حصہ 4 از 4
رسولِ خداؐ
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
یہاں تک کہ اپنے دشمنوں اور کفار مکہ کے ساتھ بھی جو وعدے کیے انہیں نہیں توڑا یہی وجہ ہے کہ سب لوگ جانتے تھے کہ اگر اس شخص کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا جائے تو اس پر عملدرآمد ضرور ہوگا دوسری طرف آپ نے اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہونے دیا بلکہ آپ ہر دن اپنے رب کے ساتھ اپنے رابطے کو مضبوط اور مستحکم کرتے رہے یہاں تک کہ میدانِ جنگ کے عین وسط میں جب آپ اپنے سپاہیوں کو جنگی ہدایات دیتے اور انھیں جنگ کے لیے تیار کرتے تھے اور خود بھی اپنے ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے سپاہیوں کو ہدایت دے رہے ہوتے تھے تو اچانک زانوؤں کے بل زمین پر بیٹھ جاتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر چہرۂ اقدس کا رخ آسمان کی طرف کر کے آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے اپنے پروردگار کے حضور گڑگڑا گڑگڑا کر یوں دعا مانگتے تھے اے میرے پروردگار ہماری مدد فرما اے میرے اللہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں کامیابی عطا فرما یعنی نہ تو آپ کا اپنے پروردگار کے حضور گڑگڑانا اس بات کا سبب بنتا کہ آپ افرادی طاقت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے اور نہ یہ افرادی قوت پروردگار کے حضور گریہ و زاری میں رکاوٹ بنتی تھی
بلکہ بیک وقت آپ کی توجہ دونوں امور پر مرکوز ہوتی تھی۔ آپ کبھی دشمن سے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے امیر المومنین امام علی علیہ السلام جو خود بھی بے مثال شجاعت اور بہادری کے عظیم مظہر تھے فرماتے ہیں کہ دوران جنگ جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی یا ہم دباؤ کا شکار ہوتے تو آپ کے دامن میں پناہ لیتے تھے یعنی جب کوئی کسی مشکل میں پھنس جاتا تو آپ ہی کے دامنِ عافیت میں پناہ لیتا تھا حضورؐ نے دس سال حکومت کی ان دس برسوں میں آپ نے جو کام انجام دیا۔ اگر انتہائی تیز ترین کام کرنے والے ایک گروہ کے حوالے کیا جائے تو وہ سیکڑوں سالوں میں بھی اتنا کام نہیں کر سکتا جتنا کام آپ نے ان دس برسوں کے دوران تنہا انجام دیا آج کے دور میں اگر ہم اپنی عمر کا رسولؐ کے کاموں کے ساتھ موازنہ کریں تو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے کیا کارنامے انجام دیے۔
ایک ایسی حکومت کی سربراہی، ایک ایسے معاشرے کی تشکیل یعنی ایک ایسے رول ماڈل کو وجود میں لانا جو بذاتِ خود آپ کے معجزات میں سے ہے دس برس تک لوگوں نے شب و روز آپ کے ساتھ زندگی گزاری ہے لوگ آپ کے گھر پر جاتے تھے اور آپ بھی لوگوں کے گھر تشریف لے جاتے تھے مسجد میں ساتھ ساتھ ہوتے تھے راستے میں ایک ساتھ چلتے تھے۔ ایک ساتھ سفر پر جایا کرتے تھے، ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ ایک ساتھ بھوک اور پیاس کی تکلیفیں جھیلتے تھے۔ ایک ساتھ غمی خوشی مناتے تھے۔ آپ لوگوں کے ساتھ مذاق بھی کیا کرتے تھے لوگوں کے درمیان کھیلوں کے مقابلے رکھتے تھے اور خود بھی ان مقابلوں میں شریک ہوتے تھے جن لوگوں نے دس برس تک آپ کے ساتھ زندگی گزاری تھی ان کے دلوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کی محبت میں اضافہ اور آپ پر اعتقاد بڑھتا جاتا تھا فتح مکہ کے دوران جب ابو سفیان حضرت عباس حضورؐ کے چچا کی مدد سے خفیہ طور پر آپ کی خدمت میں پہنچا تاکہ امان حاصل کر سکے تو اس وقت آپ وضو کر رہے تھے
جبکہ صحابہ کرام آپ کے ارد گرد جمع تھے تاکہ آپ کے وضو کے پانی کو گرنے سے پہلے ہاتھوں میں لینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے سکیں۔ یہ دیکھ کر ابو سفیان نے کہا میں نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو دیکھا ہے۔ لیکن کسی کی بھی اتنی عزت میں نے نہیں دیکھی جی ہاں معنوی عزت ہی حقیقی عزت ہوا کرتی ہے وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ ساری عزت تو اللہ، رسول اور صاحبانِ ایمان کے لیے ہے سورۂ منافقون آیت 8 مومنین بھی اگر اسی راہ پر چلیں تو عزت پا سکتے ہیں اسلامی نظام کا استحکام غدیر کا واقعہ انتہائی اہم اور تاریخِ اسلام کا ایک سنہرا باب ہے۔
اس واقعے کا دو پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک پہلو کا تعلق اہلِ تشیعوں سے ہے جبکہ دوسرے پہلو کا تعلق تمام اسلامی فرقوں سے ہے۔ لہٰذا اس دوسرے پہلو کی روشنی میں تمام مسلمانوں کے دلوں میں اس احساس کا جاگنا ضروری ہے کہ عیدِ غدیر جو اس عظیم واقعے کی یاد دلاتی ہے کا تعلق صرف اہلِ تشیعوں سے نہیں ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس واقعے کا ایک پہلو اہلِ تشیعوں سے مخصوص ہے کیونکہ ان اہلِ تشیعوں کے عقیدے کے مطابق اس واقعے میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے توسط سے منصب امامت و خلافت پر فائز ہوئے اور اسی روز اسی واقعے کے دوران جب لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول یہ آپ کا اعلان ہے یا اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ہے تو آپ نے فرمایا مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ تفسیر طبری جلد ایک صفحہ 82 یعنی یہ حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول دونوں کی طرف سے ہے۔
لہٰذا اس لحاظ سے اہلِ تشیع اس واقعے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق حضرت علی کی خلافت بلا فصل پر یہ سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس واقعے کے استدلال اور استنباط پر تاریخ اسلام میں اب تک بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ لہٰذا جس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہوں اور ہزاروں مطالب بیان کیے گئے ہوں۔ ان میں مزید کسی چیز کا اضافہ کرنا نہیں چاہتا لیکن اس واقعے کا دوسرا پہلو جس کی اہمیت کسی لحاظ سے اس کے پہلے رخ سے کم نہیں جس کا تعلق شیعہ اور سنی دونوں فرقوں سے ہے میں اسے قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں واقعہ کچھ یوں ہے کہ 10 ہجری کو رسولِ اکرم حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے آپ کے ہمراہ مدینہ منورہ اور جزیرۃ العرب کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔
اس سفر حج بیت اللہ کے دوران حضورِ اکرم مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے لے کر سیاسی امور، جنگی معاملات اخلاقی، اعتقادی اور دیگر مسائل سے روشناس کراتے رہے اس موقع پر آپ سے منیٰ میں دو خطبے نقل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک خطبہ آپ نے دس ذی الحجہ، عید الاضحیٰ یا ان ہی دنوں میں دیا جبکہ دوسرا خطبہ ایامِ تشریق کے آخر میں دیا ہے واضح کرنا، میری طرف توجہ کرنا ایامِ تشریق ذی الحجہ کی 11 اور 13 تاریخ کو کہتے ہیں جنہیں قرآنِ مجید نے ایامِ معدودات کے نام سے یاد کیا ہے سورۂ بقرہ آیت 203 میں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں خطبے الگ الگ ہیں، ایک نہیں ہیں۔
ان دونوں خطبات میں آپ نے تقریباً ان تمام اہم مطالب کو بیان فرمایا ہے جن پر مسلمانوں کو توجہ دینا بہت ضروری ہے ان میں سے زیادہ تر مسائل کا تعلق سیاسی امور سے ہے۔ یہاں سے انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ عالمِ اسلام میں آج بھی جو لوگ حج کو سیاسی معاملات سے الگ سمجھتے ہوئے اسے صرف نمازوں اور دعاؤں پر مشتمل ایک عام عبادت سمجھتے ہیں۔ وہ کس قدر اسلامی تعلیمات اور حضورِ اکرم کی سیرتِ طیبہ سے لاعلم ہیں حضورِ اکرم نے اپنے ان خطابات میں جن امور کی نشاندہی کی ہے وہ فریقین کی کتابوں میں موجود ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ نے جہاد کے بارے میں گفتگو فرمائی اور کفار و مشرکین کے ساتھ جہاد کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ جہاد کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا۔
جب تک پوری دنیا میں کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کی آواز نہیں گونجتی اس کے بعد حضورِ اکرم نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انھیں آپس میں لڑنے جھگڑنے سے منع فرمایا۔ آپ نے زمانہ جاہلیت کے امتیازات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اسلام کی نظر میں ان امتیازات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا آگاہ ہو جاؤ زمانہ جاہلیت کی تمام قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں یعنی آپ نے زمانہ جاہلیت کے تمام امتیازات اور قدروں کی کلی طور پر نفی فرمائی آپس کے لین دین کے حوالے سے زمانہ جاہلیت کے جو قوانین مسلمانوں کے درمیان اب تک رائج تھے مثلاً اگر کوئی شخص کسی کو قرض دیتا تھا تو بعد میں اسے سود سمیت وصول کرتا تھا۔
آپ نے اس قانون کو ختم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سب سے پہلے میں اپنے سود کو ختم کر رہا ہوں سب سے پہلے میں اپنے سود کو جسے میرے چچا عباس نے مجھے دینا ہے۔ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں آپ سے قرض لیا تھا اور متعدد لوگوں کے سامنے اس کا اقرار بھی کیا تھا میں اسے فسخ کر دیتا ہوں۔
آپ نے اسلام کی نظر میں تقویٰ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے کسی شخص کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے أئمۃ المسلمین یعنی مسلمانوں کے پیشواؤں اور رہنماؤں کا دینی اور سیاسی مسائل میں دلچسپی لینا اور ان کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے ایک واجب عمل قرار دینا اور یہ اعلان کہ یہ تمام مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی مملکت کے حکمرانوں کو اپنے نیک مشوروں سے آگاہ کرتے رہیں آپ نے ان خطبات میں عالمِ اسلام کو درپیش اہم سیاسی اور اجتماعی مسائل بیان کیے اور ان ہی میں ایک حدیث ثقلین بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔
وہ گرانقدر چیزیں اللہ کی کتاب قرآنِ مجید اور میری عترت اہلِ بیت ہیں۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیوں کو آپس میں ملاتے ہوئے فرمایا۔ وہ دونوں یعنی قرآن و عترت ان کی طرح ہیں یعنی جس طرح دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیوں میں کوئی فرق نہیں اسی طرح قرآن و عترت میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے ہاتھ اٹھا کر شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو آپس میں ملاتے ہوئے فرمایا۔ یہ دونوں ان انگلیوں کی طرح نہیں کہ جن میں سے ایک بڑی اور دوسری چھوٹی ہے۔ پس تم ان سے متمسک رہو آپ نے عترت کی اہمیت بیان کی اور فریضۂ حج کی انجام دہی کے فوراً بعد مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے دورانِ سفر غدیر نامی ایک چوراہے پر رک گئے جہاں سے مدینہ منورہ اور یمن کا راستہ جدا ہوتا ہے راویوں نے لکھا ہے کہ اس وقت موسم اتنا گرم تھا کہ اگر گوشت کا کوئی ٹکڑا زمین پر رکھ دیا جاتا تو کباب بن جاتا ایک ایسی کیفیت میں حضور اکرم ایک اونچی جگہ پر تشریف فرما ہو جاتے ہیں
تاکہ تمام لوگ آہستہ آہستہ جمع ہو سکیں اور جب آپ نے دیکھا کہ تمام لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جس جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے الکافی جلد ایک صفحہ 420 کا اعلان کیا اور امیر المومنین امام علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا بلند کیا کہ سارے لوگ دیکھ سکیں متعدد روایات میں ہے کہ رسول اکرم نے حضرت علی کے ہاتھ کو اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغل کی سفیدی نظر آنے لگی اس واقعے کا دوسرا پہلو جو میرے پیش نظر ہے اس کا تعلق بین الاقوامی اسلامی اور بین الفرق اسلامی ہے جو صرف اہل تشیع سے مخصوص نہیں وہ یہ ہے کہ فرض کیجئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس اعلان میں جو کہ یقینا ہوا تھا اور یہ جملہ آپ کی زبان مبارک سے جاری ہوا تھا صرف حضرت علی کی خلافت بلا فصل کا اعلان کیا ہے تب بھی کم از کم اتنا تو ثابت ہے کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو امیر المومنین امام علی اور اپنی عترت طاہرہ کے ساتھ دوستی اور محبت کا حکم دیا ہے۔
اس لیے آپ نے عترت طاہرہ کو قرآن مجید کے ساتھ قرار دیا ہے۔ آپ اپنے منیٰ کے خطبے میں اور حدیث ثقلین میں بھی حدیث ثقلین کو حضور اکرم نے متعدد بار بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح حدیث غدیر اور واقعۂ غدیر میں امیر المومنین امام علی کی شخصیت کا تعارف کراتے ہیں۔ اس تاکید کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ مسلمان اہل بیت کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھیں کیونکہ ہر زمانے میں انسانوں کو ایک کامل نمونے کی ضرورت ہے۔ اس لیے آپ چاہتے تھے کہ دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے آئندہ آنے والی نسل اور تمام مسلمانوں کے سامنے ایک انسانِ کامل کو مجسم صورت میں لوگوں کے سپرد کر جائیں تاکہ لوگوں سے یہ کہہ سکیں کہ اسلامی تربیت کے لیے ان کی طرف رجوع کرنا چاہیے یعنی ایک مسلمان کو چاہیے کہ ایسی شخصیت کو اپنے لیے نمونۂ عمل قرار دے جس کی طہارت اور پاکیزگی، جس کا علم، زہد و تقویٰ، جس کے نیک اعمال، جس کی عبادت مسلمانوں کو درپیش مسائل سے جس کی آگاہی، جس کی قربانیاں جس کی شجاعت اور بہادری کے بے مثال کارنامے اور اسی طرح اسلام کی خاطر اپنی جان پر کھیلنے کا عملی اظہار سب کے سامنے واضح ہو یعنی آپ امیر المومنین کا ایک رول ماڈل اور نمونے کے طور پر مسلمانوں کے سامنے تعارف کراتے ہیں۔
وہ مسلمان چاہے اس دور کے ہوں یا آئندہ آنے والے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ امیر المومنین امام علی کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھیں اب ہوا یہ کہ پیغمبر اکرم کے بعد عملی طور پر امیر المومنین امام علی خلیفہ بلا فصل نہیں بن سکے بلکہ رسول اللہ کی وفات کے 25 سال بعد آپ خلیفہ بنے پھر بھی آپ خلیفہ بن تو گئے، یعنی آپ کا مقام امامت ثابت ہو کر رہا آخرکار تمام مسلمانوں نے آپ کو اپنا حاکم اور پیشوا تسلیم کر ہی لیا آپ کی یہی خصوصیت، یہی تعلق کہ جسے تمام مسلمان اپنا حاکم و سربراہ اور خلیفہ رسول مانتے ہیں ہاں البتہ بعض لوگ آپ کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں جبکہ بعض لوگ 25 سال بعد خلیفہ تسلیم کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی شخصیت ہے کہ جسے تمام مسلمان جانشین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مانتے ہوں۔
اس کو تمام مسلمانوں کے لیے ایک کامل نمونہ اور رول ماڈل کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ اور باقی رہنا چاہیے۔ اسی طرح اس کے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان رابطے اور تعلقات بھی ہمیشہ قائم و دائم رہنے اور فکری، روحانی اور نظریاتی تعلقات کا تسلسل بھی قائم رہنا چاہیے۔ پس اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو امیر المومنین امام علی کا تعلق صرف اہل تشیعوں سے نہیں بلکہ آپ کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے۔ اسی طرح صرف امیر المومنین امام علی علیہ السلام ہی نہیں بلکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سارے اہل بیت اور ائمۃ المعصومین علیہم السلام جو امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی اولاد ہیں سب عترت رسول اکرم ہونے کے ناطے تمام مسلمانوں کے لیے انسانِ کامل کی حیثیت سے نمونۂ عمل ہیں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے قرآن مجید اور اہل بیت علیہم السلام کے باہمی تعلق کو بیان فرما کر درحقیقت تحریف قرآن کے مسئلے سے بھی لوگوں کو آگاہ کر دیا ہے کیونکہ جس معاشرے میں حکومتی اہلکار اپنی طاقت اور دولت کے بل بوتے پر اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات اور قرآنی مفاہیم میں رد و بدل کرتے ہیں
مسلمانوں کو گمراہ اور مسلمانوں کو صحیح اسلامی احکامات اور تعلیمات سیکھنے اور سمجھنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں وہاں مسلمانوں کو حقیقت سے باخبر رکھنے کے لیے ایک مرجع اور مرکز کا ہونا ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ تاکہ لوگوں کو گمراہی سے بچایا جا سکے اور یہی مرجع اور مرکز اہل بیت علیہم السلام ہی ہیں اور یہ وہ بات ہے کہ جسے دنیا کو آج سمجھنے کی ضرورت ہے آج تمام مسلمان اس بات کے محتاج ہیں کہ وہ اسلامی معارف کو اہل بیت علیہم السلام سے حاصل کریں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ امیر المومنین علیہ السلام کے خلیفہ بلا فصل یا دیگر اماموں کی امامت کے قائل ہوں یا نہ ہوں۔
البتہ اہل تشیع اس حدیث حدیث ثقلین سے استفادہ کرتے ہوئے امیر المومنین امام علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ لیکن جو مسلمان امام علی کو خلیفہ بلا فصل نہیں مانتے یعنی برادران اہل سنت انھیں بھی امام علی اور دیگر ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے اپنے فکری، اعتقادی اور شعوری رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ پس اس پہلو کی روشنی میں غدیر کا واقعہ جو امیر المومنین امام علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین علیہم السلام کا تمام مسلمان فرقوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا باعث ہے تمام مسلمانوں سے متعلق ہے واقعۂ غدیر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ اسلام کی جامعیت کی ایک علامت ہے۔
اگر پیغمبرِ اسلامؐ نے دس سال کے عرصے میں اپنی اور اپنے باوفا اصحاب کی انتھک کاوشوں سے ایک بالکل ابتدائی اور تعصبات اور خرافات سے آلودہ معاشرے کو ایک ترقی یافتہ اور مہذب سماج میں تبدیل کر دینے کے بعد امت کے سامنے اپنی رحلت کے بعد کے لیے کوئی منصوبہ اور نصب العین پیش نہ کیا ہوتا تو پیغمبرِ اسلامؐ کا کام ناقص رہ جاتا چونکہ زمانہ جاہلیت کے تعصبات کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ ان کی بیخ کنی کے لیے طویل مدت درکار تھی ظاہری اعتبار سے سب ٹھیک ٹھاک تھا لوگوں کے ایمان بھی مضبوط تھے، البتہ سب کا ایمان ایک جیسا نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ لوگ پیغمبرِ اسلامؐ کی رحلت سے ایک دو سال قبل اسلام لائے تھے اور بعض لوگوں کے اسلام کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے۔
ان میں سے بہت سے لوگ اسلامؐ کی جنگی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہوئے تھے۔ البتہ بہت سے لوگ اسلامؐ کی جاذبیت اور معنویت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے تھے مگر سب صدرِ اول کے سچے اور باوفا مسلمانوں جیسے نہیں تھے۔ لہٰذا جاہلیت کے تعصبات کی روک تھام اور پیغمبرِ اسلامؐ کے بعد اسلام کے صحیح راستے کی ہدایت کے لیے کوئی انتظام ضروری تھا۔ اگر یہ انتظام نہ ہوتا تو آپ کا کام ادھورا رہ جاتا جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت اس حقیقت کا واضح اعلان کر رہی ہے آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کر دیا ہے اور تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے سورۂ مائدہ آیت 3 یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ اسلام کی نعمت، ہدایت کی نعمت، بنی نوع انسان کو صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کی نعمت تب ہی پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتی ہے جب پیغمبرِ اسلام کے بعد کا لائحۂ عمل معین ہو یہ ایک طبیعی اور فطری بات ہے۔
پیغمبرِ اسلام نے غدیر کے موقع پر اس عمل کو انجام دیا اور حضرت علی کو اپنی جانشینی کے لیے نامزد کر دیا جو ایمان اور گفتار و کردار میں ایک ممتاز، منفرد اور مثالی شخصیت کے حامل تھے اور سب مسلمانوں پر ان کی اطاعت اور پیروی کو لازم قرار دیا۔ البتہ یہ پیغمبرِ اسلام کا ذاتی اقدام نہیں تھا بلکہ آپ کے دیگر احکامات اور فرمودات کی طرح یہ کام بھی وحیِ الٰہی کے ذریعے انجام پایا اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کو عہدۂ امامت پر فائز کیا اور پیغمبرِ اسلام کو اس کے اعلان کا واضح اور دو ٹوک پیغام دیا۔ پیغمبرِ اکرم نے اس پر ہو بہو عمل کیا غدیر ایک حقیقت کا نام ہے غدیر دینِ اسلام کی ہمہ گیری اور جامعیت کی عکاسی کرتا ہے غدیر اسلام کے مستقبل کا ضامن ہے اور ان شرائط کو واضح کرتا ہے جو امتِ اسلامیہ کی زعامت اور قیادت کے لیے لازم ہیں وہ کون سی شرائط ہیں؟
وہ وہی شرائط ہیں جو امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی ذاتِ والا صفات میں جلوہ گر تھیں یعنی پرہیزگاری، دینداری، دین کی غیر مشروط پابندی، خدا اور حق کے راستے کے سوا کسی کو خاطر میں نہ لانا خدا کی راہ میں بے خوف و خطر چلنا، علم و تدبیر سے مزین ہونا عزم و ارادے کی طاقت سے آراستہ ہونا غدیر ایک حقیقت ہے لیکن اس کا ایک اشارتی اور علامتی پہلو بھی ہے امیر المومنین امام علی علیہ السلام کو انہیں خصوصیات کے پیش نظر نامزد کیا گیا۔ یہ خصوصیات اسلام کی زندگی کے مختلف ادوار میں اسلامی قیادت اور زعامت کے لیے مشعلِ راہ ہیں امتِ اسلامیہ کے رہبروں اور حکومت کے ذمہ داروں کو انہیں خصوصیات کا حامل ہونا ضروری ہے جو امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے انتخاب میں کارفرما تھیں غدیر انہیں امتیازات اور خصوصیات سے معمور حقیقت کا نام ہے امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے رہبروں اور حکومت کے ذمہ داروں کو انہیں خصوصیات کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔