حصہ 3 از 4
رسولِ خداؐ
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
اگر یہ طے ہے کہ اسلام کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہو اگر یہ طے ہے کہ اسلام کا پیغام اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ غریب اور مستضعف علاقوں کی طرف پھیل جائے اگر یہ طے ہے کہ ظالموں اور ستمگروں کے محل ایک ایک ہو کر زمین بوس ہو جائیں تو ضروری ہے کہ کسی ایک نکتے سے کام کا آغاز کیا جائے صدرِ اول کے مسلمان اپنے تمام تر اخلاص کے باوجود یہ نہیں جانتے تھے کہ آغاز کہاں سے ہو لہٰذا اللہ تعالیٰ اس موقع پر ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔ وہ مسلمان جو اس قافلے کو لوٹنے آئے تھے انہیں بالا ناخواستہ ایک جنگ کی طرف دھکیلتا ہے تاکہ اس بالا ناخواستہ جنگ میں جنگی وسائل کی کمی کے باوجود اپنے ایمان کے بل بوتے پر ایک ہی دن میں دشمن کو شکست دے سکیں اور اسلام کے پیغام کو آگے بڑھنے اور لوگوں میں اس کو راسخ کرنے کا راستہ ہموار کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا راستہ ہموار کر کے لوگوں کو یہ سمجھا سکیں
کہ یہ اسلام ہے اس کا کسی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ اے مسلمانوں ہم نے تمہیں اچانک اس بڑے لشکر کے ساتھ جنگ کا حکم دیا تاکہ وہ تمہارے ہاتھوں زخموں کا مزہ چکھ لیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا احساس ہو جائے جنگِ بدر میں جب خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجاہدینِ اسلام کو کامیابی ملی تو دشمن نے جو آسانی کے ساتھ دستبردار ہونے والا نہ تھا جنگِ احد کا فیصلہ کر لیا جنگِ احد میں بھی شروع میں تو مسلمانوں نے اپنے اتحاد اور اتفاق کے بل بوتے پر دشمن کو شکست دی۔ لیکن کامیابی حاصل کرنے کے فوراً بعد وہ پچاس آدمی جنہیں حضورِ اکرم نے پہاڑی درے کی پہرے داری پر مقرر کیا تھا اس بات کے پیشِ نظر کہ وہ کہیں مالِ غنیمت جمع کرنے میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں اپنی ذمہ داری چھوڑ کر مالِ غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے صرف دس مسلمان سپاہی پہاڑی درے پر بیٹھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے دشمن نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوہِ احد کے پیچھے اور اس درے کی جانب سے جہاں مسلمان سپاہیوں کی تعداد بہت کم تھی
مسلمانوں پر حملہ کر دیا دشمن کا یہ حملہ مسلمانوں کے لیے بہت ہی خطرناک ثابت ہوا اگرچہ اس وقت بھی اسلام کو شکست نہیں ہوئی لیکن ایک تو اسلام کو کامیابی دیر سے ملی اور دوسری بات یہ کہ اس غفلت کے نتیجے میں اسلام کو سید الشہداء حضرت حمزہ جیسے شجاع اور بہادر کمانڈر کی قربانی دینی پڑی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عبرت کے ساتھ ساتھ غور و فکر کی بھی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے اپنے وعدے پر عمل کیا۔ ہم نے کہا تھا کہ تمہیں دشمن پر کامیابی حاصل ہوگی سو ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد تمہارے اندر درج ذیل تین خصلتیں پیدا ہو گئیں جن کی وجہ سے تمہیں نقصان اٹھانا پڑا وہ تین خصلتیں یہ ہیں: پہلی یہ کہ تم نے آپس میں اختلافات کا شکار ہوتے ہوئے اپنی صفوں کو درہم برہم کر دیا دوسری یہ کہ سستی کا شکار ہو گئے یعنی پہلا والا جوش و جذبہ باقی نہیں رہا ہے تیسری یہ کہ تم نے پیغمبرِ اسلام کے حکم کو ٹھکرایا پس جب تمہارے اندر یہ تین خصلتیں پیدا ہوئیں تو دشمن کو یہ موقع ملا کہ وہ پیچھے سے تم پر حملہ کر سکے
اور اسلام کے عزیز ترین سپاہیوں کو خاک و خون میں غلطاں کرے جس کے نتیجے میں ملتِ اسلامیہ کو ایک شجاع اور بہادر ترین شخص سے ہاتھ دھونا پڑا مشرکینِ مکہ نے آپ سے جو آخری جنگ کی وہ جنگِ خندق ہے جس کا شمار انتہائی اہم جنگوں میں ہوتا ہے مشرکینِ مکہ نے اپنی اس شرمناک سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہود اور دیگر بہت سارے بت پرست قبائل کی مدد حاصل کی وہ چاہتے تھے کہ مدینہ منورہ پر ایک بڑا اور فیصلہ کن حملہ کر کے اسلام کی اس تازہ حکومت کا خاتمہ کریں اور رسولِ خدا اور ان کے دو چار سو وفادار جانثاروں کو شہید کر کے اسلام کا نام و نشان مٹا دیں لیکن ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی جب حضورِ اکرم کو اس سازش کا پتا چلا تو آپ نے خندق کھدوائی جس جگہ سے مدینہ پر حملے کا خطرہ تھا وہاں پر تقریباً چالیس میٹر چوڑی خندق کھودی گئی رمضان المبارک کا مہینہ تھا بعض روایات کے مطابق سخت سردی کا موسم تھا۔
اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے محصولات کی بھی خاصی کمی ہو گئی تھی۔ لہٰذا بے شمار مشکلات کا سامنا تھا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ خود حضورِ اکرم بنفسِ نفیس خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ جب خندق کی کھدائی کا کام شروع ہوا تو آپ وہاں موجود تھے اور دیکھتے تھے کہ جب بھی ان میں سے کوئی تھک جاتا یا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دے پاتا تو آپ آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے اوزار لے لیتے اور خود کام کرنا شروع کر دیتے تھے یعنی آپ صرف حکم نہیں چلاتے تھے بلکہ بنفسِ نفیس لوگوں کے درمیان موجود ہوتے تھے اور کام کرتے تھے مشرکینِ مکہ نے جب مدینے کے اطراف میں کھدی ہوئی خندق کو دیکھا اور انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ خندق پار نہیں کر سکتے ہیں تو مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے۔
اس موقع پر آپ نے فرمایا مشرکینِ مکہ کا ہم پر یہ آخری حملہ تھا آج کے بعد وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے بلکہ ہم مکہ مکرمہ جا کر ان پر حملہ کریں گے۔ اس کے اگلے سال پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ ہم عمرہ ادا کرنے مکہ مکرمہ جانا چاہتے ہیں صلح حدیبیہ کا واقعہ جو تاریخِ اسلام کا ایک پرمغز اور پرمعنی واقعہ ہے اس کا تعلق بھی اسی زمانے سے ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے قصد سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے مشرکین نے دیکھا کہ حضورِ اکرم ایسے مہینے میں مکہ کی طرف آ رہے ہیں جو قابلِ احترام ہے کہ جس میں جنگ نہیں کی جا سکتی کیونکہ مشرکین بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے لہذا سوچنے لگے کہ کیا کیا جائے آپ کو آنے دیا جائے یا روک دیا جائے اگر آنے دیتے ہیں تو پھر مقابلے کی کیا صورت ہو کیا ماہِ حرام میں بھی جنگ کی جائے کس طرح جنگ کی جائے اس طرح کے ڈھیروں سوال ان کے ذہنوں میں اٹھ رہے تھے
آخرکار فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت محمد کو مکہ مکرمہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور موقع ملتے ہی مسلمانوں کا قتل عام کر دیا جائے گا۔ لیکن رسولِ خدا کی اعلیٰ تدبیر کے نتیجے میں یہی کفارِ مکہ حضرت کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے جس کے مطابق یہ طے ہوا کہ آپ آئندہ سال مکہ میں عمرہ بجا لا سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ آپ کے دائرہِ تبلیغ کی مزید وسعت کا سبب بنا دنیا اسے صلح کے نام سے جانتی ہے لیکن خداوند کریم نے اسے فتح کا عنوان دیا جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے بے شک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح عطا کی ہے۔
اگر صحیح اور مستند تاریخ کی طرف رجوع کیا جائے تو صلح حدیبیہ کے حوالے سے بڑے حیرت انگیز حقائق سامنے آئیں گے صلح کے دوسرے سال حضور عمرہ کے لئے تشریف لے گئے اور دشمنانِ اسلام کی مخالفتوں کے باوجود آپ کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔ اس سے اگلے برس یعنی ہجرت کے آٹھویں سال جب کفارِ مکہ نے معاہدہ توڑا تو سرورِ کائناتﷺ نے مکہ فتح کر لیا ایسی عظیم فتح ملی جو آپ کے اقتدار کا مکمل اظہار تھی پورے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے قدرت و تدبیر، صبر و حوصلہ، عزم و استقلال اور ثبات و استقامت کے ذریعے اپنے دشمن کو سر اٹھانے کا موقع بھی نہ دیا اور آپ اپنے الٰہی اغراض و مقاصد کی راہ میں روز افزوں ترقی کے مراحل طے کرتے رہے تیسرا دشمن یہودی تھے۔
یہ ایسے ناقابلِ اطمینان لوگ تھے جنہوں نے وقتی طور پر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ میں ہی مل جل کر رہنے کا عہد کیا تھا مگر پھر بھی ایذا رسانی، خلل اندازی اور تخریب کاری سے باز نہیں آتے تھے سورہ بقرہ کا ایک اہم حصہ اور بعض دیگر سورتیں یہودیوں کے ساتھ آن حضرت کی ثقافتی جنگ کے بیان پر مشتمل ہیں جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ مدینہ منورہ کے یہودی خود ایک تہذیب و ثقافت کے حامل تھے آگاہ و ہوشیار تھے کمزور عقیدے کے حامل افراد کے دل و دماغ کو متاثر کر دیتے تھے سازشیں کرتے لوگوں کے درمیان ناامیدیاں پھیلاتے اور انہیں مایوس کرتے تھے اور لوگوں کو ایک دوسرے کی جان کا دشمن بنا دیتے تھے۔
یہ یہودی آن حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایسے دشمن تھے جن کی دشمنی بھی نظم و ضبط اور منصوبہ بندی پر استوار تھی پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حتی المقدور نرمی برتی لیکن جب پانی سر سے اونچا ہوا تو انہیں کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔ آپ نے بغیر کسی وجہ کے انہیں سزا نہیں دی بلکہ ان تینوں یہودی قبیلوں میں سے ہر ایک نے معاہدے کی شدید خلاف ورزی کی تو اپنے کیے کے نتیجے بھی انہیں بھگتنا پڑا سب سے پہلے جب بنی قینقاع نے حضورِ اکرم سے خیانت کی تو آپ نے فرمایا۔ اب تمہیں مدینہ چھوڑنا ہوگا۔
وہ مدینے سے نکال دیئے گئے اور ان کی جائیداد وغیرہ مسلمانوں کے حصے میں آئی دوسرا قبیلہ بنی نضیر تھا جس نے معاہدے کو توڑا ان کی داستان بڑی اہم ہے۔ ان کو بھی رسولِ اکرم نے اپنے اموال کے ساتھ مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ لہٰذا وہ بھی چلے گئے تیسرا قبیلہ بنی قریظہ کا تھا جنہیں حضور نے امان دیتے ہوئے مدینہ میں رہنے کی اجازت دی انہیں مدینہ سے نہیں نکالا بلکہ ان سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ جنگِ خندق میں اپنے محلوں سے دشمن کو مدینہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ لیکن انہوں نے احسان فراموشی کا ثبوت دیتے ہوئے سرورِ کائنات پر حملے کیلئے دشمن سے معاہدہ کر لیا اور آپ سے کیے گئے معاہدے پر باقی نہ رہے مدینہ کے ایک حصے میں رسولِ اکرم نے مدینہ کی حفاظت کے لیے خندق کھدوا دی تھی اور دوسری جانب یہودیوں کا محلہ تھا جہاں سے دشمن کو روکنا ان کے ذمہ لگایا تھا۔
لیکن ان خیانتکاروں نے معاہدے پر عمل کے بجائے پیٹھ پر خنجر مارنا چاہا اور دشمن کے ساتھ مل کر سازش کر لی کہ ایک ساتھ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں پر حملہ کریں گے مگر ان کی یہ سازش مخفی نہ رہ پائی اس سازش کے آشکار ہونے تک مدینہ کے محاصرے کو تقریبا ایک مہینہ گزر چکا تھا رسولِ اکرم ﷺ نے ان کی اس ناپاک سازش کا مقابلہ اپنی حکیمانہ تدبیر سے کیا جس کی بنیاد پر خود قریش اور یہودیوں کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ گیا اور ساری سازشیں ڈھری کی ڈھری رہ گئیں پورا ماجرہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ یہاں نبی کریم ﷺ کی زبردست جنگی تدبیر اور سیاسی فراست کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
آپ نے انہیں یہیں روکے رکھا جب قریش اور ان کے حلیفوں کو شکست فاش ہوئی اور وہ خندق کے آس پاس سے مکہ کے طرف واپس پلٹ گئے تو رسولِ خدا نے مدینہ منورہ کے اندر مسجد میں نماز ظہر ادا کرنے کے بعد فرمایا کہ نماز عصر بنی قریظہ کے قلعوں کے سامنے پڑھی جائے گی۔ ایک شب کا وقفہ بھی کیے بغیر آپ نے مسلمانانِ مدینہ کے ہمراہ بنی قریظہ کو محاصرے میں لے لیا پچیس دن تک محاصرہ اور مقابلہ جاری رہا حضورﷺ کے حکم سے ان کے سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا کیونکہ ان کی خیانتیں آشکار تھیں اور قابلِ اصلاح نہ تھیں سرورِ کائنات نے ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا اور اسلام و مسلمین کے سر سے بنی قریظہ، بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں کی دشمنی کا آفت آلہ انسانی اخلاق کے ساتھ قدرت، حکمت اور تدبیر کے ذریعے دور کر دیا۔
ان تمام واقعات میں رسولِ اسلام نے کسی ایک مقام پر بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ معاہدہ رسولِ کریم نے نہیں بلکہ خود یہودیوں نے توڑا تھا چوتھا دشمن منافقین تھے۔ یہ لوگ عوام کے درمیان رہتے تھے زبان سے تو ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ یہ انتہائی پست، کینہ پرور، تنگ نظر اور دشمن کا ساتھ دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہنے والے افراد تھے یہودیوں اور منافقوں میں ایک بڑا فرق یہ تھا کہ منافقین کی اسلام دشمنی منصوبہ بندی کے ساتھ نہیں تھی سرورِ کائنات حملے کی تاک میں رہنے والے منصوبہ ساز دشمن کو امان نہیں دیتے تھے اور اس کے ساتھ وہ رویہ اختیار کرتے تھے جو آپ نے یہودیوں کے ساتھ اختیار کیا۔
لیکن جو دشمن منصوبہ بندی نہیں کرتے تھے اور جن کی بے ایمانی خباثت اور ہٹ دھرمی انفرادی تھی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم انہیں برداشت کر لیا کرتے تھے عبداللہ بن اُبیّ رسولِ اکرم کے بدترین دشمنوں میں سے ایک تھا۔ وہ تقریبا حضورِ اکرم کی زندگی کے آخری سال تک زندہ رہا۔ لیکن آپ نے اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہیں کیا سب مسلمان جانتے تھے کہ وہ منافق ہے۔ اس کے باوجود آپ نے اس کے ساتھ دیگر مسلمانوں جیسا ہی سلوک روا رکھا ہمیشہ بیت المال سے اس کے حقوق ادا کیے اور اس کی جان و مال کو محفوظ رکھا جبکہ اس جیسے منافقین اپنی خباثتوں سے باز نہیں آتے تھے اور سورۂ بقرہ کا ایک حصہ انہیں کی مذمت میں نازل ہوا ہے۔
جب بھی منافقین کے کسی گروہ نے منصوبہ بندی کے ساتھ تحریک شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا مقابلہ کیا۔ ایک مرتبہ ان لوگوں نے منافقانہ سازشوں کے لیے ضرار نامی مسجد کو مرکز بنایا اسلامی حکومت سے باہر روم کے قلمرو میں موجود اسلامی حکومت سے باہر روم کے قلمرو میں موجود ابو عامر راہب جیسے شخص سے رابطہ برقرار کیا تاکہ رومیوں کے ذریعے سرورِ کائنات پر لشکر کشی کی جائے اس منصوبہ بندی کے ساتھ کی جانے والی دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے حضورِ اکرم نے مسجد ضرار منہدم کرا دی اور فرمایا کہ یہ عمارت مسجد نہیں بلکہ یہ اللہ اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا گڑھ ہے۔
اسی طرح منافقین کے ایک گروہ نے اپنے کفر کا اظہار کرتے ہوئے مدینہ منورہ سے باہر ایک لشکر تیار کر لیا رسولِ کریم نے ان کا مقابلہ کیا اور فرمایا کہ اگر وہ نزدیک آئیں تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے خود مدینہ منورہ میں بھی منافقین موجود تھے۔ لیکن اللہ کے رسول نے منصوبہ ساز دشمنوں کی طرح ان کے ساتھ سلوک نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ آپ نے منصوبہ ساز منافقین کے مقابل سخت رویہ اختیار کیا۔ لیکن دیگر منافقین کے ساتھ نرم سلوک روا رکھا کیونکہ ان کا خطرہ انفرادی تھا اکثر و بیشتر سرورِ کائنات اپنے نیک سلوک کے ذریعے انہیں شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیتے تھے پانچواں دشمن وہ تھا جو ہر مسلمان اور مومن کے باطن میں موجود ہے اور یہی دشمن سب سے زیادہ خطرناک تھا۔
یہ دشمن ہمارے اندر بھی موجود ہے نفسانی خواہشات، خود غرضی، ضلالت و گمراہی کی طرف رجحان اور ایسی لغزشیں کہ جن کا سبب خود انسان ہے حضورﷺ نے اس دشمن کا بھی زبردست مقابلہ کیا۔ اس دشمن سے مقابلے کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس مقابلے میں شمشیر اور تیر و تبر سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ تعلیم و تربیت، تزکیۂ نفس اور خوفِ الہی کے اسلحوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ مسلمان لشکر سخت جنگ کر کے واپس لوٹے تو سرورِ کائنات نے فرمایا مرحبا ہو تم پر کہ تم لوگوں نے جہادِ اصغر تو سر کر لیا اور اب جہادِ اکبر رہ گیا ہے سب کو بڑی حیرت ہوئی کہ اس سے بڑا کونسا جہاد ہو سکتا ہے۔
لہٰذا پوچھا یا رسول اللہ جہادِ اکبر کیا ہے۔ ہم نے اتنی بڑی سخت جنگ لڑی، بڑی زحمتیں اٹھائیں، صعوبتیں جھیلیں، مصیبتیں برداشت کیں اب اس سے بڑھ کر جہاد کیا ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ ہے نفس کے ساتھ جہاد قرآن میں ارشادِ الہی ہوتا ہے وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ آیت 125 اس آیت میں جن کے دلوں میں مرض بتایا گیا ہے وہ سب کے سب منافق نہیں ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہے کہ منافقین بھی اس آیت کے مصداق ہیں یعنی یہ ممکن ہے کہ ایک شخص منافق نہیں بلکہ مومن ہے مگر اس کے دل میں مرض پایا جاتا ہو یہ کون سا مرض ہے؟ یہ کیسی بیماری ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اخلاقی کمزوریاں، نفسانی خواہشیں اور خود غرضیاں ہیں کہ اگر ان سے پرہیز نہ کیا گیا اور ان کا مقابلہ نہ کیا گیا تو انسان ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ظاہر تو مومنوں جیسا ہوگا لیکن دل ایمان سے خالی ہوگا اور اسی کو اسلام کی اصطلاح میں منافق کہا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ہمارا اور آپ کا دل ایمان سے خالی ہو جائے جبکہ ظاہری شکل و شمائل مومنوں جیسے ہوں۔ اگر ہم کردار میں ایمانی اور اعتقادی حدود سے تجاوز کر جائیں جبکہ ہماری زبانیں حسب سابق مومنوں جیسی باتیں کر رہی ہوں تو یہی نفاق ہے۔
یہ ایک اسلامی معاشرے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ قرآن کریم میں اس سلسلے میں ارشادِ الٰہی ہوتا ہے ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوءَىٰ أَنْ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِئُونَ سورۂ روم آیت 10 اس کے بعد برائی کرنے والوں کا انجام برا ہوا۔ وہ برا کیا ہے؟
وہ خدا کی نشانیوں کو جھٹلانا ہے۔ ایک اور مقام پر ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے اس عظیم فریضہ اللہ کی راہ میں خرچ پر عمل نہیں کیا، ارشاد ہوتا ہے سورۂ توبہ آیت 77 جن لوگوں نے اس عظیم ذمہ داری راہِ خدا میں انفاق پر عمل نہیں کیا کیونکہ انہوں نے خدا کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے ان کے دل میں نفاق پیدا ہوا ہے اسلامی معاشرے کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک چیز ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں اسلامی معاشرے میں جو انحراف پیدا ہوا اس کی وجہ نفاق ہے ممکن ہے کہ ایک مرتبہ باہر سے کوئی دشمن اس پر حملہ آور ہو جائے اور وہ شکست دے، مار دھاڑ کرے لیکن وہ اس کو نابود نہیں کر سکتا کیونکہ ایمان اپنی جگہ باقی رہتا ہے اور کسی نہ کسی موقع پر سر اٹھاتا ہے اور دوبارہ ایمان کا شجرہ سرسبز و شاداب ہوتا ہے۔
لیکن اگر کبھی یہ اندرونی دشمن حملہ آور ہو جائے تو وہ انسان کے دل کو ایمان کے نور سے خالی کر دیتا ہے اور اسے غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔ پس جہاں کہیں بھی انحراف دکھائی دے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے پیچھے نفاق کارفرما ہے۔ پیغمبر اکرم نے اپنی حیات مبارکہ میں اس دشمن کا بھی مقابلہ کیا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ تدبر اور غور و فکر کے بعد کوئی کام کرتے تھے اور ہر کام کو بروقت انجام دیتے اور کسی بھی کام کا وقت گزرنے نہیں دیتے تھے انفرادی لحاظ سے آپ قناعت پسند اور پاک و صاف طبیعت کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت میں کسی بھی قسم کی کمزوری کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا تھا۔ آپ پاک و صاف اور عصمت کے مالک تھے۔ یہ خود ہی معاشرے پر اثر انداز ہونے کا ایک بہترین سبب ہے عمل زبان سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ آپ ہمیشہ صاف صاف بات کیا کرتے تھے اور کبھی دوغلی باتیں نہیں کرتے تھے۔
لیکن جب کبھی دشمن سے واسطہ پڑتا تھا تو ایسی سیاست سے کام لیتے کہ دشمن آپ کی تدبیر سے دھوکہ کھا جاتا تھا چاہے سیاسی اعتبار سے ہو یا دفاعی لحاظ سے آپ نے متعدد بار دشمن کو دھوکہ کھانے پر مجبور کر دیا۔ لیکن مسلمانوں اور عام لوگوں کے ساتھ سیدھی سیدھی بات کرتے تھے کبھی مبہم بات نہیں کرتے تھے اور بوقت ضرورت انتہائی نرمی کا بھی بھرپور مظاہرہ کرتے تھے جیسا کہ عبداللہ بن ابی کے واقعے میں اس کا ذکر ملتا ہے جو کہ ایک تفصیلی واقعہ ہے آپ جب کسی دشمن کے ساتھ کوئی وعدہ کرتے تو پھر ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے۔