امام علیؑ

امام علیؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام علیؑ

امام علیؑ

عام الفیل ۳۰

ہجری ۴۰

حصہ 3 از 4

حضرت علیؐ

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

اور اس کی قیمت بھی چکائی اور اس قیمت کو تین جنگوں کی صورت میں ادا کر دیا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ لیکن جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ایسا نہ ہو سکا اور آپ نے اپنے اس مسلمہ حق کے دفاع کے لیے کسی قسم کی جدوجہد نہیں کی اور پچیس سال تک صبر کیا۔ اگر کوئی دوسرا شخص بھی اس سلسلے میں کچھ کہنا چاہتا تو آپ اسے بھی خاموش کرا دیتے تھے تم بہت تنگ حوصلہ ہو اور غلط راستے پر چل پڑے ہو اور اس لوٹ مار کا ذکر چھوڑو جس کا شور چاروں طرف مچا ہوا تھا نہج البلاغہ خطبہ 162 امیر المومنین علیہ السلام سے منسوب اس قسم کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔

آپ نے اس معاملے پر پچیس سال کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن ایک ایسے مسئلے پر جو بظاہر اس پہلے والے مسئلہ خلافت سے کم تر دکھائی دیتا ہے یعنی مسئلہ عدالتِ اجتماعی مسئلہ احیائے اقدارِ نبوی اور اسلامی اصولوں کے احیاء کے لیے آپ نے تین جنگیں یعنی جنگِ جمل جنگِ صفین اور جنگِ نہروان لڑی ہیں۔ آپ اندازہ کیجئے کہ امیر المومنین علیہ السلام کی نظر میں یہ کتنا اہم کام تھا یہی امیر المومنین علیہ السلام کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ اس کے بارے میں امیر المومنین کا ایک اور فرمان بھی موجود ہے۔ اگر ہم علوی معارف سے آشنا ہو جائیں تو برا نہیں آپ فرماتے ہیں۔

اگر کوئی انسان مومن ہے کوئی مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ اس نے زحمتیں اٹھائی ہیں محاذِ جنگ پر لڑا ہے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں تو ایسے شخص کے حقوق کا احترام کرنا تم پر واجب ہے غرر الحکم و درر الکلم صفحہ 69 اور کسی موقع پر یہی شخص کوئی خطا کرے اور کسی کا حق ضائع کر دے تو اس کے سابقہ کارناموں کو اس خطا کی سزا دینے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ لہٰذا مسائل کو ایک دوسرے سے الگ الگ کریں اگر کوئی اچھا آدمی ہے کوئی اہم شخصیت ہے۔ اس کا ماضی شاندار رہا ہے۔ اس نے اسلام اور مملکت کے لیے زحمتیں اٹھائی ہیں تو بہت اچھا اس کا حق محفوظ ہے۔

وہ ہمارے لیے قابل احترام ہے۔ لیکن اگر یہی شخص کوئی خطا کر بیٹھے تو اس کی گزشتہ اچھائیوں کی وجہ سے اس کی اس خطا کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے یہی امیر المومنین علیہ السلام کی منطق ہے نجاشی نامی ایک شاعر جس کا شمار امیر المومنین کے چاہنے والوں اور آپ کے مداحوں میں ہوتا ہے جس نے جنگِ صفین میں اپنے بہترین اشعار کے ذریعے لوگوں کو معاویہ کے خلاف جنگ پر ابھارا تھا جو اخلاص، ولایت پذیری اور اپنے سابقہ کارناموں کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس نے ایک مرتبہ ماہِ رمضان المبارک میں شراب نوشی کی اور جب امیر المومنین کو اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا شراب نوشی کی سزا تو معین ہے اسے لایا جائے تاکہ اس پر حد جاری کی جا سکے امیر المومنین نے لوگوں کے سامنے اس پر شراب نوشی کی حد جاری کی اور اسے کوڑے مارے نجاشی کے خاندان اور اس کے گھر والوں کو جب پتہ چلا تو وہ امیر المومنین کی خدمت میں پہنچ گئے

اور کہنے لگے یا علی، آپ نے تو ہمیں بے آبرو کر دیا۔ وہ تو آپ کے چاہنے والوں اور دوستوں میں سے تھا یعنی آج کی اصطلاح میں آپ ہی کی پارٹی کا تھا۔ آپ نے فرمایا میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ ایک مسلمان نے غلط کام کیا تھا جس پر ایک حدِ الہی واجب ہو گئی تھی اور میں نے اس حد کو جاری کر دیا ہے۔ البتہ نجاشی نے امیر المومنین کے ہاتھ سے کوڑے کھانے کے بعد کہا۔ اگر ایسا ہے تو پھر آج کے بعد میں معاویہ کے بارے میں شعر کہوں گا۔ یہ کہہ کر امیر المومنین علیہ السلام سے جدا ہو گیا اور معاویہ کے کیمپ سے ملحق ہو گیا۔

اس موقع پر امیر المومنین نے یہ نہیں فرمایا کہ ہمیں افسوس ہوا کہ نجاشی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اسے روکنا چاہیے نہیں بلکہ آپ نے فرمایا۔ اگر وہ جا رہا ہے تو جانے دو البتہ نہ جاتا تو بہتر تھا۔ یہ تھی امیر المومنین علیہ السلام کی منطق اور آپ کا طریقہ کار آپ نے نجاشی کے دوستوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کیا وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ اس نے حکمِ الہی کی حرمت کو پامال کیا تھا اور ہم نے بھی ایک حد کو جو اس کا کفارہ ہے اس پر جاری کیا ہے الحياء، مترجم: احمد آرام، جلد 2، صفحہ 714 یعنی ہمارے حد جاری کرنے سے اس کے گناہ جھڑ گئے قبیلہ بنی اسد جو حضرت علی کے رشتہ دار بھی تھے ان کے ایک شخص پر کوئی حد واجب ہو گئی تھی۔

اس قبیلے کے بعض لوگ جو امیر المومنین کے چاہنے والے تھے کہنے لگے کہ جا کر اس مسئلے کو حل کرتے ہیں اور وہ پہلے حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ گئے تاکہ آپ کو امام علی کے پاس سفارش قرار دیں امام حسن نے فرمایا میرے جانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ لوگ خود ہی چلے جائیں کیوں کہ میرے بابا آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ لوگ خود ہی حضرت کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا۔ ہمارے لیے یہ مشکل درپیش ہے۔ لہٰذا ہماری مدد کیجئے حضرت نے فرمایا جو کام میرے اختیار میں ہوگا میں اسے ضرور انجام دوں گا۔

یہ لوگ خوشی خوشی وہاں سے نکل گئے راستے میں جب ان کی ملاقات امام حسن سے ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ آپ کے کام کا کیا ہوا کہنے لگے حضرت نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔ امام حسن نے پوچھا کہ حضرت نے کیا وعدہ کیا ہے کہنے لگے کہ ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو کام ان کے اختیار میں ہوگا وہ ضرور کریں گے۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام مسکراتے ہوئے کہنے لگے تو پھر جاؤ جا کر حد جاری کروانے کی تیاری کرو بعد میں جب امیر المومنین نے اس شخص پر حد جاری کی تو وہ لوگ آ کر اعتراض کرنے لگے یا علی اس شخص پر کیوں حد جاری کی آپ نے فرمایا حد تو میرے اختیار میں نہیں ہے۔

یہ حکمِ الہی ہے میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جو کچھ میرے اختیار میں ہوگا وہ انجام دوں گا اور حد میرے اختیار میں نہیں ہے دعائم الاسلام جلد 2 صفحہ 443 جبکہ بنی اسد امیر المومنین کے چاہنے والوں میں سے تھے۔ یہ حضرت علی علیہ السلام کا طرزِ زندگی تھا آپ کے کھانے پینے اوڑھنے بچھونے اور طرزِ زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں نقل کی گئی ہیں الحمدللہ اچھا ہوا راوی کہتا ہے کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ حسنین علیہ السلام بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ ان کا کھانا روٹی، سرکہ اور سبزی پر مشتمل تھا میں نے کہا اے شہزادو!

آپ امیر المومنین علیہ السلام کے بیٹے ہو۔ آپ کا تعلق حکمران گھرانے سے ہے۔ بازار میں کھانے پینے کی اتنی ساری چیزیں دستیاب ہیں۔ یعنی رہبہ کوفہ کے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے میں بھی اتنا کچھ موجود ہے کہ لوگ وہاں سے استفادہ کرتے ہیں۔ اور آپ شہزادوں کا کھانا یہ ہے؟ حسنین علیہ السلام نے راوی کی طرف رخ کر کے کہا، 'ما اغفلہ کا؟' 'ان عمر المومنین' یعنی تم امیر المومنین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ جاؤ جا کر آپ کی زندگی کو دیکھ لو۔

حضرت کا اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی یہی سلوک تھا المناقب جلد 2، صفحہ 108 آپ نے حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کا ابو رافع سے ایک گلوبند امانت لینے کا واقعہ سنا ہو گا۔ اور اسی طرح جناب عقیل کا واقعہ بھی سنا ہو گا کہ وہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے مدد مانگی تھی۔

وہ تھوڑا اضافی گندم چاہتے تھے۔ لیکن حضرت نے دہکتا ہوا لوہا اٹھایا اور ان کے قریب لے جا کر لگایا لایا اور درخواست قبول نہیں کی۔ عبداللہ بن جعفر جو آپ کے بھتیجے اور داماد یعنی حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے شوہر نامدار تھے، حضرت کی خدمت میں آ کر عرض کرتے ہیں، 'چچا جان، میں تنگ دست ہو گیا ہوں اور گھریلو ضرورت کی اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہوں، لہٰذا میری مدد کیجئے۔' لیکن آپ نے ان کی درخواست کو بھی قبول نہیں کیا۔ اور فرمایا، 'کیا تم مجھ سے یہ کہنا چاہتے ہو کہ تمہارا چچا جا کر چوری کرے اور لوگوں کا مال اٹھا کر تجھے دے دیں؟' امیر المومنین علی علیہ السلام نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی طرح اپنے زمانے کی ایک ترقی یافتہ، وسیع، متمدن اور دولت مند حکومت کے ذریعے ایک معاشرے پر اسلامی حکومت کی سمت کو معین اور واضح کر دیا۔

اس دور میں ہر شعبے میں ترقی ہوئی تھی لیکن ححضرت علیؑ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ اس صورت میں بھی انہی اصولوں کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ امیر المومنین کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ معنویت، عدالت، جہاد، لوگوں کی اصلاح، نیک اور شائستہ منتظمین کی تربیت جیسے اصولوں سے آپ کی زندگی بھری پڑی ہے جن کے بارے میں آپ حضرت متعدد بار مختلف روایتوں اور داستانوں میں سن چکے ہیں۔ یہ تمام چیزیں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ امیر المومنین یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ تمام حالات میں ان اصولوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ اسلامی اصول سے مراد وہ لباس نہیں جو امیر المومنین پہنتے تھے کہ آج ہم بھی وہی لباس پہننا شروع کر دیں۔ بلکہ اسلامی اصولوں سے مراد عدالت، توحید، لوگوں سے عدل و انصاف، لوگوں کے حقوق کا احترام، کمزوروں کی مدد، دین اور مخالفینِ اسلام کا مقابلہ، حق اور حقیقت کا دفاع وغیرہ ہیں۔

یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہر دور میں قابلِ اجرا ہیں۔ البتہ آج جب ہم یہ باتیں کر رہے ہیں تو حقیقت میں انسانیت کی اس بلند ترین چوٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ کیا کوئی شخص امیر المومنین جیسا بننے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ نہیں، کوئی بھی شخص آپ جیسا نہیں امام زین العابدین علیہ السلام جو حضرت علی کے پوتے تھے اور امامت و عصمت کے مقام پر بھی فائز تھے، جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی ساری عبادت کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا، 'ہماری عبادت کہاں اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی عبادت کہاں؟' یعنی امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ میں علیؑ علیہ السلام کے ساتھ موازنے کے قابل نہیں ہوں۔ جبکہ امام زین العابدین اور آج کے ہمارے زمانے کے بہترین عابدوں اور زاہدوں کے درمیان بھی ہزاروں فرسخ کا فاصلہ ہے۔ امیر المومنین نے جس نمونۂ عظمت کی بلند چوٹی اور حرکت کے رخ کی نشاندہی کرتے ہوئے سمت کا تعین کر دیا ہے۔

اب جہاں تک ہم سے ہو سکے، اسلامی نظام اور نظامِ عدل و انصاف پر چلتے ہوئے لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کریں، انسانی حقوق کا احترام کریں، اور ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی حمایت کریں۔ اسلام کی پوری تاریخ میں انسانوں کی مشکلات یہی چیزیں رہی ہیں۔ بشریت ہمیشہ انہی مشکلات میں گرفتار رہی ہے اور آج بھی گرفتار ہے۔ اقوام انہی زور اور زبردستیوں سے نقصانات اٹھاتی ہیں اور ان کی زندگیاں دشوار ہو جاتی ہیں۔

اسلام امیر المومنین کی منطق اور حکومتِ علوی کی منطق ایسی چیزوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے عبارت ہے، چاہے ایسے ظالم کسی ایک معاشرے کے اندر طاقت کے استعمال کے ذریعے ظلم و جور کا بازار گرم کرنا چاہتے ہوں۔ یا عالمی اور بین اقوامی سطح پر کوئی ایسا کام کرنا چاہتے ہو، حضرت علی علیہ السلام کی زندگی میں اقتدار، مظلومیت اور کامیابی۔

اس عظیم اور بزرگوار شخصیت کی زندگی میں تین عناصر جو بظاہر ایک دوسرے سے کوئی زیادہ میل نہیں کھاتے، جمع ہو گئے ہیں۔ وہ تین عناصر درج ذیل ہیں۔ اقتدار، مظلومیت اور کامیابی۔ آپ کے اقتدار سے مراد آپ کی فولادی قوت ارادی، آپ کا عزم مصمم، آپ کا مشکل سے مشکل فوجی اور جنگی میدانوں میں سرگرم عمل ہو کر عالی ترین اسلامی اور انسانی مفہوم کی طرف، ذہنوں اور فکروں کی ہدایت کرتے ہوئے، مالک اشتر، عمار، ابن عباس اور محمد بن ابی بکر جیسے افراد کی تربیت کرنا اور تاریخ بشریت میں ایک انقلاب کی بنیاد ڈالنا ہے۔

ان بزرگوار کا مظہر اقتدار، منطق کی حاکمیت، فکر و سیاست کی بالادستی، اقتدار و حکومت جو آپ کے شجاع و توانا بازو کا اقتدار تھا۔ امیرالمومنین علیہ السلام کی ذات والا صفات میں کہیں سے بھی کوئی کمزوری نہیں پائی جاتی، مگر اس کے باوجود آپ تاریخ کے مظلوم ترین انسان ہیں۔

آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں مظلومیت نمایاں تھی۔ آپ نوجوانی کے دوران ہی مظلوم واقع ہوئے تھے۔ جوانی میں پیغمبر اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد سے مظلوم تھے۔ بڑھاپے میں مظلوم تھے۔ شہادت کے بعد بھی برسوں برس تک منبروں سے آپ کو برا بھلا کہا جاتا رہا۔ جھوٹی تہمتیں لگائی گئیں، یہاں تک کہ آپ کی شہادت بھی مظلومانہ تھی۔ تمام اسلامی آثار میں دو شخصیات ایسی ہیں جن کو "ثار اللہ" سے تعبیر کیا گیا ہے۔

البتہ فارسی زبان میں ہمارے پاس اس عربی لفظ "ثار" کا متبادل نہیں پایا جاتا جس کو ہم پیش کر سکیں۔ عربی میں اس وقت "ثار" استعمال ہوتا ہے جب کسی خاندان کا کوئی فرد ظلم و ستم کے ذریعے قتل کر دیا جاتا ہے اور مقتول کا خاندان خون بہا کا مالک ہوتا ہے، اس کو "ثار" کہتے ہیں کہ یہ خاندان خون بہا کا حق رکھتا ہے۔ اگر اس کے معنی میں "خون خدا" کہیں کہا جاتا ہے، تو یہ لفظ "ثار" کی ایک ناقص اور بہت نارسا تعبیر ہے۔ اس کا مکمل مفہوم اس سے واضح نہیں ہوتا۔ تاریخ اسلام میں دو لوگوں کا نام آیا ہے کہ جن کے خون بہا کا حق خدا کے ذمہ ہے۔ ان میں ایک امام حسین علیہ السلام اور دوسری شخصیت آپ کے والد گرامی امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں۔ آپ کے والد بزرگوار کے خون بہا کا حق بھی خداوند کریم کے ذمہ ہے۔ "الکافی" جلد 4، صفحہ 576۔ اور تیسرا عنصر امیر المومنین علیہ السلام کی کامیابی ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنی زندگی کے ان تمام دشوار حالات جنہیں آپ پر مسلط کیے گئے تھے، میں کامیاب ہوئے۔ یعنی دشمن اپنے تمام تر کمر توڑ محاذوں کے باوجود آپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر سکا، بلکہ خود دشمن کو ہی آپ کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی۔ آپ کی شہادت کے بعد بھی روز بروز آپ کی درخشاں حقیقت اور شخصیت آشکار ہوتی چلی گئی، بلکہ آپ کی زندگی کی تابندگی سے بھی زیادہ آشکار ہو گئی۔ آج آپ دنیا پر نظر ڈالیں تو نہ صرف دنیائے

اسلام بلکہ پوری دنیا میں علی علیہ السلام کے گن گانے والے موجود ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کو نہیں مانتے وہ بھی علی ابن ابی طالب کو تاریخ کی ایک درخشاں شخصیت کے طور پر قبول کرتے ہیں اور یہ وہی درخشاں حقیقت ہے جس کی تابندگی آشکار ہوئی ہے۔ یہ وہ انعام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کی مظلومیت کے صلے میں عطا فرمایا ہے۔

آپ کی وہ مظلومیت، آپ کا گلہ گھونٹنے کی وہ کوششیں، آپ پر ناروا تہمتیں لگا کر شخصیت کے چہرے کو دھندلا کرنے کی کوششیں اور ان تمام چیزوں کے مقابلے میں آپ نے جس صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ انعام تو ہوگا۔

آپ کے لیے اللہ کا انعام یہ ہے کہ ہم تاریخ بشریت میں کوئی ایسا چہرہ نہیں دکھا سکتے جو آپ سے زیادہ تابناک، درخشاں اور تمام لوگوں کے لیے قابل قدر ہو۔ شاید آج تک امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں لکھی گئی کتابوں میں سب سے زیادہ محبت آمیز اور عاشقانہ انداز کی کتابیں اکثر غیر مسلموں کی لکھی ہوئی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ تین عیسائی مصنفین نے حضرت علی کی مدح و ستائش میں جو کتابیں لکھی ہیں، وہ واقعاً عاشقانہ انداز میں لکھی گئی ہیں۔ امیرالمومنین سے محبت اور عقیدت روز اول ہی سے شروع ہوئی، یعنی آپ کی شہادت کے بعد جب آپ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا بازار گرم تھا۔ حکومت شام سے وابستہ صاحبان اقتدار اور ان کے پیروکار جن کے دلوں کو علی علیہ السلام کی عدالت کی تلوار نے خون کر دیا تھا، وہ آپ کے خلاف سرگرم عمل تھے۔

آپ سے اظہار محبت کا آغاز اسی وقت سے شروع ہوا تھا۔ میں یہاں پر اس سلسلے میں ایک مثال آپ کی خدمت میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جب انسان تاریخ کا مطالعہ کرے، تو ان حقائق کو سمجھ سکتا ہے۔ خاندان زبیر میں سوائے مصعب بن زبیر کے، سب لوگ علی علیہ السلام سے بغض و عناد رکھتے تھے۔ مصعب بن زبیر ایک شجاع اور سخی آدمی تھا جس نے کوفہ میں حضرت مختار کے ساتھ جنگ کی اور بعد میں عبدالملک سے بھی جنگ لڑی۔ اس کے علاوہ آل زبیر کے تمام لوگ پشت در پشت حضرت علی علیہ السلام سے بغض و عناد رکھتے تھے۔ عبداللہ بن عروہ بن زبیر کے بیٹے نے اپنے باپ کے سامنے امیرالمومنین کی بدگوئی کی۔

جب لڑکے نے برا بھلا کہا تو اس کے باپ نے ایک جملہ کہا۔ اگرچہ وہ جملہ مکمل طور پر علی علیہ السلام کے حق میں تو نہیں، مگر اس میں ایک نقطہ موجود ہے جسے میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے، عبداللہ اپنے بیٹے سے کہتا ہے: "خدا کی قسم، لوگوں نے دین سے ہٹ کر جس چیز کی بنیاد ڈالی، دین نے اس کو منہدم کر دیا۔ اور دین نے جس چیز کی بھی بنیاد رکھی، اہلِ دنیا نے لاکھ اسے مٹانے کی کوشش کی، مگر اسے نہ مٹا سکے۔" "186 نثر الدرر" جلد 3، صفحہ ۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ علی علیہ السلام کو بدنام کرنے اور ان کے چہرے کو غبار آلود کرنے کی خامخواہ کوشش نہ کرو، کیونکہ علی کے ہر کام کی بنیاد دین اور ایمان پر ہے۔

پھر مزید کہتا ہے ذرا دیکھو کہ بنو مروان کس طرح ہر موقع پر منبر سے علی کی عیب جوئی کرتے ہیں، مگر ان کی یہ عیب جوئی اور بدگوئی آپ کے درخشاں چہرے کو اور بھی روشن کرتی ہے۔" یعنی لوگوں کے ذہن میں ان کے اس عمل کا برعکس اثر پڑتا ہے۔ علی کے مقابلے میں بنو امیہ ہیں۔ بنو امیہ اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کرتے پھرتے ہیں مگر وہ ان کی جتنی ستائش کرتے ہیں، ان کے متعلق لوگوں کی نفرت مزید بڑھتی ہے۔ یہ بات تقریباً حضرت علی علیہ السلام کی شہادت سے کوئی تیس سال بعد کی ہے۔ یعنی امیرالمومنین اپنی تمام تر مظلومیت کے باوجود اپنی زندگی میں بھی، تاریخ میں بھی، اور لوگوں کے اذہان و افکار میں بھی کامیاب رہے۔

ڈھائی سو سالہ انسان