حصہ 2 از 2
مقدمہ
کسی بھی جملے کو منتخب کریں اور وہیں سے سنیں یا شیئر کریں
اس لیے وہ اسلام میں تحریف کرنے پر مجبور تھے، کیونکہ یہ ممکن نہ تھا کہ وہ ایک دم لوگوں کے دل و دماغ سے اسلام کو نکال سکیں، کیونکہ اب بھی بہت سے مؤمن افراد موجود تھے، لہٰذا وہ مجبور تھے کہ اسلام کو اس کی روح اور اس کی اصل ماہیت سے آہستہ آہستہ ہٹا دیا جائے۔ بالکل وہی کام جس کے آپ گواہ ہیں جو پچھلی استکباری حکومت بظاہر اسلامی تعلیمات کے حوالے سے کیا کرتی تھی۔ یہ استکباری حکومت بظاہر اسلامی تعلیمات کی مخالف نہیں تھی، لیکن وہ روحِ اسلام کی مخالف تھی۔
اسلام کے تصورِ جہاد کی مخالف تھی، اسلام کے تصورِ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی مخالف تھی، حقائق کے اسلام کو بیان کرنے کی مخالف تھی، لیکن اسلام کے ظواہر جیسے کسی کی گائے بیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، اس کی حامی تھی۔ ایسی ہی صورتحال خلفائے بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں تھی۔
انہوں نے اسلام کو اس کی روح اور حقیقت سے خالی کرنے کے لیے بعض قلم فروشوں اور ضمیر فروشوں کی خدمات حاصل کیں، اور بھاری رقوم دے کر ان سے جعلی حدیثیں اختراع کروانے اور اپنی تعریف میں قصیدے لکھوانے شروع کر دیے۔ اور وہ قلم فروش پیسے لے کر کتابیں لکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب سلیمان بن عبد الملک کا انتقال ہوا تو ایک عالم، میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا، کی کتابیں جانوروں پر لاد کر سلیمان بن عبد الملک کے خزانے سے باہر نکالی گئی تھیں۔ یعنی یہ کتاب نویس، عظیم محدث اور مشہور و معروف عالم الدین، جس کا نام بہت سی اسلامی کتابوں میں ملتا ہے، ان صاحب نے یہ ساری کتابیں سلیمان بن عبد الملک کے لیے لکھی تھیں۔
اب آپ بتائیں کیا جو کتابیں سلیمان کے لیے لکھی گئی ہوں، کیا ایسے شخص سے آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ان میں کوئی ایسی بات لکھی گئی ہو جو اسے پسند نہ ہو؟ سلیمان بن عبد الملک لوگوں پر ظلم کرتا تھا، شراب پیتا تھا، کفار اور مشرکین سے گہرے تعلقات رکھتا تھا، مسلمانوں کے ساتھ سختی سے پیش آتا تھا، لوگوں کے درمیان نا انصافی سے کام لیتا تھا غریبوں کو دبا کر رکھتا تھا، اور لوگوں کی جائیدادیں ان سے چھین لیتا تھا۔ ذرا سوچیئے ایسا آدمی آخر کس قسم کے اسلام کو پسند کرتا تھا؟
یہ وہ درد تھا جو ابتدائی سالوں میں ہی اسلامی معاشرے کو لاحق ہو گیا تھا جس کا آئمہ معصومین کو بہت ہی ادراک تھا۔ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گراں قیمت میراث یعنی اسلامی تعلیمات، جنہیں رہتی دنیا تک باقی رہنا تھا، تاکہ ہر دور کے انسان کی ہدایت کر سکیں، وہ تحریف کا شکار ہو گئی ہیں۔ آئمہ معصومین کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصد، صحیح اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کرانا، اسلام کی صحیح تفسیر بیان کرنا، نیز انہیں تحریف سے بچاتے ہوئے، تحریف کرنے والوں کو بے نقاب کرنا تھا۔
آپ دیکھیں کہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے اقوال اور فرامین کے ذریعے، کئی ایک مقامات پر درباری علماء اور محدثین کی بتائی ہوئی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے، صحیح حقائق بیان فرمائے ہیں۔ یہ آئمہ اطہار علیہم السلام کے اہم اور بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصد تھا۔
اب دیکھیں کہ اس کام کا بھی ایک سیاسی پہلو ہے۔ یعنی جب ہمیں یہ پتہ چلے کہ تحریف کا کام، حکومتی کارندوں کے کہنے پر ہو رہا ہے، اور یہ قلم فروش علماء، حکمرانوں کی خواہش پر تحریف کر رہے ہیں، ایسے میں اگر کوئی آگے بڑھ کر، ان تحریفات کو روکنے کی کوشش کرے گا، تو فطری بات ہے کہ اسے، حکمرانوں کے کام میں مداخلت سمجھا جائے گا۔ جیسا کہ آج کل بعض اسلامی ملکوں میں، بعض قلم فروش علماء نما افراد، حکومتی کارندوں کے اشاروں پر، مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے کتابیں لکھ رہے ہیں، یا اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے چہرے کو، بگاڑ کر پیش کرتے ہیں۔
اب اگر ان ممالک میں کوئی آزاد، منش صاحبِ علم پیدا ہو جائے، اور اتحاد بین المسلمین کے، موضوع پر کوئی کتاب لکھے، تو یہ ایک سیاسی عمل تصور ہوگا کیونکہ حقیقت میں یہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف کام ہے۔ آئمہ معصومین کا ایک اہم کام یہی تھا۔ یعنی اسلام کے احکام کو صحیح اور درست انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس دور کے اسلامی معاشرے میں اسلامی احکام بتانے والا کوئی نہ تھا۔ اس وقت بھی عالم اسلام کے گوشہ و کنار میں ایسے لوگ موجود تھے جو قرآن مجید اور احادیث نبوی کی تعلیم دیتے تھے۔ بعض محدثین کو تو ہزاروں حدیثیں یاد تھیں اور ان کا تعلق صرف مکہ و مدینہ اور بغداد سے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام سے تھا۔
آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ خراسان میں فلاں جوان عالم کئی ہزار احادیث پر مشتمل کتاب تالیف کرتا ہے اور طبرستان میں فلاں عالم پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام سے کئی ہزار احادیث نقل کرتا ہے۔ احادیث موجود تھیں احکامِ اسلامی بھی بیان کیے جاتے تھے۔ لیکن جو چیز بیان نہیں ہوتی تھی وہ اسلامی معاشرے کے امور سے متعلق اسلامی تعلیمات اور قرآن مجید کی صحیح اور درست تفسیر تھی اور آئمہ معصومین علیہم السلام اسی کام کو کرنا چاہتے تھے جو ان کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک تھا۔ دوسرا اہم مسئلہ امامت کی وضاحت کرنا تھا۔ امامت یعنی اسلامی معاشرے کی حاکمیت ایک اہم مسئلہ جو اس دور کے مسلمانوں پر واضح نہیں تھا اور عملی لحاظ سے بھی یہ مسئلہ تحریف کا شکار ہو کر رہ گیا تھا کہ اسلامی معاشرے کی حاکمیت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ جو لوگ دین اسلام کے اکثر احکامات پر عمل نہیں کرتے تھے اور محرمات کو کھلے عام انجام دیتے تھے وہ بھی پیغمبر اسلام ؐ کی جانشینی کا دعویٰ کرتے تھے
اور آپ کی مسند پر بیٹھ جاتے تھے اور انہیں کوئی شرم نہیں آتی تھی یعنی ایسا نہیں تھا کہ لوگ انہیں نہ جانتے ہوں بلکہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص خلیفہ بھی کہلاتا ہے اور نشے کی حالت میں مست ہو کر جامع مسجد میں لوگوں کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا ہے اور لوگ بھی اس کی اقتدا کرتے ہیں۔ لوگ جانتے تھے کہ یزید ابن معاویہ مختلف اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہے اور گناہانِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے لیکن اس کے باوجود جب ان سے یزید کے خلاف قیام کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے یزید کی بیعت کر رکھی ہے لہٰذا ہم اس کے خلاف قیام نہیں کر سکتے۔ لوگوں کے سامنے مسئلہ امامت واضح نہیں تھا لوگ یہ سوچ رہے تھے ان تمام اخلاقی بیماریوں میں مبتلا گناہوں کا مرتکب اور ظالم و جابر انسان بھی مسلمانوں کا امام اور اسلامی معاشرے کا حاکم بن سکتا ہے کیونکہ لوگوں کی نظر میں امامت کوئی اہم مسئلہ نہیں تھی۔ کسی بھی سوسائٹی میں حکومت کی اہمیت اور اس سوسائٹی کی سمت کے تعین کے لیے حاکم کے اثرات کے حوالے سے یہ ایک بہت ہی بڑا مشکل اور عالم اسلام کے لیے بڑا خطرناک مسئلہ تھا۔
اس لیے آئمہ معصومین لوگوں کو دو باتیں بتانا ضروری سمجھتے تھے۔ ایک یہ کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ امام کو درج ذیل شرائط اور خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے۔ وہ معصوم ہو، متقی ہو، عالم ہو، روحانی شخصیت ہو، لوگوں سے اچھا برتاؤ رکھنے والا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کرنے والا ہو، امام کی ان خصوصیات سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ اس شخص کو معین کرنا کہ آج کے زمانے میں جس شخص کے اندر یہ شرائط اور خصوصیات پائی جاتی ہیں، وہ کون ہے؟ اس لیے اپنا تعارف کراتے تھے۔
یہ بھی آئمہ معصومین کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا، اور آپ دیکھ لیں کہ یہ ایک اہم ترین سیاسی اور تبلیغاتی کاموں میں سے تھا۔ ائمہ معصومین کا اگر مذکورہ دو کاموں کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہ ہوتا تب بھی یہ کہنے کے لیے کہ ائمہ اہل بیت کی زندگی اول سے لے کر آخر تک مکمل طور پر سیاسی تھی یہی دو کام ہی کافی ہیں ادھر جب ائمہ معصومین قرآن کی تفسیر بیان فرماتے تو معارف اسلامی کو بھی بیان کرتے تھے در حقیقت یہ بھی ایک طرح سے سیاسی عمل انجام دیتے تھے۔ جب امام کی خصوصیات کے بارے میں بات کرتے تو وہ بھی ایک سیاسی عمل ہوتا تھا یعنی ائمہ معصومین کی جملہ تعلیمات اگر مذکورہ بالا خصوصیات میں خلاصہ کیا جائے تب بھی ائمہ کی زندگی ایک سیاسی زندگی ہی ہوتی لیکن ائمہ معصومین نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے علاوہ بھی کم از کم امام حسن علیہ السلام کے دور ہی سے حکومت کو اپنے قبضے میں لینے کی نیت سے خفیہ طور پر ایک وسیع سیاسی اور انقلابی تحریک کا آغاز کیا
ائمہ معصومین کی سیرت پر کام کرنے والے محققین کے لیے کسی قسم کے شکو شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ائمہ معصومین اس قسم کی ایک تحریک چلا رہے تھے ائمہ اطہار علیہ السلام کی زندگی کے جس پوشیدہ گوشے کو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ائمہ معصومین جیسے امام جعفر صادق امام موسیٰ کاظم اور دیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے بارے میں لکھی گئی کتابوں میں اس اہم نکتے کو بیان نہیں کیا گیا ہے ائمہ معصومین کی سیاسی تحریک وسیع اور منظم جدوجہد پر بہت سارے شواہد موجود ہونے کے باوجود لوگوں کو اس کی خبر نہیں تھی اور یہی بات ائمہ کی زندگی کو سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے حقیقت یہ ہے کہ ائمہ نے اس کام کا آغاز کیا تھا اس پر بہت سارے دلائل موجود ہیں۔
پس تمام قارئین کرام کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہمارے سارے ائمہ جب امامت کے منصب پر فائز ہوتے تھے تو سب سے پہلے جو کام انجام دیتے وہ حکومت کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوتا تھا ائمہ معصومین کی یہ سیاسی جدوجہد بھی ان لوگوں کی سیاسی جدوجہد کی طرح ہوتی تھی جو ایک منظم نظام کی تشکیل کیلئے کیا کرتے ہیں اور ائمہ اطہار بھی اسی طرح جدوجہد کیا کرتے تھے۔ ائمہ معصومین کی پوری زندگی میں ظالم حکمرانوں کے ساتھ ان کے جو اختلافات آپ دیکھتے ہیں ان کی بنیاد یہی مسئلہ امامت اور حکومت ہے جنہوں نے ہمارے ائمہ کی مخالفت کی انہیں زہر دیا، قتل کیا، انہیں زندانوں میں قید کیا۔ یہ سب لڑائیاں ائمہ کی حکومت پر دعوے کی وجہ سے تھیں اگر ائمہ حکومت کا دعویٰ نہ کرتے اور دوسری طرف سے علوم اولین اور آخرین کا دعویٰ کرتے تب تو ان خلفاء کو کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ ہوتا اور اگر ہوتا تو بھی اتنا شدید اختلاف نہ ہوتا اصل مسئلہ ہی یہی ہے لہٰذا آپ دیکھ لیں کہ ائمہ اطہار نے اپنے دعوت ناموں اور تبلیغی پیغامات میں لفظ امام اور مسئلہ امامت کو بہت ہی بڑا حساس مسئلہ قرار دیا ہے
یعنی جب امام جعفر صادق علیہ السلام بھی اسلامی حاکمیت اور سیاسی طاقت کا دعویٰ کرنا چاہتے ہیں تو فرماتے ہیں ایوہا الناس! اِنَّ رسول اللہ ہی کان الامام امام عرفات کے میدان میں لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر فرماتے ہیں اے لوگوں! بے شک رسول اللہ بھی امام تھے یعنی لوگوں کا امام، رہبر، حاکم اور پیشوا رسول اللہ تھے۔ رسول اللہ کے بعد علی ابن ابی طالب امام تھے۔ ان کے بعد امام حسن اور ان کے بعد امام حسین یہاں تک کہ آپ اپنے تک پہنچتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں بھی امام ہوں الکافی جلد 4 صفحہ 466 یعنی ائمہ معصومین اور آپ کے اصحاب کا اپنے مخالفین کے ساتھ جس مسئلے پر کشمکش اور اختلاف تھا وہ یہی ولایت مطلقہ اور لوگوں پر حکومت اور سیاسی طاقت کا مسئلہ تھا معنوی مراتب کے بارے میں تو ائمہ اطہار سے کوئی اختلاف ہی نہ تھا اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ خلفاء کے زمانے میں جو زاہد منش اور متقی لوگ تھے جو اہل علم اور مفسرین قرآن کے نام سے معروف تھے ان لوگوں کے ساتھ خلفاء مخالفت نہیں کرتے تھے
بلکہ ان سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے اور ان سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کرتے تھے اور ان کے پاس جا کر اپنے لیے وعظ و نصیحت کی درخواست بھی کرتے تھے کیوں؟ اس لیے کہ وہ خلفاء کے مقابلے میں سیاسی منصب کے دعویدار نہیں تھے ورنہ کیا حسن بصری، ابن شبرمہ اور عمر بن عبید جیسے لوگ خلفاء کے لیے قابل قبول ہوتے؟
یہ وہ لوگ تھے جو زہد و تقویٰ، روحانیت، علمِ تفسیر اور علمِ رسول ﷺ کے وارث ہونے کے دعویدار تھے۔ لیکن خلفاء کی طرف سے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی تھی کیوں؟ اس لیے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا۔ لیکن ائمہ معصومین کا بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء سے جس مسئلے پر اختلاف تھا وہ یہی امامت اور ولایت کا مسئلہ تھا یعنی آج ہم امامت کا جو معنی بیان کرتے ہیں وہی ان میں وجہ نزاع تھا۔