامل تین اہم امور انجام دینے تھے پہلا قرآن حکیم اور سنتِ رسول کے مطابق صحیح اسلامی افکار و نظریات کی تدوین و تربیت جو ایک مدت سے تحریف یا فراموشی کی نظر کر دیے گئے تھے دوسرا اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت اور خلافت امامت اور ولایت پر ان کے استحقاق کا اثبات تیسرا شیعانِ آلِ محمد کو جمع کر کے ان کی ایک باقاعدہ تنظیم کی تشکیل یہی وہ تین بنیادی کام ہیں جن کا ہمیں تفصیل سے جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ ان میں سے کونسا کام امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانے میں انجام پایا اگرچہ ان مذکورہ امور کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں مگر ان کو ثانوی حیثیت حاصل ہے مثلاً کبھی خود امام یا آپ کے ساتھیوں کے ذریعے ایسے اقدامات اٹھائے یا ایسے افکار و خیالات پیش کیے جائیں جو اس گھٹن زدہ ماحول میں کسی حد تک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو چنانچہ ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جہاں مجمع عام میں امام کے اصحاب یا خود امام کچھ ایسے خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جس کا مقصد محض اس گھٹن کی فضا کو توڑ دینا مقصود ہوتا تھا۔
اس طرح کے اقدامات کے وقت تحریک کسی حد تک مستحکم ہو چکی تھی بہرحال یہ وہ ضمنی اقدامات ہیں جس کے چند نمونے ہم آگے پیش کریں گے۔ اسی طرح کا ایک ذمی کام موجودہ سیاسی مشینری یا اس کے کارندوں کے ساتھ معمولی نرمی برتنا بھی ہے۔ چنانچہ اس طرح کے اقدامات امام زین العابدین علیہ السلام اور عبد الملک بن مروان کے درمیان پیش آتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی ضمن میں امام زین العابدین علیہ السلام اور عبد الملک کے دربار سے وابستہ محمد بن شہاب زہری جیسے منحرف علماء کے درمیان پیش آنے والے معاملات بھی شامل ہیں۔ آپ کے دوستوں اور خلفائے وقت کے مابین ہونے والی بعض معرکہ آرائیاں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں اور ان سب کا مقصد کسی حد تک اس حبس اور گھٹن کے ماحول سے لوگوں کو نجات دلانا تھا انشاء اللہ آگے ان جزئیات پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔
اگر کوئی شخص صرف اسی حد تک میرے ان معروضات کو اچھی طرح سمجھ لے تو ساری اخلاقی روایات، موعظانہ، گفتگو، پیغامات اور عارفانہ دعائیں نیز دیگر بے بہا، اقوال اور ارشادات جو امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ہیں یا آپ کی زندگی میں واقع ہوتے رہے ہیں خود بخود واضح ہو جائیں گے یعنی وہ شخص اس بات کو محسوس کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ امام کے تمام اقدامات اور ارشادات انہی تین امور کے ارد گرد گردش کرتے نظر آئیں گے جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے اور مجموعی طور پر ان تمام امور کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے ایک اسلامی حکومت کی تشکیل البتہ یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کو ہر گز اس بات کی فکر اور جلدی نہیں تھی کہ مطلوبہ اسلامی حکومت خود آپ کے زمانے میں ہی تشکیل پا جائے بلکہ آپ جانتے تھے کہ یہ مستقبل قریب میں یعنی آپ کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہاتھوں تشکیل پائے گی
پاسدارِ اسلام شمارہ آٹھ ان تینوں بنیادی امور کے انجام پانے کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلامی حکومت یا علوی نظام کے لیے زمین ہموار ہو چکی ہے۔ البتہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ یہاں پھر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے برعکس امام زین العابدین علیہ السلام کے پیش نظر یہ بات ہر گز نہیں تھی کہ خود ان کے زمانے میں ہی یہ حاکمیت تبدیل ہو کر حکومت اسلامی قائم ہو جائے کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ کے زمانے میں اس کے لیے زمین ہموار نہیں ہو سکے گی ظلم و زیادتی حبس اور گھٹن کا ماحول کچھ اتنا بڑھ چکا تھا کہ محض تیس سال کے مدت میں حکومت کا برطرف ہو جانا ممکن نہ تھا۔
چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام مستقبل کے لیے زمین ہموار کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایسے متعدد قرائن بھی ملتے ہیں جن کے مطابق امام محمد باقر علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے کہ خود اپنے دور میں ہی اسلامی حکومت تشکیل دے دیں یعنی 61 ہجری سے 95 ہجری تک جب امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی اور پھر 95 ہجری سے 114 ہجری تک جو امام محمد باقر علیہ السلام کا دور امامت ہے ان میں سے کوئی امام اپنے زمانے میں ہی حکومت اسلامی تشکیل دینے کی فکر میں نہیں تھے بلکہ ان کی نظریں کچھ مدت کے بعد ظاہر ہونے والے نتائج پر تھیں۔
چنانچہ جیسا کہ میں نے اشارتاً عرض کیا کہ امام زین العابدین علیہ السلام طویل المدت منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ اگر ہم امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشادات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے معروضات کا ثبوت خود آپ کے اقوال میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ امام کی زندگی کے متعلق کوئی تحقیقی جائزہ پیش کرتے وقت ہمارے بنیادی مصادر و معاخذ خود آپ کے کلمات اور ارشادات ہی ہونے چاہیے یہی طریقہ دیگر ائمہ طاہرین علیہ السلام کے سلسلے میں بھی ہم نے اختیار کیا ہے کیونکہ ہماری نظر میں کسی بھی امام کی زندگی سے متعلق صحیح معرفت و آشنائی کے لیے خود اس امام کی زبان مبارک سے جاری ہونے والے بیانات یا روایتیں بہترین مَنبَع و مدرک ہیں۔
لیکن ہم اس سے قبل بھی یہ بیان کر چکے ہیں کہ ہم ائمہ طاہرین علیہ السلام کے بیانات کو تب ہی صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ جب ان کا موقف و مقصد راہِ عمل اور تلاش و جستجو سے آشنا ہوں ورنہ ہم جو بھی تفسیر کریں گے وہ غلط ہوگی اور اگر خود یہ آشنائی بھی ان کے کلمات کی برکت سے ہی حاصل ہوئی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ائمہ اہل بیت علیہ السلام کے کلمات سے کتنے صحیح نتائج ہمیں حاصل ہوں گے قبل اس کے کہ ہم اس بحث میں وارد ہوں۔ ایک اہم نکتے کی طرف مختصراً اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ امام چونکہ انتہائی گھٹن کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ صراحت سے اپنے موقف اور نظریات بیان کر سکیں لہذا آپ نے دعا اور مواعظ کو اپنے اظہار کا ذریعہ قرار دیا دعا صحیفہِ سجادیہ سے مربوط ہے جس کا ہم عنقریب ذکر کریں گے۔
البتہ موعظہ کا تعلق ان اقوال و روایات سے ہے جو آپ سے نقل ہوئی ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام کے زیادہ تر ارشادات یا شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ تمام کے تمام بیانات مواعظ کے لب و لہجے میں ہیں۔ چنانچہ اسی مواعظ اور نصیحت کے ضمن میں وہ باتیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ آپ نے بیان فرمائیں جب قارئین ان بیانات کا غور سے مطالعہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ امام نے کتنا حکیمانہ اور مدبرانہ طریقہ کار منتخب کیا بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہے ہیں۔ لیکن اسی ضمن میں جو باتیں لوگوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتے ہیں غیر محسوس طور پر لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں اور یہ افکار و نظریات کے ابلاغ کا بہترین طریقہ ہے۔
امام کے بیانات سیاسی جد وجہد کا منہ بولتا ثبوت یہاں ہم امام زین العابدین علیہ السلام کے ان کلمات کی تحقیق و تشریح کرنا چاہتے ہیں جو کتاب تحف العقول میں آپ سے نقل کیے گئے ہیں اس میں آپ سے نقل ہونے والے مطالب ہمیں چند مختلف نوعیت کے حامل نظر آتے ہیں جو انہی مذکورہ جہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ان میں بعض بیانات وہ ہیں جن میں عام لوگوں سے خطاب ہے جیسا کہ خود بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے سننے اور پڑھنے والے امام کے خاص الخاص افراد نہیں ہیں۔ چنانچہ عام لوگوں سے خطاب کرتے وقت ہمیشہ قرآنی آیات سند کے طور پر پیش کی گئی ہیں کیونکہ عوام الناس آپ کو امام کی حیثیت سے نہیں پہچانتے وہ تو ہر بات کے لیے دلیل و استدلال چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امام یا تو براہ راست آیات سے استدلال پیش کرتے ہیں یا آیات سے مدد لیتے ہیں۔
اس روایت میں تقریباً پچاس یا اس سے بھی زائد موارد میں قرآنی آیات کا براہ راست یا بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن بات کے بیان میں جہاں مومنین سے خطاب ہے ایسا نہیں کیونکہ وہ امام کی معرفت رکھتے ہیں اور ان سے امام اپنی گفتگو کے دوران چونکہ وہ آپ کی بات قبول کرتے ہیں قرآن سے استدلال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے چنانچہ اگر شروع سے آخر تک جائزہ لیں تو قرآنی آیات بہت کم نظر آتی ہیں۔ امام سے ایک مفصل روایت نقل کرتے ہوئے صاحب تحف العقول فرماتے ہیں۔ یہ موعظہ اس لیے تھا کہ حضرت کے شیعہ اور حضرت کے دوست ہر جمعے کے دن اپنے مجمع میں یا انفرادی طور پر اسے پڑھا کریں تحف العقول صفحہ 249 یہاں مخاطبین کا دائرہ کافی وسیع ہے اور یہ نقطہ خود اس تفصیلی روایت میں پائے جانے والے قرآن سے استنباط کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس روایت میں خطاب ایها المؤمنون یا ایها الإخوة کے عنوان سے نہیں بلکہ ایها الناس کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے
جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے جبکہ بعض دوسری روایتوں میں خود خطاب کا انداز مومنین سے مخصوص ہونے کی نشاندہی کرتا ہے لہٰذا یہاں عمومی خطاب ہونا ثابت ہے ثانیاً اس روایت میں موجودہ باتوں کا صریحی انداز میں مواخذہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں صرف عقائد یا ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کا جاننا انسان کے لیے ضروری ہے دوسرے لفظوں میں محض اعتقادات اور معرفت اسلامی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا پورا خطاب موعظہ کے لب و لہجے میں ہے جس کی ابتداء یوں ہوتی ہے ایها الناس اتقوا الله و اعلموا انكم اليه راجعون گفتگو ہی موعظہ سے شروع ہوتی ہے کہ اے لوگوں تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور یاد رکھو کہ آخر خدا کے سامنے جانا ہے۔