حصہ 2 از 2
واقعہ کربلا کے سیاسی و اجتماعی حالات
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
اس حادثے کی خبر پوری اسلامی دنیا میں پھیل گئی اور سب سمجھ گئے کہ اس قسم کی ہر تحریک کا سدباب کرنے کے لیے حکومت پوری طرح آمادہ ہے اور کسی طرح کے اقدام کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک اور حادثہ جو مزید شیعوں کی سرکوبی اور ضعف کا سبب بنا وہ جناب مختار ثقفی کی کوفہ میں شہادت اور پورے عالم اسلام پر عبدالملک بن مروان کے تسلط کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یزید کی موت کے بعد جو خلفاء آئے ان میں اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید بھی ہے جو تین ماہ سے زیادہ حکومت نہ کر سکا اس کے بعد مروان بن حکم کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور تقریباً دو سال یا اس سے کچھ کم اس نے حکومت کی اور پھر خلافت کی باگ ڈور عبدالملک بن مروان کے ہاتھ آ گئی جس کے لیے مورخین کا خیال ہے کہ وہ خلفائے بنی امیہ میں زیرک ترین خلیفہ رہا ہے چنانچہ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ عبدالملک بنو امیہ کا سخت ترین اور مصمم ارادہ رکھنے والا خلیفہ تھا
انساب الاشراف جلد ۷ صفحہ ۲۰۹ عبدالملک پورے عالم اسلام کو اپنی مٹھی میں جکڑ لینے میں کامیاب ہو گیا اور خوف و دہشت سے معمور آمرانہ حکومت قائم کر دی حکومت پر مکمل تسلط حاصل کرنے کے لیے عبدالملک کے سامنے صرف ایک راہ تھی اور وہ یہ کہ اپنے تمام رقیبوں کا صفایا کر دے مختار جو شیعیت کی علامت تھے مصعب بن زبیر کے ہاتھوں پہلے ہی جام شہادت نوش فرما چکے تھے۔ لیکن عبدالملک شیعہ تحریک کا نام و نشان مٹانا چاہتا تھا اور اس نے ایسا ہی کیا۔ اس کے دور میں عراق خصوصاً کوفہ جو اس وقت شیعوں کا ایک گھر شمار کیا جاتا تھا مکمل جمود اور خاموشی کی نذر ہو گیا پاسدارانِ اسلام شمارہ ۸ اگر سن ۶۴-۶۵ ہجری میں توابین کی تحریک کی وجہ سے ظاہراً ۶۵ ہجری توابین کی شہادت کا سال ہے توابین کی تحریک کا واقعہ کربلا کا سب سے پہلا ردعمل ہے جو کوفہ میں ظاہر ہوا۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بعض شیعوں نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے باہمی مؤاخذے کا سوچا کہ انہوں نے امام کی دعوت پر لبیک کیوں نہ کہی اور مدد کے لیے میدان میں نکلنے سے کیوں گریز کیا۔ چنانچہ انہوں نے محسوس کیا اس گناہ سے اپنے دامن کو پاک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ امام کے دشمنوں اور قاتلوں سے آپ کے خون ناحق کا انتقام لیا جائے لہٰذا وہ لوگ کوفہ آئے اور اکابرین شیعہ میں سے پانچ افراد کو جمع کر کے ان سے اس سلسلے میں گفتگو کی جس کے نتیجے میں سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں کھلے عام مسلحانہ تحریک کا آغاز کر دیا ۲۵ ربیع الثانی ۶۵ ہجری کی شب جمعہ کو یہ لوگ امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک پر زیارت کے لیے جمع ہوئے اور اس طرح فریاد و گریہ کرنا شروع کیا کہ آج تک اس گریہ و زاری کی مثال نہیں ملتی اس کے بعد قبر امام علیہ السلام کو وداع کہہ کر شامی حکومت سے نبرد آزمائی کے لیے شام کا رخ کیا
اور پھر لشکر بنو امیہ سے جم کر جنگ ہوئی اور سب کے سب مارے گئے توابین کی تحریک کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ لوگ باوجود اس کے کہ کوفہ میں تھے۔ پھر بھی شام گئے اور برسرِ اقتدار حکومت سے جنگ کی تاکہ یہ ثابت کر دیں کہ امام حسین علیہ السلام کا قاتل کوئی ایک شخص یا چند اشخاص نہیں ہیں بلکہ یہ حکومت ہے جس نے امام حسین کو شہید کیا ہے عراق کے گھٹن زدہ ماحول میں ہوا کی تازہ ایک لہر چلنے لگی تھی لیکن ان سب کی شہادت کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر عراق میں خوف و دہشت کے ماحول میں اضافہ ہوا اور اس کے بعد جب بنو امیہ کی حکومت کے دشمن یعنی مختار اور مصعب آپس میں ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوئے اور عبداللہ ابن زبیر مکہ میں ہوتے ہوئے بھی کوفہ میں ایک محب اہل بیت مختار کو برداشت نہ کر سکے اور مختار مصعب کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اس خوف و دہشت میں مزید اضافہ ہوتا گیا اور امیدیں کم ہونے لگیں اور آخرکار جب عبدالملک برسرِ اقتدار آیا تو اس نے انتہائی کم مدت میں ہی پورے عالم اسلام کو اپنے زیرِ نگیں کر لیا اور ۲۱ سال تک پوری طاقت کے ساتھ حکومت کرتا رہا
بہرحال یہ واقعات کربلا کے عظیم سانحے سے شروع ہوئے اور پھر یکے بعد دیگرے واقعہ حرہ میں اہل مدینہ کے قتل و غارت عراق میں توابین کی بیخ کنی، جناب مختار ثقفی اور ابراہیم بن مالک اشتر نخعی نیز دیگر اکابرین شیعہ کی شہادت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی کے حصول کی غرض سے ہر تحریک چاہے وہ مدینہ میں ہو یا کوفہ میں کیونکہ اس وقت یہ دونوں شیعوں کے اہم ترین مراکز تھے کچل کر رکھ دی گئی شیعت سے متعلق پورے عالم اسلام میں ایک عجیب خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ آئمہ طاہرین علیہم السلام سے وابستہ رہ گئے تھے اپنی زندگی نہایت ہی غربت و قسم پرسی میں بسر کر رہے تھے پاسدارانِ اسلام شمارہ آٹھ اس خوف و دہشت کے علاوہ ایک عامل اور بھی موجود تھا۔
وہ پورے عالم اسلام کے لوگوں کی ذہنی پستی تھی جو گزشتہ بیس سالوں کے دوران دینی تعلیمات سے مسلمانوں کی دوری کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی جب انسان اس دور کے لوگوں کی زندگی کا بغور مطالعہ کرتا ہے تو تاریخ اور متعدد روایات سے یہ واضح ہو جاتا ہے البتہ علماء، قراء اور محدثین بھی موجود تھے جن کے بارے میں ہم بعد میں عرض کریں گے۔ لیکن عوام الناس کا ایمان اور ان کے عقائد بری طرح تباہ و برباد ہو کر رہ گئے تھے نوبت یہاں تک پہنچی تھی کہ بعض حکومتی آلہ کاروں نے نبوت پر انگلیاں اٹھانا شروع کی تھیں کتابوں میں موجود ہے کہ خالد بن عبداللہ قسری جو بنی امیہ کا ایک انتہائی پست قسم کا پٹھو تھا وہ کہا کرتا تھا خلافت نبوت سے افضل ہے اور وہ اپنے اس دعوے پر دلیل بھی پیش کرتے ہوئے کہتا تھا۔
آپ جس آدمی کو اپنا جانشین بنا کر اپنے گھر والوں کے پاس بٹھاتے ہیں وہ افضل اور آپ کا قریب ہوگا یا وہ شخص جسے کوئی پیغام پہنچانے کے لیے کہیں آپ نے بھیجا ہے الاخبار الطوال صفحہ 346 معلوم ہے کہ جس شخص کو آپ نے اپنا جانشین بنا کر اپنے گھر میں بٹھایا ہے وہ آپ کا زیادہ قریب ہوگا۔ پس خلیفتہ اللہ، خلیفہ رسول اللہ بھی نہیں کہتا ہے، رسول اللہ سے افضل ہے، یہ تو خالد بن عبداللہ قسری کہتا تھا اور دوسرے لوگ بھی اس قسم کی باتیں کہتے تھے میں نے بنی امیہ کے دور کے شعراء کے کلام کا مطالعہ کیا ہے عبدالملک کے دور سے شعراء کے کلام میں خلیفتہ اللہ کی تعبیر کی اس قدر تکرار ہوئی ہے کہ انسان کو یاد ہی نہیں رہتا ہے کہ پیغمبر ؐ کا بھی کوئی خلیفہ ہوتا ہے اور یہ سلسلہ بنی عباس کے دور حکومت تک چلتا رہا اے بنی امیہ تم لمبی نیند سو گئے ہو اب جاگ جاؤ، یعقوب بن داود خلیفہ بن چکا ہے، تمہاری خلافت تباہ و برباد ہو گئی ہے
جاؤ خلیفتہ اللہ کو شراب اور گانوں کے درمیان تلاش کرو طبقات الشعراء صفحہ ۳ یہاں تک کہ اگر کوئی خلیفہ کا مذاق اڑانا چاہتا تھا تو بھی خلیفتہ اللہ ہی کہتا تھا ہر جگہ اس دور کے مشہور شعراء جیسے جریر، فرزدق، کثیر اور دیگر سینکڑوں مشہور شعراء جب خلیفہ کی تعریف میں کوئی شعر کہتے تھے تو خلیفتہ اللہ کہتے تھے خلیفہ رسول نہیں کہتے تھے یہ ایک نمونہ ہے۔ اسی طرح لوگ دین کے بنیادی عقائد کے بارے میں بھی سستی اور کاہلی سے کام لیتے تھے اور اخلاقی لحاظ سے بھی لوگوں کی حالت انتہائی خراب تھی میں نے ابو الفرج کی کتاب الاغانی کے مطالعے کے دوران اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ تقریباً ۷۰، ۸۰، ۹۰ اور ۱۰۰ ہجری کے دوران ان پچاس ساٹھ سالوں میں عالم اسلام میں جو بڑے بڑے گلوکار، صداکار اور ناچ گانے والے اور عیش و عشرت کے شوقین لوگ گزرے ہیں ان کا تعلق یا تو مدینہ سے تھا یا پھر مکہ سے شام میں بھی جب خلیفہ کو گانے سننے کا شوق ہوتا تھا وہ مدینہ یا مکہ سے کسی مشہور گلوکار، صداکار یا ڈھول بجانے والے کو بلواتا تھا
بدترین اور فحش اشعار کہنے والے شعراء مکہ اور مدینہ میں رہتے تھے، نزول وحی اور اسلام کی جائے پیدائش اب فحش و فساد کا مرکز بن گیا تھا۔ یہ اچھی بات ہے کہ مکہ اور مدینہ کے بارے میں ہمیں یہ باتیں معلوم ہونی چاہیے۔ لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے علمی آثار میں اس قسم کی باتیں موجود نہیں ہیں اور یہ حقیقت تھی میں یہاں پر فحش و فساد کی ایک مثال پیش کرتا ہوں مکہ میں عمر بن ابی ربیعہ نام کا ایک شاعر رہتا تھا جس کا شمار بدترین فحش گو شعراء میں ہوتا تھا لیکن وہ اپنے فن کا بڑا ماہر تھا خود عمر بن ربیعہ کی داستانیں اور یہ کہ وہ مکہ میں کیا کرتا تھا، یہ ایک تفصیل طلب اور اس دور کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے مکہ میں خانہ کعبہ کا طواف اور رمی جمرات کے دوران وہ یہ اشعار کہتا تھا جسے ہم مغنی اللبیب میں پڑھتے ہیں، وہ کہتا ہے۔
خدا کی قسم، رمی جمرات کے دوران میں اس کے عاشقانہ، مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھ کر اتنا متحیر ہو گیا کہ یہ بھی بھول گیا کہ میں نے سات کنکریاں ماری ہیں یا آٹھ مغنی اللبیب صفحہ بیس راوی کہتا ہے جب عمر بن ربیعہ مر گیا تو اس کے غم میں پورا مدینہ سوگوار ہو گیا لوگ مدینہ کی سڑکوں اور گلیوں میں نکل کر رو رہے تھے راوی کہتا ہے میں جہاں بھی جاتا تھا دیکھتا تھا کہ مرد، عورتیں، جوان، بوڑھے سب عمر بن ابی ربیعہ کے سوگ میں افسردہ تھے راوی مزید کہتا ہے میں نے دیکھا کہ ایک کنیز کسی کام پر جا رہی تھی مثلاً ہاتھ میں کوئی برتن لے کر پانی لینے جا رہی تھی اور وہ عمر بن ابی ربیعہ کے مرنے پر مسلسل آنسو بہا رہی تھی اور افسوس کا اظہار کر رہی تھی۔
جب وہ کچھ لوگوں کے قریب سے گزری تو لوگوں نے پوچھا تم کیوں اس طرح رو رہی ہو؟ اس نے کہا عمر بن ابی ربیعہ کے مرنے پر رو رہی ہوں کہ وہ ہمارے درمیان سے چلا گیا ہے کسی نے کہا کہ تم اتنی پریشان نہ ہو کیونکہ مدینہ میں خالد بن مخزومی نامی ایک اور شاعر موجود ہے جو کچھ مدت کے لیے بنی امیہ کی طرف سے حاکم مدینہ بھی رہا ہے وہ بھی عمر بن ابی ربیعہ کی طرح فحش اور بے پردہ شعر کہنے والوں میں سے ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے خالد بن مخزومی کا ایک شعر پڑھ کر سنایا اس کنیز نے شعر کو غور سے سنا شعر اور اس کی خصوصیات کو الاغانی میں لکھا گیا ہے اور اس کے بعد اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے حرم کو خالی نہیں رکھا یعنی ایک فحش گو چلا گیا تو اس کی جگہ دوسرا آ گیا۔ یہ تھی اہل مدینہ کی اخلاقی حالت آپ مکہ اور مدینہ کی رنگین راتوں کے بہت سارے قصے سن چکے ہوں گے۔ یہ صرف نچلے درجے کے لوگوں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ہر طبقے کے لوگ اس میں مبتلا تھے گداگروں، فقیروں اور بھوکوں جیسے شعب تمہ نامی مشہور اور مسخرہ باز شاعر اور عام قسم کے بازاری لوگوں اور کنیزوں سے لے کر قریش کے بڑے بڑے لوگ مرد اور عورتیں، یہاں تک کے بنی ہاشم کے کچھ لوگ بھی ان برائیوں میں غرق تھے خالد بن مخزومی نامی شخص کے دور حکومت میں طلحہ کی بیٹی عائشہ طواف کر رہی تھی مخزومی اسے پسند کرتا تھا۔
جب اذان کا وقت ہوا تو عائشہ نے مخزومی سے کہا کہ آپ حکم دیں کہ میرے طواف ختم ہونے تک عصر کی اذان نہ دی جائے اس نے حکم دیا کہ عصر کی اذان نہ دی جائے اور جب لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ ایک عورت کے طواف کے خاطر سب کی نماز قضا کرانا چاہتے ہو تو مخزومی نے کہا۔ خدا کی قسم اگر کل صُبح تک بھی اس کا طواف پورا نہ ہو جائے تو میں اذان کی اجازت نہیں دوں گا اندازہ کیجئے کہ اس زمانے کے لوگوں کی ذہنی پستی کا یہ عالم تھا۔