رسول اللہؐ

رسول اللہؐ

ڈھائی سو سالہ انسان
رسول اللہؐ

رسول اللہؐ

عام الفیل ۱

ہجری ۱۱

حصہ 1 از 2

امامت

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

امامت اپنے حقیقی معنی میں انواع و اقسام کے نظاموں کے مقابلے میں جو در حقیقت انسانی کمزوریوں، خواہشات، تکبر، غرور اور حرص و طمع کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں معاشرے کے نظم و نسق کے لیے ایک مثالی نظام کی مکمل تشکیل کا نام ہے۔ اسلام بشریت کے سامنے امامت کا نسخہ اور نظریہ پیش کرتا ہے۔ امام یعنی ایک ایسا انسان جس کا دل ہدایتِ الٰہی سے سرشار اور فیض یاب ہو جو دینِ امور کو سمجھتا اور پہچانتا ہو یعنی صحیح راستے کے انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس پر عمل درآمد کی طاقت بھی رکھتا ہو جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہوتا ہے یا یحیٰ خذ الکتاب بقوۃِ اے یحیٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو سورہ مریم آیت 12 اس کے ساتھ ہی اس کی نظر میں اپنی ذاتی زندگی اور خواہشات کوئی معنی نہ رکھتے ہوں بلکہ دوسروں کی خواہشات، زندگی اور سعادت و کامرانی اس کے لیے سب کچھ ہو جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے پانچ سال سے بھی کم مدتِ حکومت کے دوران اس کی عملی تصویر پیش کی ذرا غور کیجئے کہ امیر المومنین علیہ السلام کی پانچ برس سے بھی کم مدت کی حکومت ایک مثالی اور بشریت کے لیے ناقابل فراموش نمونے کی شکل میں صدیوں سے تاریخ کے صفحات پر دمک رہی ہے۔

یہ غدیر کے واقعے کی حقیقی تفسیر اور اس کا اصلی درس ہے اسلامی تعلیمات میں اکثر موارد میں لفظ امامت جس کے معنی مطلق رہنمائی کے ہیں کا اطلاق ایک خاص مصداق پر ہوتا ہے اور وہ اجتماعی میدان میں فکری اور سیاسی رہبری اور رہنمائی کے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یہ لفظ اپنے دیگر مشتقات کے ساتھ استعمال ہوا ہے جیسے امام اور آئمہ وغیرہ تو ان تمام موارد میں اسی مخصوص معنی یعنی امت کی رہبری اور رہنمائی کو مد نظر رکھا گیا ہے یعنی سیاسی رہبری یا دینی اور فکری پیشوائی یا دونوں طرح کی رہنمائی حضورؐ کی رحلت کے بعد لوگوں کے درمیان فکری اور سیاسی لحاظ سے اختلاف پیدا ہوئے کہ جس کے نتیجے میں اسلام کے پیروکاروں میں گروہ بندی اور فرقہ پرستی نے جنم لیا اس کا اصل نقطہ اختلاف بھی امت کی سیاسی رہبری اور قیادت کا مسئلہ ہی تھا اور لفظ امامت اور امام کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوئی اور یہ لفظ اپنے دیگر تمام معنی سے زیادہ سیاسی رہبری اور قیادت کے معنی میں استعمال ہونے لگا آہستہ آہستہ یہ معنی دوسرے تمام تر معنی پر چھا گیا۔

یہاں تک کہ جب دوسری صدی ہجری میں کلامی مباحث کا دائرہ وسیع ہوا اور مختلف اسلامی افکار اور نظریات کے درمیان حد بندیاں ہونے لگیں تو ان تمام کلامی مکاتب فکر کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ امامت تھا جس کے معنی سیاسی قیادت اور رہبری کے ہیں مسئلہ امامت میں عام طور پر امام کی شرائط اور خصوصیات یعنی معاشرے پر حاکم اور اس کی باگ ڈور سنبھالنے والے کے بارے میں بحث کی جاتی تھی اور ہر کوئی اس مسئلے پر ایک خاص عقیدہ اور نظریہ رکھتا ہے مکتبِ تشیع میں بھی جس کے پیروکاروں کے درمیان امامت کا منصب اسلام کے دوسرے تمام احکام و مسائل پر محیط ہے امامت سے اسی معنی کو مراد لیا جاتا ہے اور امامت کے بارے میں مکتبِ تشیع کے نظریہ کا درج ذیل جملوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔

امام اور اسلامی معاشرے کے حاکم کا انتخاب اور تعیین خدا کی طرف سے ہو اور پیغمبرِ اکرمؐ کی طرف سے اس کا تعارف کرایا گیا ہو رہبر اور پیشوا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دین کے تمام رموز سے آگاہ ہونے کے علاوہ مفسرِ قرآن بھی ہو اور وہ ہر قسم کے خَلقی، خُلقی اور صَیبدی عیوب اور نقائص سے پاک اور معصوم ہو اس نے پاک و پاکیزہ خاندان میں جنم لیا ہو وغیرہ یوں پہلی اور دوسری صدی کے مسلمانوں کی نظر میں جہاں لفظ امامت صرف سیاسی رہبری اور قیادت کے معنی میں استعمال ہوتا تھا وہاں شیعوں کے مخصوص نظریہ کے مطابق سیاسی رہبری کے علاوہ فکری اور اخلاقی رہبری کے مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔

جب شیعہ کسی کو اپنا امام تسلیم کرتے تھے تو وہ اس سے صرف سیاسی اور اجتماعی مسائل کے دیکھ بھال کی توقع نہیں کرتے تھے بلکہ وہ فکری تربیت، دینی تعلیم اور تذکیہ نفس کی توقع بھی رکھتے تھے اور اگر کوئی امامت کا دعویدار ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ ایسے شخص کو امام برحق نہیں مانتے تھے مکتبِ تشیع میں صرف سیاسی بصیرت، جنگی قدرت و طاقت اور کشور کشائی جیسے صفات جنہیں دیگر مکاتب فکر میں قیادت کی صلاحیت کے لیے کافی سمجھی جاتی ہیں کو کافی نہیں سمجھا جاتا ہے مکتبِ تشیع میں رائج امامت کے مفہوم کے مطابق کسی معاشرے میں بسنے والے تمام لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے امور کی بہترین انداز میں دیکھ بھال کی قدرتِ فائقہ کا حامل انسان ہی امامِ وقت کہلانے کا اہل ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں لوگوں کے دینی معاملات بھی سنبھالتا ہو اور ان کی اخلاقی تعلیم و تربیت اور سیاسی امور کی دیکھ بھال بھی کرتا ہو پس اس گفتگو کی روشنی میں حضرتِ پیغمبرِ اکرمؐ بھی امام ہیں کیونکہ جس معاشرے اور تحریک کی بنیاد آپ نے اپنے بابرکت ہاتھوں سے رکھی تھی

اس کا فکری اور سیاسی انتظام اور رہبریت بھی آپ ہی کے ہاتھ میں تھی اور آپ کی رحلت کے بعد بھی امت کو ایک امام کی ضرورت تھی تاکہ وہ حضورِ اکرم کے جانشین و خلیفہ کی حیثیت سے امامت کی ان بھاری ذمہ داریوں من جملہ فکری اور سیاسی رہبریت کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکے لہذا شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خود حضورِ اکرم کے فرمان کے مطابق آپ کے بعد آپ کے جانشین اور خلیفہ بلا فصل امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں اور ان کے بعد یہ عہدہ آپ کے خاندان سے وابستہ دیگر آئمہ معصومین علیہ السلام کو یکے بعد دیگرے منتقل ہوتا رہا۔

اس حصے میں مزید تفصیلات کے لیے اس موضوع کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ خلافت اور اسلام کی حکومت میں ان تینوں مفاہیم یعنی سیاسی قیادت، دینی تعلیم و تربیت اور تہذیب نفس کے باہمی امتزاج سے امامت اور حکومت اسلامی کو تین پہلو اور تین ابعاد پر مشتمل قرار دیا گیا ہے کہ جس کی طرف موجودہ دور کے بعض مفکرین نے بھی اشارہ کیا ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے ان تین پہلوؤں کے درمیان جدائی کی نفی کرتے ہوئے انسانیت کے سامنے ان تین پہلوؤں پر مشتمل ایک جامع پروگرام پیش کیا ہے لہذا امت کی قیادت اور رہبری سے مراد ان تینوں میدانوں میں قیادت اور رہبری ہے بنا بریں امامت کے اس وسیع معنی و مفہوم کے پیش نظر شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ امام کا انتخاب اور تعیین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا چاہیے۔

پس ایسے سطحی نظریات اور عقائد کے برخلاف جنہوں نے امامت کو خلافت اور حکومت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے اور اس کو صرف ایک معنوی منصب اور روحانی اور فکری عہدے تک محدود کر دیا ہے مکتبِ تشیع میں امام پوری امت کا رہبر ہوتا ہے یعنی دنیوی امور اور لوگوں کی انفرادی زندگی کے نظم و نسق اور اجتماعی امور سے مربوط تمام مسائل اور اسی طرح لوگوں کے روحانی اور معنوی مسائل کا حل اور فکری مشکلات اور عقائدِ اسلامی کی تفسیر و تشریح کی ذمہ داری بھی امام پر عائد ہوتی ہے۔ یہ واضح مطلب بھی امامت کے عقیدے سے وابستہ اکثر لوگوں کے لیے ایسا اجنبی بن چکا ہے کہ اس کے مطالب موجودہ سینکڑوں قرآنی آیات اور احادیث کے منبع سے چند ایک مثالوں کا تذکرہ فائدے سے خالی نہیں ہوگا اصولِ کافی کی کتاب الحجۃ میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ایک طویل روایت نقل کی گئی ہے جس میں امامت کی شناخت اس کے اوصاف اور خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو انتہائی اہم اور دلچسپ ہیں

ان میں سے بعض درج ذیل ہیں امام، دین کا ضامن، نظامِ مسلمین کی درستی، دنیا کی آبادی کا ضامن، مومنین کی عزت و سربلندی، پیغمبروں کا مقام و مرتبہ، جانشینوں کی میراث، خدا اور رسول کا خلیفہ ہوتا ہے نیز، امام، دولت و ثروت میں اضافہ کرنے والا، حدود اور احکامِ الٰہی کا جاری کرنے والا، اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا، تمام مخلوقات کے درمیان اللہ کا امین، بلند مقام پر چمکتا ہوا چراغ حریمِ الٰہی کا محافظ، منافقین سے بیزار، کفر کی بنیاد کو ویران کرنے والا، مومنین کی عزت، قیادت کا لائق، سیاسی امور کا ماہر، حکمِ الٰہی کے اجرا کے لیے کمر بستہ ہو اللہ کے بندوں کا خیر خواہ، دین کا محافظ ہوتا ہے۔

امام دین کی لگام ہے اور نظامِ مسلمین ہے اور اسی سے امورِ دنیا کی درستی ہے اور مومنین کی عزت ہے۔ امام ترقی کرنے والے اسلام کی بنیاد ہے اور اس کے بلند شاخ ہے۔ امام ہی سے نماز وہی مالِ غنیمت کا مالک ہے وہی صدقات کا وارث ہے وہی حدود اور احکام کا جاری کرنے والا ہے وہی حدود اور اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔ امام حلال کو حلال اور حرامِ الٰہی کو حرام کرتا ہے اور حدودِ الٰہی کو قائم کرتا ہے اور دشمنوں کو دینِ خدا سے دور کرتا ہے لوگوں کو دینِ خدا کی طرف بلاتا ہے حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور وہ خدا کی مکمل حجت ہوتا ہے۔

امام چڑھتا سورج ہے جو اپنی روشنی سے عالم کو جگمگا دیتا ہے وہ ایسے مقام پر ہے کہ لوگوں کے ہاتھ اور نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچ سکتی امام روشن چاند ہے اور ضیا بار چراغ ہے اور چمکتا چراغ ہے اور جگمگاتا نور ہے ہدایت کرنے والا ستارہ ہے ضلالت کی تاریکیوں میں شہروں کے درمیان جنگلوں اور سمندروں کی گہرائیوں میں راستہ بتانے والا ہے۔ امام پیاسے کے لیے چشمہِ آب شیریں ہے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کرنے والا ہے الکافی جلد 1 صفحہ 200: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک اور روایت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ تمام امتیازات اور عہد و پیمان جو پیغمبرِ اسلام کو حاصل ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ طاہرین بھی ان خصوصیات کے حامل تھے الکافی جلد 1 صفحہ 196: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہی سے منقول ایک روایت میں اوصیاء کی اطاعت اور فرماں برداری کے واجب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے کہ اوصیاء وہ ہی ہیں جنہیں قرآن کریم نے اولی الامر کے نام سے یاد کیا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنكُمْ — ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو سورہ النساء، آیت 5 مختلف کتابوں کے متعدد ابواب میں موجود سینکڑوں روایات میں واضح طور پر امام اور امامت مکتب تشیع کے نظریہ کے مطابق حقِ حکمرانی اور امت مسلمہ کے امور کا منتظم مراد لیتے ہوئے آئمہ معصومین علیہ السلام کو حکومت کا حقیقی وارث قرار دیا گیا ہے۔

یہاں تک کہ ایک غیر جانب دار محقق کے سامنے اس میں کسی شک و شبے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ جب بھی اہل بیت طاہرین علیہم السلام نے امامت کا دعویٰ کیا ہے تو ان کا یہ دعویٰ فکری اور روحانی مقام سے کہیں بالاتر یعنی حقِ حکومت کا دعویٰ بھی ہے اور ان کی وسیع دعوت در حقیقت حکومتی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے سیاسی اور عسکری قیام کی دعوت ہے پیشوائے صادق صفحہ 69 تا 74: اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام تک ہمارے ان آٹھ اماموں نے صرف اور صرف احکامِ الٰہی اور دینِ معارف کی تبلیغ پر توجہ دی ہے اور اپنے زمانے کے سیاسی حالات سے لاتعلق رہے ہیں تو یقیناً اس شخص نے ان اماموں کی زندگیوں کا گہرا مطالعہ نہیں کیا ہے۔

ان ہستیوں کی حیاتِ مبارکہ سے جو بات واضح ہو جاتی ہے اور وہ اسلام میں امامت کے معنی اور مکتبِ تشیع جس فلسفہ امامت کا قائل ہے اس کے مطابق اس راستے سے ہٹ کر کسی صورت ان الفاظ کا اطلاق قابل قبول نہیں ہو سکتا اگر آئمہ معصومین علیہ السلام کی طرف سے مبارزہ اور چیلنج کے حوالے سے کوئی ایک جملہ نہ بھی ہوتا تب بھی ہم یقین سے یہ کہہ سکتے تھے کہ ان بزرگوں نے ضرور مبارزہ کیا ہے مگر ان کے مبارزات اور جد و جہد سے متعلق خبریں ہم تک نہیں پہنچی ہیں اور ہم ان سے بے خبر ہیں کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اسلام میں نصف شیعہ مکتب میں امامت کے معانی کو سمجھیں اس پر ایمان رکھیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی قبول کریں کہ مثلاً ایک سو پچاس سال یا اس سے زیادہ عرصے تک ہمارے آئمہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہے ہوں اور اس بات پر خوش ہوں کہ وہ احکام قرآن اور معارف اسلام کا درس دیتے ہیں اور کوئی سیاسی جد و جہد نہیں کرتے یہ بات کسی صورت میں صحیح نہیں ہے۔

ڈھائی سو سالہ انسان