حصہ 1 از 2
واقعہ کربلا کے بعد اجتماعی اور سیاسی حالات
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
جب عاشور کا المناک حادثہ رونما ہوا اور پوری اسلامی دنیا میں جہاں جہاں بھی یہ خبر پہنچی خصوصاً آئمہ معصومین علیہم السلام کے شیعوں اور طرفداروں میں جو عراق اور حجاز میں مقیم تھے۔ ایک عجیب خوف و دہشت کی فضا پیدا ہو گئی کیونکہ یہ محسوس کیا جانے لگا کہ یزیدی حکومت اپنی حاکمیت کو مسلط کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے حتیٰ کہ اس کو عالمِ اسلام کی جانی پہچانی، عظیم، مقدس اور معتبر ترین ہستی فرزندِ رسول حسین ابنِ علیؑ کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے میں بھی کسی طرح کا کوئی دریغ نہیں کرتی اور اس وحشت اور دہشت میں جس کے آثار کوفہ اور مدینہ میں کچھ زیادہ ہی نمایاں تھے جو کچھ کمی رہ گئی تھی وہ اس وقت پوری ہو گئی جب کچھ ہی عرصے بعد بعض دوسرے لرزہ خیز حوادث رونما ہوئے جن میں سرفہرست واقعہ حرہ ہے اہل بیت علیہم السلام کے زیرِ اثر علاقوں یعنی حجاز میں بالخصوص مدینہ اور عراق اور اس سے بھی بڑھ کر کوفہ میں بڑا ہی گھٹن کا ماحول پیدا ہو گیا تھا
تعلقات اور ارتباطات کافی کمزور ہو چکے تھے جو لوگ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے طرفدار تھے اور بنو امیہ کی خلافت و حکومت کے زبردست مخالفین میں شمار ہوتے تھے بہت ہی قسم پرسی اور شک و شبہے کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے کہ جس میں گزشتہ آئمہ طاہرین کے دور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کے بعد تین افراد کے علاوہ سارے لوگ مرتد ہو گئے۔ ایک روایت میں پانچ افراد اور بعض دوسری روایتوں میں سات افراد تک کا ذکر ملتا ہے۔ ایک اور روایت جو خود امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے جس کے راوی ابو عمر مہدی ہیں۔
امام علیہ السلام فرماتے ہیں پورے مکہ اور مدینہ میں بیس افراد بھی ایسے نہیں تھے جو ہم سے محبت کرتے ہوں بحار الانوار جلد ۶۴ صفحہ ۳۴۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۴ صفحہ ۴۰۱ ہم نے یہ دونوں حدیثیں اس لیے نقل کی ہیں کہ اہل بیت طاہرین علیہم السلام اور ان کے طرفداروں کے بارے میں عالمِ اسلام کی مجموعی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے در اصل اس وقت ایسی خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی تھی کہ آئمہ اطہار علیہم السلام کے طرفدار متفرق، پراگندہ اور مایوس و مرعوب زندگی گزار رہے تھے اور کسی طرح کی اجتماعی تحریک ممکن نہیں البتہ جیسے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مذکورہ بالا روایات میں ارشاد فرماتے ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ لوگ اہل بیت علیہ السلام سے ملحق ہوتے گئے اور تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا بحار الانوار جلد ۴۶ صفحہ ۱۴۴ اگر یہی مسئلہ جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ کربلا کا عظیم سانحہ رونما ہونے کے بعد اگرچہ لوگوں کی خاصی تعداد رُعب و وحشت میں گرفتار ہو گئی تھی پھر بھی خوف و ہراس اتنا غالب نہ تھا کہ شیعانِ اہل بیت علیہ السلام کی پوری تنظیم یکسر درہم برہم ہو کر رہ گئی ہو جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت اسیرانِ کربلا کا لٹا ہوا قافلہ کوفہ میں پہنچتا ہے کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو شیعہ تنظیموں کے وجود کا پتہ دیتے ہیں۔
البتہ یہاں ہم جو شیعوں کی خفیہ تنظیم کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد موجودہ زمانے کی طرح سیاسی تنظیموں کی کوئی باقاعدہ منظم شکل نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد وہ اعتقادی روابط ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ایک مضبوط دھاگے میں پرو دیتے ہیں اور پھر لوگوں میں جذبہ فدا کاری پیدا کر کے خفیہ سرگرمی پر اکساتے ہیں جس کے نتیجے میں انسانی ذہن میں ایک ہم فکر جماعت کا تصور پیدا ہو جاتا ہے انہی دنوں میں جب پیغمبر اسلام کی ذریت کوفہ میں اسیر تھی۔ ایک رات اسی جگہ جہاں انہیں قید رکھا گیا تھا ایک پتھر آ کر گرا اہل بیت علیہم السلام اس پتھر کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک کاغذ کا ٹکڑا اس کے ساتھ منسلک ہے جس پر کچھ اس طرح کی عبارت تحریر تھی کوفہ کے حاکم نے ایک شخص کو یزید کے پاس شام روانہ کیا ہے تاکہ آپ کی حالات سے اس کو باخبر کرے نیز آئندہ کے بارے میں اس کا فیصلہ معلوم کرے اب اگر کل رات تک مثلاً آپ کو تکبیر کی آواز سنائی دے تو سمجھ لیجیے کہ آپ کو یہیں قتل کر دینے کا فیصلہ ہوا ہے
اور اگر ایسا نہ ہو تو سمجھیے گا کہ حالات کچھ بہتر ہیں۔ اس واقعے کو ابن اثیر نے تاریخ الکامل میں تحریر کیا ہے مؤلف جب ہم یہ واقعہ سنتے ہیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس تنظیم کے دوستوں یا ممبروں میں سے کوئی شخص ابن زیاد کے دربار میں موجود رہا ہوگا جس کو تمام حالات کی خبر تھی اور وہ قید خانے تک رسائی بھی رکھتا تھا حتیٰ کہ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ قیدیوں کے بارے میں کیا فیصلے اور منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں اور صدائے تکبیر کے ذریعے وہ اہل بیت علیہم السلام کو حالات سے باخبر کر سکتا ہے۔
چنانچہ اس شدت عمل کے ساتھ ساتھ جو وجود میں آ چکی تھی اس طرح کی چیزیں بھی دیکھی جا سکتی تھیں۔ اس طرح کی ایک مثال عبداللہ بن عفیف ازدی کی ہے جو ایک نابینا آدمی ہیں اور اسیرانِ کربلا کی کوفہ آمد کے موقع پر ہی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اور نتیجے میں انہیں بھی جام شہادت نوش کرنا پڑتا ہے یہی نہیں بلکہ اس قسم کے افراد کیا کوفہ اور کیا شام، ہر جگہ مل جاتے ہیں جو قیدیوں کی حالت دیکھ کر ان سے محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور صرف آنسو بہانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کے لیے ملامت کے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں حتیٰ کہ اس قسم کے واقعات دربار یزید اور ابن زیاد کی بزم میں پیش آتے رہے ہیں۔
لہٰذا اگر واقعہ کربلا کے بعد نہایت ہی شدید قسم کا خوف عوام و خواص پر طاری ہو چکا تھا۔ پھر بھی ابھی اس نے ایسی نوعیت اختیار نہیں کی تھی کہ شیعانِ اہل بیت کی تمام سرگرمیاں بالکل ہی مفلوج ہو کر رہ گئی ہوں اور وہ ضعف و پراگندگی کا شکار ہو گئی ہو لیکن کچھ ہی مدت بعد بعض اس قسم کے مزید حادثات رونما ہوئے جن کی وجہ سے ماحول کی گھٹن میں کچھ اور اضافہ ہو گیا اور یہیں سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث "ارتد الناس بعد الحسین" کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ امام نے غالباً ان ہی حادثات کے دوران یا ان کے بعد کے حالات کی طرف اشارہ فرمایا ہے یا ممکن ہے یہ بات اس درمیانی وقفے سے متعلق ارشاد فرمائی ہو جو ان کے مابین گزرا ہے ان چند برسوں کے دوران یعنی اس عظیم واقعے کے رونما ہونے سے پہلے شیعہ اپنے امور منظم کرنے اور اپنے درمیان پہلی جیسی ہم آہنگی دوبارہ واپس لانے میں لگے ہوئے تھے۔
اس صورتحال کے متعلق طبری اپنے تاثرات کا یوں اظہار کرتا ہے۔ وہ لوگ یعنی شیعہ جنگی ساز و سامان اکٹھا کرنے نیز خود کو جنگ کے لیے آمادہ کرنے میں لگے ہوئے تھے چپکے چپکے شیعوں اور غیر شیعوں کو حسین ابن علیؑ کے خون کا انتقام لینے پر تیار کر رہے تھے اور لوگ گروہ در گروہ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ان میں شمولیت اختیار کر رہے تھے اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔ یہاں تک کہ یزید ابن معاویہ واصل جہنم ہوا تاریخ طبری جلد ۵ صفحہ ۵۵۸ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں باوجود اس کے کہ ماحول میں گھٹن اور سراسیمگی بہت زیادہ پائی جاتی تھی۔
پھر بھی اس طرح کی سرگرمیاں اپنی جگہ جاری تھیں جیسا کہ طبری کی عبارت سے پتہ چلتا ہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ جس کی بنیاد پر جہاد و شیعہ، ڈاکٹر سمیر مختار لیسی، استاد عین شمس یونیورسٹی مصر کی مؤلفہ اگرچہ شیعہ نہیں ہیں اور امام زین العابدین کے حوالے سے صحیح اور حقیقت کے مطابق نظریات نہیں رکھتیں پھر بھی وہ اس حقیقت کو درک کر لیتی ہیں اور اپنے احساسات کو ان الفاظ میں پیش کرتی ہیں گروہ شیعہ نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد خود کو باقاعدہ تنظیم کی صورت میں منظم کر لیا ان کے اعتقادات اور سیاسی تعلقات انہیں آپس میں مربوط کرتے تھے۔
ان کی جماعتیں اور قائد موجود تھے اسی طرح وہ فوجی طاقت کے بھی مالک تھے۔ چنانچہ توابین کی جماعت اس تنظیم کی سب سے پہلی مظہر ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عاشور کے عظیم واقعے کے زیرِ اثر اگرچہ بڑی حد تک شیعہ تنظیم میں کمزوری کا شکار ہو گئی تھی پھر بھی اس دوران شیعہ تحریکیں اپنی ناتوانی کے باوجود مصروف عمل رہیں جس کے نتیجے میں پہلے کی طرح دوبارہ خود کو منظم کرنے میں کامیاب ہو گئیں یہاں تک کہ واقعہ حرہ پیش آیا اور میں سمجھتا ہوں کہ واقعہ حرہ تاریخ تشیع میں نہایت اہم موڑ ہے دراصل یہی وہ واقعہ ہے جس نے شیعہ تحریک پر بڑی کاری ضرب لگائی ہے واقعہ حرہ تقریباً ۶۳ ہجری میں پیش آیا مختصر طور پر اس واقعے کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ ۶۳ ہجری میں بنو امیہ کا کم تجربہ کار نوجوان مدینہ کا گورنر مقرر ہوا۔
اس نے خیال کیا کہ شیعانِ مدینہ کا دل جیتنے کے لیے بہتر ہوگا کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو شام جا کر یزید سے ملاقات کرنے کی دعوت دی جائے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا مدینہ کے چند سرکردہ افراد، اصحاب اور دیگر معززین منتخب کیے جن کی اکثریت امام زین العابدین علیہ السلام کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتی تھی ان لوگوں کو شام جانے کی دعوت دی گئی کہ وہ جائیں اور یزید کے لطف و کرم دیکھ کر اس سے مانوس ہو جائیں اور اس طرح اختلافات میں کمی واقع ہو جائے یہ لوگ شام گئے اور انہوں نے یزید سے ملاقات کی چند دن اس کے مہمان رہے ان لوگوں کی خوب پذیرائی کی گئی اور رخصت ہوتے وقت یزید نے ہر ایک کو ایک بڑی رقم تقریباً پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ درہم تک پیش کی لیکن جیسے ہی یہ لوگ مدینہ واپس پہنچے چونکہ یزیدی دربار میں پیش آنے والا عمل انہوں نے اپنے نظروں سے خود دیکھا تھا۔
لہٰذا خوب کھل کر یزید پر تنقید شروع کر دی اور نتیجہ بالکل ہی برعکس ظاہر ہوا۔ ان لوگوں نے یزید کی تعریف و توصیف کرنے کی بجائے ہر خاص و عام کو اس کے جرائم اور بدکاریوں سے آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا۔ یزید کو کس بنیاد پر خلیفہ تسلیم کیا جا سکتا ہے جبکہ شراب و کباب میں غرق رہنا اور کتوں سے کھیلنا اس کا بہترین مشغلہ ہے کوئی فسق و فجور ایسا نہیں ہے جو اس کے یہاں نہ پایا جاتا ہو لہٰذا ہم اس کو خلافت سے معزول کرتے ہیں عبداللہ بن حنظلہ جو مدینہ کی نمایاں اور محبوب شخصیتوں میں سے تھے۔
یزید کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ ان لوگوں نے یزید کو معزول کر کے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینی شروع کر دی عبداللہ جناب حنظلہ کے بیٹے تھے اور حنظلہ وہ جوان ہے جو اپنی شادی کی پہلی رات کی صبح ہونے سے پہلے پیغمبرِ اسلام کے سپاہیوں میں شامل ہوئے اور جنگِ احد میں منصبِ شہادت پر فائز ہوئے اور ملائکہ نے اسے غسل دیا تھا۔ اسی لیے غسیل الملائکہ کے نام سے مشہور ہے مؤلف اس اقدام کا نتیجہ یزید کی طرف سے براہِ راست ردعمل کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس نے اپنے ایک تجربہ کار ظالم سردار مسلم بن عقبہ کو چند مخصوص لشکریوں کے ساتھ مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ اس تحریک کو خاموش کر دے مسلم بن عقبہ مدینہ آیا اور چند روز تک اہلِ مدینہ کی قوتِ مقابلہ کو پست کرنے کے غرض سے شہر کا محاصرہ کیے رہا۔
یہاں تک کہ ایک دن شہر میں داخل ہوا اور اس قدر قتل و غارت گری مچائی اور اس قدر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ اسلام میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اس نے مدینہ میں کچھ اس طرح قتل و غارت گری اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا تھا کہ اس واقعے کے بعد اس کا لقب ہی مسرف پڑ گیا اور لوگ اس کو مسرف بن عقبہ کے نام سے پکارنے لگے اسراف کرنے والا فضول خرچ شخص، وہ شخص جو کسی بھی کام میں حد سے آگے بڑھے، مسرف کہلاتا ہے واقعہ حرہ سے متعلق واقعات کی فہرست کافی طویل ہے اور اس میں زیادہ تشریح میں جانا نہیں چاہتا صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ یہ واقعہ تمام مسلمانوں خصوصاً اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں اور ہم نواؤں میں بے پناہ خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بنا مدینہ تقریباً خالی ہو گیا، کچھ لوگ بھاگ گئے، کچھ لوگ قتل کر دیے گئے اہل بیت علیہم السلام کے کچھ مخلص و ہمدرد مثلاً عبداللہ ابن حنظلہ جیسے لوگ شہید کر دیے گئے اور ان کی جگہ خالی ہو گئی