امام حسینؑ

امام حسینؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام حسینؑ

امام حسینؑ

ہجری ۴

ہجری ۶۱

حصہ 2 از 3

حضرت امام حسیؑن

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

وہ ایک ایسا واجب تھا جو اسلام کے عملی اور فکری نظام میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا وہ ایسا واجب تھا جو اتنے زیادہ اہمیت کا قابل اور بنیادی حیثیت کے حامل ہونے کے باوجود امام حسین علیہ السلام کے دور حیات تک اس پر عمل نہیں ہو سکا تھا میں یہ عرض کروں گا کہ اس پر کیوں عمل نہیں ہوا تھا۔ امام حسین علیہ السلام کو اس واجب پر عمل کرنا تھا تاکہ تاریخ سب کے لیے ایک درس بن جاتا جس طرح پیغمبر اسلامؐ نے اسلامی حکومت تشکیل دے کر پوری تاریخ کے لیے ایک درس چھوڑا تھا۔ آپ نے صرف احکام بیان نہیں کیا تھے بلکہ عملی طور پر ایک حکومت تشکیل دی تھی یا آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو یہ عمل بھی تا ابد پوری تاریخ اسلام اور تاریخ بشریت کے لیے ایک درس بن گیا۔

اسی طرح اس واجب کو امام حسین علیہ السلام کے ذریعے انجام پانا تھا تاکہ پوری تاریخ کے مسلمانوں کے لیے ایک عملی درس بن سکے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کے لیے امام حسین علیہ السلام ہی کو کیوں منتخب کیا گیا کیونکہ اس واجب کو عملی جامہ پہنانے کا جو راستہ تھا وہ امام حسین علیہ السلام کے دور میں ہموار ہوا تھا۔ اگر یہ راستہ امام حسین علیہ السلام کے دور میں ہموار نہ ہوتا مثلا امام علی نقی علیہ السلام کے دور میں یہ راستہ ہموار ہوتا تو امام علی نقی علیہ السلام اس کام کو انجام دیتے اور تاریخ اسلام میں اس عظیم واقعے اور ذبح عظیم کے محور قرار پاتے اسی طرح اگر یہ راستہ امام حسن مجتبیٰ یا امام جعفر صادق کے دور میں ہموار ہوتا تو یہ ہستیاں بھی اسی طرح عمل کرتیں جبکہ امام حسین علیہ السلام سے پہلے ایسے حالات پیش ہی نہیں آئے اور نہ ہی امام حسین کے بعد سے لیکر زمانہ غیبت تک تمام آئمہ معصومین علیہ السلام کے دور میں کبھی یہ حالات پیش آئے پس ہدف اس واجب کو انجام دینے سے عبارت ہے اب میں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ یہ واجب کیا ہے۔

اس وقت اس واجب کی ادائیگی سے خود بخود ان دو میں سے ایک نتیجہ نکل سکتا ہے یا تو اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو حکومت مل جائے گی تو اہلاً وسہلاً امام اس کام کے لیے پہلے سے ہی تیار تھے اگر امام حسین کو حکومت مل جاتی تو آپ پوری طاقت اور قدرت کے ساتھ اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور پورے معاشرے کو رسولِ اکرم اور امیر المومنین کے مانند چلاتے اگر اس واجب پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ شہادت کی شکل میں نکل جاتا تو امام حسین علیہ السلام اس کے لیے بھی پہلے ہی سے تیار تھے اللہ تعالیٰ نے امام حسین علیہ السلام اور دیگر ائمہ معصومین کو اس طرح خلق فرمایا تھا کہ اس امر عظیم کے لیے پیش آنے والی اس خاص قسم کی شہادت کے بعد سنگینی کو اٹھا سکیں اور ان ہستیوں نے ان تمام مصائب و مشکلات کو برداشت بھی کیا۔

البتہ کربلا میں مصائب کا پہلو اس واقعے کا ایک دوسرا عظیم رخ ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کو ذرا وضاحت کے ساتھ بیان کروں پیغمبرِ اکرمؐ یا کوئی بھی رسول جب مبعوث ہوتا ہے تو اسلامی احکامات کا ایک مجموعہ لے کر آتا ہے ان میں سے بعض احکامات انفرادی ہوتے ہیں تاکہ انسان اپنی اصلاح کرے اور بعض اجتماعی ہوتے ہیں تاکہ دنیا بشر کو آباد کرے انسانوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کرے اور انسانی معاشرے کو ایک صحیح نظام کے ذریعے قائم رکھے یہ انفرادی اور اجتماعی احکامات ایک مجموعے کی شکل میں ہوتے ہیں کہ جنہیں اسلامی نظام کہا جاتا ہے۔ اسلام قلب مقدسِ رسولؐ پر نازل ہوا اور آپ نے نماز، روزہ، زکوٰۃ، انفاق، حج، گھریلو زندگی کے احکامات انفرادی رابطے اور تعلقات جہاد في سبیل اللہ، تشکیل حکومت، اسلامی اقتصادیات، حکمران اور عوام کا رابطہ اور حکومت کے حوالے سے عوام کی ذمہ داریاں وغیرہ ان تمام احکامات کو ایک مجموعے کی شکل میں انسانیت کے سامنے پیش کیا اور سب لوگوں کے سامنے بیان فرمایا

اے لوگوں کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جو تمہیں جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرے مگر یہ کہ میں نے تمہیں اس کا حکم نہ دیا ہو الکافی، جلد 2، صفحہ 74 پیغمبرِ اکرم نے ان تمام چیزوں کو جو کسی انسان یا ایک انسانی معاشرے کو سعادت اور خوشبختی تک پہنچا سکتی ہیں نہ صرف بیان کیا بلکہ ان پر بذاتِ خود عمل بھی کیا اور انہیں معاشرے میں نافذ بھی کیا۔ اب جب پیغمبرِ اکرم کی حیاتِ مبارکہ میں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ تشکیل پا گیا اسلامی اقتصادیات کو نافذ کر دیا گیا اسلامی نظام جہاد قائم ہو چکا اور زکوٰۃ کی ادائیگی معاشرے میں رائج ہو گئی اور یوں روئے زمین پر ایک حقیقی اسلامی ملک اور اسلامی نظام حکومت نے جنم لیا اب اس اسلامی نظام کو چلانے والے انجینئر اور اس ریل گاڑی کو اپنی پٹڑی پر چلانے والے خود رسولِ اکرم ہوں گے یا وہ ہوگا جو ان کی جگہ پر بیٹھے گا رسولِ اکرم کا بتایا ہوا راستہ واضح اور روشن ہے۔

لہٰذا اس معاشرے اور اس سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو چاہیے کہ اسی راستے پر قدم اٹھائے اسی راستے پر آگے بڑھے اور اسی راستے سے اپنے ہدف و مقصد تک پہنچے اگر اسلامی معاشرے کی حرکت اسی راستے پر اور اسی سمت کی طرف ہو تو اس وقت اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے تمام انسان اپنے کمال تک پہنچ جائیں گے وہ نیک اور فرشتہ صفت انسان بن جائیں گے معاشرے سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہو جائے گا معاشرے کو برائیوں، فساد، اختلافات، فقر و افلاس اور جہالت کے منحوس اور مکروہ سائے سے نجات مل جائے گی انسان اپنے کامل خوشبختی کو پالے گا اور خدا کا مقرب بندہ بن جائے گا۔

رسول اللہؐ کے ذریعے اسلام کو ایک ضابطہ حیات کی حیثیت سے لایا گیا اور اس زمانے کے معاشرے میں نافذ ہوا۔ لیکن کہاں؟ ایک شہر میں جسے مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد مکہ اور دیگر چند شہروں میں اس اسلامی نظام نے وسعت پائی یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس کاروان کو جسے خود رسول اللہؐ نے ایک معیّن راستے پر گامزن کر رکھا ہے۔ اگر کوئی ہاتھ آگے بڑھنے سے روکے یا وہ کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس وقت لوگوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے اسی طرح اگر اسلامی معاشرہ منہرف ہو جائے اور یہ انحراف اس حد تک بڑھ جائے کہ پورے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو لپیٹ میں لینے کا خوف ہو تو اس صورت میں مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے انحراف کی بھی دو قسمیں ہیں ایک انحراف یہ ہے کہ لوگ خراب ہو جائیں اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا ہے لیکن لوگوں کے منہرف ہونے سے اسلامی تعلیمات ختم نہیں ہوتی دوسری قسم کا انحراف یہ ہے کہ لوگوں کے منہرف ہونے کے ساتھ حکومت بھی خراب ہو جائے اور علماء دین اور خطباء بھی انحراف کا شکار ہو جائیں ایسی صورت میں ان منہرف لوگوں سے صحیح و سالم دین کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ہے

کیونکہ ایسے لوگ قرآنِ مجید اور اسلامی تعلیمات میں تحریف کرتے ہوئے اچھے کو برا اور برے کو اچھا منکر کو معروف اور معروف کو منکر بنا کر پیش کرتے ہیں اسلامی تعلیمات کو اسلام کے بتائے ہوئے راستے سے 180 درجے الٹا پیش کرتے ہیں۔ اگر اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام اس مشکل سے دو چار ہو جائے تو یہاں ذمہ داری کیا ہے البتہ پیغمبر اکرم نے اس سلسلے میں ذمہ داری کو بیان کر دیا ہے اور قرآن نے بھی یہ فرمایا ہے مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَسَوْفَ يَأْتِى ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ يُحِبُّهُمْ تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہو جائے تو اللہ ایسی قوم لے کر آئے گا کہ اللہ اس سے محبت کرے گا اور وہ قوم بھی اللہ سے محبت کرے گی سورۃ المائدہ، آیت 54 اس سلسلے میں آیات اور روایات بہت زیادہ ہیں لیکن میں یہاں پر امام حسین علیہ السلام کی زبانی ایک روایت بیان کرنا چاہتا ہوں جسے آپ نے پیغمبر اکرم کی زبانی نقل کیا ہے

سوال یہ ہے کہ پیغمبر اکرم خود بھی اس حکم پر عمل کر سکتے تھے؟ نہیں کیونکہ یہ حکمِ الٰہی اس وقت قابل عمل ہے جب معاشرہ منہرف ہو چکا ہو اگر معاشرہ منہرف ہو جائے تو اس کا علاج کرنا چاہیے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص حکم بھی جاری کیا ہے ایسے معاشروں کے لیے جہاں معاشرتی انہراف اور خرابی اس حد تک بڑھ جائے کہ یہ اصل اسلام اور اس کی تعلیمات سے انہراف کا سبب بنے تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک حکم جاری کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو کسی بھی مسئلے میں بغیر حکم کے نہیں چھوڑا ہے۔

پیغمبر اسلام نے خود اس حکم میں خدا کو بیان فرمایا ہے یعنی قرآن و حدیث نے اس حکم کو بیان کیا ہے لیکن آپ خود اس حکم پر عمل نہیں کر سکتے کیوں عمل نہیں کر سکتے کیونکہ اس حکم پر تب عمل کیا جا سکتا ہے جب معاشرہ منہرف ہو جائے اب جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدے رسالت اور امیر المؤمنین کے عہدے ولایت و امامت میں مسلمان معاشرہ اتنا منہرف نہیں ہوا تھا کہ اس حکم پر عمل کرنے کی نوبت آجاتی اسی طرح امام حسن علیہ السلام کے دور میں بھی جب ظاہری حکومت معاویہ کے ہاتھ میں تھی اور اجتماعی انہراف کی بہت سے نشانیاں ظہور پذیر ہو گئی تھی۔

لیکن اس کے باوجود اس مرحلے تک نہیں پہنچی تھی کہ جہاں پورے اسلام کی نابودی کا خطرہ پیش آتا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک خاص زمانے میں ایسی کوئی صورتحال پیش آئی ہو لیکن اس وقت اس حکم الہی پر عمل کرنے کی فرصت نہ ملی ہو یا موقع مناسب نہ ہو یہ حکم الہی جو اسلامی احکامات کا ایک جز ہے اور اس کی اہمیت خود حکومت سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے اس لیے کہ حکومت کا مطلب ہے معاشرے کا بہترین انتظام اگر معاشرہ بتدریج اپنی راستے نکل کر خرابی کا شکار ہو جائے اور حکم خدا تبدیل ہو جائے اور ہمارے پاس اس خراب حالت کو بدلنے کیلئے کوئی حکم اور منصوبہ بندی موجود نہ ہو تو ایسی حکومت کا کیا فائدہ پس معلوم ہوا کہ منحرف معاشرے کو اس کی اصلی رخ پر دوبارہ گامزن کرنے کے حکم کی اہمیت خود حکومت اور اس کی اہمیت سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے شاید یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس حکم کی اہمیت کفار سے جہاد کرنے سے بھی زیادہ ہے۔

یہ بھی کہنا صحیح ہے کہ اس حکم کی اہمیت ایک اسلامی معاشرے میں ایک معمولی قسم کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے بھی زیادہ ہے حتیٰ کہ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاید منحرف معاشرے کو اس کے راستے پر لوٹانے کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم فرائض اور واجبات اور حج سے بھی زیادہ ہے کیوں اس لیے کہ در حقیقت یہ حکم فنا یا ختم ہونے کے قریب ہوئے اسلام کو زندہ کرنے کا ضامن ہے اچھا تو پھر کون ہے جو اس اہم ترین حکم پر عمل کرے اس عظیم حکم پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایسا جانشین ہی عمل کرسکتا ہے جو ایسے زمانے میں موجود ہو جب معاشرہ اس انہراف کا شکار ہو گیا ہو البتہ اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد کے لیے حالات بھی سازگار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے عمل کو واجب نہیں کرتا کہ جس کا کوئی فائدہ نہ ہو لہٰذا اگر حالات نہ سازگار ہوں اور یہ جانشینِ نبی کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے اس کے عمل اور جد و جہت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

لہٰذا عمل درآمد کرنے کے لیے حالات کو مناسب اور موجود ہونا چاہیے حالات کے سازگار ہونے کے معنی کچھ اور ہیں یہ نہیں کہ ہم کہیں چونکہ اس حکم کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں خطرات موجود ہیں لہٰذا حالات سازگار نہیں ہیں حالات کے سازگار ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے حالات تو شرائط کو مناسب ہونا چاہیے یعنی انسان یہ جانے کہ اگر اس نے کام کو انجام دیا تو اس کا ایک نتیجہ ظاہر ہوگا یعنی لوگوں تک پیغام پہنچ جائے گا عوام اس نتیجے سے حقیقت کو سمجھیں گے اور لا علمی سے نکلیں گے یہ وہ عظیم ذمہ داری ہے کہ جسے کسی نہ کسی کو انجام دینا ضروری ہے۔

اب چونکہ امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں یہ انہراف پیدا ہو چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی حکمِ الہی پر عمل درآمد کے لیے راستہ بھی ہموار تھا۔ لہٰذا امام حسین علیہ السلام کو قیام کر لینا چاہیے تھا کیونکہ انہرافات پیدا ہو چکے تھے۔ معاویہ کے بعد ایک ایسا شخص کرسیٔ اقتدار پر بیٹھ چکا تھا جو اسلام کے ظاہری احکام کی ذرا برابر بھی رعایت نہیں کرتا تھا وہ خلیفہ کہلانے کے ساتھ ساتھ شراب بھی پیتا تھا جنسی گناہوں دیگر برائیوں اور قبیح ترین اعمال کا علی الاعلان ارتکاب اس کی عادت تھی۔ وہ قرآن کے خلاف باتیں کرتا اور قرآنی احکامات اور دینی تعلیمات کے خلاف اشعار کہتا تھا اور کھلم کھلا اسلام کی مخالفت کرتا تھا کیونکہ اس کا نام مسلمانوں کا خلیفہ پڑ گیا تھا اس لئے وہ اسلام کے نام کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا تھا۔

وہ نہ تو اسلام کا پیروکار تھا اور نہ ہی اسلام سے کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی اس کے دل میں اسلام کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا بلکہ وہ اپنے عمل میں ایسے گندے نالے کی مانند تھا جس سے مسلسل گند اور بدبودار پانی بہتا ہے اور پورے ماحول کو بدبودار کر دیتا ہے وہ بھی اپنے گندے اور بدبودار اعمال کے ذریعے پورے اسلامی معاشرے کی فضا کو آلودہ اور بدبودار کر رہا تھا۔ ایک بری اور فاسد حاکم کی مثال ایسی ہی ہے کیونکہ حاکم معاشرے میں سب سے اونچے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ لہٰذا جو بھی چیز اس سے رسّتی ہے وہ وہیں پر نہیں رکتی بلکہ نیچے آ کر اطراف کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے عام افراد کے برخلاف کیونکہ ان کے اعمال اس خاصیت کے حامل نہیں ہوتے ان کا عمل ان ہی تک محدود ہوتا ہے۔

لیکن جس کا مرتبہ بلند اور معاشرے میں بڑے درجے کا مالک ہوتا ہے اس کی برائیوں کا نقصان بھی اسی نسبت سے زیادہ ہوتا ہے ممکن ہے عام افراد کی برائیاں صرف ان ہی یا ان کے ارد گرد موجود چند لوگوں کے لیے نقصان دے ہوں۔ لیکن اگر کوئی بڑا آدمی کسی برائی کا ارتکاب کرے تو اس کے برے اثرات اطراف میں پھیل کر پورے ماحول کو آلودہ کر دیتے ہیں بالکل اسی طرح اگر معاشرے میں کسی اعلیٰ منصب پر فائز شخص نیک ہو تو اس کے نیک اعمال کے اثرات اور خوشبو بھی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر ماحول کو معطر کر دیتی ہے۔

معاویہ کے بعد یزید جیسے شخص کا مسلمانوں کا خلیفہ بن جانا اور اپنے آپ کو جانشین پیغمبر کہلوانے سے بڑھ کر بھی کوئی انحراف ہو سکتا ہے۔ اب اس حکم الٰہی پر عمل درآمد کرنے کے لیے راستہ بھی ہموار ہے راستہ ہموار ہے یعنی کیا مطلب کیا کوئی خطرہ نہیں ہے کیوں نہیں خطرہ تو موجود ہے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اقتدار پر قابض شخص اپنے مقابلے میں آنے والوں کے لیے خطرناک ثابت نہ ہو یہ تو ایک قسم کی جنگ ہے کیونکہ آپ اسے تخت اقتدار سے نیچے اتارنا چاہتے ہیں تو کیا وہ بیٹھ کر تماشہ دیکھے گا ظاہر ہے وہ بھی آپ کو نقصان پہنچانا چاہے گا تو بس پھر خطرہ تو موجود ہے۔

یہ جو ہم کہتے ہیں کہ راستہ ہموار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کا ماحول اور اس کے حالات ایسے ہیں کہ ممکن ہے امام حسین علیہ السلام کی آواز اس زمانے میں اور پوری تاریخ کے انسانوں کے کانوں تک پہنچ جائے اگر امام حسین علیہ السلام معاویہ کے دور میں قیام فرماتے تو آپ کا پیغام دفن ہو چکا ہوتا کیونکہ معاویہ کے دور حکومت میں حالات اور سیاست ہی کچھ ایسی تھی کہ لوگ حق بات سن ہی نہیں سکتے تھے لہٰذا امام عالی مقام نے معاویہ کے دور حکومت میں دس سال تک منصبِ امامت پر فائز رہنے کے باوجود کچھ نہیں کہا اور نہ ہی اس دور میں کوئی ایسا عمل انجام دیا اور نہ ہی کوئی اقدام اور قیام کیا کیونکہ اس دور میں راستہ ہموار نہیں تھا۔

امام حسین علیہ السلام سے پہلے امام حسن علیہ السلام وقت کے امام تھے تو آپ نے بھی قیام نہیں کیا تھا کیونکہ ان کے دور میں بھی حالات سازگار نہیں تھے نہ یہ کہ امام حسن اور امام حسین اس کام کے لیے لائق نہیں تھے بلکہ امام حسن اور امام حسین میں کوئی فرق نہیں اسی طرح امام حسین اور امام زین العابدین اور امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہم السلام اور دیگر آئمہ طاہرین کی سیرت اور کردار میں بھی کوئی فرق نہیں ہے ہاں البتہ امام عالی مقام نے یہ عظیم الشان قربانی دے کر دیگر تمام آئمہ اطہار پر جنہوں نے یہ عمل انجام نہیں دیا ہے سبقت حاصل کی ہے۔

لیکن منصبِ امامت کے لحاظ سے تمام آئمہ طاہرین علیہم السلام برابر ہیں۔ اب چونکہ امام حسین علیہ السلام کو ان انحرافات کا سامنا کرنا پڑا ہے تو پس انہیں اپنی ذمہ داریوں پر عمل بھی کرنا ہوگا کیونکہ موقع بھی مناسب ہے لہٰذا اب کسی عذر کی گنجائش باقی نہیں رہی اس لئے عبداللہ ابن جعفر محمد بن حنفیہ اور عبداللہ ابن عباس وغیرہ یہ کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ دین شناس، عارف، عالم اور فہم و ادراک رکھنے والے لوگ تھے۔ امام سے کہتے تھے مولا خطرہ ہے آپ نہ جائیے یعنی وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جب ذمہ داریوں کی انجام دہی میں خطرات موجود ہوں تو ذمہ داریاں ساکت ہو جاتی ہیں ان لوگوں میں اس بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں پائی جاتی تھی کہ یہ کوئی ایسی ذمہ داری نہیں ہے جو خطرات کی موجودگی سے ساکت ہو جائے کیونکہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ہمیشہ خطرات ہوتے ہیں کیا یہ ممکن ہے کہ انسان بظاہر اس قسم کی ایک بڑی مقتدر اور انتہائی مضبوط حکومت کے خلاف قیام کرے اور اسے کسی بھی قسم کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے کیا ایسا ہو سکتا ہے۔

پس اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ہمیشہ خطرات موجود ہوتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں جو کام انجام پایا اس کی ایک چھوٹی سی جھلک امام خمینی کے دور میں بھی سامنے آئی فرق یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کا نتیجہ شہادت کی صورت میں سامنے آیا جبکہ امام خمینی کے قیام کا نتیجہ حکومت کی صورت میں سامنے آیا امام حسین علیہ السلام اور امام خمینی کا ہدف اور مقصد ایک ہی تھا یہی مطلب امام حسین کی تعلیمات کی بنیاد ہے مذہبِ شیعہ کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ حسینِ تعلیمات پر مشتمل ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کا تعلق اسلام کی مضبوط بنیادوں سے ہے۔

ڈھائی سو سالہ انسان