امام حسینؑ

امام حسینؑ

ڈھائی سو سالہ انسان
امام حسینؑ

امام حسینؑ

ہجری ۴

ہجری ۶۱

حصہ 1 از 2

حضرت زینب علیہا السلام اور دیگر سفیرانِ کربلا کی تحریک

کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں

زینبِ کبریٰ علیہا السلام کے تحریک زینبِ کبریٰ علیہا السلام ایک عظیم خاتون ہیں مسلمانوں کی نظر میں اس عظیم خاتون کو جو عظمت حاصل ہے وہ کس وجہ سے ہے؟ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کو یہ عظمت اس لئے حاصل ہے کہ آپ علی ابن ابی طالب کی بیٹی اور حسنین علیہما السلام کی بہن ہیں کیونکہ صرف یہ نسبتیں ہرگز ایسی عظمت کا سبب نہیں بن سکتیں ہمارے باقی ائمہ طاہرین کی بھی مائیں اور بہنیں تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی ہے؟ زینبِ کبریٰ علیہ السلام جیسے کون ہے؟ زینبِ کبریٰ کی اہمیت، آپ کی عظمت، آپ کی عظیم اسلامی اور انسانی تحریک اور موقف کی وجہ سے ہے جسے آپ نے فریضہ الٰہی کی بنیاد پر انجام دیا تھا۔

آپ کے کام، آپ کے فیصلے اور آپ کی تحریک کی نوعیت نے آپ کو ایسی عظمت عطا کی ہے۔ پس جو خاتون بھی ایسا کام کرے گی اگرچہ امیر المومنین علیہ السلام کی بیٹی نہ بھی ہو تب بھی ایسی عظمت حاصل کر سکتی ہے۔ اس عظمت کا بہترین حصہ یہ ہے کہ آپ نے پہلے مرحلے میں ہی موقع شناسی کا ثبوت دیا۔ امام حسین کے کربلا جانے سے پہلے کے موقع کو بھی پہچانا اور روزِ عاشورہ کے بحرانی موقع کو بھی اور امام حسین کی شہادت کے واقعات کے موقع کو بھی پہچانا اور دوسرے مرحلے میں ہر موقع کی مناسبت سے الگ الگ اقدام کا انتخاب کیا اور انہیں اقدامات نے زینبِ کبریٰ علیہ السلام کی شخصیت کو عظیم ترین بنا دیا کربلا کی جانب روانگی سے پہلے ابن عباس اور ابن جعفر جیسے بزرگان اور صدر اسلام کی نامور شخصیات جو فقاہت، شہامت، ریاست اور آقازادگی کے دعویدار تھیں وہ بھی شَش و پنج کا شکار ہوئی۔

وہ یہ نہیں سمجھ سکیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن زینبِ کبریٰ علیہ السلام شَش و پنج کا شکار نہیں ہوئی بلکہ وہ سمجھ گئیں کہ آپ کو اس راستے کا انتخاب کرنا چاہیے اور اپنے امام کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے اور آپ امام حسین کے ساتھ چلی گئیں ایسا ہرگز نہیں تھا کہ آپ نہ جانتی ہوں کہ یہ راستہ بہت سخت ہے بلکہ آپ دوسروں سے بہتر اس بات کو محسوس کر رہی تھیں۔ آپ ایک خاتون تھیں جو اپنے فریضے کی ادائیگی کے لیے اپنے شہر اور خاندان سے دور ہو رہی تھیں اس بنا پر اپنے چھوٹے بچوں اور نوجوان بیٹوں کو اپنے ساتھ لیا آپ محسوس کر رہی تھیں کہ کیسا حادثہ رونما ہو سکتا ہے ایسے بحرانی حالات میں جب طاقتور ترین مرد حضرات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔

لیکن آپ اپنا فریضہ سمجھ گئیں اور اپنے امام کی حمایت کرتے ہوئے آپ کو شہادت کیلئے تیار کیا۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب دنیا تاریک ہو گئی دل و جان اور آفاق عالم پر اندھیرا چھا گیا تو یہ عظیم خاتون روشنی بن کر چمکنے لگیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا اس منزل پر فائز ہو گئیں کہ جہاں تک تاریخ بشریت کے صرف بلند ترین افراد یعنی انبیاء ہی پہنچ سکتے ہیں یقینا اگر حضرت زینب نہ ہوتی تو واقعہ کربلا باقی نہ رہتا اور نہ ہی زینب کبریٰ علیہ السلام کے بغیر عاشور کا واقعہ اتنا عام ہوتا اور تاریخ میں زندہ و جاوید بن کر اُبھرتا واقعہ عاشورہ کے آغاز سے آخر تک علی علیہ السلام کی بیٹی زینب علیہا السلام کی شخصیت اور کردار اتنا نمایاں ہے کہ انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ ایک خاتون کے لباس اور علی علیہ السلام کی بیٹی کی صورت میں ایک دوسرا حسین ہے قطع نظر اس کے کہ اگر جناب زینب نہ ہوتی تو عاشور کے بعد کیا ہوتا شاید امام زین العابدین بھی شہید کر دیے جاتے شاید امام حسین کا پیغام کہیں بھی نہ پہنچتا امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے پہلے بھی جناب زینب آپ کے لیے ایک ایسے غمخوار کی مانند تھی کہ ان کی موجودگی میں امام حسین علیہ السلام کبھی بھی تنہائی اور تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے تھے

انسان ایسے کردار کو جناب زینب صلی اللہ علیہا کے مقدس چہرے پر آپ کے فرمودات اور آپ کے کردار میں مشاہدہ کر سکتا ہے دو مرتبہ جناب زینب نے کسی حد تک بےقراری کا احساس کیا اور امام حسین کے پاس جا کر اپنی اس بے چینی کا اظہار بھی کیا۔ ایک مرتبہ مکہ سے کربلا جاتے ہوئے کسی منزل پر جب حضرت مسلم ابن عقیل کی شہادت سے متعلق خبریں موصول ہو رہی تھی۔ حضرت زینب علیہ السلام بھی آخر ایک عورت تھی وہ زنانہ جذبات رکھتی تھی اور لطیف زنانہ احساس رکھتی تھی بلکہ جذبات اور احساسات کا اصلی مظہر ہی خاندان پیغمبر ہے تمام تر طاقت شجاعت اور مصائب و مشکلات کے مقابلے میں ڈٹ جانے کے باوجود انسانی نفاست پاکیزگی اور انسانی ترحم کا جوش مارتا ہوا سرچشمہ بھی یہی خاندان ہی تو ہے۔

ہم امام حسین علیہ السلام کی مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ حسین جو پورے دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں یا ایک صحرا میں بھرے بھیڑیوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے سے بھی نہیں گھبراتے لیکن وہی شخص کبھی بعض چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مقابلے میں منقلب ہو جاتے تھے مثلا اس وقت جب ایک حبشی غلام زخمی ہو کر زمین پر گر گیا شاید وہ ابوذر غفاری کا غلام جون تھا جو امام کے چاہنے والوں اور آپ کے ارادت مندوں میں سے تھا اجتماعی اور معاشرتی حوالے سے اس دور کے مسلمانوں میں غلام کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی خاندانی لحاظ سے کسی اعلیٰ خاندان سے اس کا تعلق تھا عاشور کے دن کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام کے رکاب میں بڑے بڑے لوگوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے جیسے حبیب ابن مظاہر، زہیر ابن قین اور دیگر شہدائے کربلا جن کا شمار کوفہ کے بزرگوں میں ہوتا تھا ان میں سے کسی کی شہادت پر امام حسین نے ایسا رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا جو رد عمل اس حبشی غلام کی شہادت پر دکھایا جب مسلم بن عوسجہ زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے تو آپ نے مسلم بن عوسجہ سے مخاطب ہو کر کہا انشاء اللہ تم اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پاؤ گے لیکن یہ حبشی غلام گرتا ہے کہ جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا رشتہ دار رونے والا ہے

تو امام حسین علیہ السلام آگے بڑھے اور اس غلام کے ساتھ وہی کچھ کیا جو آپ نے حضرت علی اکبر کے ساتھ کیا تھا یعنی امام حسین علیہ السلام اس غلام کے سرہانے زمین پر بیٹھ گئے اور اس کے خون آلود سر کو اپنے زانو پر رکھا لیکن امام کے دل کو اب بھی سکون نہیں ملا اور سب نے یہ منظر دیکھا کہ ایک مرتبہ امام عالی مقام نے اپنے چہرے مبارک کو جون کے خون آلود چہرے پر رکھا یوں انسانی ہمدردی اور احساس کا ایک عجیب منظر سامنے آ گیا۔ لہٰذا حضرت زینبؐ نے ایک عورت کی حیثیت سے لطیف زنانہ احساسات کے ساتھ نہ کہ ایک عام عورت کی حیثیت سے بلکہ امام حسینؐ کی بہن اور ایک ایسی بہن جو اپنے دل و جان سے اپنے بھائی کو چاہتی ہے۔

ایک ایسی بہن جو اپنے شوہر اور گھر بار کو چھوڑ کر امام حسینؐ کے ساتھ آ گئی ہے اور وہ بھی تنہا نہیں آئی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے دونوں بیٹوں عون و محمد کو بھی لے آئی ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ رہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کی ضرورت پڑے تو انھیں قربان کر سکیں۔ لیکن اس کے باوجود جناب زینبؐ نے جب خطرے کا احساس کیا تو امام حسینؐ کے پاس جا کر عرض کی بھائی جان مجھے خطرے کی بو آ رہی ہے حالات خطرناک لگ رہے ہیں اگرچہ آپ جانتی تھیں کہ جانوں کے نظرانے پیش کرنے ہیں اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی ہیں لیکن اس کے باوجود اس حد تک حالات کے دباؤ میں آ جاتی ہیں کہ امام حسینؐ سے رجوع کرتی ہیں۔

اس موقع پر امام حسینؐ آپ سے کوئی تفصیل گفتگو نہیں کرتے بلکہ امام فرماتے ہیں کوئی بات نہیں اللہ جو چاہے وہ ہی ہوگا یعنی آپ نے تقریباً اس قسم کا ایک جملہ کہا ماشاء اللہ قانا الکافی جلد 2 صفحہ 530 جو اللہ چاہے گا وہ ہو کر رہے گا اس کے بعد تاریخ میں ہمیں کچھ نہیں ملتا ہے کہ حضرت زینبؐ نے امام حسینؐ سے حالات کے متعلق کچھ کہا ہو یا کوئی سوال کیا ہو یا اپنے چہرے سے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار کیا ہو سوائے شب عاشورؐ کے شب عاشورؐ کے ابتدائی حصے کے بارے میں بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس موقع پر بھی جناب زینبؐ علیہ السلام بے چین ہوئی اس واقعے کے راوی امام زینالعابدین ہیں جو اس وقت بیمار تھے۔

آپ فرماتے ہیں میں اپنے خیمے میں لیٹا ہوا تھا اور پھوپھی زینب علیہ السلام میری تیمارداری میں مشغول تھی۔ ہمارے ساتھ والے خیمے میں میرے بابا امام حسینؐ تشریف فرما تھے۔ آپ کے خیمے میں جناب ابوذرؐ کا غلام جون آپ کی تلوار کو صیقل کر رہا تھا اور اس کی دھار تیز کر رہا تھا گویا امام کل کی جنگ کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے تھے۔ امام زینالعابدین فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ امام حسینؐ نے زیر لب کچھ اشعار پڑھنا شروع کیے اور ایک شعر پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ دنیا نے اپنا رخ موڑ لیا ہے اور زندگی انسان سے وفا نہیں کرتی اور موت نزدیک ہے اے زمانے تف ہو تیری دوستی پر تُو اپنے بہت سے دوستوں کو صبح و شام موت کے سپرد کر دیتا ہے بہار الانوار جلد 44 صفحہ 316 یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو شخص یہ شعر پڑھ رہا ہے اسے یقین ہے کہ وہ بہت ہی جلد اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہے۔

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں۔ جب میں نے یہ شعر سنا تو اس کے معنی اور مفہوم کو بھی سمجھ گیا یعنی میں جان گیا کہ امام حسین علیہ السلام اپنی شہادت کی خبر دے رہے ہیں۔ لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالا مگر پھوپی زینب علیہ السلام یہ سن کر پریشان ہو گئیں اور اٹھ کر بھائی کے خیمے میں چلی گئیں اور امام حسین سے مخاطب ہو کر کہنے لگی بھائی جان میں سن رہی ہوں کہ آپ اپنی شہادت کی خبر دے رہے ہیں۔ جب بابا شہید ہوئے تو ہم نے کہا ہمارے بھائی موجود ہیں اور جب بھائی حسن علیہ السلام شہید ہوئے تو ہم نے کہا ہمارے بھائی حسین علیہ السلام موجود ہیں اور کئی سالوں سے آپ ہی کے بھروسے پر جی رہی ہیں اور آج میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ بھی اپنی شہادت کی خبر دے رہے ہیں۔

البتہ پریشان ہونا حضرت زینب کا حق بھی بنتا ہے میں سوچتا ہوں کہ اُس دن زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی جو حالت تھی وہ ایک استثنائی حالت ہے کسی بھی عورت یہاں تک کہ خود امام زین العابدین کی حالت کا بھی زینبِ کبریٰ سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا حضرت زینب علیہا سلام کی حالت انتہائی سخت اور طاقت فرسا تھی کافلے میں شامل تمام مرد عاشور کے دن شہید کر دیا گئے تھے عصرِ عاشور ان خیموں میں امام زین العابدین کے علاوہ کوئی مرد باقی نہیں بچا تھا اور امام زین العابدین علیہ سلام بھی بیماری کے بستر پر پڑے ہوئے تھے شاید بےہوشی کی حالت میں تھے۔

اب ایسے حالات میں آپ سوچئے کہ اُس خیمہ گاہ میں تقریباً اسی عورتیں اور بچے موجود تھے جنہیں چاروں طرف سے دشمن کے ایک جمع غفیر نے گھیر رکھا تھا ان کی کیا حالت ہونی چاہیے جبکہ ان میں سے کوئی بھوکا ہو اور کوئی پیاسا بلکہ یہ کہا جائے کہ سب کے سب بھوکے اور پیاسے ہوں اور سب خوفزدہ اور پریشان حال ہوں بہرحال ایک انتہائی تلخ اور وحشتناک واقعہ ہے جسے صرف ایک ہی شخصیت نے آگے بڑھ کر سنبھالا اور وہ شخصیت حضرت زینبِ کبریٰ علیہا سلام کی تھی صرف ایسا نہیں تھا کہ جنابِ زینب علیہا سلام نے اپنے بھائی کو کھو دیا ہو یا اپنے دو بیٹوں یا اپنے دیگر بھائیوں اور عزیز و اقارب بنو ہاشم کی اٹھارہ جوانوں اور اپنے با وفا اصحاب و انصار کو کھو دیا ہو ان حالات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک اہم حقیقت تھی اور شاید اس کی اہمیت اس سے کسی بھی لحاظ سے کم بھی نہ تھی۔

وہ یہ کہ اتنے سارے دشمنوں کی موجودگی میں اس شکست خوردہ اور منتشر قافلے کی دیکھبھال کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر تھی۔ یہاں تک کہ خود امام زین العابدین علیہ السلام کی دیکھبھال بھی آپ ہی کے ذمہ تھی۔ لہٰذا ان چند گھنٹوں کے درمیان یعنی واقعہ عاشور کے بعد سے لے کر یہ طے ہونے تک کہ دشمن اس لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے یعنی اس تاریک اور سخت رات کے ان چند گھنٹوں کے دوران اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ جناب زینب علیہ السلام پر کیا گزری یہی وجہ ہے کہ اس دوران حضرت زینب مسلسل مصروف اور بھاگ دوڑ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

آپ کبھی ایک بچے کے پاس جاتی ہیں تو کبھی کسی ایسی ماں کے پاس پہنچتی ہیں جس کی گود اجڑ گئی ہو اور کبھی ایسی بہن کے پاس پہنچ جاتی ہیں کہ جس کے سر سے بھائی کا سایہ چھینا گیا ہے گویا آپ مسلسل مصروف ہیں ان سب کو جمع کرتی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ زینب علیہ السلام کا حوصلہ جواب دے جاتا ہے۔ آپ اپنے اس بھائی کی طرف رخ کرتی ہیں جو آپ کی واحد پناہ گاہ تھے روایت میں ہے کہ جنابِ زینب علیہ السلام اللہ علیہا آتی ہیں اور اپنے بھائی کے پامال شدہ لاشے کے قریب کھڑی ہوتی ہیں اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ فریاد کرتے ہوئے کہتی ہیں اے نانا جان آپ پر آسمان کے فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں۔

یہ آپ کا پیارا حسین ہے جو خاک و خون میں غلطاں کربلا کی گرم ریت پر پڑا ہے اللھوف سید بن تاؤس صفحہ 133 یہ جو کہا جاتا ہے کہ عاشورہ وہ دن ہے جب خون نے تلوار پر فتح حاصل کی یہ ایک حقیقت ہے اور یہ فتح اور کامیابی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی ورنہ خون کربلا میں ختم ہو چکا تھا اور یہ جنگ کربلا کے میدان میں بظاہر حق کی شکست کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ لیکن جو چیز اس ظاہری شکست کو ایک دائمی فتح و کامرانی میں تبدیل کرنے کا سبب بنی وہ حضرت زینب علیہ السلام اللہ علیہ حق کی ذات با برکت تھی اس واقعے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا حق کی جو کردار ادا کیا وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ عورت تاریخ کے حاشیہ پر نہیں بلکہ تاریخ کے اہم واقعات کے اصلی متن کا حصہ ہے۔

قرآن مجید نے بھی متعدد مقامات پر اس نکتے کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ لیکن یہ واقعہ گزشتہ امتوں سے مربوط کسی دور کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک زندہ اور قابل ادراک واقعہ ہے جہاں انسان یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا حق کی ایک حیرت انگیز اور تابناک عظمت کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں اور ایک ایسا کارنامہ انجام دیتی ہے کہ جس کی بنا پر وہ دشمن جو اپنے مخالفین کا قلع قمع کر کے سر پر فتح کا تاج پہن کر اپنی کامیابی اور فتح کے نقارے بجا رہا تھا اسے اپنے ہی شہر اپنے محل اور اپنے دارالحکومت میں ذلیل اور رسوا ہونا پڑا حضرت زینب علیہ السلام اللہ علیہ نے اس کی پیشانی پر ذلت اور رسوائی کا ایک دائمی داغ لگا دیا کہ اس کی فتح اور کامیابی شکست میں تبدیل ہو کر رہ گئی یہی حضرت زینب علیہ السلام کا کارنامہ ہے۔

آپ نے اپنے اس عمل سے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ خواتین کے حجاب اور پاک دامنی کو مجاہدانہ وقار اور عظیم جہاد میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے زینب علیہ السلام کے جو خطبات اور فرمودات ہم تک پہنچے ہیں ان سے بھی آپ کی تحریک کی عظمت کا بہت خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے بازارِ کوفہ میں آپ کا ناقابل فراموش خطبہ کوئی معمولی خطبہ نہیں ہے۔ یہ کسی عظیم شخصیت کا معمولی اظہارِ خیال بھی نہیں ہے بلکہ ان سخت اور دشوار حالات میں اس دور کے اسلامی معاشرے کے مسائل کا مکمل تجزیہ و تحلیل ہے جو انتہائی خوبصورت الفاظ نہایت عمیق و گہرے مفہیم کی شکل میں پیش کیا گیا ہے آپ حضرت زینب علیہ السلام کی شخصیت کی طاقت تو دیکھیے کہ آپ کی شخصیت کس قدر طاقتور ہے ابھی دو دن پہلے ایک صحرا میں آپ کے بھائی، آپ کے قائد اور امام، آپ کے عزیز و اقارب، آپ کے بیٹوں اور دیگر جوانوں کو نہایت بے رحمی سے شہید کر دیا گیا

ڈھائی سو سالہ انسان