حصہ 3 از 3
حضرت امام حسیؑن
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
پس ہدف اور مقصد یہ ہوا کہ اسلامی معاشرے کو اس کے صحیح راستے کی طرف لوٹانا چاہیے مگر کب اس وقت جب اسلام کو اس کے راستے سے ہٹا دیا گیا ہو بعض لوگوں کی جہالت، ظلم استبداد اور خیانت نے مسلمانوں کو منحرف کر دیا ہو اور اس انحراف نے قیام کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیا ہو البتہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف زمانے آتے رہتے ہیں کبھی شرائط پوری ہوتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتی امام حسین کے زمانے میں شرائط پوری تھیں اور ہمارے زمانے میں بھی شرائط پوری تھیں۔ لہٰذا امام خمینی نے بھی وہ ہی کام کیا کیونکہ ہدف ایک تھا۔
البتہ جب انسان اس مقصد کے حصول کے لیے قدم اٹھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایک ظالم و جابر حکومت کے خلاف قیام کرے اور اسلام، اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کو اس کے صحیح راستے پر گامزن کر دے تو اس قیام کے دوران کبھی اسے حکومت مل جاتی ہے اور کبھی حکومت نہیں ملتی اور درجہ شہادت پر فائز ہو جاتا ہے تو کیا اس صورت میں ذمہ داری کی ادائیگی واجب نہیں ہے کیوں نہیں واجب ہے اگر جب وہ درجہ شہادت پر فائز ہو جائے کیا اس صورت میں جب وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے شہادت پر فائز ہو جائے تو اس قیام کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیوں نہیں فائدہ ہے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس قیام اور تحریک کے دوران وہ درجہ شہادت پر فائز ہو جائے یا اسے حکومت مل جائے فرق یہ ہے کہ دونوں کے فائدے الگ الگ ہیں لہذا ہر حال میں قیام کرنا اور تحریک چلانا ضروری ہے۔
یہ وہ کام تھا جسے امام حسین علیہ السلام نے انجام دیا اور آپ ہی وہ پہلی شخصیت تھے کہ جس نے پہلی بار قدم اٹھایا آپ سے پہلے کسی نے یہ کام انجام نہیں دیا تھا کیونکہ رسالت مآب اور امیر المومنین کے دور میں ایسا کوئی انحراف ہی وجود میں نہیں آیا تھا یا اگر بعض موارد میں انحرافات تھے تو بھی ان کے خلاف قیام کی شرائط پوری نہیں تھیں اور نہ ہی حالات مناسب تھے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کے دور میں دونوں چیزیں یعنی انحرافات اور شرائط موجود تھیں تحریک حسینی کی اصل حقیقت بھی یہی ہے۔ پس بطور خلاصہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام حسین نے اس لئے قیام کیا کہ اس عظیم واجب جو اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کی از سر نو تعمیر یا اسلامی معاشرے میں جنم لینے والے انحرافات سے مقابلہ کرنے سے عبارت ہے کو انجام دے سکیں اور یہ کام قیام اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہی کے ذریعے ممکن تھا بلکہ یہ خود ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک بہت بڑا مصداق ہے۔
البتہ اس کام کا نتیجہ کبھی حکومت کی صورت میں نکلتا ہے۔ امام حسین اس کے لئے تیار تھے اور کبھی اس کا نتیجہ شہادت کی صورت میں نکلتا ہے اور امام حسین اس کے لئے بھی مکمل طور پر تیار تھے۔ ہم کس دلیل کی بنا پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔ ان باتوں کو ہم نے خود امام حسین کے فرمودات سے اخذ کیا ہے۔ ہم نے امام کے فرامین میں سے چند ایک جملوں کا انتخاب کیا ہے۔ البتہ اس سلسلے میں امام کے فرمودات کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اسی مطلب پر دلالت کرتے ہیں سب سے پہلے مدینہ میں اس رات جب مدینہ کے حاکم ولید نے آپ کو بلایا اور کہا کہ معاویہ مر گیا ہے۔
لہٰذا آپ کو یزید کی بیعت کرنی ہوگی۔ امام حسین اس کے جواب میں فرمایا صبح تک صبر کرو ہم بھی دیکھتے ہیں اور تم بھی دیکھو کہ ہم میں سے بیعت اور خلافت کا حقدار کون ہے دوسرے دن جب راستے میں امام عالی مقام کی مروان سے ملاقات ہوئی تو اس نے آپ سے کہا اے ابا عبدالله آپ خود کو ہلاکت میں کیوں ڈال رہے ہیں خلیفہ کی بیعت کیوں نہیں کرتے آئیے خلیفہ کی بیعت کریں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالیں خود کو مشکلات میں نہ ڈالیں تو آپ نے اس کے جواب میں یہ جملہ فرمایا انا للہ و انا الیہ راجعون جب یزید جیسا شخص امت مسلمہ کا خلیفہ بن جائے تو اسلام کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے بہار الانوار جلد 44 صفحہ 325-326 یعنی جب یزید جیسا شخص حاکم بن جائے اور اسلام یزیدیت جیسے مرض میں مبتلا ہو جائے تو پھر تو اسلام کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔
یہاں صرف یزید کی ذات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جو بھی یزید جیسا ہو یعنی امام یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اب تک جو بھی ہوا وہ قابل برداشت تھا۔ لیکن اب چونکہ اصولِ دین اور اسلامی نظام خطرے میں ہے اور یزید جیسے شخص کی حکومت سے اسلام مٹ جائے گا۔ اسی وجہ سے انحراف کا خطرہ بہت بڑا سنگین مسئلہ ہے کیونکہ خود اسلام کو خطرات لاحق ہیں۔ حضرت عبداللہ حسین نے مدینہ سے روانگی اور اسی طرح مکہ سے روانگی کے وقت محمد بن حنفیہ کے ساتھ متعدد بار گفتگو کی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ وصیت مکہ سے روانگی کے وقت کی ہے چونکہ دلہجہ میں محمد بن حنفیہ بھی مکہ میں موجود تھے اور انہوں نے کئی مرتبہ امام حسین علیہ السلام سے گفتگو کی ہے اور آپ نے اپنے بھائی کو ایک وصیت بھی لکھ کر دی تھی جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی نیز دیگر امور کو بیان کرنے کے بعد لکھا آپ فرماتے ہیں کہ لوگ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں
اور دشمن کی پروپیگنڈا مشینری انہیں دھوکا نہ دے کہ امام حسین علیہ السلام بھی دوسروں کی مانند ہیں اور مختلف جگہوں پر خروج کرتے ہیں صرف اس لیے کہ اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لیں خودنمائی، عیاشی اور ظلم فساد برپا کرنے کے لیے میدانِ جنگ میں قدم رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ میں صرف اپنے جد بزرگوار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لیے میدانِ عمل میں آیا ہوں میں فقط اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ واجب تھا کہ جسے امام حسین سے پہلے کسی نے بھی انجام نہیں دیا ہے۔ یہ اصلاح خروج کے ذریعے ممکن ہے خروج یعنی قیام اور امام حسین علیہ السلام نے اس وصیت نامے میں اس بات کی نشاندہی کی ہے اور تقریبا واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سب سے پہلے ہم قیام کرنا چاہتے ہیں اور ہمارا یہ قیام بھی اصلاح کی خاطر ہے نہ اس لئے کہ حکومت اور اقتدار ہمارے ہاتھ آ جائے اور نہ ہی اس لئے کہ ہم جا کر صرف شہید ہونا چاہتے ہیں
ہرگز ایسا نہیں ہے۔ ہم تو صرف اصلاح چاہتے ہیں۔ البتہ یہ جو اصلاح کا کام ہے یہ بھی کوئی چھوٹا اور معمولی کام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کے تحریکوں کے دوران کبھی حالات اور شرائط ایسے پیش آ جاتے ہیں انسان حکومت تک پہنچتا ہے اور زمام اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے اور کبھی وہ یہ کام نہیں کر سکتا یعنی یہ ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ وہ خود ہی شہید ہو جاتا ہے جبکہ دونوں صورتوں میں اس کا قیام اصلاح کے لئے ہوتا ہے۔ اسی لیے امام فرماتے ہیں بھائی عیاشی اور ظلم و فساد برپا کرنے کے لئے خروج نہیں کر رہا ہوں بلکہ میں تو صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے خروج کر رہا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف کروں اور نہی عن المنکر انجام دوں اور میں اپنے نانا اور بابا کی سیرت کے مطابق قدم اٹھانا چاہتا ہوں بہار الانوار جلد 44 صفحہ 329 اصلاح کا ایک مصداق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے دو گروہوں کے نام خط لکھے ہیں۔ ایک خط بصرہ کے قبیلوں کے سرداروں کے نام اور دوسرا خط کوفہ کے قبیلوں کے سرداروں کے نام لکھا ہے بصرہ کے قبیلوں کے سرداروں کے نام خط میں آپ تحریر فرماتے ہیں میرا نمائندہ میرے خط لے کر تمہارے پاس آیا ہے اور میں تم لوگوں کو کتابِ خدا اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیتا ہوں بے شک سنتِ رسول کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کو زندہ کر دیا گیا ہے۔ اگر تم میری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے میری پیروی کرو تو میں تم کو راہِ راست کی ہدایت کروں گا بہار الانوار جلد 44 صفحہ 340 یعنی میں اپنی اس عظیم ذمہ داری پر عمل کرتے ہوئے اسلام، سنتِ رسولِ اکرم اور اسلامی نظام کو زندہ کرنا چاہتا ہوں بدعتوں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں اور رسولِ اکرم کی سنت کا احیاء کرنا چاہتا ہوں۔
اس کے بعد کوفہ کے سرداروں کے نام اپنے خط میں لکھا امام صرف وہی ہے جو کتابِ الہی کے مطابق حکومت کرے عدل و انصاف کو قائم کرے ملک معاشرت اور قانون کے حق کی طرف رہنمائی کرے اور خود صراطِ مستقیم اور راہِ خدا پر گامزن رہ کر اپنے نفس کی حفاظت کرے بہار الانوار جلد 44 صفحہ 334 اسلامی معاشرے کا امام اور پیشوا ایسا شخص نہیں بن سکتا جو فاسق اور فاجر ہو، خیانتکار ہو، فسادی ہو برے اور قبیح عمل کو انجام دینے والا ہو بلکہ اسلامی معاشرے کا حاکم، امام اور پیشوا اس کو ہونا چاہیے جو کتابِ خدا پر عمل کرنے والا ہو اور معاشرے میں لوگوں کے سامنے کتابِ خدا کے احکام پر عمل کرے نہ کہ کسی بند کمرے میں دو رکعت نماز پڑھنے والا ہو اسلامی معاشرے کے حاکم کو چاہیے کہ کتابِ خدا کے احکامات کو معاشرے پر لاگو کرے عدل اور سماجی انصاف کے نظام کو نافذ کرے اور حق کو معاشرے کا قانون قرار دے حق کو معاشرے کا آئین اور قانون قرار دیتے ہوئے باطل کو نکال پھینک دے الحابِسُ نفسَهُ علىٰ ذلك لله اِس جملے کا ظاہری معنی یہ ہے کہ خدا کے راستے میں جس طرح بھی ہو اپنی حفاظت کرے اور شیطانی اور مادی جلووں اور رنگینیوں کا اسیر نہ ہو بس امام حسین علیہ السلام کے اس خط سے بھی آپ کے مقصد اور ہدف کا پتہ چلتا ہے۔
امام حسین نے مکہ سے روانگی کے بعد راستے میں مختلف مقامات پر مختلف انداز میں گفتگو فرمائی ہے۔ جب آپ کا قافلہ بیضہ نامی مقام پر پہنچا تو حر بن یزید بھی آپ کے ساتھ چل رہا تھا آپ نے تھوڑی دیر آرام فرمانے سے پہلے یا آرام کے بعد کھڑے ہو کر دشمن کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگوں رسولِ خدا کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی ظالم و جابر حاکم کو دیکھے جو حرامِ خدا کو حلال جانتا ہو قانونِ خدا کو توڑنے والا سنتِ رسول کا مخالف اور مخلوقِ خدا میں گناہ و سرکشی سے حکومت کرنے والا ہو تو پھر وہ اپنے قول و فعل سے اس کے خلاف حکمتِ عملی اختیار نہ کرے تو خداوندی عالم اس سکوت و جمود اور خاموشی اختیار کرنے والے شخص کا ٹھکانہ اس ظالم سلطان کے ساتھ کر دے گا یعنی اگر کوئی یہ دیکھے کہ معاشرے میں کوئی حاکم برسرِ حکومت ہے اور ظلم و ستم کر رہا ہے حرامِ خدا کو حلال قرار دے رہا اور حلالِ خدا کو حرام بنا رہا ہے
اور اس نے حکمِ الہی کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے اور دوسرے افراد کو بھی عمل نہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے لوگوں میں گناہ اور ظلم و دشمنی کو فروغ دیتا ہے۔ اس زمانے میں ظالم اور جابر حاکم کا کامل مصداق یزید تھا۔ اگر کوئی اپنے زبان و عمل سے اس کے خلاف اقدام نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ قیامت کے دن سکوت و جمود اختیار کرنے والے اس بے عمل شخص کو اسی ظالم کے ساتھ ایک ہی جگہ رکھے بہار الانوار جلد 44 صفحہ 382 پس پیغمبر اسلام نے پہلے سے بیان کر دیا تھا کہ اگر اسلامی نظام انحراف کا شکار ہو جائے تو کیا کام کرنا چاہیے۔
امام حسین نے پیغمبر اکرم کے اسی قول کو اپنی تحریک کی بنیاد قرار دیا۔ پس تو پھر ان حالات میں کیا ذمہداری بنتی ہے ذمہداری یہ بنتی ہے کہ اپنی زبان و عمل سے اقدام کرے اگر انسان ایسے حالات کا مشاہدہ کرے تو شرائط و حالات کو دیکھ کر اقدام کرے اس پر واجب ہے کہ ظالم و جابر حاکم کے عمل کے جواب میں قیام کرے وہ اس قیام و اقدام میں جس قسم کے حالات سے دو چار ہو قتل ہو جائے زندہ رہے یا ظاہراً اسے کامیابی ملے یا نہ ملے ان تمام حالات میں قیام اس کی ذمہداری ہے۔ یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ان حالات میں قیام کرے اور یہ وہ ذمہداری ہے جسے حضرت ختمِ مرتبتؐ نے بیان فرمایا ہے۔
اس کے بعد امام حسینؐ نے فرمایا میں اس قیام کا باقی تمام مسلمانوں سے زیادہ سزاوار ہوں کیونکہ میں فرزند پیغمبر ہوں بہار و انوار جلد 44 صفحہ 382 اگر پیغمبر اکرم نے حالات کی تبدیلی یعنی اس قیام کو ایک ایک مسلمان پر واجب کیا ہے تو ظاہر ہے کہ حسینؐ جو فرزندِ رسولِ خدا اور آپ کے علم و حکمت کے وارث بھی ہیں اس قیام کے لیے دوسروں سے زیادہ مناسب ہیں۔ پس امام حسینؐ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی لیے قیام کیا اور وہ اپنے قیام کے علل و اسباب کو بیان فرما رہے ہیں عذیب نامی مقام پر جب چار افراد آپ سے آ ملے تو آپ نے فرمایا۔
خدا کی قسم جو کچھ اللہ نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے وہ ہمارے لیے صرف خیر و برکت ہی ہے خواہ قتل کر دیئے جائیں یا کامیاب ہو جائیں آیا نشیہ جلد 1 صفحہ 597 کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کامیابی ہمارے قدم چومیں یا ہم راہِ خدا میں قتل کر دیئے جائیں ذمہ داری کو ہر صورت میں ادا کرنا ہے۔ آپ نے یہی فرمایا کہ خداوندِ عالم نے جس چیز کو ہمارے لیے مقرر فرمایا ہے اس میں ہماری بہتری اور بھلائی ہے۔ ہم اپنی ذمہ داری کو ادا کر رہے ہیں خواہ اس راہ میں قتل کر دیئے جائیں یا کامیاب ہو جائیں سرزمینِ کربلا میں قدم رکھنے کے بعد آپ نے اپنے پہلے خطبے میں ارشاد فرمایا قد نظلہ من الامری ما قد تروم آپ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جا رہی ایسے وقت میں مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ملاقات کیلئے تیار رہے بہار الانوار جلد 44 صفحہ 381 بس امام حسین نے ایک ایسے واجب کو ادا کرنے کیلئے قیام فرمایا
جو ہر زمانے اور ہر تاریخ میں تمام مسلمانوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے اور یہ واجب عبارت ہے اس بات سے کہ مسلمان جب اس بات کا مشاہدہ کریں کہ اسلامی معاشرے کا نظام ایک بنیادی خرابی کا شکار ہو گیا ہے اور اس سے تمام اسلامی احکامات کو خطرہ لاحق ہے تو ایسے حالات میں ہر مسلمان پر قیام کرنا واجب ہے۔ البتہ یہ قیام مناسب حالات اور شرائط میں واجب ہوتا ہے یعنی قیام کرنے والا یہ جانتا ہو کہ قیام اثر بخش ہوگا۔ اس کے علاوہ قیام کرنے والے کا زندہ رہنا، قتل نہ ہونا یا مشکلات و مصائب کا سامنا نہ ہونا یہ شرائط میں سے نہیں ہے لہذا امام حسین علیہ السلام نے قیام کیا اور عملا اس واجب کو انجام دیا تاکہ رہتی دنیا کے لیے ایک درس ہو امام حسین علیہ السلام نے ایک ایسا کام کر دکھایا جس سے لوگوں کے ضمیر جاگ گئے لہذا آپ نے دیکھا کہ امام کی شہادت کے بعد یکے بعد دیگرے کئی اسلامی تحریکیں وجود میں آگئیں لیکن ان تحریکوں کو کچل دیا گیا
دشمن کی طرف سے کسی تحریک کو کچل دیا جانا کوئی اہم بات نہیں ہے۔ البتہ یہ تلخ ضرور ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تلخ بات یہ ہے کہ کوئی معاشرہ اس منزل پر پہنچ جائے کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلے میں کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت ہی کھو دے اور یہ بات معاشرے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے حسین ابن علی علیہ السلام ایک ایسا کام انجام دیا جو آج بھی زندہ و پائندہ ہے حالانکہ طاغوتی حکومتوں کے دور میں بھی کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے جو زمانے کے اعتبار سے اوائلِ اسلام سے فاصلہ رکھنے کے باوجود امام حسن علیہ السلام کے دور میں ظالم و جابر حکومت سے مقابلہ کرنے والے لوگوں سے بھی زیادہ عزم و ارادے کے مالک تھے مگر ان تمام تحریکوں کو کچل دیا گیا۔
آپ اہل مدینہ کے قیام پر غور کیجئے جو واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہے اور بعد کے واقعات اور توابین و مختار کے قیام تک اور اس کے بعد بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار تک مختلف قوموں کے درمیان جو مختلف تحریکیں وجود میں آتی رہیں ان تمام تحریکوں کا بانی کون تھا حسین ابن علی علیہ السلام اگر امام حسین علیہ السلام قیام نہ فرماتے تو کیا معاشرے سے سستی، کاہلی اور اپنی ذمہداریوں سے فرار کی عادت ظلم کا خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور ذمہداریوں کو قبول کرنے کی عادت میں تبدیلی ہو سکتی تھی؟
ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ اس معاشرے میں ذمہداریوں کو قبول کرنے کی حس مر چکی تھی؟ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام مدینہ منورہ جو اسلام کی عظیم اور بزرگ ہستیوں کا مرکز تھا سے مکہ تشریف لے گئے تو اس وقت ابن عباس، ابن زبیر، ابن عمر اور اوائلِ اسلام کے خلفاء کے بیٹے سب مدینہ میں موجود تھے۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اس اپنی اعلان کے پیام میں امام حسین کا ساتھ بڑھنے کیلئے تیار نہیں ہوا۔ اس پیام میں امام حسین علیہ السلام کی آغاز سے پہلے خواص بھی جس طرف میں کوئی قدم اٹھانے کیلئے تیار نہ تھے۔
لیکن اب حسین علیہ السلام کا پیام کے بعد ظلم سے نفرت کی گوہر زندہ ہو گئے۔ یہ وہ عظیم درس ہے جسے واقعہ کربلا کے دوسرے درس کے ساتھ ہمیں یاد رکھنا چاہیے جسے واقعہ کی عظمت یہ جو کہا گیا ہے کہ امام حسین کی ولادت با سعادت سے قبل ہے بَكَتْ السَّمَاءُ وَمَنْ فِيهَا وَالأَرْضُ وَمَنْ عَلَيْهَا وہ شخص جس کی ولادت سے پہلے اس کی شہادت کی نوید سنائی گئی جس پر آسمان اور اس میں موجود لوگوں اور زمین اور اس پر موجود تمام چیزوں نے گریہ کیا بہار الانوار جلد 44 صفحہ 347 لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے اس عظیم غم اور عزا اور اس کے خاص احترام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور ان دعاؤں اور زیارت کی تعبیرات میں ان پر گریہ کیا گیا ہے تو ان سب کی وجہ یہی ہے لہٰذا آج جب آپ اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کو امام حسین علیہ السلام ہی نے زندہ کیا ہے اور آپ+ ہی اسلام کے محافظ ہیں۔