امام زین العابدینؑ

امام زین العابدینؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام زین العابدینؑ

امام زین العابدینؑ

ہجری ۳۸

ہجری ۹۵

حصہ 5 از 6

امام زین العابدیؑن

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

تھی جب ہم اسلام میں توحید کے موضوع پر بحث کرتے ہیں تو اس بحث کا ایک بڑا حصہ شرک اور مشرک کی شناخت سے مربوط ہوتا ہے بت کسے کہتے ہیں اور کون بت پرست ہے علامہ مجلسی نے بہار الانوار کی 48 جلد میں بڑی اچھی بات کہی ہے قرآن میں شرک کے حوالے سے جو آیتیں آئی ہیں وہ بظاہر ظاہری بتوں سے مربوط ہیں لیکن باطن میں اگر تاویل کی جائے تو ان کے مصداق ظالم خلفاء ہیں جنہوں نے خلافت کے نام پر حکومت اسلامی کے دعوے اور اسلامی معاشرے پر حاکمیت میں خود کو ائمہ اطہار علیہ السلام کا شریک قرار دے دیا ہے جبکہ ائمہ حق کے ساتھ یہ شرک خدا کے ساتھ شرک کے مترادف ہے کیونکہ ائمہ حق خدا کے نمائندے ہیں ان کے دہان میں خدا کی زبان ہوتی ہے وہ خدا کی باتیں کرتے ہیں اور چونکہ ظالم خلفاء نے ان کی جگہ بیٹھ کر دعوائے امامت میں خود کو ان کا شریک دیا ہے لہٰذا وہ سب طاغوتی بت ہیں اور جو شخص ان کی اطاعت اور پیروی کرے دراصل وہ مشرک ہے علامہ مجلسی رحمت اللہ علیہ نے اس کے بعد مزید وضاحت کی ہے چنانچہ یہ بیان کرتے ہوئے کہ قرآنی آیات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ہر عصر اور ہر دور کے لیے ہیں یہ شرک کی تعبیر ان قوموں پر بھی صادق آتی ہے جنہوں نے ائمہ حق کی اطاعت چھوڑ دی ہے اور آئمہ جور سے الحاق اور ان کی پیروی کر لی ہے کیونکہ ان لوگوں نے ان عقلی اور نقلی

دلائل سے جو مثال کے طور پر عبد الملک کی مسلمانوں پر حکومت و خلافت کی نفی کرتی ہیں منہ موڑ لیا اور اپنی ہوا و ہوس کی پیروی شروع کر دی اور روشن اور واضح نصوص کو ٹھکرا دیا لوگوں نے دیکھا کہ حکام وقت سے ٹکر لینے کے نسبت یہ زندگی آرام دہ بھی ہے اور ہر طرح کی تکلیف سے خالی بھی لہٰذا اسی راحت طلبی میں لگ گئے اور ان ظالم حکمرانوں کی پیروی کر لی لہٰذا وہ بھی مشرک قرار پاتے ہیں ان حالات میں اگر ائمہ اطہار علیہ السلام شرک کے بارے میں کچھ بیان کرنا چاہیں تو یہ دربار خلافت سے ایک طرح کا مقابلہ شمار ہوگا اور یہ بات امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی اور آپ کے کلمات میں موجود ہے اس مخالفت کا ایک اور نمونہ ہم امام اور اس جابر اور مقتدر خلیفہ عبدالملک کے درمیان ہونے والی بعض خط و کتابت میں دیکھتے ہیں جس کے دو روشن نمونوں کی طرف یہاں اشارہ مقصود ہے۔

ایک ایک دفعہ عبدالملک بن مروان نے امام زین العابدین علیہ السلام کو خط لکھا اور اس میں آپ کو ایک آزاد کردہ کنیز کے ساتھ عقد کر لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا اصل میں آپ کے پاس ایک کنیز تھی جس کو آپ نے پہلے آزاد کر دیا پھر اس سے نکاح کر لیا عبدالملک نے خط لکھ کر امام کے اس عمل پر سخت تنقید کی ظاہر ہے امام کا عمل نہ صرف انسانی بلکہ ہر اعتبار سے اسلامی تھا کیونکہ ایک کنیز کو کنیزی کی زنجیر سے آزادی دینا اور پھر عزت و شرافت کا تاج پہنا کر اس کو رشتہ ازدواج میں منسلک کر لینا یقیناً انسانیت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا اگرچہ عبدالملک کے خط لکھنے کا مقصد کچھ اور تھا وہ امام کے اس مستحسن عمل کو تنقید کا نشانہ بنا کر آپ کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ ہم آپ کے داخلی مسائل سے بھی آگاہی رکھتے ہیں گویا اس خط کی آڑ میں آپ کو آپ کی ذاتی سرگرمیوں کے سلسلے میں متنبہ کرنا تھا۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے جواب میں ایک خط تحریر فرمایا جس میں لکھتے ہیں یہ عمل کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں قرار دیا جا سکتا بزرگوں نے بھی اس طرح کا عمل انجام دیا ہے حتیٰ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں بھی اسی طرح کا عمل ملتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں میرے اوپر کوئی تنقید نہیں کی جا سکتی ایک مسلمان کے لیے کسی طرح کی ذلت و خواری نہیں ہوئی ذلت و پستی تو صرف جہالت کی ہوتی ہے بحار الانوار جلد چہالیس صفحہ ایک سو پانچ عبدالملک کے لیے اس جملے میں بڑا ہی لطیف طنز اور نصیحت مضمر ہے کتنے حسین انداز میں اسے اس کے آبا و اجداد کی حقیقت کی طرف متوجہ کر دیا گیا ہے کہ یہ تم ہو جس کا خاندان جاہل و مشرک اور دشمن خدا رہا ہے اور جن کی خصوصیات تم کو وراثت میں ملی ہیں اگر شرم ہی کی بات ہے تو تم کو اپنی اصلیت پر شرم کرنی چاہیے میں نے تو ایک مسلمان عورت سے شادی کی ہے اس میں شرم کی کیا

بات ہے یہ خط عبدالملک کو ملا تو عبدالملک کا دوسرا بیٹا سلیمان اس کے پاس موجود تھا خط پڑھا گیا تو اس نے بھی سنا اور امام کی طنز آمیز نصیحت کو باپ کی طرح اس نے بھی محسوس کیا وہ باپ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے امیر المومنین دیکھا علی ابن الحسین علیہ السلام نے آپ پر کس طرح فخر کا اظہار کیا ہے وہ اس خط میں آپ کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا تو تمام مومن اور موحد رہے ہیں اور تیرے باپ دادا کافر اور مشرک رہے ہیں سلمان باپ کو بھڑکانا چاہتا تھا تاکہ اس خط کے سلسلے میں عبد الملک کوئی سخت اقدام کرے لیکن عبد الملک بیٹے سے زیادہ سمجھ دار تھا وہ جانتا تھا کہ اس نازک مسئلے میں امام زین العابدین علیہ السلام سے درست نہیں لہٰذا اس نے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا میرے بیٹے کچھ نہ کہو تم نہیں جانتے یہ بنی ہاشم کی زبان ہے جو پتھروں میں شگاف ڈال دیتی ہے یعنی ان کا دو دوسرا نمونہ امام زین العابدین کا ایک دوسرا خط ہے جو عبد الملک کی ایک فرمائش رد کرنے پر اس کے جانب سے ایک دھمکی آمیز خط کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا واقعہ کچھ یوں ہے جب عبد الملک کو معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار امام زین العابدین کی تحویل میں ہے اور یہ ایک قابل توجہ چیز تھی

کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یادگار اور فخر کا ذریعہ تھی اور اب اس کا امام زین العابدین علیہ السلام کی تحویل میں چھوڑ دینا عبد الملک کے لیے خطرناک تھا کیونکہ یہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ لہٰذا اس نے امام زین العابدین کو ایک خط لکھا اس میں درخواست کی کہ یہ تلوار اس کے حوالے کر دیں اور یہ بھی تحریر کیا کہ اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام ہو تو میں حاضر ہوں مطلب یہ تھا آپ کو اس تلوار کا عوض دینے کو بھی میں تیار ہوں امام زین العابدین علیہ السلام کا جواب انکار میں تھا لہٰذا دوبارہ اس نے ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ اگر تلوار نہ بھیجی گئی تو میں بیت المال سے آپ کا وظیفہ بند کر دوں گا۔

اس زمانے میں تمام لوگوں کو بیت المال سے حصہ ملتا تھا۔ امام بھی دوسرے لوگوں کی طرح اپنا حصہ لیتے تھے مؤلف امام اعلی مقام علیہ السلام نے اس دھمکی کے جواب میں تحریر فرمایا اما بعد خداوند عالم نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ اپنے پرہیزگار بندوں کو ناگوار چیزوں سے نجات عطا کرے گا اور ایسی جگہ سے روزی دے گا جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے اور قرآن میں ارشاد اقدس الہی ہے ان اللہ لا یحب کل خوان کفور یقینا خدا کسی ناشکرے خیانتکار کو دوست نہیں رکھتا سورہ حج آیت 38 تم دیکھو یہ آیت ہم دونوں میں سے کس پر منطبق ہوتی ہے۔

ایک خلیفہ وقت کے مقابلے میں یہ لہجہ بہت زیادہ سخت تھا کیونکہ یہ خط کسی کے ہاتھ لگے وہ خود فیصلہ کر لے گا کہ امام خود کو خائن اور ناشکرا نہیں سمجھتے اور کوئی دوسرا بھی اس عظیم ہستی کے بارے میں ایسا رقیق تصور نہیں رکھتا کیونکہ آپ کا شمار خاندانِ نبوت کے منتخب اور شائستہ ترین افراد میں ہوتا تھا اور ہرگز اس آیت کے مستحق نہیں قرار دیے جا سکتے چنانچہ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ امام زین العابدین کے نظر میں عبد الملک خائن اور ناشکرا ہے دیکھئے کس شدید انداز میں امام زین العابدین علیہ السلام عبد الملک کی دھمکی کا جواب دیتے ہیں۔

اس سے آپ کے فیصلہ کن کردار کی حدود کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے بہر حال یہ اموی سرکار کی نسبت امام کی مزاحمت آمیز طرز عمل کی دو روشن مثالیں تھیں تین اگر اس میں مزید کسی نمونے کا اضافہ کرنا چاہیں تو وہ اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں جو خود امام زین العابدین علیہ السلام یا آپ کے دوستوں سے نقل ہوئے ہیں یہ بھی حکومت کی مخالفت کے اظہار کا انداز ہے کیونکہ اگر ہم یہ مان بھی لیں خود امام نے خلیفہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا تب بھی آپ کے قریبی افراد ان پر معترض رہے ہیں اور یہ خود ایک طرح سے امام کی مزاحمت میں شمار کیا جائے گا چند اشعار تو خود امام زین العابدین کے ہیں جو بہت ہی انقلابی ہیں فرزدق کے اشعار بھی ایک نمونہ ہیں فرزدق کے واقعے کو مورخین اور محدسین دونوں نے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہشام یعنی خلیفہ عبد الملک کا بیٹا اپنے دور خلافت سے قبل مکہ گیا طواف کے دوران وہ حجر اسود کو بوسہ دینا چاہتا تھا کیونکہ طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینا مستحب ہے۔

لیکن حجر اسود کے قریب مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے ہزار کوششوں کے باوجود وہ حجر اسود کے قریب نہ جا سکا حالانکہ وہ خلیفہِ وقت کا فرزند ولی عہد رفیقوں اور محافظوں کے ایک دستے کے ہمراہ حکومتی انتظام کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ پھر بھی لوگوں نے اس کی حیثیت اور شاہی کر و فر کی پرواہ کیے بغیر اس کو موقع نہ دیا۔ یہ ناز و نعم کا پروردہ ان افراد میں سے تو تھا نہیں کہ انسانوں کے ہجوم میں دھکے کھاتا ہوا حجر اسود کو بوسہ دے سکیں۔ چنانچہ حجر اسود کے استلام سے مایوس ہو کر مسجد الحرام میں ایک بلند جگہ بیٹھ گیا اور وہیں بیٹھ کر مجمع کا تماشا دیکھنے لگا اس کے ارد گرد بھی کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔

اسی دوران ایک شخص وقار ومتانت کا مرقع ملکوتی زخد ورا کے ساتھ طواف کرنے والوں کے درمیان ظاہر ہوا اور حجر اسود کی طرف قدم بڑھانے لگا مجمع نے اس کو راستہ دے دیا اور کسی قسم کی زحمت کے بغیر اس نے اطمینان سے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر واپس طواف میں مشغول ہو گیا۔ یہ منظر ہشام بن عبد الملک کے لیے نہایت ہی حیران کن تھا۔ وہ خلیفہ وقت کا فرزند ارجمند اور کوئی اس کے احترام کا قائل نہیں اس کو مجمع کے مکے اور دھکے کھا کر واپس ہونا پڑتا ہے استلام کرنے کے لیے اس کو راستہ نہیں ملتا دوسری طرف ایک شخص آتا ہے جو بڑے سکون اور اطمینان کے ساتھ حجر اسود کو بوسہ دیتا ہے آتشِ حسد سے لال پیلا ہو کر وہ سوال کر بیٹھتا ہے یہ کون شخص ہے اردگرد بیٹھے ہوئے افراد حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔

لیکن صرف اس لئے خاموش ہیں کہ کہیں ہشام کے دل میں ان کی طرف سے کوئی ایسی ویسی بات نہ بیٹھ جائے کیونکہ ہشام کے خاندان کے ساتھ امام زین العابدین کے خاندان کا اختلاف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا ہمیشہ بنو امیہ اور بنی ہاشم کے درمیان اختلاف کی آگ روشن رہی ہے۔ وہ یہ کہنے کی جرات نہ کر سکے کہ یہ شخص تیرے دشمن خاندان کا سردار ہے جس کے لیے لوگ اس قدر عقیدت و احترام کے قائل ہیں ظاہر ہے یہ بات ایک طرح سے ہشام کی اہانت شمار ہوتی مشہور شاعر فرزدق جو اہل بیت علیہم السلام سے خلوص و محبت رکھتے تھے وہیں موجود تھے۔

انہوں نے جب محسوس کیا کہ لوگ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم علی ابن الحسین علیہ السلام کو نہیں پہچانتے آگے بڑھے اور آواز دی اے امیر اگر اجازت ہو تو میں اس شخص کا تعارف کرا دوں ہشام نے کہا ہاں بتاؤ تو صحیح یہ کون ہیں؟

یہ سن کر فرزدق نے وہیں برجستہ قصیدہ پڑھنا شروع کر دیا جس کا شمار اہل بیت علیہم السلام کی شان میں لکھے گئے قصائد میں سے معروف ترین قصیدوں میں ہوتا ہے اور یہ شروع سے آخر تک امام زین العابدین علیہ السلام کی شاندار مدح سے مامور ہے مطلع یوں شروع ہوتا ہے یہ وہ ہیں کہ سر زمینِ بطحا مکہ کی ہموار اور کشادہ زمینیں جہاں سے سیلاب گزرتا تھا اس کے قدموں کا نشان خوب پہچانتی ہیں۔ یہ وہ ہیں کہ حل حرم وہ مقدس دیوار جو خانہ کعبہ کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے اسے حرم کہتے ہیں اور اس دیوار سے باہر کے حصے کو حل کہتے ہیں جنہیں پہچانتے ہیں اور پھر یہ وہ ہیں کہ زمزم و صفا جنہیں پہچانتے ہیں یہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند ہیں۔

یہ بہترین انسان کے فرزند ہیں مدح کے موتی لٹانے پر آئے تو ایک ہی قصیدے میں اس طرح امام کے خصوصیات کا ذکر شروع کر دیا کہ ہر ہر مصرع ہشام کے سینے میں خنجر کی طرح چبھتا چلا گیا۔ اس کے بعد فرزدق کو ہشام کے غضب کا نشانہ بھی بننا پڑا ہشام نے انہیں اپنی بزم سے نکال باہر کیا۔ لیکن امام زین العابدین علیہ السلام نے ان کیلئے انعام کی تھیلی بھیجی جس کو فرزدق نے معذرت کے ساتھ واپس کر دیا اور کہلا بھیجا کہ میں نے یہ اشعار خدا کی خوشنودی کے لیے کہے ہیں۔ آپ سے پیسہ لینے کے لیے نہیں اس طرح کا انداز مزاحمت امام کے اصحاب کے یہاں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جس کا ایک اور نمونہ یحییٰ بن عمرو الطویل کا طرز عمل ہے البتہ یہ ذکر شعر و شاعری کے ضمن میں نہیں آتا یحییٰ بن عمرو الطویل کا شمار اہل بیت سے وابستہ نہایت ہی مخلص اور بہادر جوانوں میں ہوتا ہے جس کا معمول یہ ہے کہ وہ کوفہ جاتا ہے لوگوں کو جمع کرتا ہے اور آواز دیتا ہے

اے لوگوں مخاطب حکومت بنی امیہ کے آگے پیچھے بھاگنے والے افراد ہیں۔ ہم تمہارے اور تمہارے آقاؤں کے منکر ہیں۔ جب تک تم لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے ہم تمہیں قبول نہیں کرتے اس گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو مشرک سمجھتا ہے اور ان کو کافر و مشرک کے الفاظ سے خطاب کرتا ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی درباری علماء پر تنقید امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات اور طرز حیات کا جائزہ لیتے ہوئے ہم اپنی بحث کے اس موڑ پر آ پہنچے ہیں جہاں ایک ایسی عظیم اسلامی تحریک کی بنیاد رکھنے کے لئے زمین ہموار ہو چکی ہے جس کا علوی اور اسلامی حکومت پر منتج ہونا ممکن نظر آنے لگا ہے اس صورت حال کو مختصر طور پر ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ امام کی روش کچھ لوگوں کے لیے معارف اسلامی بیان و وضاحت کچھ لوگوں کے لیے خود کو منظم کرنے کی تلقین اور کچھ افراد کے لیے عمل کی راہیں معین و مشخص کرنے کا ذریعہ تھی

یعنی اب تک کے معروضات کی روشنی میں امام زین العابدین علیہ السلام کی تصویر کا جو خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے اس کے مطابق آپ تیس پینتیس سال اس کوشش میں گزار دیتے ہیں کہ عالمِ اسلام کے شدید برگشتہ ماحول کو ایک ایسی سمت لے جائیں کہ خود آپ کے لیے یا آپ کے جانشینوں کے لیے اس بنیادی جد و جہد اور فعالیت کے لیے موقع فراہم ہو سکے جس کے تحت ایک اسلامی معاشرہ اور اور الہی حکومت قائم ہو سکے چنانچہ اگر امام زین العابدین علیہ السلام کی پینتیس سالہ کوشش کو ائمہ اطہار علیہم السلام کی زندگی سے جدا کر لیا جائے تو ہرگز ایسی صورتحال تصور نہیں کی جا سکتی جس کے نتیجے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو پہلے بنی امیہ اور پھر بنو عباس کی حکومتوں کے خلاف اتنی واضح پالیسی اپنانے کا موقع ہاتھ آیا ایک اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لیے فکری اور ذہنی طور پر زمین ہموار کرنا تمام چیزوں سے زیادہ ضروری ہے اور یہ ذہنی و فکری آمادگی اس وقت کے ماحول اور حالات میں جس سے عالم اسلام دو چار تھا وہ کام تھا جو یقیناً ایک طویل مدت کا طالب ہے اور اس کام کو امام زین العابدین علیہ السلام نے تمام تر زحمتوں مشکلوں اور مصیبتوں کے باوجود اپنے ذمہ لیا تھا اس عظیم ذمہ داری کے ساتھ ساتھ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی میں ایک اور تلاش جستجو جلوہ گر نظر آتی ہے جو در اصل گزشتہ اماموں کی تیار کردہ زمین کو مزید ہموار کرنے کی طرف آپ

کے ایک اور اقدام کی مظہر ہے اس طرح کی کوششوں کا ایک بڑا حصہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے اور بعض اوقات بے حد سخت صورت اختیار کر لیتا ہے اس کا ایک نمونہ امام کا حکومت وقت سے وابستہ اور ان کے درباری محدثوں پر کڑی تنقید ہے موجودہ بحث میں اسی نکتے پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ائمہ طاہرین علیہ السلام کی زندگی کی ولولہ انگیز بحثوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرے کی فکر اور ثقافت کو اجاگر کرنے والے افراد یعنی علماء یہاں علماء سے ہماری مراد اس زمانے کے علماء دین ہیں جن میں محدثین مفسرین قرآ قاضی صاحبان اور صوفی سب ہی شامل ہیں مؤلف یا شعراء کے ساتھ ان بزرگواروں کا برتاؤ کیسا رہا ہے اصل میں عوام کی فکری اور ذہنی تربیت اور رہبری انہی لوگوں کے ہاتھوں میں تھی خلفائے بنی امیہ و بنی عباس معاشرے کو جس رخ پر لے جانا چاہتے تھے یہ عوام کو اسی راہ پر لگا دیتے تھے گویا خلفا کی اطاعت اور تسلیم کا ماحول پیدا کرنا ان لوگوں کا کام تھا چنانچہ ایسے افراد کے ساتھ کس طرح کی روش اور طرز اپنایا جائے دیگر ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی طرح امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا بھی ایک بہت اہم اور قابل توجہ پہلو یہی ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ظالم خلفا کے سامنے دل سے اسلام کا عقیدہ رکھنے والوں پر حکومت قائم رکھنے کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا کہ وہ جو کچھ بھی کریں اس کی طرف لوگوں کے

قلبی ایمان کو جذب کریں کیونکہ اس وقت صدر اسلام کا زمانہ گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا لوگوں کے دلوں میں اسلام کا عقیدہ اور ایمان باقی تھا اگر لوگوں کو یقین ہو جاتا کہ یہ جو ظالم کی انہوں نے بیعت کر رکھی ہے درست نہیں ہے یا یہ خلیفہ رسول اللہ کی خلافت کا لائق نہیں ہے تو یقینا خود ان کے حوالے نہ کرتے اور اگر یہ حسن ظن ہم سب کے متعلق قبول نہ کریں تب بھی اسلامی معاشرے میں یقینا ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے تھے جو پورے ایمان قلبی کے ساتھ خلفاء کے دربار کی غیر اسلامی صورت حال کو برداشت کر رہے تھے یعنی ان کا خیال تھا کہ یہی اسلامی حکومت اور اس کا طرز حکومت ہے یہی وجہ تھی کہ خلفائے جور نے اپنے دور میں زیادہ سے زیادہ دینی علما اور محدثین کے خدمات سے استفادہ کیا اور ان لوگوں کو آمادہ کیا اور پھر ان سے اپنی مرضی کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بزرگ اصحاب سے جعلی حدیثیں روایتیں تیار کروائیں اس سلسلے میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جو انسان کو لرزہ دیتی ہیں نمونے کے طور پر ہم یہ حدیث نقل کرتے ہیں۔

ڈھائی سو سالہ انسان