امام علیؑ

امام علیؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام علیؑ

امام علیؑ

عام الفیل ۳۰

ہجری ۴۰

حصہ 4 از 4

حضرت علیؐ

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

آپ کی مظلومیت کے ساتھ، آپ کی حکومت کا جو خاتمہ ہوا، اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے دور حکومت میں جس کی مدت پانچ سال سے بھی کم ہے تین قسم کے گروہوں نے آپ کے مقابلے میں صف آرائی کی قاسطین، ناکثین اور مارقین اہل تشیع اور اہل سنت دونوں کی کتابوں میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی گئی ہے آپ فرماتے ہیں میں ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ پر مامور کیا گیا ہوں بحار الانوار جلد 44 صفحہ 36 اور ان لوگوں کے یہ نام بھی آپ نے خود ہی رکھے ہیں قاسطین کے معنی ستمگر اور ظالم کے ہیں عربی قائدے کے حساب سے جب قسط مجرد استعمال ہوگا جیسے قسط یقسطو یا جار یجور ظلم یا یظلمو تو یہ ظلم کرنے کے معنی میں ہوگا اور اگر یہی مادہ ثلاثی مزید اور باب افعال میں لے جایا جائے تو پھر عدل و انصاف کا معنی دے گا جیسے اقسط یُقسطو یعنی عدل و انصاف لہٰذا اگر قسط کو باب افعال میں لیا جائے تو عدل و انصاف کے معنی میں ہوگا

اور اگر ثلاثی مجرد استعمال ہو جیسے قسطا یقسطو تو پھر اس کے خلاف معنی دے گا یعنی ظلم و جور یہاں قاسطین ظلم و جور کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی ستمگر اور ظلم کرنے والے حضرت نے ان کا نام ظالم رکھا ہے۔ یہ کون لوگ تھے یہ ان لوگوں کا گروہ تھا جنہوں نے مصلحتاً اور ظاہراً اسلام قبول کیا تھا اور یہ لوگ علوی حکومت کو سرے سے مانتے ہی نہیں تھے امیر المومنین علیہ السلام نے ان کے ساتھ جو کچھ بھی کیا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ لوگ شام کے گورنر معاویہ بن سفیان کے حمایتی لوگ تھے ان کا اہم لیڈر معاویہ تھا۔

اس کے بعد مروان بن حکم اور پھر ان کے بعد ولید بن عقبہ تھا۔ یہ لوگ ایک محاذ پر اکٹھے تھے جو امام علی علیہ السلام کے ساتھ کسی صورت میں تعاون کرنے کے لیے تیار نہ تھے یہ بات بھی درست ہے کہ آپ کی حکومت کے آغاز ہی میں مغیرہ بن شعبہ اور عبداللہ بن عباس اور دوسرے لوگوں نے امیر المومنین سے کہا تھا اے امیر المومنین انہیں کچھ عرصے کے لیے اپنے منصب اور حالت پر رہنے دیجئے مگر حضرت نے ان کی اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ اس وقت ان لوگوں نے سمجھا کہ شاید آپ کو سیاست نہیں آتی لیکن بعد کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو مشورہ دینے والے یہ لوگ خود بے خبر تھے کیونکہ امیر المومنین علی علیہ السلام کچھ بھی کرتے معاویہ آپ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔

اس کی کھوپڑی میں وہ دماغ ہی نہیں تھا جو علوی حکومت کو قبول کر سکے اگرچہ آپ سے پہلے والے ان میں سے بعض کو برداشت کرتے آئے تھے۔ معاویہ کے مسلمان ہونے سے لے کر امیر المومنین سے جنگ کرنے تک کوئی تیس سال سے کچھ کم مدت کا عرصہ گزر گیا۔ معاویہ اور اس کے حامیوں نے سال ہا سال شام پر حکومت کی تھی اور لوگوں میں اثر و نفوذ پیدا کیا تھا اور اپنے لئے ایک مرکز بنایا تھا۔ اب وہ شروع کا دور نہیں تھا کہ انہیں نو مسلم کہہ کر روکا ٹوکا جاتا بلکہ انہوں نے اپنی جگہ مستحکم کر لی تھی۔ اس بنا پر وہ کسی بھی صورت میں علوی حکومت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

وہ حکومت کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتا تھا لوگوں نے بعد میں اس کا تجربہ بھی کر لیا اور دنیائے اسلام نے اس کی حکومت کا مزا بھی خوب چکھا وہی معاویہ جو امام علی علیہ السلام سے چپقلش اور رقابت کے دوران بعض اصحاب کے ساتھ نرمی و ملائمت سے پیش آتا تھا بعد میں اسی کی حکومت نے ان کے ساتھ سخت رویہ اپنایا یہاں تک کہ یزید کا زمانہ آیا اور واقعہ کربلا رونما ہوا۔ اس کے بعد مروان عبد الملک حجاج بن یوسف ثقفی اور یوسف بن عمر ثقفی جیسے خونخوار لوگ حاکم بنے جو اسی حکومت اور عمارت کا ایک تلخ نتیجہ تھا یعنی کہ یعنی یہی حکومتیں جن کے جرائم کے بیان سے تاریخ کانپتی ہے جیسے حجاج کی حکومت اسی حکومت کا ثمرہ تھا جس کی بنیاد معاویہ نے رکھی تھی اور اسی طرح کے کام کے لیے امیر المومنین علیہ السلام سے جنگ تھی یہ تو ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ ان لوگوں کا کیا ارادہ ہے اور کیا چاہتے ہیں یعنی یہ لوگ دنیا پرستی خود غرضی اور اپنی خواہشات پر مبنی ایک دنیوی حکومت چاہتے تھے

جیسا کہ بنو امیہ کی حکومت میں لوگوں نے اس چیز کو اچھی طرح محسوس کیا تھا۔ البتہ میں یہاں کوئی عقیدے یا کلامی بحث نہیں کر رہا ہوں بلکہ تاریخی حقائق آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور یہ کوئی شیعہ تاریخ بھی نہیں ہے بلکہ تاریخ ابن اثیر تاریخ ابن قتیبہ وغیرہ جس کی اصل عبارتیں میں نے لکھی ہیں اور یہاں جو میں نے لکھا یہ تاریخ میں سے ہیں جس میں شیعہ سنی اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے دوسرا گروہ جس نے امیر المومنین کے ساتھ جنگ کی وہ ناکثین کا تھا ناکثین یعنی توڑنے والے لوگ اور یہاں پر اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو پہلے تو امام علیّ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے،

لیکن بعد میں انہوں نے اسے توڑ دیا۔ یہ لوگ مسلمان تھے اور اس پہلے والے گروہ "قاسطین" کے مقابلے میں، اپنے ہی آدمی تھے۔ البتہ یہ ایسے تھے جو حکومت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو اسی حد تک قبول کرنے کو تیار تھے جہاں تک خود ان کو اس سے خاطر خواہ فائدہ ملے۔ یعنی ان سے رائے لی جائے اور مشورہ لیا جائے، انہیں حکومتی سطح پر ذمہ داریاں دی جائیں، انہیں حاکم بنایا جائے، جو مال اور ثروت ان کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے بارے میں ان سے کوئی بازپرس نہ کی جائے، یہ نہ پوچھا جائے کیسے اسے حاصل کیا ہے؟

یہ گروہ امیرالمومنین علیہ السلام کو خلیفہ مانتا تھا۔ البتہ اس گروہ کی طرف سے شرط یہ تھی کہ آپ کو ان کے مذکورہ چیزوں کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نہ کہا جائے کہ یہ مال و دولت کیوں جمع کیا ہے؟ کہاں سے اکٹھا کیا ہے؟ اسے کیوں کھا رہے ہو؟ کیوں لے جا رہے ہو؟ اور دیگر اس قسم کے سوالات نہیں ہونے چاہییں۔ لہٰذا پہلے تو ان کی اکثریت نے بیعت کی، البتہ کچھ لوگوں نے بیعت نہیں کی۔ اور سعد بن ابی وقاص نے شروع ہی سے بیعت نہیں کی تھی۔

لیکن جناب طلحہ و زبیر اور دیگر بزرگ اصحاب آپ کی خلافت کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے لیکن تین چار مہینے بعد انہوں نے دیکھا کہ اس حکومت کے ساتھ چلا نہیں جا سکتا کیونکہ ان کے گمان میں یہ ایک ایسی حکومت تھی جو دوست اور آشنا کو نہیں جانتی تھی۔ جو اپنے لیے اور اپنے اہلِ و عیال کے لیے کسی امتیازی حق کی قائل نہیں ہے۔ جو اسلام لانے میں پہل کرنے والوں کے لیے کسی حق کی قائل نہیں ہے، اگرچہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے خود امام علی ہی ہیں۔ احکامِ الہی اور حدود کے اجرا میں کسی کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے جب ان چیزوں کو دیکھا تو کہا نہیں جناب! اس آدمی کے ساتھ تو ہم نہیں چل سکتے۔ لہٰذا یہ لوگ آپ سے الگ ہوئے اور جنگ جمل کے اس فتنے کو بھڑکا دیا جو حقیقت میں ایک فتنہ تھا۔

انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا، بہت سارے لوگ اس جنگ میں کام آ گئے۔ البتہ فتح و کامرانی امیرالمومنین علی علیہ السلام ہی کو نصیب ہوئی۔ اور آپ نے معاملے کو صاف کر دیا۔ یہ بھی ایک دوسرا محاذ تھا جس نے ایک مدت تک امیرالمومنین کو مشغول کیے رکھا۔ تیسرا "مارقین" کا تھا۔ مارق یعنی گریز کرنے والا۔

ان کی وجہ تسمیہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل گئے تھے جس طرح ایک تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ جب آپ تیر کو کمان میں رکھ کر پھینکتے ہیں، تو وہ کمان سے باہر نکل جاتا ہے اور کمان سے گریزاں ہوتے ہوئے اس سے دور ہو جاتا ہے۔

اسی طرح یہ لوگ بھی دین سے دور ہو گئے تھے۔ البتہ وہ ظاہراً دین سے متمسک بھی تھے اور دین کا نام بھی لیتے تھے۔ یہ خوارج تھے۔ یہ ایسے لوگوں کا گروہ تھا جو اپنی کج فکری اور انحراف جو ایک انتہائی خطرناک چیز ہے۔ کی بنیاد پر کاموں کو انجام دیتے تھے۔

وہ دین کو علی ابن ابی طالب علیہ السلام جو مفسر قرآن اور علم کتاب کے حقیقی معلم بھی تھے، سے حاصل کرنے کی بجائے اپنے غلط سلط طریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن ان کا ایک باقاعدہ گروہ کی شکل میں نمودار ہونے، یعنی آج کی اصطلاح میں، ایک پارٹی کی شکل اختیار کرنے کے لیے سیاست کی ضرورت تھی۔ اور سیاست کے لیے وہ کہیں اور سے رہنمائی لیتے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس چھوٹے سے گروہ کے افراد کے سامنے جب آپ کچھ کہتے، تو وہ فوراً قرآن مجید کی ایک لمبی سی آیت تلاوت کرتے تھے۔ جبھی امیرالمومنین علی علیہ السلام کی نمازِ جماعت کے درمیان آ جاتے اور کنایتاً آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کوئی آیت پڑھتے تھے۔

آپ کے خطبے کے درمیان کھڑے ہو جاتے تھے اور اشارے کنایے میں کوئی آیت تلاوت کرتے تھے۔ ان کا مشہور نعرہ "لا حکم الا للہ" تھا، "حکمرانی کا حق صرف خدا کو ہے"۔ یعنی ہم آپ کی حکومت کو قبول نہیں کرتے، ہم تو صرف خدا کی حکومت کو جانتے ہیں۔

یہ ایسے لوگ تھے کہ جن کا ظاہر ایسا تھا، لیکن ان کی پالیسیاں اور انہیں چلانے کا کام حکومت شام اور بزرگانِ قاسطین، یعنی عمرو عاص اور معاویہ انجام دیتے تھے۔ اور وہیں سے ہی انہیں سیاسی طور پر ہدایت ملتی تھی۔ کیونکہ ان لوگوں کے آپس میں روابط تھے۔ جیسا کہ مختلف قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اشعث ابن قیس، مارقین کا سردار، ایک بے ایمان شخص تھا۔ کمزور عقیدہ رکھنے والے بیچارے اور کمزور افراد اس کے پیچھے چل پڑے تھے۔

پس جس تیسرے گروہ سے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو سامنا کرنا پڑا، وہ مارقین تھے۔ البتہ آپ کو اس گروہ کے مقابلے میں بھی کامیابی ملی اور جنگ نہروان میں آپ نے انہیں زبردست شکست دی۔ لیکن معاشرے میں ان کا وجود باقی رہا اور آخر کار انہیں کے ہاتھوں امیرالمومنین کو جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ خوارج کی پہچان میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ بعض لوگ خوارج کو خشک مقدسوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بحث مقدس مآب یا خشک مقدس کی نہیں ہے۔ کیونکہ مقدس مآب لوگ تو کسی گوشے میں بیٹھ کر نمازوں اور دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں۔ جبکہ خوارج ایسے لوگ نہیں تھے۔ بلکہ یہ ایسے لوگوں کا گروہ تھا جو فتنہ و فساد کو بھرکاتا بحران پیدا کرتا اور لڑنے جھگڑنے کے لیے میدان میں کود پڑتا تھا۔ اور امیرالمومنین جیسی عظیم شخصیت سے جنگ کے لیے تیار تھا۔

البتہ اس گروہ کے اس کام کی بنیاد غلط تھی۔ ان کی جنگ غلط تھی۔ ان کے اسباب غلط تھے اور ہدف باطل تھا۔ یہ وہ تین گروہ تھے جن کے ساتھ امیرالمومنین نے جنگ کی اور ان جیسے لوگوں سے امام علی علیہ السلام کو سامنا کرنا پڑا۔ پیغمبرِ اکرمؐ کی حیات مبارکہ، آپ کی حکومت اور امیرالمومنین کے دور حکومت میں جو خاص فرق تھا وہ یہ تھا کہ نبی اکرم کی حیاتِ طیبہ میں محاذ معین تھے۔

ایک طرف ایمان کا محاذ تھا تو دوسری طرف کفر کا محاذ تھا۔ جہاں تک منافقین کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں مسلسل آیاتِ قرآنی لوگوں کو خبردار اور ہوشیار کرتی رہتی تھی اور ان کی نشاندہی کرتی تھی۔ اور ان کے مقابلے میں مومنین کو قوت فراہم کرتی تھی اور ان منافقین کو نفسیاتی طور پر کمزور کرتی تھی۔ یعنی پیغمبرِ اکرم کے دورِ حیات اور نظامِ اسلامی میں، ساری چیزیں واضح تھیں۔ صفیں معین اور ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑی تھیں۔ کوئی نظامِ کفر، طاغوت اور جہالت کی صف میں موجود تھا، تو کوئی ایمان، اسلام عدل اور معنویت کی صف میں تھا۔

البتہ اس دور میں بھی ہر طرح کے لوگ موجود تھے، مگر صفیں مشخص اور معین تھیں۔ لیکن امیرالمومنین کے دور میں یہ مسئلہ تھا کہ صفیں واضح نہیں تھیں۔ کیونکہ دوسرے گروہ یعنی "ناکسین" میں ایسے افراد موجود تھے جن کا شمار جانے پہچانے لوگوں میں ہوتا تھا۔ جنہیں دیکھ کر لوگ شک و تردد کا شکار ہو جاتے تھے۔ جیسے زبیر اور طلحہ وغیرہ۔ یہ زبیر وہ شخص تھا جس کا شمار رسولِ اکرم کے دور میں اکابر صحابہ اور اہم شخصیات میں ہوتا تھا۔ اور وہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ کے قریبی لوگوں میں سے تھا۔

یہاں تک کہ پیغمبرِ اکرم کی وفات کے بعد بھی اس کا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا تھا جنہوں نے امیرالمومنین کا دفاع کرتے ہوئے سقیفہ کے اجتماع پر اعتراض کیا تھا۔ جی ہاں ہر ایک کی قسمت کا فیصلہ اس کا آخری انجام کر دیتا ہے۔ خدا ہم سب کی عاقبت بخیر کرے۔ کبھی کبھار دنیا طلبی، مختلف حالات اور دنیا کے رنگ برنگے جلوے انسان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اور یہ بعض شخصیات کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں کہ انسان عوام تو عوام، خواص کے بارے میں بھی شک و تردد کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس لحاظ سے واقعتاً یہ بہت سخت دور تھا۔ جن لوگوں نے امیرالمومنین کا ساتھ دیا اور دشمن کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور دشمن سے جنگ کی، انہوں نے واقعتاً بہت ہی بصیرت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ میں نے حضرت علی کی ایک روایت بیان کی ہے۔

آپ فرماتے ہیں: "پرچمِ ولایت اہلِ بصیرت اور صبر رکھنے والوں کے علاوہ کوئی دوسرا اٹھانے کی قابلیت ہی نہیں رکھتا۔" نہج البلاغہ، خطبہ 173۔ لہٰذا پہلے مرحلے میں سمجھداری اور بصیرت کی ضرورت ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کے غلط رویوں کے مقابلے میں جو اسلام کے داعی بھی تھے اور امیرالمومنین علی علیہ السلام سے جنگ بھی کرتے اور بے بنیاد اور غلط باتیں بھی کرتے تھے۔ اور امیرالمومنین کے مشکلات اور مسائل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صدرِ اسلام میں بھی بہت سی غلط سوچ اور افکار زیر بحث لائے جاتے تھے، لیکن ان کے مقابلے میں فوراً ہی قرآن کی آیت نازل ہوتی اور ایسے افکار کو واضح طور پر رد کرتی تھی۔ چاہے وہ مکی دور ہو یا مدنی۔

آپ غور کیجیے کہ سورۂ بقرہ جو ایک مدنی سورہ ہے، جب انسان اس میں غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی زیادہ تر آیات پیغمبرِ اسلام کا یہودیوں اور منافقین کے ساتھ مقابلہ اور اسلام کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں کو بے نقاب کرتے ان کی جزئیات تک کو بیان کرتی ہیں۔

یہاں تک کہ اس وقت مدینہ کے یہودی پیغمبرِ اسلام کو روحانی اذیت پہنچانے کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کرتے تھے، قرآن مجید اسے بھی بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: "یَا أَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا" "اے ایمان والو! تم رسول کو اپنے طرف متوجہ کرنا چاہو تو 'رَاعِنَا' (ہماری رعایت کیجیے) نہ کہا کرو بلکہ 'انْظُرْنَا' (ہم پر توجہ فرمائیے) کہا کرو۔" (سورۂ بقرہ، آیت 104) اس طرح کی اور باتوں کو بھی بیان فرماتا ہے۔ مثلاً سورۂ اعراف ایک مکی سورہ ہے۔

اس میں ایک مفصل گفتگو کرتے ہوئے خرافات اور توہمات سے جنگ کی ترغیب دیتا ہے۔ چنانچہ حقیقی محرقات کو گوشت کے انواع و اقسام کے مقابلے میں حلال و حرام قرار دینا اور حقیقی محرمات کو بیکار اور ہیچ سمجھنے پر بات کی گئی ہے۔ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "اے رسول! تم صاف صاف کہہ دو کہ ہمارے پروردگار نے تو تمام بدکاریوں کو خواہ ظاہری ہوں یا باطنی، حرام کیا ہے۔" (سورۂ اعراف، آیت 33) "یہ چیزیں حرام ہیں، نہ کہ وہ جسے تم نے اپنے لیے حرام قرار دیا ہے۔ جیسے سائبہ۔ سائبہ اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جسے بتوں سے نذر کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ "بحیرہ" اس اونٹ کو کہا جاتا ہے جس نے پانچ مرتبہ بچے دیے ہوں جس کا آخری بچہ نر ہو، وغیرہ وغیرہ۔"

قرآن کریم ایسے افکار کا کھلم کھلا مقابلہ کرتا ہے۔ لیکن امیرالمومنین کے دور میں ان کے مخالفین اسی قرآن سے استفادہ کرتے ہوئے قرآن کی انہی آیات کو پیش کرتے تھے۔ لہٰذا اس لحاظ سے امیرالمومنین کو بہت سی مشکلات اور مسائل کا سامنا تھا۔ امیرالمومنین نے اپنے مختصر دورِ حکومت کو اس قسم کے سخت اور مشکل حالات میں گزارا ہے۔

ان لوگوں اور حالات کے مقابلے میں حضرت علی علیہ السلام کا اپنا ایک محاذ تھا جو حقیقت میں ایک مضبوط محاذ تھا۔ جس میں عمار یاسر، مالک اشتر، عبداللہ ابن عباس، محمد بن ابی بکر، میثم تمار، اور حجر بن عدی جیسے لوگ تھے۔ یہ ایسے مومن، آگاہ اور بابصیرت شخصیات تھیں جو لوگوں کی فکری ہدایت میں بہت اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔ اور یہ آپ کے زمانہ حکومت کا ایک خوبصورت ترین دور بھی تھا۔

البتہ یہ خوبصورتی اور حسن انہی بزرگ افراد کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اور ایک لحاظ سے ان شخصیات کو جس رنج و الم اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ایک تلخ ترین دور بھی تھا۔ یہ تاریخ کا وہ منظر ہے کہ ان حضرات نے کوفہ اور بصرہ کا رخ کیا تھا۔

جب طلحہ اور زبیر اور ان جیسے لوگوں نے صف آرائی کرتے ہوئے بصرہ پر قبضہ کر لیا اور وہ کوفہ کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے، تو امیرالمومنین علی علیہ السلام نے حضرت امام حسن علیہ السلام اور بعض دیگر اصحاب کو کو روانہ فرمایا۔ انہوں نے ان لوگوں سے جو مذاکرات کیے، مساجد میں لوگوں کے اجتماعات سے جو خطاب کیے، لوگوں سے مناظرے کیے، وہ سب صدرِ اسلام کی تاریخ کے پرمغز، حسین اور زیبا، اور ہیجان انگیز آثار میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ ملاحظہ کیجیے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کے دشمنوں نے جن شخصیات پر سب سے زیادہ حملے کیے ہیں وہ یہی یہی حضرات تھے مالک اشتر، عمار یاسر، محمد بن ابی بکر کے خلاف سب سے زیادہ سازشوں کے جال بچھائے گئے اور ان تمام لوگوں کے خلاف بھی جو شروع دن سے امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ تھے اور اپنے اخلاص و ایمان اور محبت کا امتحان دے چکے تھے اور اپنی بصیرت اور قوتِ ایمانی کو عملاً ثابت کر چکے تھے۔

ان کی جانب دشمن کی طرف سے انواع و اقسام بہتانوں اور تہمتوں کے تیر پھینکے جاتے تھے اور دشمن ان کی جان کے درپے ہوتے تھے، اس لیے ان میں سے اکثر لوگ شہید کر دیے گئے۔ عمار یاسر جنگِ صفین میں شہید ہوئے جبکہ مالک اشتر اور محمد بن ابی بکر شامیوں کی سازشوں کے ذریعے شہید ہوئے اور جو حضرات باقی بچے تھے وہ بھی بعد میں انتہائی بے رحمانہ اور سفاکانہ طریقوں سے شہید کر دیے گئے۔

یہ تھی امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی اور آپ کے طرزِ حکومت کے متعلق چند باتیں۔ اگر ہم اس کا خلاصہ کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی حکومت ایک مقتدر، مستحکم اور کامیاب حکومت ہونے کے ساتھ ایک مظلوم حکومت بھی تھی۔ امیرالمومنین نے اپنے زمانے میں بھی دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور اپنی مظلومانہ شھادت کے بعد بھی تاریخ میں ایک مشعل کی طرح ہمیشہ روشن رہے۔ البتہ اس دوران آپ کے دل کو خون کر دینے والے حادثات، آپ کی محنتیں، مشقتیں اور واقعات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔

ڈھائی سو سالہ انسان