حصہ 3 از 6
امام زین العابدیؑن
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
اس کے بعد عقائد اسلامی کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہارا فرض ہے کہ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کرو جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ تم اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے ہو گویا اس بیان کے ذیل میں لوگوں کے اندر اسلام کی صحیح شناخت کا جذبہ بیدار کر رہے ہیں اسی طرح ذرا دیکھئے کہ کتنے حسین انداز میں آپ فرماتے ہیں۔ اس وقت سے ڈرو جب تم کو لوگ تنے تنہا قبر کے حوالے کر دیں گے اور منکر و نکیر تمہارے پاس آئیں گے اور پہلی چیز جس کے بارے میں تم سے سوال کریں گے تمہارے خدا سے متعلق ہوگی جس کی تم بندگی کرتے ہو یعنی سننے والوں کے ذہن میں توحید کا مفہوم اتار کر معرفت خدا پیدا کر رہے ہیں وَعَنْ نَبِيِّكَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكَ اور تم سے اس نبی کے بارے میں پوچھیں گے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا گویا مسئلۂ نبوت اور حقیقتِ محمدی کے عرفان کا جذبہ زندہ کر رہے ہیں
وَعَنْ دِينِكَ الَّذِي كُنْتَ تَدِينُ بِهِ اور اس دین کے بارے میں پوچھیں گے جس کی تم نے پیروی کی ہے وَعَنْ كِتَابِكَ الَّذِي كُنْتَ تَتْلُوهُ اور اس کتاب کے سلسلے میں تمہاری خبر لیں گے جس کی تم تلاوت کیا کرتے ہو اور پھر مذہبِ اسلام کے انہی بنیادی مسائل اور عقائد یعنی توحید، نبوت، قرآن اور دین کے ساتھ اپنا مقصود اور اہم نکتے کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کر دیتے ہیں وَأَنْ اِمَامِكَ اللَّذِيْ كُنْتَ تَتَوَلَّاهُ اور اس امام کے بارے میں بھی سوال ہوگا جس کی ولایت کا تم دم بھرتے رہے ہو تحفہ العقول صفح 249 یہاں امام مسئلہ امامت کو واضح کر رہے ہیں در اصل ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے یہاں مسئلہ امامت حکومت سے الگ نہیں یعنی ان کے نزدیک ولایت اور امامت میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا اگرچہ ممکن ہے والی اور امام کے معنی آپس میں کچھ تفاوت رکھتے ہوں لیکن یہ دونوں مسئلے یعنی امامت اور ولایت ائمہ کی زبان میں ایک ہیں اور ان سے ایک ہی معنی مراد ہے۔
یہاں آپ اسی امام کے بارے میں سوال کر رہے ہیں جس سے دینی طور پر لوگوں کی ہدایت و آگاہی کا بھی ذمہدار بنایا گیا ہے اور دنیوی اعتبار سے ان کے امور زندگی کا بھی نگران اور ذمہدار قرار دیا گیا ہے یعنی پیغمبر اسلام کا جانشین امام یعنی معاشرے کا رہبر و قائد امام یعنی وہ جس سے ہم دین بھی حاصل کرتے ہیں اور دنیا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی اطاعت ہم پر دینی امور میں بھی واجب ہے اور دنیوی معاملات میں بھی فرض ہے۔ لیکن ملاحظہ کیجئے صدیوں سے دنیاءے تشیع میں یہ مسئلہ کتنی غلط فہمی کا شکار رہا ہے لوگ خیال کرنے لگے تھے کہ ایک شخص وہ ہے جو معاشرے پر حکومت کر رہا ہے زندگی سے متعلق امور اس کے ہاتھ میں ہیں بندش و آزادی سے لے کر جنگ و صلح تک سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے وہی مالیات ٹیکس مقرر کرتا ہے اور وہی ہمارے اچھے اور برے کا مالک و ذمہدار ہے
جبکہ اسی کے مقابلے میں ایک شخص اور بھی ہے جس کا کام لوگوں کا دین درست کرنا ہے پہلے کو حاکم کہتے ہیں دوسرے کو غیبت کے زمانے میں عالم دین اور قبل از غیبت امام کہتے ہیں یعنی ائمہ اطہار علیہم السلام کے زمانے میں ایک امام کی حیثیت وہی تصور کرنے لگے جو غیبت امام کے زمانے میں ایک عالم دین کی ہوتی ہے ظاہر ہے یہ تصور قطعا غلط ہے دراصل امام پیشوا اور ہادی کو کہتے ہیں جیسا کہ ہم صادق آل محمد کے حالات زندگی کے ذیل میں اشارہ کریں گے کہ جس وقت امام منیٰ یا عرفات میں پہنچتے ہیں تو ایک مرتبہ بلند آواز میں ارشاد فرماتے ہیں ایھا الناس ان رسول اللہ کان الامام یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام تھے۔
امام اس کو کہتے ہیں جو لوگوں کے دین اور دنیا کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام کے دور میں بھی جب حکومت عبد الملک بن مروان کے ہاتھ میں تھی لوگ امام کا مفہوم غلط سمجھ بیٹھے تھے معاشرے کی امامت کا مطلب ہی لوگوں کے مسائل حیات نیز تمام بندش و آزادی کے نظام کی نگرانی اور تحفظ کرنا ہوتا ہے اور یہ امامت کا ایک بڑا ہی اہم شعبہ ہے۔ یہ منصب اہل سے لے کر نا اہل کے سپرد کر دیا گیا تھا اور وہ نا اہل خود کو امام سمجھتا بھی تھا صرف یہی نہیں بلکہ عرصہ دراز تک عوام بھی اس کو امام ہی سمجھا کرتے تھے۔
چنانچہ لوگ عبد الملک سے پہلے مروان بن حکم اور اس سے پہلے یزید اور اس کے پیشرووں کو اسی طرح عبد الملک کے بعد اس کی جگہ آنے والے دوسرے لوگوں کو اپنا امام تصور کرتے رہے ان کو معاشرے کا رہبر نیز لوگوں کے اجتماعی مسائل پر حاکم کے عنوان سے قبول کرتے تھے اور یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ چکی تھی۔ جب امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں قبر میں تم سے امامت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ فیصلہ کر لو کہ جب نکیرین سوال کریں گے کہ تم نے جس کو اپنا امام مان لیا تھا کیا وہ واقعی امام تھا جو شخص تم پر حکومت کر رہا تھا معاشرے کی رہبری جس کے ہاتھ میں تم نے دے رکھی تھی کیا وہ حقیقت میں امام ہونے کا لائق تھا کیا وہ وہی تھا جس کی امامت پر خدا راضی تھا اس کا کیا جواب دوگے یعنی اس طرح آپ اس مسئلے کی نزاکت کا احساس دلا کر لوگوں کو بیدار کر رہے تھے
گویا بالکل غیر محسوس طور پر مسئلہ امامت جس کے سلسلے میں بنی امیہ کی پوری مشینری کسی طرح کی کوئی بات سننے پر قطعی تیار نہ تھی تو امام زین العابدین علیہ السلام اس کو موعظہ کے قالب میں ڈھال کر ایک عمومی خطاب کے ضمن میں پیش کر کے لوگوں کے ذہن و احساس کو زندہ و بیدار کر رہے تھے۔ یہاں آپ کی روش اور طریقہ کار میں ٹھہراؤ پایا جاتا ہے کسی طرح کی اجلت نظر نہیں آتی آگے چل کر جہاں امام نے ذرا سختی اور تیزی سے کام لیا ہے۔ ہم اس کا بھی ذکر کریں گے مختصر یہ کہ عوام الناس سے مربوط اپنے عمومی خطاب میں امام عالی مقام علیہ السلام موعظہ کی زبان میں اسلامی معارف کے ساتھ وہ حقائق جن پر آپ کی خاص توجہ تھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ کر رہے ہیں۔
آپ کی کوشش تھی کہ عوام ان چیزوں کو یاد رکھیں اس قسم کے خطابات میں دو نکتے خاص طور پر توجہ کے لائق ہیں پہلے یہ کہ عوام الناس سے کیا جانے والا یہ خطاب تعلیمی نکتہ نظر سے پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کی نوعیت یاددہانی کسی ہے یعنی یہاں امام بیٹھ کر عوام کے سامنے مسئلہ توحید کے دریچے کھولنے یا مسئلہ نبوت کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش نہیں کر رہے بلکہ محض یادہانی مقصود ہے مثلاً مسئلہ نبوت کو لے لیجئے ظاہر ہے امام زین العابدین علیہ السلام جس معاشرے اور جس زمانے میں زندگی بسر کر رہے تھے وہاں ابھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی رحلت کو اتنی زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ مکمل طور پر اعتقادات اسلامی انحراف یا تحریف کا شکار ہو چکے ہو بلکہ اس زمانے میں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے رسول اکرم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ائمہ اطہار علیہ وسلم میں سے امیر المومنین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو دیکھنے والے بھی موجود تھے
اور اجتماعی نظام کے اعتبار سے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی تھی کہ لوگ مسائل توحید و نبوت کے سلسلے میں یا مسائل معاد و قرآن کے بارے میں کسی بنیادی اور اصولی شک و شبہہ اور تحریف سے دو چار ہوئے ہوں ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اکثریت ان کے تقاضوں کو بھلا بیٹھی تھی مادی زندگی اس بات کی موجب بنی ہوئی تھی کہ لوگ اسلام اسلامی اعتقادات اور ان کی عظمت اور اہمیت کے بارے میں غور و فکر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے معاشرے میں دنیوی اور مادی تہوار نے اس شدت کے ساتھ لوگوں کو اپنا اسیر بنا لیا تھا کہ یہ فکر کہ انسانی زندگی میں معنویات اور نیکیوں کے سلسلے میں تقابل و موازنہ کا بھی کوئی میدان موجود ہے لوگوں کے ذہنوں سے بالکل نکل چکی تھی اور کسی کو اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوئی فکر نہ تھی۔
اگر اس طرف کوئی قدم بڑھاتا بھی تو اس میں ظاہرداری اور سطحیت کا عمل داخل ہوتا توحید کے وہ آسار و فوائد جو پیغمبرِ اکرمؐ کے دور میں یا اس سے متصل قریبی زمانے میں لوگوں پر واضح تھے۔ اس حوالے سے وہ احساس و ادراک اور وہ ذمہ داری اب مفقود ہو چکی تھی۔ لہٰذا فقط یاددہانی کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں میں ادراک پیدا ہو جائے ورنہ دین میں ابھی کوئی ایسی تحریف نہیں ہوئی تھی جس کی تصحیح ضروری ہو اس کے برخلاف بعد کے زمانوں مثلاً امام جعفر صادق علیہ السلامؐ کے دور کو لے لیجئے یہ تحریف اپنی حد سے آگے بڑھ چکی تھی۔
اس وقت خود مسلمانوں کے درمیان بہت سے متکلمین یا دوسرے لفظوں میں بہت سے فلسفی اور منطقی پیدا ہو گئے تھے جو طرح طرح کے ناموں سے بڑی بڑی مسجدوں مثلاً مسجدِ نبوی مسجدِ اموی شام حتیٰ کے خود مسجد الحرام میں آکر بیٹھ جاتے اور غلط افکار و عقائد کے باقاعدہ درس دیا کرتے تھے وہاں ابن ابی العوجاء جیسے افراد بھی موجود تھے جو زندیقیت و دہریت یعنی وجود خدا سے انکار کا درس دیا کرتے تھے اور اس پر استدلال بھی پیش کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلامؐ کے بیانات کا ہم جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ توحید و نبوت یا اور اس جیسے دوسرے مسائل باقاعدہ استدلال کے ساتھ بیان فرماتے ہیں ظاہر ہے دشمن کے استدلال کے خلاف استدلال ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلامؐ نے ابن عبل اوجہ کے جواب میں جو ایک منکر خدا ملعون شخص تھا مخلوقات کی مختلف حالتوں جیسے بڑا، چھوٹا، کمزور، طاقتور اور ان کی برعکس حالتوں نیز، تندرستی و بیماری اور دیگر حالتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے مجموعہ رسائل در شرح احادیث از کافی جلد ایک صفحہ 565 جبکہ امام زین العابدین علیہ السلامؐ کے بیانات میں یہ چیزیں نہیں ملتیں آپ اسلامی مطالب پیش کرتے وقت منطقی استدلال عوام کے سامنے پیش نہیں کرتے بلکہ صرف یاد دہانی کے طور پر اشارہ کر دیتے ہیں کہ دیکھو قبر میں تم سے توحید و نبوت کے سلسلے میں سوالات کیے جائیں گے۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ یہ صرف ذہن کو جھنجوڑنے کے لیے ہے کہ انسان ان مسائل پر سوچنے کے لیے مجبور ہو جائے اور وہ چیزیں جو غفلت و فراموشی کی نذر ہو چکی ہیں ذہن دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے خلاصہ بحث یہ کہ امام زین العابدین علیہ السلامؐ کے دور میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو اس بات پر دلالت کرے کہ لوگ حتیٰ کہ ارباب حکومت و سلطنت بھی اسلامی فکر و نظر سے کھل کر بغاوت پر آمادہ ہوں اور اس کا اظہار یزید کے اس شعر سے ہوتا ہے جو اس نے غرور و مستی میں ڈوب کر اس وقت پڑھا تھا۔
جب خانوادہ رسولؐ کو اسیر کر کے اس کے دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ کہتا ہے۔ بنی حاشم نے حکومت و سلطنت کے لیے ایک کھیل کھیلا تھا جبکہ حقیقت میں نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی اللھوفِ علی قتلِ الطفوف ترجمہِ فہری النص صفحہ 181 یعنی اس کو دین و وحی سے کوئی مطلب نہ تھا۔ چنانچہ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یزید کی یہ ہرزہ سرائی ممکن ہے نشہ و مستی کے غلبے کے سبب رہی ہو ورنہ حتیٰ کہ عبد الملک اور حجاج بن یوسف جیسے ظالموں میں بھی عقیدہِ توحید یا عقیدہِ نبوت کی کھل کر مخالفت کی جرأت نہ تھی عبد الملک بن مروان وہ شخص ہے جو اس کثرت سے قرآن کی تلاوت کیا کرتا تھا کہ اس کو لوگ قرآن کے قرآ میں شمار کرتے تھے۔
چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب اس کو یہ خبر دی گئی کہ تم خلیفہ ہو گئے ہو اور حکومت پر فائز ہوئے ہو تو اس نے قرآن کو بوسہ دیا اور کہا۔ یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے سورہ مبارکہ کہف آیت اٹھہتر یعنی اب ہماری اور تمہاری ملاقات قیامت میں ہوگی حقیقت بھی یہی تھی۔ پھر اس کے بعد اس نے کبھی قرآن اٹھا کر نہ دیکھا حجاج بن یوسف کیسا ظالم آدمی تھا۔ آپ نے سنا ہی ہوگا۔ لیکن یقینا جتنا آپ نے سنا ہے وہ اس سے مظالم میں کہیں کم ہے مگر اس جیسا شخص بھی جب ممبر سے خطبہ دیتا تو لوگوں کو تقوائے الہی کی تلقین کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
چنانچہ امام زین العابدین کی زندگی میں جو کچھ ملتا ہے اس کا ما حصل عوام کو اسلامی افکار و نظریات کی طرف متوجہ اور خبردار کرنا ہے تاکہ لوگوں کے فکری بہاؤ کو مادیت کی بجائے خدا اس کے دین اور قرآن کی طرف موڑ دیا جائے بہرحال یہ امام کے بیانات کی ایک قسم تھی دوسرے قسم کے بیانات وہ ہیں جن میں امام زین العابدین علیہ السلام کے مخاطب کچھ مخصوص افراد ہیں اگرچہ مشخص نہیں کہ وہ کون لوگ تھے لیکن یہ طے ہے کہ آپ کا خطاب ایک ایسے گروہ سے ہے جو موجودہ حکومت سے بیزار اور اس کا مخالف ہے چاہے اس میں جو بھی ہوں شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو کہ یہ وہی گروہ ہے جو امام کی اطاعت اور اہل بیت علیہ السلام کی حکومت پر یقین اور اعتقاد رکھتا تھا خوش قسمتی سے تحف العقول میں امام زین العابدین علیہ السلام کے اس قسم کے بیانات کا ایک نمونہ موجود ہے۔
ایک نمونہ اس لیے کہ جب ہم اس طرح کی دوسری کتابوں کی چھان بین کرتے ہیں تو ان میں بھی ایسے چند نمونوں کے سوا آپ سے منقول کوئی چیز نہیں ملتی پھر بھی انسان یہ محسوس کر سکتا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی میں اس طرح کے بے شمار نمونے پیش آئے تھے مگر حالات اور آپ کی حیات کے دوران پیش آنے والے حوادث، گھٹن کی زندگی دشمنوں کے حملے، اذیتیں، اصحاب ائمہ کا قتل وغیرہ اس بات کا باعث بنے کہ وہ گراں بہا آثار باقی نہ رہ سکے۔ چنانچہ بہت ہی کم مقدار میں چیزیں ہمارے ہاتھ لگ سکی ہیں بہرحال امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ بیان کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے خداوند ہمیں اور تمہیں ظالموں کے مکر و فریب حاسدوں کی بغاوت و سرکشی اور جابروں کے ظلم و زیادتی سے محفوظ و مامون رکھے خطاب کا انداز بتاتا ہے کہ خود امام اور آپ کا مخاطب گروہ دونوں اس میں شریک ہیں یعنی موجودہ حکومت اور نظام کی طرف سے وہ سب خطرے میں ہیں
اور ظاہر ہے کہ یہ بات ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس جماعت کو لفظ مومنین یا اہل بیت کے محبین و مقربین سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس انداز کے خطابات یا ایھا المومنون سے شروع ہوتے ہیں جبکہ پہلی نوعیت کے بیانات میں ایھا الناس یا بعض موارد میں یا ابن آدم کہ کر خطاب کیا گیا ہے اور یہاں ایھا المومنون ہے یعنی امام کے خطاب میں اپنے مخاطبین کے صاحبِ ایمان ہونے کا اعتراف موجود ہے اور یہ وہ مومنین ہیں جو اہل بیت علیہم السلام اور ان کے افکار و نظریات پر واقعی ایمان رکھتے تھے اس منزل میں جب امام علیہ السلام اپنے اصل مطلب پر آتے ہیں تو آپ کی گفتگو بھی اس چیز کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ آپ کے مخاطب مومنین یعنی اہل بیت علیہم السلام سے قربت رکھنے والے افراد ہیں۔
چنانچہ ارشاد فرمایا اے ایمان والوں! خبردار کہیں یہ طاغوت اور ان کے پیروکار جو دنیا کے حریص اور اس پر فریفتہ ہو چکے ہیں وہ تمہیں حق سے دور نہ کر دیں کیونکہ وہ دنیا سے دھوکہ کھا چکے اور اس پر فریفتہ ہو چکے ہیں تو ف القول صفحہ 252 یہ طاغوت اور ان کے فرماں بردار جو دنیا کے حریص اس کے شیدائی اس پر فریفتہ اور قربان اور اس کی طرف دوڑنے والے لوگ ہیں یہ کہیں تم کو فریب میں مبتلا نہ کر دیں یہاں مومنین سے خطاب کے وقت اصل لب و لہجے میں ان کو شر سے محفوظ رہنے اور آئندہ ہم فکری کے ساتھ کام کرنے کیلئے آمادہ کیا جا رہا ہے ظاہر ہے موجودہ طاغوتی نظام کے طرف داروں اور ائمہ اطہار کے ساتھیوں کے درمیان اندر اندر جو شدید مخالفت اور مقابلہ آرائی جاری تھی اس کی وجہ سے ائمہ معصومین علیہ السلام کے چاہنے والوں کو بڑی سخت مشکلات اور رنج و مصیبت جھیلنی پڑ رہی تھی۔
چنانچہ امام کے بیان میں اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے مومنین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر دنیا کی عارضی چمک دمک اور آسائش کے دھوکے میں آ گئے تو اس کی قیمت میں تم کو اہل طاغوت سے ہاتھ ملانا پڑے گا۔ امام کا یہ انداز اور لب و لہجہ نہ صرف اس بیان میں بلکہ آپ سے منقول بہت سے مختصر اقوال اور روایات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان کو دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ امام نے لوگوں کو دنیا سے اجتناب برتنے کی دعوت دی ہے دنیا سے اجتناب کا کیا مطلب ہے یعنی لوگوں کو اس لہر سے محفوظ رکھا جائے جو انسان کو ناز و نعم میں غرق کر دیتی ہے اور اس کے دام میں گرفتار ہو کر انسان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور اس کے انقلابی جد و جہود سرد پڑ جاتی ہے۔
یہ دعوت مومنین سے متعلق خطابات میں ملتی ہے عوام الناس سے خطاب کے دوران یہ انداز بہت کم نظر آتا ہے عوام سے خطاب کے وقت جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے زیادہ تر انداز خطاب اس طرح کا ہوتا ہے لوگوں خدا کی طرف متوجہ رہو قبر و قیامت کا دھیان رکھو خود کو کل کے لیے آمادہ کرو یا اسی طرح کی دوسری باتیں ان حقائق کی روشنی میں اگر کوئی سوال کرے کہ اس قسم کے خطابات سے آخر امام کا مقصد کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام ایک ہم فکر جماعت تیار کرنا چاہتے ہیں۔ امام چاہتے ہیں کہ کسی ضروری موقع کے لیے مومنین کا ایک گروہ تیار رہے اور آپ انہیں اقتدار کی ہوس اور جھوٹی مراعات کی چکاچوند سے محفوظ رکھیں اس قسم کے بیان میں امام بار بار موجودہ نظام کا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ گزشتہ قسم کے بیان میں یہ چیز اتنی وضاحت کے ساتھ نظر نہیں آتی یہاں امام زین العابدین بہت سخت لہجے میں حکومتی مشینری پر تنقید کرتے اور اس کو شیطان کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔
چنانچہ آپ فرماتے ہیں تم لوگوں کو جن امور سے شب و روز واسطہ پڑتا ہے یعنی یہ ظلمت خیز فتنے نت نئی بدعتیں ہیں یہ بدعتیں ظالم نظام کی اختراع ہیں ظلم جور پر مبنی سنتیں اور زمانے بھر کی سختیاں ہیں یہ سلطنت کا خوف اور رعب ہے اور شیطانی وسوسے ہیں۔ یہاں امام ذکر سلطان کے فوراً بعد وسوسہ شیطان کا ذکر کرتے ہیں یعنی پوری صراحت کے ساتھ حاکم وقت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کو شیطان کا دست راست قرار دیتے ہیں گفتگو کے آخر میں آپ ایک نہایت ہی عمدہ جملہ ارشاد فرماتے ہیں کیونکہ یہ جملہ بہت اہمیت کا حامل ہے لہٰذا ہم اسے یہاں نقل کرنا چاہتے ہیں۔