رسول اللہؐ

رسول اللہؐ

ڈھائی سو سالہ انسان
رسول اللہؐ

رسول اللہؐ

عام الفیل ۱

ہجری ۱۱

حصہ 2 از 4

رسولِ خداؐ

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

اور آخرکار دور دراز کے علاقوں میں بھی قدم رکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اس دور کی دو عظیم طاقتوں کے مرکز تک پہنچ گیا اور جہاں بھی گیا اس انقلاب نے لوگوں کے دل دہلا دیے اور ان کے وجود میں ایک انقلاب برپا کر دیا صدرِ اول کے مسلمانوں نے ایران اور روم کو اپنے ایمان کی طاقت سے فتح کیا اور جن علاقوں کو فتح کیا وہاں کے لوگوں کے دل بھی مسلمانوں کو دیکھ کر ایمان کے نور سے منور ہو جاتے تھے تلواریں تو صرف اس لیے تھیں کہ ان کے ذریعے راستے کی رکاوٹوں کو ہٹایا جائے ورنہ لوگوں کی اکثرت نے ہر جگہ اس انقلابی پیغام کو قبول کر لیا تھا اور اس دور کی دو سپر طاقتیں یعنی ایران اور روم مکمل طور پر نظامِ اسلامی اور مملکتِ اسلامی کا حصہ بن چکے تھے یہ سب کچھ چالیس سال کے عرصے میں ہو چکا تھا جن میں سے شروع کے دس برسوں میں پیغمبرِ اسلام بنفسِ نفیس موجود تھے جبکہ باقی تیس برس کا تعلق آپ کی وفات کے بعد سے ہے نبی مکرم نے مدینہ پہنچتے ہی اپنے کام کا آغاز فرمایا آپ کی زندگی کا ایک حیرت انگیز شاہکار یہ بھی ہے کہ آپ نے ان دس برسوں میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دیا

تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی معنویت و ہدایت اور تعلیم و تربیت کی نور افشانی میں ذرا برابر تحمّل سے کام نہیں لیا آپ کا سونا، جاگنا ،کوچہ و بازار میں آنا جانا، عبادت اور بندگی، گھریلو زندگی اور آپ کے وجودِ مبارک سے متعلق ہر شے ایک درس کا عنوان رکھتی ہے حضور اکرم کی مبارک حیات میں عجیب برکت پائی جاتی ہے ایسی بابرکت زندگی جس نے پوری تاریخ کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھا اور پوری تاریخ پر اثر انداز رہی میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ مساوات و برابری اخوت و برادری، عدل و انصاف اور انسان دوستی جیسی بہت سی مقدس تعلیمات جن کے تقدس کو انسان صدیوں بعد سمجھ پایا ہے۔

ان کا تقدس آئینِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے میں برقرار ہے دوسرے ادیان کی تعلیمات میں یا تو ایسی اعلیٰ صفات کا وجود ہی نہیں تھا یا کم از کم انہیں عروج نہیں ملا آپ نے یہ سارے کام اپنی دس سالہ حکومت کے دوران انجام دیے۔ آپ کی زندگی کتنی بابرکت تھی آپ نے مدینہ پہنچتے ہی اپنی پوزیشن کو واضح کر دیا جس اونٹنی پر حضور اکرم سوار تھے جب وہ مدینہ میں داخل ہوئی تو لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوئے اس دور میں مدینہ مختلف محلوں میں تقسیم تھا اور ہر محلے میں متعدد گھرانے اور گلی کوچے تھے ہر محلہ کسی نہ کسی قبیلے سے متعلق تھا لوگوں میں بھی کسی کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا تو کسی کا قبیلہ خزرج سے جب آپ کی اونٹنی یثرب میں داخل ہوئی اور جس قبیلے اور محلے سے گزرتی تھی اس قبیلے کے بزرگ آگے بڑھ کر اونٹنی کی مہار تھام کر کہتے اے اللہ کے رسول یہیں ٹھہر جائیے ہمارا گھر، ہماری زندگی، ہمارا مال و دولت سب آپ پر نثار حضور فرماتے تھے اونٹنی کے سامنے سے ہٹ جائیے اِنَّهَا مَأْمُورَةٌ — بحار الانوار، جلد 19، صفحہ 109 کیونکہ یہ حکم کے مطابق چل رہی ہے۔

لہٰذا اسے جانے دیجئے لوگ اونٹنی کے سامنے سے ہٹ گئے اور وہ دوسرے محلے پہنچ گئی تو یہاں بھی قبیلے کے سرداروں، بزرگوں، بوڑھوں اور جوانوں نے آگے بڑھ کر آپ کی اونٹنی کی مہار تھام کر کہا اے اللہ کے رسول یہیں پر اتر جائیے یہ آپ ہی کا گھر ہے۔ آپ جو چاہیں آپ کو فراہم کیا جائے گا۔ ہم سب آپ کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا راستے سے ہٹ جائیے اور اونٹنی کو آگے بڑھنے دیجئے — اِنَّهَا مَأْمُورَةٌ آپ کی اونٹنی مختلف گلیوں اور محلوں سے ہوتے ہوئے بنی نجار کے محلے تک پہنچ گئی حضور اکرم کی والدہ ماجدہ جناب آمنہ کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا جس کی وجہ سے قبیلہ نجار کا شمار آپ کے ننھیال میں ہوتا تھا لہٰذا اس قبیلے کے لوگوں نے آگے بڑھ کر کہا اے اللہ کے رسول ہم آپ کے رشتہ دار ہیں ہماری جانیں آپ پر قربان آپ ہمارے ہاں اتر جائیے آپ نے فرمایا نہیں "اِنَّهَا مَأمُورَةٌ" سامنے سے ہٹ جائیے اور راستہ دیجئے، سواری حکم کی پابند ہے۔

یہاں تک کہ اونٹنی چلتے ہوئے مدینہ کے غریب محلے میں بیٹھ گئی سب دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ کس کا گھر ہے لوگوں نے دیکھا کہ یہ ابو ایوب انصاری کا گھر ہے یعنی مدینہ کے غریب اور نادار لوگوں میں سے ایک شخص کا گھر ہے ابو ایوب انصاری اور ان کے اہل خانہ باہر آئے اور حضورؐ کا سامان اٹھایا اور اندر چلے گئے نبیؐ بھی ایک مہمان کی حیثیت سے گھر میں داخل ہوئے حضورؐ نے مدینہ کے قبائل کے سرداروں اور رئیسوں کی دعوت مسترد کرتے ہوئے اپنی اجتماعی پوزیشن کو واضح کر دیا اور سب سمجھ گئے کہ سرورِ کائنات کا معیارِ معاشرت، مال و منال، جاہ و جلال قوم و قبیلہ، رشتہ داری وغیرہ نہ اب ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔

آپ نے پہلے مرحلے میں یہ واضح کر دیا کہ اجتماعی معاملات میں لوگوں سے آپ کا سلوک کس بنیاد پر استوار ہوگا اور آپ کا وجود کس طبقے کے لیے زیادہ مفید ہوگا سب نبیؐ کے وجود پر نور اور آپ کی تعلیمات سے بہرہ مند ہوں گے مگر جو طبقہ معاشرے میں محروم و مظلوم تھا وہ اب زیادہ آپ کی رحمت کا حقدار ہوگا تاکہ اس کی محرومیوں اور مظلومیت کی تلافی ہو سکے ابو ایوب انصاری کے گھر کے سامنے بیکار زمین کا ایک ٹکڑا تھا۔ آپ نے دریافت کیا یہ زمین کس کی ہے کہا گیا کہ دو یتیم بچوں کی ہے۔ آپ نے اپنی جیب سے رقم دے کر وہ زمین خرید لی اور فرمایا یہاں مسجد تعمیر ہوگی مسجد یعنی اسلام کی عبادی ،اجتماعی، حکومتی اور سیاسی اسلامی سرگرمیوں کا مرکز یعنی لوگوں کے اجتماع کی جگہ اسلامی معاشرے کو ایسے مرکز کی ضرورت تھی۔

لہٰذا مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ آپ نے مسجد کی زمین کے لیے کسی سے درخواست نہیں کی ،کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ خود اپنی رقم خرچ کی، اگرچہ ان دو بچوں کے سر پر باپ کا سایہ نہ تھا اور ان کا کوئی دوسرا حمایتی اور طرفدار بھی نہ تھا۔ اس کائنات نے ایک مہربان باپ اور شفیق سرپرست کا کردار ادا کرتے ہوئے ان کے حق کا لحاظ رکھا اور جب مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو سب سے پہلے خود پیغمبرِ رحمتؐ نے اپنے دستِ مبارک سے زمین کی کھدائی شروع کی صرف اعزازی طور پر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں محنت کی اور پسینہ بہایا جب آپ کام میں اس طرح مصروف تھے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہوئے لوگ بھی یہ کہتے ہوئے تعمیر کے کاموں میں مشغول ہو گئے کہ نبی کام کریں اور ہم بیٹھے رہیں سب کی انتھک محنتوں کے نتیجے میں مسجد کی تعمیر بہت جلدی مکمل ہو گئی نبی اکرم نے اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا

کہ اگرچہ قوم کی رہبری میرے اختیار میں ہے مگر اس کا مقصد سلطنت و حکمرانی نہیں ہے۔ اگر یہ طے ہو کہ معاشرے میں کوئی کام انجام پائے تو اس میں اس قوم کا رہبر بھی دوسرے لوگوں کی طرح اپنا خون پسینہ بہائے گا۔ اس کے بعد آپ نے سیاسی معاملات اور حکومتی امور سے متعلق اپنے منصوبے کا آغاز فرمایا۔ جب انسان ان تمام چیزوں کا بغور مطالعہ کرتا ہے تو بخوبی سمجھ جاتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی قوی عزم موجود ہے، اگر انسان صرف ایک واقعے کا مطالعہ کرنا چاہے تو وہ کچھ بھی نہیں سمجھ سکتا اور اگر انسان ایک ایک واقعے کا الگ سے جائزہ لے تو بھی کچھ نہیں سمجھ پاتا ہے۔

لہٰذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کام کی ترتیب کیا ہے اور کس طرح یہ سارے امور بہترین طریقے اور ہوشیاری کے ساتھ منظم ہیں پہلا کام اتحاد کی فضا کو ایجاد کرنا تھا کیونکہ مدینہ میں بسنے والے تمام لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کی اکثریت نے اسلام قبول کیا تھا لیکن کچھ لوگ اب بھی غیر مسلم تھے ان کے علاوہ بھی مدینہ میں تین اہم یہودی قبائل یعنی بنی قینقاع، بنی نضیر اور بنی قریظہ رہائش پذیر تھے اور ہر قبیلے کا ایک قلعہ تھا یعنی یہ قبیلے اپنے مخصوص قلعوں میں جو تقریباً مدینہ سے جڑے ہوئے تھے زندگی گزار رہے تھے یہ قبائل کوئی سو، دو سو سال پہلے مدینہ آکر آباد ہوئے تھے لیکن یہ لوگ یہاں آکر آباد کیوں ہوئے؟ یہ خود ایک تفصیلی بحث ہے جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ میں وارد ہوئے اس وقت مدینہ میں ان یہودیوں کو چند امتیازات حاصل تھے پہلا امتیاز یہ تھا کہ مدینہ کی اصلی دولت و ثروت، بہترین کھیت، بہترین تجارت یعنی سونا، چاندی اور جواہرات کی صنعتیں وغیرہ ان یہودیوں کے اختیار میں تھیں

مدینہ کی اکثر لوگ بوقتِ ضرورت ان کے دست نگر ہوا کرتے تھے ان سے قرض لیتے اور پھر سود کے ساتھ اسے واپس کرتے تھے یعنی مدینہ کی اقتصاد پر ان کا قبضہ تھا دوسرا یہ کہ تہذیب و ثقافت اور مدنیت کے لحاظ سے بھی یہودی مدینہ کی دیگر قوموں پر برتری رکھتے تھے ظاہر ہے اہل کتاب ہونے کی بنیاد پر وہ مختلف علوم اور دینی تعلیمات سے آشنائی رکھتے تھے لہٰذا فکری لحاظ سے وہ دوسروں پر تسلط رکھتے تھے اگر آج کی اصطلاح میں کہا جائے تو یہ لوگ اس زمانے کا روشن خیال طبقہ کہلاتے تھے لہٰذا دوسروں کو بے وقوف اور حقیر جانتے تھے اور اگر کہیں خطرہ محسوس کرتے تو وہاں دب بھی جاتے تھے لیکن طبعی طور پر اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے تیسرا امتیاز ان کا یہ تھا کہ دور دراز کے علاقوں سے بھی تعلقات رکھتے تھے لہٰذا یہ ایک ایسی قوم نہیں تھی جو صرف مدینہ کے اندر محدود ہو مدینہ کے یہودیوں کے ان امتیازات اور ان کی حیثیت کے پیش نظر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ اپنے تعلقات کی حدود اور شرائط کا تعین کریں جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے تو بغیر کسی معاہدے اور لوگوں سے کسی بھی قسم کا کوئی تقاضا کیے بغیر یہ واضح ہو گیا کہ اس معاشرے کی قیادت آپ کے پاس ہے یعنی آپ کی شخصیت اور نبوی عظمت نے طبعی طور پر تمام لوگوں کو آپ کے مقابلے میں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیا اور سب پر یہ بات

عیاں ہو گئی کہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے رہبر اور قائد ہیں کہ جو کہتے ہیں سب کو اس پر عمل کرنا ہے لہٰذا آپ نے ایک ایسا میثاقِ عام سامنے رکھا جو سب کو قابلِ قبول تھا اس میثاق میں اجتماعی رہن سہن ،معاملات، اختلافات، دیت اور مخالفین یعنی یہودیوں اور دیگر غیر مسلموں کے ساتھ حضور اکرم کے تعلقات وغیرہ جیسے مسائل سے متعلق شرائط اور قواعد درج تھے اس کے بعد اگلا انتہائی اہم قدم اخوت اور بھائی چارگی کا قیام تھا طبقاتی نظام، بیجا تعصبات ،قبائلی غرور اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان دشمنی اور نفرت اس دور کے متعصب اور جاہل معاشرے کے لیے کسی بلا سے کم نہ تھی لیکن پیغمبرِ اسلام نے لوگوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارگی کا رشتہ قائم کر کے ان تمام قبائلی تعصبات کو اپنے پاؤں تلے کچل دیا اپنے قبیلے کے سردار کو انتہائی غریب اور متوسط طبقے کے شخص کا بھائی بناتے ہوئے فرمایا آج سے تم دونوں آپس میں بھائی ہو اور انہوں نے بھی بھائی چارگی کے اس رشتے کو خوشی خوشی قبول کر لیا آپ خاندان کے بزرگوں ،قبائل کے سرداروں اور آزاد شدہ مسلم غلاموں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتے تھے۔

آپ کے اس عمل نے اتحاد و ہمدردی کی راہ میں تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیا جب مسجد کے لیے ایک موذن کے انتخاب کی باری آئی تو آپ نے تمام رئیسوں، عمیدوں ،خوش لحانوں اور خوبصورت شکل افراد کو چھوڑ کر بلالِ حبشی کو بطورِ موذن معین کیا۔ آپ نے اس طریقہ انتخاب کے ذریعے واضح کر دیا کہ یہاں محض خوبصورتی ،خوش الحانی، خاندانی امتیازات اور قبائلی شرف کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ یہاں اسلام و ایمان، راہِ خدا میں جہاد اور ایثار و فداکاری جیسے اعلیٰ اخلاقی فضائل ہیں غور کیجئے کہ سرورِ کائنات نے کس طرح عملی طور پر انسانی اقدار کو سربلند کیا تاکہ آپ نے اپنے قول سے زیادہ عمل ،سیرت اور کردار کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا اسلامی نظام کی حفاظت اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے تین مراحل تھے پہلا مرحلہ اس نظام کی بنیاد رکھنا تھا جو مذکورہ کاموں کے ذریعے انجام پایا دوسرا مرحلہ اس نظام کی حفاظت کا تھا۔

ایک زندہ اور موجود چیز جو رشد و کمال کی طرف بڑھ رہی ہو اگر طاقتور حلقوں کو پتہ چلے تو طبعی طور پر وہ اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور یقیناً اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اب اگر پیغمبرِ اسلام کمال ہوشیاری کے ساتھ اس نوزائیدہ نظام کو اس کے دشمنوں سے بچانے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو یہ نظام تباہ و برباد ہو سکتا ہے اور آپ کی تمام زحمتیں رائیگاں جا سکتی ہیں بس اس کی حفاظت ضروری تھی تیسرا مرحلہ اس عمارت کی تعمیر ہے صرف بنیاد رکھنا کافی نہیں بلکہ یہ پہلا قدم ہے لہٰذا ان تینوں مرحلوں کو بالترتیب انجام دینا ضروری تھا۔

البتہ اس نظام کے پہلے مرحلے یعنی اس کی بنیاد رکھتے ہوئے بھی دشمن سے بچ کے رہنے اور اس کے بعد اس کی حفاظت بھی ضروری تھی۔ اسی طرح اس نظام کی بنیاد ہی میں لوگوں اور ان کے اجتماعی مسائل پر بھرپور توجہ دی گئی اور اس کے بعد بھی ان پر خاصی توجہ دی جاتی رہی پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تیز بین نگاہوں سے دیکھا کہ اس نوزائیدہ اسلامی معاشرے کو پانچ اصلی دشمنوں کی طرف سے پہلا دشمن ارد گرد کے قبائل تھے بعض اوقات دشمن چھوٹا اور بے اہمیت ہوتا ہے مگر اس سے غفلت برتنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ ممکن ہے یہی چھوٹا دشمن کچھ مدت بعد بڑے دشمن کی شکل اختیار کر لے یہ دشمن کون ہے؟

یہ اطرافِ مدینہ کے کچھ ایسے قبائل تھے جنہیں وحشی کہنا نامناسب نہ ہوگا ان کی پوری زندگی جنگ و خونریزی اور ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں سے عبارت تھی مدینہ میں قابلِ اطمینان اجتماعی نظم و ضبط کے باوجود امن کی بحالی کے لیے حضور اکرم کے لیے ضروری تھا کہ ان قبائل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں لہٰذا آپ نے ہر اس قبیلے سے امن و سلامتی کا معاہدہ کیا جس میں ذرا برابر بھی مروت و مردانگی پائی جاتی تھی ابتداء میں انہیں اسلام کی دعوت نہیں دی بلکہ انہیں اپنے کفر و شرک پر باقی رہنے دیا اور معاہدہ صرف امن کی بحالی کے لیے تھا۔

آپ اس معاہدے کے پابند رہے لیکن جب لوگوں نے یہ معاہدہ توڑ دیا تو سرورِ کائنات نے بھی انہیں سبق سکھانے کی تدبیر کی تاریخِ اسلام کے متعدد سریہ کا تعلق انہیں معاہدہ شکن قبائل سے ہے سریہ اس لشکر کو کہتے ہیں جس کے سپاہیوں کی تعداد 400 سے کم ہو اور اصطلاح میں یہ لفظ غزوے کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے یعنی سریہ اس جنگ کو کہا جاتا ہے جس میں حضورِ اکرم بنفسِ نفیس شریک نہ ہوئے ہوں جن لوگوں کو نصیحت کی زبان راس نہیں آتی ان کے فتنوں کی آگ کو صرف زورِ بازو ہی سے خاموش کیا جا سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت نبی اکرم نے طاقت استعمال کر کے ان کی گستاخیوں اور امن مخالف سرگرمیوں کا خاتمہ کیا مکہ کو مرکزیت حاصل تھی اگرچہ یہاں قانونی طور پر کسی ایک کی حکومت نہیں تھی مگر کچھ متکبر، طاقتور اور بااثر سرداروں کے ایک گروہ کی دادا گیری ضرور چلتی تھی۔

ان کے آپس میں اختلاف ظاہر تو تھا۔ لیکن اس جدید اور نئے دین کے مقابلے میں ان کا اتحاد مثالی تھا۔ پیغمبرِ خدا مکہ والوں کو ایک بڑے خطرے کی شکل میں دیکھ رہے تھے اور ایسا ہی ہوا جنگِ بدر کی ابتداء اسی سے ہوئی۔ جب آپ نے تجارتی قافلے کو روکا تو وہ بھی تعصب اور کینے کے مارے آپ کی جان لینے کے لیے نکلے تھے۔ لہٰذا آپ خود ہی ان کے پیچھے چلے گئے۔ البتہ آپ سیدھے مکہ نہیں گئے بلکہ ان کا ایک تجارتی قافلہ جو مدینہ کے قریب سے گزر رہا تھا اسے آپ کے حکم پر روک لیا گیا جنگِ بدر کی ابتداء اسی سے ہوئی جب آپ نے تجارتی قافلے کو روک لیا تو وہ بھی تعصب اور کینے کے مارے آپ کے خلاف جنگ کے لیے میدان میں اتر آئے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو پہلے ہی یہ خبر ملی تھی کہ وہ کافروں کے اس گروہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یہ ہجرت کے دوسرے سال کا واقعہ ہے

کہ قریش کا تجارتی قافلہ اپنا تجارتی سامان لے کر مدینہ کے راستے شام سے مکہ جا رہا تھا۔ جب یہ قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو مسلمان سپاہیوں نے اسے گھیر لیا جب کفارِ مکہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو ان کا ایک مسلح گروہ اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے مدینہ کی طرف روانہ ہوا ادھر اکثر مسلمانوں کی یہ خواہش تھی کہ وہ اس تجارتی قافلے کو جن کے پاس اپنے دفاع کا کوئی خاص انتظام نہ تھا گرفتار کریں لیکن حکمِ خدا یہ تھا کہ مسلمان قریش کے مسلح گروہ سے مقابلہ کریں وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللَّهُ اِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّونَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ اور اس وقت کو یاد کرو جبکہ خدا تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے ایک تمہارے لیے بہرحال ہے اور تم چاہتے تھے کہ وہ طاقت والا گروہ نہ ہو سورہِ انفال، آیت 7 مسلمان اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ اس جنگ میں وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔

لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اس مسلح گروہ کو شکست دینے والے ہیں بلکہ وہ شام سے لوٹنے والے اس قافلے کو گرفتار کرنے کو ہی اپنی کامیابی سمجھتے تھے۔ لیکن پیغمبرِ اسلام نے ان کا راستہ تبدیل کر دیا اور آپ انہیں قریشِ مکہ کے مسلح گروہ سے مقابلے کے لیے لے گئے اور ان کے تجارتی قافلے کو جانے دیا بدر نامی جگہ پر مسلمانوں اور قریشِ مکہ کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اب اس کی کیا وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے رخ کو تجارتی قافلے کی طرف سے موڑ کر قریشِ مکہ کے اس مسلح گروہ کی طرف کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان صرف قریب کے ہدف کو دیکھتے تھے جبکہ ارادہ اور مشیتِ الٰہی ایک دور کے ہدف کے تعاقب میں تھی وَ يُرِيدُ اللَّهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ (اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو ثابت کرنا چاہتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ پوری کائنات میں حق چھا جائے لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ تاکہ حق ثابت ہو جائے اور باطل فنا ہو جائے چاہے مجرموں کو جتنا بھی برا لگے سورہِ انفال، آیت 8 یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ باطل مٹ جائے کیونکہ وہ طبعاً زوال پذیر ہی ہوتا ہے

باطل ایک ساتھ اُلٹ جائے کیا یہ طے نہیں ہے کہ اسلام تمام شیطانی اور طاغوتی طاقتوں کو سرنگوں کر دے کیا یہ طے نہیں ہے کہ ملتِ اسلامیہ "لِتَكُونُوا شُهَداءَ عَلَى النّاسِ" کا مصداق بن جائے کیا یہ طے نہیں ہے کہ اسلام کا پرچم بشری اور انسانی اقدار کی بلندی پر لہرا جائے تو پھر کب، کیسے اور کیوں کر ہوگا؟

اس وقت کے مسلمان دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ اگر آج ہم اس دولت مند قافلے کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اتنا مال ہمارے ہاتھ لگ جائے گا جس سے اسلام کے نئے نظام کو ایک نئی قوت ملے گی اور ان کی یہ سوچ صحیح بھی تھی۔ لیکن ان کی اس سوچ سے بہتر ایک سوچ یہ بھی تھی کہ آج ہم نے پیغمبرِ اسلام کی اطاعت اور پیروی میں اس قدر ترقی کی ہے اور ہم اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب ہم معاشرے کے مستضعف اور محروم طبقے اور دنیا کے ظالم و جابر نظام کو بدلنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اس تالاب میں اتنا پانی موجود ہے کہ اس میں لہریں پیدا کی جا سکیں اور ان لہروں کے ذریعے ان نو نہالوں، درختوں اور خشک زمینوں کو سیراب کیا جا سکے۔

ڈھائی سو سالہ انسان